.

گدھا ٹریڈنگ

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سینیٹ انتخابات کے نام پر جو مویشی منڈی لگ گئی ہے،اس میں گدھا ٹریڈنگ(Donkey Trading) ضرور ہوگی۔ (چونکہ گھوڑا نہایت باوقار جانور ہے ‘ اس لئے میں نے اسے ہارس ٹریڈنگ کی بجائے ڈنکی ٹریڈنگ کا نام دیا ہے) ممبران اسمبلی ضرور بکیں گے‘ درجنوں کی تعداد میں بکیں گے اور اکثر کروڑوں کے عوض بکیں گے لیکن وجہ صرف پیسہ نہیں۔ بڑی وجہ خود لیڈروں کا اراکین اسمبلی کے ساتھ سلوک اورپارٹی سربراہان کا آمرانہ رویہ ہی ہے۔ ان لیڈروں نے ملک کو چراگاہ‘ پارٹیوں کو ذاتی جاگیر اور ممبران اسمبلی کو غلام سمجھ رکھا ہے۔ لیڈران کو زیادہ تر کے نام بھی یاد نہیں تھے اور اب ان سے شناسائی حاصل کی جارہی ہے۔

مثلاً وزیراعظم صاحب نے ڈیڑھ سال کے بعد خیبر پختونخوا کے اراکین اسمبلی کو شرف ملاقات بخشا تھا۔ اس ملاقات میں انہوں نے اپنے ممبران اسمبلی سے وعدہ کیا کہ انہیں فی ممبر دو کروڑ روپے کے فنڈز دیئے جائیں گے لیکن سینیٹ کے انتخابات کے بعد۔ اس پر میٹنگ میں موجود ایک رکن اسمبلی نے جواب دیا کہ وزیراعظم صاحب پھر تو آپ ہمیں کہیں سینیٹ کے اگلے انتخابات کے موقع پر ہی ملیں گے۔ دینے ہیں تو سینیٹ انتخابات سے پہلے دے دیجئے۔ آپ وعدہ بھول گئے تو پھر آپ سے ملنا تو ہمارے لئے سینیٹ کے اگلے انتخابات تک ممکن نہیں ہوگا۔ اس گستاخی پر اس ممبر کو ضرورت کے اس وقت بھی معاف نہیں کیا جارہا ہے اور اطلاعات کے مطابق انہیں شوکاز نوٹس جاری کرنے کا سوچا جارہا ہے۔ جب ممبران نے دیکھا کہ صلاحیت‘ وفاداری اور قربانی معیار نہیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ سید غوث علی شاہ کو ٹکٹ نہیں ملتا اور ماروی میمن ممبراسمبلی بننے کے بعد بے نظیر انکم سپورٹ کی چیئر پر سن بھی بن گئیں۔ اسی طرح سید ظفر علی شاہ کو اسلام آباد سے ٹکٹ ملنے کی بجائے سندھ کی ایک جاگیردارنی کو سینیٹر بنایا جارہا ہے اور پیر صابرشاہ کی بجائے کیپٹن صفدر کی سفارش پر جنرل صلاح الدین ترمذی کو خیبرپختونخوا سے سینیٹر بنایاجارہا ہے تو پھر کسی ممبر صوبائی اسمبلی کا دماغ خراب ہے جو کروڑوں روپے ٹھکرا کر پارٹی قیادت کی مرضی سے ووٹ استعمال کریں۔

جب انہوں نے دیکھا کہ بارہ اکتوبر کے بعد ایوان صدر میں بیٹھے رہنے والے ایسے فرد کو تو معاون خصوصی بنایا گیا ہے جنہوں نے ابھی تک پارٹی ممبرشپ کا فارم بھی نہیں بھرا لیکن تہمینہ دولتانہ کو کھڈے لائن لگایا گیا ہے۔ تماشہ تو یہ ہے کہ سب سے زیادہ پریشان تحریک انصاف کی قیادت ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں اس کے ممبران اسمبلی بکیں گے۔ یہ اس جماعت کے اراکین اسمبلی ہیں جو نیا پاکستان بنانے چلا ہے۔ انہیں ممبران اسمبلی نے کردار کے نمونے بن کر باقی پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا تھا۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو خطرہ ہے کہ ان کے ان انقلابیوں کا گدھا بن کر ‘ گدھا منڈی میں‘ صاحب ثروت گدھوں کے ہاتھوں فروخت ہونے کا خطرہ ہے۔ اس لئے وہ سینیٹ کے انتخابات کا قانون بدلنے کو بے چین ہے۔ اس کے لئے وہ میاں نوازشریف کے در پر بھی حاضر ہوئے ۔آصف علی زرداری کو بھی فون کئے گئے اور اس قومی اسمبلی میں بھی جانے کو تیار ہیں جس کو وہ بوگس قرار دیتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ انصاف کے علمبردار یہ اراکین اپنا ووٹ بیچ کر کیوں پارلیمانی گدھوں کی فہرست میں شامل ہونا چاہتے ہیں؟

