.

امریکہ، اسرائیل تلخی اور زرداری اسکینڈل

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج کل امریکہ انتہائی سخت سردی اور برفانی موسم کی تاریخی شدت کی لپیٹ میں ہے۔ صرف ایک شہر بوسٹن اپنی تاریخ کے تمام برفانی موسموں کا ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ ایک موسم سرما میں 106؍انچ برفباری نیا ریکارڈ ہے۔ امریکہ کے درجنوں شہر اور ریاستیں اس انجمادی اور برفانی موسم کا شکار ہیں لیکن دوسری طرف امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ کو ایک انتہائی گرما گرم اور سیاسی نتائج کی حامل بحث اور تنقید کا سامنا ہے۔ امریکی نظام کے سیاسی ایوانوں میں پاکستان کے پڑوسی ملک ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکی صدر اوباما اور امریکہ کے سب سے قریبی اتحادی اسرائیل کی نیتن یا ہو حکومت کے درمیان حکمت عملی پر نقطۂ نظر کا اختلاف ہے۔ دونوں ایران کے ایٹمی پروگرام کو امن کیلئے خطرہ قرار دیتے ہیں اور ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔ گویا مقصد مشترک اور اعلانیہ ہے مگر مقصد کے حصول کیلئے حکمت عملی کے بارے میں اختلاف نے یہ صورتحال پیدا کر دی ہے کہ پورے سیاسی نظام میں گرماگرم بحث جاری ہے اور اسرائیلی وزیراعظم امریکی کانگریس کے اجلاس سے خطاب کر کے اس مسئلے کو امریکی خارجہ پالیسی کے مسئلے تک محدود رکھنے کی بجائے اسے امریکہ کی سیاسی اور انتخابی سیاست کا حصّہ بنا چکے ہیں۔

امریکی میڈیا میں دو موضوع سرفہرست ہیں۔ برفانی موسم کی انجمادی شدت اور ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر اوباما کے درمیان مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے حکمت عملی کے بارے میں اختلاف کی شدت اور گرماگرمی۔ صدر اوباما یہ بھی نہیں چاہتے کہ نیتن یاہو انٹیلی جنس شیئرنگ کے تحت ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں حاصل کردہ کوئی خفیہ معلومات امریکی کانگریس سے خطاب کے دوران آشکار کریں۔ دیکھیں دو اتحادی ممالک کے درمیان نقطۂ نظر اور حکمت عملی کا اختلاف امریکی سیاست، امریکی صدارت اور کانگریس کے انتخابات پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ نیتن یاہو امریکہ اور اسرائیل کو ایک ’’فیملی‘‘ اور موجودہ اختلاف کو فیملی کا اختلاف کہتے ہیں۔

بات انٹیلی جنس شیئرنگ کی چلی تو فروری کے آخری ہفتے میں ہمارے آئی ایس آئی کے سربراہ اپنی تقرری کے بعد پہلی بار امریکہ کے دورے پر گئے اور امریکی سی آئی اے، پینٹاگان، نیشنل سیکورٹی کونسل، امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے اعلیٰ حکام اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں سے ملاقاتوں اور مذاکرات کے بعد وطن واپس آ چکے ہیں۔ گو کہ پاکستان کے آرمی چیف نے اپنے پہلے دورۂ امریکہ کے دوران ہی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کے بہ طور سربراہ آئی ایس آئی دورۂ امریکہ کی نشان دہی کر دی تھی لیکن ہمارے فوجی اور سیاسی قائدین کے امریکہ کے دوروں میں ایک واضح فرق یہ چلا آ رہا ہے کہ ہمارے فوجی قائدین دورے کے مقاصد اور مذاکرات پر نظر رکھتے ہیں اور میڈیا سے دور رہ کر دورے مکمل کرتے ہیں جبکہ ہمارے سیاسی قائدین امریکہ آ کر بھی اپنی توجہ پاکستانی میڈیا کے مائیک اور ایسے فاتحانہ بیانات دینے پر مرکوز رکھتے ہیں جو ان کے دورۂ امریکہ کو انتہائی مفید، مؤثر اور تاریخی ’’کامیابی‘‘ کا حامل ثابت کر دے جبکہ دورے کے بعد ہونے والے انکشافات واضح کر دیتے ہیں کہ ان کے دورے کی کامیابی کی حقیقت کیا تھی۔ بہرحال ہمارے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی چند روز قبل اپنے دورۂ امریکہ کے دوران اپنے ہر بیان کا آغاز پاک، امریکہ تعلقات کا تلخ مرحلہ یعنی پاک، افغان بارڈر پر ’’سلالہ ٹریجڈی‘‘ کے حوالے سے کرتے رہے اور انہوں نے دیگر سیاسی قائدین کی طرح اپنے دورۂ امریکہ کے بارے میں عملی مقاصد کے حصول کی بجائے واشنگٹن میں بیٹھ کر پاکستانی عوام کے سامنے اپنی کامیابی کا تاثّر پیدا کرنے پر پوری توجّہ رکھی اور یہ بھی نہ بتایا کہ کن امور پر دونوں فریقین کے درمیان نقطۂ نظر کا اختلاف ہے یا پھر کون سے مقاصد و معاملات پر اشتراک ہے؟

