.

افغان جہاد سے ضربِ عضب تک

رؤف طاہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اعجاز الحق نے اپنے والد کا کیس بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا، روس کے خلاف افغان جہاد کا کیس۔ کبھی پاکستان کی ساری مذہبی جماعتیں اور پورا دایاں بازو اسے ’’اون‘‘ کرتا تھا، وہ اس کے حق میں دلائل کے انبار لگادیتا۔ اس کے خیال میں یہ پاکستان ہی کی نہیں، سارے عالمِ اسلام کی سلامتی اور خودمختاری کی جنگ تھی۔ وہ افغانستان سے سوویت انخلا کو ایک سپر پاور کی عبرت ناک شکست کا عنوان دیتا۔

ضیاء الحق اس جہاد کا ہیرو تھا، 17اگست 1998 کے بعد جسے ’’ شہید ِافغانستان‘‘ کا خطاب دے دیا گیا۔ پاکستان جمہوریت کی طرف لوٹ آیا، تو ڈکٹیٹر کے اچھے اقدامات کا تذکرہ بھی معیوب ہوگیا۔ کبھی پاکستان میں ’’پروبھٹو‘‘ اور’’اینٹی بھٹو‘‘پالیٹکس تھی، 1988کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ ضیاء الحق اینٹی بھٹو پالیٹکس کا سمبل تھا۔ پیپلزپارٹی کے خلاف انتخابی مہم میں’’مردِ مومن ، مردِ حق‘‘ کے نعرے گونجتے۔ اسکی برسی پر، اس کے مشن کی تکمیل کے عہدکی تجدید ہوتی۔ میاں نوازشریف نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ضیاء الحق کے مارشل لا میں کیا تھا۔ ایک موقع پر جس نے اپنی باقی زندگی میاں صاحب کے نام کرنے کی دُعا کی تھی۔ یہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی کا پہلا مرحلہ تھا۔ فوجی گملے کا پودا، رفتہ رفتہ تناور درخت بننے لگا۔ گملا ٹوٹ گیا، اب اس کی جڑیں زمین میں بہت گہری ہورہی تھیں۔لاہور کے صنعت کار گھرانے کے چشم و چراغ کی سیاست ایک نیا موڑ مڑ رہی تھی۔ آئین کی عملداری اور عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی کے علمبردار کے طور پر ، وہ غیرسیاسی طاقتوں کی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکاری تھا۔ بالآخر 12 اکتوبر ہوگیا۔ 5جولائی کا مارشل لاء پیپلزپارٹی کے خلاف تھا، تو اب اس کے مخالف زد میں تھے۔ نئے ڈکٹیٹر کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے، پُرانے ڈکٹیٹر کے اچھے کاموں کی حمایت بھی مشکل تھی۔ ضیاء الحق کی سیاسی وراثت ، اعجاز الحق کے قومی اسمبلی کے ایک حلقے تک محدود ہوگئی۔ ایک وزارت کے عوض اس نے بھی ڈکٹیٹر کی رفاقت قبول کر لی، ڈکٹیٹر جس کا فکر وفلسفہ اور جس کی کارروائیاں اعجازالحق کے والد کے فکر وفلسفے اور اس کی پالیسیوں سے مختلف بلکہ متضاد تھیں۔ اب ضیاء الحق کے ’’جہادِ افغانستان‘‘کو پاکستان اور عالمِ اسلام کی نہیں، امریکہ کی جنگ قرار دیا جارہا تھا،پاکستان میں دہشت گردی بھی اسی کا شاخسانہ تھی۔ہفتے کی شام لاہور کے فائیو اسٹار ہوٹل میں یہ ’’اے وطن کے سجیلے جوانو‘‘ کی تقریب رونمائی تھی۔ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے، یہ کتاب مختلف معرکوں میں پاک فوج کے کارناموں کی کہانیاں ہیں لیکن یہاں بات سجیلے جوانوں کی داستانِ شجاعت تک محدود نہ رہی۔ روس کے خلاف امریکہ کے ’’افغان جہاد‘‘ کا تذکرہ بھی ہوا، کارگل پر بھی بات ہوئی، ضربِ عضب کے تقاضے بھی موضوعِ گفتگو بنے۔ اعجاز الحق کا کہنا تھا، روس کے خلاف جہاد کا فیصلہ پاک فوج (اور آئی ایس آئی) کی قیادت کا اپنا تھا۔ ضیاء الحق نے 4کروڑ ڈالر کی امریکی امداد کو مونگ پھلی قرار دے کر ٹھکرا دیا تھا۔ امریکی تو بہت بعد میں آئے (اور ضیاء الحق کی اپنی شرائط پر آئے)۔