جواب اس کا یہ ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی قیادت کا معیار بھی دولت اور طاقت ہے تو وہ بھی انصاف چھوڑ کر دولت اور طاقت کے متلاشی بن گئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اسد قیصر کو چھوڑ کر دولت کی بنیاد پر اس پرویز خٹک کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا جو پہلے آفتاب شیرپائو کی حکومت میں اور پھر حیدر ہوتی کی حکومت میں وزیر تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ کارکنوں کی رائے کو نظرانداز کرکے اس اعظم سواتی کو صوبائی صدر بنایا گیا کہ جو مولانا فضل الرحمان کے کوٹے میں یوسف رضاگیلانی کی کابینہ کے وزیر تھے اور جن کی خوبی بس یہ ہے کہ وہ ارب پتی اور امریکہ میں کاروبار کے مالک ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ جہانگیر خان ترین محض اس بنیاد پر جنرل سیکرٹری اور خیبرپختونخوا کی حکومت کے اصل وارث ہیں کہ وہ جہازوں کے مالک ہیں (پی ٹی آئی کے مخلص کارکنوں کے لئے خوشخبری ہے کہ عمران خان صاحب کے لئے ذاتی جہاز خریدار جارہا ہے اور اس کے بعد انشاء اللہ پارٹی میں جہاز کے مالک کا اثرورسوخ کم ہوجائے گا۔ یوں بھی اب بڑی حد تک ان کی جگہ ایک اور دولت مند یعنی چوہدری سرور کو دینے کا وعدہ ہوا ہے)۔ جب انہوں نے دیکھا کہ پچھلے دور میں اے این پی کی حکومت میں وزارت کے مزے لینے والے امجد آفریدی اب تحریک انصاف کی حکومت میں بھی محض اس وجہ سے وزیر ہیں کہ وہ ارب پتی ہیں جبکہ دوسری طرف 1997ء سے تحریک انصاف کے ساتھ دھکے کھانے والے شوکت یوسف زئی جو منتخب صوبائی جنرل سیکرٹری بھی تھے‘ کو وزارت سے محروم رکھا جاتا ہے (واضح رہے کہ امجد آفریدی کے دوسرے بھائی عباس آفریدی وفاقی کابینہ میں مسلم لیگ کے ساتھ وزیر ہیں) اور جب انہوں نے دیکھا کہ سینیٹ کے ٹکٹ بھی ان کی رائے سے یا پارٹی وفاداری کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف اس بنیاد پر دیئے گئے کہ وہ لوگ اہل سرمایہ ہیں (خیبرپختونخوا سے سوائے شبلی فراز کے باقی سب امیدواروں کو دولت کی بنیاد پر نامزد کیا گیا ہے۔ محسن عزیز صاحب ارب پتی صنعت کار ہیں۔ نعمان وزیرصاحب بھی کروڑپتی ہیں۔ اقلیتی رکن ویلیم طاقت والے یعنی ریٹائرڈ بریگیڈئر ہیں جبکہ خاتون امیدوار ایک نواب خاندان کی چشم و چراغ اور چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کی اہلیہ ہیں لیکن کوئی نہیں جانتا کہ ان لوگوں کی پی ٹی آئی کے لئے کیا قربانیاں ہیں)۔ اب کیا پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کا دماغ خراب ہے جو محض عمران خان کی محبت میں کروڑوں روپے چھوڑ کر اپنا ووٹ پارٹی امیدواروں کے حق میں استعمال کریں؟ جو لوگ استعمال کریں گے ان کی اکثریت بھی رقم حاصل کرے گی لیکن باہر کے امیدواروں کی رقم سے کم ہوگی۔ وہ یوں کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے یہ اہتمام کر رکھا ہے کہ اپنے ممبران اسمبلی کو ترقیاتی ا سکیموں کے ساتھ ساتھ امیر امیدواروں سے کچھ نقدی بھی دلوادیں لیکن ظاہر ہے یہ باہر کے امیدواروں کی پیشکش کے مقابلے میں کم ہوگی۔ اب ایک طرف اپنی قیادت اور اس کی پالیسیوں سے نالاں ہونے کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف پیپلز پارٹی جیسی مضبوط اور جے یو آئی جیسی ’’اسلامی‘‘ پارٹی خریدار ہے۔ اسی طرح وقار گروپ کے نام سے روایتی خریدار بھی میدان میں ہے۔ ارب پتی ترکئی گروپ کے امیدوار لیاقت ترکئی بھی تحریک انصاف کے پرچم تلے میدان میں اترے ہیں۔ ووٹ کی قیمت تین کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے اور سودے یا ادائیگیاں صرف اندرون ملک نہیں بلکہ بیرون ملک بھی کی جارہی ہیں تو خیبرپختونخوا کی اسمبلی گدھا منڈی کیوں نہ بنے۔

رہے قبائلی علاقوں کا معاملہ تو وہاں تو گدھے کی قیمت دس کروڑ تک جاپہنچی ہے لیکن لگتا ہے اب کے بار محترم آصف علی زرداری صاحب پنجاب اسمبلی کو بھی گدھا منڈی بناکر چھوڑیں گے۔ جب اپنی پارٹی کے لیڈر اپنے ممبران اسمبلی کو بھیڑ بکری بنانے کی کوشش کریں تو مخالف پارٹی کے لیڈر یا پھر کھرب پتی خریدار ان کو گدھے بنانے کی کوشش کیوں نہیں کریں گے۔ میاں نوازشریف اور عمران خان اپنے ممبران اسمبلی کو اپنے جیسے انسان سمجھتے ‘ ان کو عزت دیتے اور خود دولت کی بجائے قربانی اور کمٹمنٹ کو معیار بناتے تو آج ان کے ممبران اسمبلی کے گدھے بن جانے کا خدشہ نہ ہوتا۔ ہمارے سیاسی رہنما اب یہ تاثر دے رہے ہیں کہ بائیسویں آئینی ترمیم وہ جمہوریت کی خاطر لارہے ہیں لیکن اگر خود ان قائدین کے رویے جمہوری ہوتے‘ پارٹیوں کو جمہوری انداز میں چلاتے‘ اراکین اسمبلی کو غلام سمجھنے کی بجائے ان کی مشاورت سے آگے بڑھتے۔ ایک مثال پنجاب کی سب سے بڑی صنعتی ایمپائر کے مالک اور دوسرے جہانگیر ترین جیسے امیروں پر اپنی اپنی پارٹیوں کو قربان نہ کرتے تو آج ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.