.

ہیرو اور زیرو

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ آج کے دوست کل کو دشمن بن سکتے ہیں اور آج کے دشمن کل دوست بن سکتے ہیں۔ آج کا اتحادی کل آپکی بربادی کا سامان کر رہا ہوتا ہے اور آج کا مخالف کل آپ کا اتحادی بن کر پوری قوم پر احسان کر رہا ہوتا ہے ۔ سیاست اصولوں کے نہیں سیاسی مفادات کے تابع ہو چکی ہے اس کے باوجود کچھ لوگ بار بار دھوکے کھا کر بھی ناصرف سیاست میں دوستیوں کو نبھاتے ہیں بلکہ سیاسی مخالفین پر مشکل وقت آئے تو انکی کمر میں خنجر مارنے کی بجائے ان کے ساتھ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن سیاست تو سیاست ہوتی ہے۔ جمہوریت کو مشکل میں دیکھ کر جن سیاسی مخالفین کا ساتھ دیا جاتا ہے کچھ ہی دنوں میں سنبھلنے کے بعد وہ مشکل وقت کے ساتھیوں کی کمر میں خنجر گھونپ رہے ہوتے ہیں۔ آج کل سینٹ کے انتخابات کیلئے جوڑ توڑ جاری ہے اور یہ جوڑ توڑ ہماری سیاست کی بہت سی خامیوں کو سامنے لا رہا ہے۔

زیادہ پرانی بات نہیں۔ اگست 2014ء میں عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان کر کے کہا تھا کہ نواز شریف اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے طاہر القادری کے ساتھ مل کر پارلیمینٹ ہائوس اسلام آباد کا گھیرائو کر لیا اور اسمبلیوں سے استعفے بھی دیدیئے۔ یہ وہ موقع تھا جب آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان سے کہا گیا کہ اگر وہ عمران خان کا ساتھ دیں تو نئی حکومت میں انہیں بھی حصہ ملے گا۔ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کی بجائے جمہوریت کے نام پر نواز شریف کا ساتھ دیا۔ صرف چھ ماہ کے اندر اندر 22ویں آئینی ترمیم کے مسئلے پر عمران خان اور نواز شریف کا موقف ایک ہو چکا ہے جبکہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان دوسری طرف کھڑے ہیں۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ سینٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی خرید وفروخت ہو رہی ہے اور اس خرید وفروخت کو روکنے کیلئے آئین میں 22 ویں ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ سینٹ کے انتخابات میں خفیہ ووٹ کی بجائے شو آف ہینڈز کا طریقہ متعارف کرایا جا سکے۔ نواز شریف بالکل درست کہتے ہیں کہ سینٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے کیونکہ انکی اپنی پارٹی یہی کام کھلم کھلا بلوچستان میں کر رہی ہے۔ بلوچستان سے بی این پی عوامی کی ایک خاتون سنیٹر کلثوم پروین کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ دیدیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی سے استعفیٰ دیا نہ سینٹ کی نشست سے استعفیٰ دیا اور مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ لے لیا۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ مسلم لیگ (ن) نے مشکل وقت میں صدمے جھیلنے اور جان پر کھیلنے والے کارکنوں کو نظرانداز کرکے کلثوم پروین کو اپنی پارٹی کا ٹکٹ کیوں دیا ہم تو یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا انہیں ٹکٹ اس لئے نہیں دیا گیا کہ وہ ووٹ خریدنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں؟

مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے بلوچستان میں بولیاں لگانی شروع کیں تو کچھ آزاد امیدواروں نے خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے ووٹ بھی توڑنے شروع کر دیئے۔ 22 ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہارس ٹریڈنگ روکنے سے زیادہ ارکان اسمبلی پر پارٹی لیڈر شپ کی گرفت مضبوط کرنا نظر آتا ہے ۔ ہارس ٹریڈنگ کو روکنا بہت ضروری ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کی اخلاقی پوزیشن بہت کمزور ہے۔ اس کمزور اخلاقی پوزیشن کے باعث پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) نے 22ویں آئینی ترمیم کی حمایت سے انکار کر دیا مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو پنجاب سے اور جے یو آئی (ف) کو بلوچستان سے ایک ایک سینیٹ نشست دینے سے انکار کر دیا۔ انکار نہ کیا جاتا تو شاید یہ دونوں جماعتیں 22ویں ترمیم کی حمایت کر دیتیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے اتحادی ہونے کے باوجود 22ویں آئینی ترمیم پر حکومت کا ساتھ دینے سے انکاری ہیں اور عمران خان دھرنے میں اپنی تقاریر کو بھول کر اسمبلی میں جاکر 22 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کو بھی تیار ہیں۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے آصف علی زرداری کی دوستی کیلئے نواز شریف کو ناراض کر دیا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ 21ویں آئینی ترمیم کے بعد جو نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا اس میں دینی مدارس کے متعلق حکومت کی پالیسی سے اختلاف کے باعث مولانا صاحب نواز شریف سے دور ہو گئے ۔مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف کے سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن 22ویں ترمیم پر مولانا نے جو موقف اختیار کیا ہے اسے آصف علی زرداری کی جیت کہا جائے گا اور مولانا اپنے دوست کی جیت پر خوش نظر آتے ہیں۔ آصف علی زرداری صرف ایک صوبے کے حکمران ہیں۔ مولانا کو بہت بڑا سیاسی فائدہ پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں لیکن شاید دونوں دوست مل کر سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں پر اپنی مرضی کے لوگوں کو لانا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے جیالے آج کل مولانا فضل الرحمان کا تقابل ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ کرتے ہیں۔ مولانا صاحب اور مرزا صاحب کا بظاہر آپس میں کوئی تقابل نہیں، ان دونوں کی آصف علی زرداری کے ساتھ دوستی کا تقابل یقیناً ہو سکتا ہے۔ جیالے کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری دوستوں کے دوست کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا ساتھ دیا اور مرزا صاحب نے ہر مشکل وقت میں زرداری صاحب کی پیٹھ میں خنجر مارا۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان ہیں انہوں نے سیاسی نظریات مختلف ہونے کے باوجود ہر مشکل وقت میں زرداری صاحب کا ساتھ دیا۔ یہ تقابلی جائزہ کافی تکلیف دہ ہے جیالے یہ جائزہ اس زمانے سے شروع کرتے ہیں جب آصف علی زرداری اور مرزا صاحب کیڈٹ کالج پٹارو میں پڑھتے تھے۔ مرزا صاحب اس زمانے میں بھی کافی غصیلے تھے اور ہرکسی پر اپنی دھاک جمانے کی کوشش کرتے تھے اور آصف علی زرداری دوستی کے نام پر مرزا صاحب کی غیر ضروری لڑائیوں کو اپنی لڑائی بنا لیتے تھے۔ جب مرزا صاحب پی آئی اے میں ملازم تھے تو ہاتھ اتنا تنگ تھا کہ گھر میں ریفریجریٹر تک نہ تھا ایک دن آصف علی زرداری مارکیٹ سے ساڑھے آٹھ ہزار روپے کا ریفریجریٹر لائے تاکہ ان کے دوست کو گرمیوں میں ٹھنڈا پانی مل سکے۔ اسی مرزا صاحب کو 1989ء میں زرداری صاحب نے شوگر مل لگوا کر دی پھر بدین سے ایم این اے بنوایا۔پھر سندھ کا وزیر داخلہ بنایا اور بیگم ذوالفقار مرزا کو قومی اسمبلی کا سپیکر بنوایا لیکن 2مئی 2011ء کو ایبٹ آباد آپریشن کے بعد آصف زرداری پر مشکل وقت آیا تو ان کے جگری یار ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے مشکل وقت میں دوست کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک طرف آصف علی زرداری کے سر پر میموگیٹ سکینڈل کی تلوار لٹکائی گئی دوسری طرف ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے ہاتھ میں خنجر اٹھا لیا۔ نواز شریف بھی ایک درخواست لیکر سپریم کورٹ میں پہنچ گئے لیکن مولانا فضل الرحمان اپنے دوست زرداری کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ کچھ ہفتے پہلے سندھ میں پیپلز پارٹی کے باغیوں کی مدد سے ایم کیو ایم اور فنکشنل لیگ کو قائم علی شاہ کی حکومت ختم کرنے کی تجویز دی گئی۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کو ان کے والد کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی جبکہ اسلام آباد میں کچھ ’’مرکزی قوتوں‘‘ نے زرداری صاحب کے خلاف بیس سال پرانے مقدمات دوبارہ کھول لئے لیکن سینیٹ کے انتخابات میں جوڑ توڑ کے ذریعہ آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کو راضی کرلیا اور خطرہ ٹل گیا۔ اس مشکل وقت میں بھی مولانا فضل الرحمان اپنے دوست کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اپنے بیانات کے خنجر چلانے میں مصروف ہیں۔ جیالے شکر ادا کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے دوستی کے رشتے کو گالی بننے سے بچالیا۔ نواز شریف اور عمران خان کچھ بھی کہتے رہیں لیکن مولانا صاحب ایک دینی جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود جیالوں کے ہیرو بن چکے ہیں اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا صاحب کیا بن چکے ہیں یہ بھی کسی جیالے سے پوچھئے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.