جماعتہ الدعوۃ کے حافظ سعید نے اسی بات کو آگے بڑھایا۔ اعجازالحق کی تائید میں اُن کا کہنا تھا کہ افغان جہاد کے لئے صف بندی امریکیوں کی آمد سے بہت پہلے ہوچکی تھی۔ہمیں یاد آیا، گلبدین حکمت یار اور پروفیسر برہان الدین ربانی سمیت افغان جہاد کے بعض قائدین تو بھٹو صاحب کے دور ہی سے پاکستان میں پناہ گزین تھے۔ پروفیسر حافظ سعید کا خطاب بھارت کے خلاف جہادی جذبے اور پاک فوج سے والہانہ محبت و عقیدت سے لبریز تھا۔ پنجاب کے سابق گورنر جنرل(ر) خالدمقبول بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ حافظ صاحب کا کہنا تھا، جناب خالد مقبول چودھری سرور کی طرح کمزور اور بے بس نہیںبلکہ بہت طاقتور گورنر تھے۔ تب حافظ صاحب کی ایک مقدمے سے رہائی کے عدالتی حکم کے ساتھ ہی، کسی اور مقدمے میں حراست کا سرکاری حکم آجاتا۔ کسی نے حافظ صاحب سے کہا، یہ سب کچھ جنرل خالد مقبول کے کہنے پر ہورہا ہے جس پر حافظ صاحب کا جواب تھا، اب مجھے کوئی گلہ نہیں، جنرل صاحب کے حکم پر ہورہا ہے تو اس میں لازماً کوئی حکمت اور مصلحت ہوگی ۔اور پھر حافظ صاحب نے کارگل کا رُخ کیا، انہوں نے انکشاف کیا کہ کارگل کے محاذ پر بھارتی اسلحہ کا جو سب سے بڑا ذخیرہ تباہ ہوا، وہ ان(حافظ صاحب ) کے راکٹ کا نشانہ بنا تھا۔کارگل ، پاک فوج کی عسکری تاریخ کا سب سے بڑامِس ایڈونچر تھا۔ جنرل اسلم بیگ اور حمید گل سمیت پاک فوج کے کئی ریٹائرڈ جرنیل اور عسکری ماہرین اِسے پاک فوج کی تاریخ کا the most ill concieved اور the most ill planned ایڈونچر قرار دے چکے، بریگیڈیئر صدیق سالک نے سقوطِ ڈھاکہ کے چشم دید واقعات پرwitness to surrender لکھی تھی، ’’سقوطِ کارگل‘‘ پر آئی ایس پی آر کے کرنل اشفاق حسین witness to blunder لکھ چکے ۔ کارگل پر صدیق الفاروق کا وائٹ پیپر بھی کتنی ہی دستاویزی شہادتوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں دورۂ چین سے واپسی پر 2جون (1999) کو وزیراعظم کی طلب کردہ اعلیٰ سطحی میٹنگ کی روداد بھی ہے جس میں ’’کارگل ایڈونچر‘‘ کے آرکیٹکٹ جنرل مشرف کے علاوہ پاک فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ یہاں سیکریٹری ڈیفنس جنرل افتخار علی کو یہ کہنے میں کوئی عار نہ تھی کہ ’’میں اپنی فوجی تربیت مطالعہ اور تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے جو فوجی آپریشن (کارگل میں) شروع کیاہے، اس کے دو ہی نتیجے نکل سکتے ہیں، مکمل جنگ یا مکمل ذلت و رسوائی۔ یہ میرا قومی فرض بنتا ہے کہ آپ لوگوں کو آنے والے خطرات سے آگاہ کروں‘‘۔ جنرل مشرف کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کہ کارگل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے انہوں نے واپسی کا محفوظ راستہ کیوں نہ رکھا،کیا کوہ پیماؤں کی طرح بلند چوٹیوں پر چڑھ کر فوجی محاذ کھولنا دانشمندانہ اقدام تھا‘‘؟

پاک فضائیہ اور بحریہ کے سربراہوں کا کہنا تھا کہ انہیں اس محاذ کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ (مشرف نے کور کمانڈرز کو بھی اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل محمود ، لیفٹیننٹ جنرل عزیز اور میجر جنرل جاوید حسن کے سوا کسی کو کچھ پتہ نہ تھا)۔ اس میٹنگ میں مشرف کے لئے اس اعتراف کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا کہ ’’کارپٹ بمبنگ کی وجہ سے مجاہدین بے بس ہوچکے ہیں۔ ایک کے بعد دوسری چوکی مجاہدین سے چھن رہی ہے، اس لئے اس صورتِ حال کا سفارتی حل نکالنے کی کوشش کی جائے ، ورنہ مجاہدین مکمل طور پر ’’وائپ آؤٹ‘‘ ہوجائیں گے‘‘۔ کارگل کے محاذ پر سخت ناسازگار حالات میں بھی پاک فوج کے سجیلے جوانوں اور حافظ سعید اور ان کے مجاہدین کی ہمت اور شجاعت اپنی جگہ لیکن یہ تو تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ یہ مشرف اور ان کے دوتین رفقاء کا تباہ کن اقدام تھا۔ اور اب جبکہ دہشت گردی کے خلاف ’’ضربِ عضب‘‘ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ، ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم مکمل یکسوئی کے ساتھ اس جنگ کی پشت پر موجود رہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں۔’’دونوں شریف‘‘ ایک دوسرے پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں، سب کچھ صلاح مشورے اور اتفاقِ رائے کے ساتھ ہورہا ہے۔ شامی صاحب کی اس بات سے کسے اختلاف ہوگا کہ اس موقع پر کنفیوژن پیدا کرنا ، صرف اور صرف دہشت گردوں کی خدمت ہوگی۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.