بہرحال خوش آئند اطلاع ذرائع نے یہ دی ہے کہ آئی ایس آئی سربراہ کے دورۂ امریکہ نے ملاقاتوں اور مذاکرات میں ایک بار پھر جی ایچ کیو اور پینٹاگان کے درمیان قدرے اعتماد اور ڈائیلاگ کا بہتر ماحول پیدا کردیا ہے۔ انسداد دہشت گردی پاکستان کی بنیادی ضرورت اور امریکہ کی عالمی اسٹرٹیجی کا بنیادی حصّہ ہے اور یہ مشترک مسئلہ انٹیلی جنس شیئرنگ سے بھی آگے دونوں ملکوں میں تعاون اور اشتراک کا تقاضا کرتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمان ہمارے خطّے میں امریکی افواج کی علاقائی فوجی کمان اور انٹیلی جنس معلومات کا مرکز ہے جو اپنے وسائل، ٹیکنالوجی اور ہر اعتبار سے انٹیلی جنس معلومات اور زمینی حقائق سے بہت بہتر پوزیشن میں ہے۔ آئی ایس آئی کے سربراہ اور ان کے معاون یعنی ڈائریکٹر برائے انسداد دہشت گردی کا دورہ اہم تھا۔ عالمی سپر پاور امریکہ سے ہم دنیاوی وسائل کے اعتبار سے تصادم مول نہیں لے سکتے۔ جس طرح پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر استعمال کرنے کیلئے وعدوں اور ڈائیلاگ کے ذریعے ’’انگیج‘‘ رکھا گیا، اسی طرح ہمیں بھی دوسروں کو انگیج رکھنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت سے انکار کیوں؟ بہرحال جنوبی ایشیا کے خطّے میں زمینی حقائق بہت تبدیل ہو چکے ہیں۔

اس حوالے سے آئی ایس آئی کے سربراہ کا دورۂ امریکہ گو کہ انتظامی سطح کا تھا اور موضوعات بھی انٹیلی جنس شیئرنگ انسداد دہشت گردی اور خفیہ امور تھے مگر اس کے اثرات سیاسی سطح پر مرتب ہوں گے۔ روایتی طور پر بھی ایوب خان کے دور سے ہی جی ایچ کیو اور پینٹاگان کے رابطے اور امریکی سیاسی نظام میں بھی پینٹاگان نے پاکستان کی طرف داری کی ہے۔ اس لحاظ سے آئی ایس آئی سربراہ کا دورۂ امریکہ ایک مفید ’’ورکنگ وزٹ‘‘ رہا۔ ذرائع یہی کہتے ہیں۔ عملی نتیجہ بعد کے حالات ثابت کر دیں گے۔ امریکی اشیرباد سے بھارت، امریکہ مشورے کے تحت بھارتی خارجہ سیکرٹری اسلام آباد میں دو روز گزاریں گے۔ بھارت خارجہ سیکرٹریوں کے ذریعے مذاکرات کے سلسلے کو یک طرفہ طور پر معطل کر کے جو بہت بڑی غلطی کر چکا تھا اب اس نے اپنی اس غلطی کا ازالہ کر لیا ہے۔ بھارت کو مسائل حل کرنے سے دلچسپی نہیں ہے، وہ پاکستان کو ماضی کی طرح صرف ڈائیلاگ میں مصروف رکھ کر جنوبی ایشیا میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ ماضی کا ریکارڈ بھی ہے اور مستقبل قریب میں بھی یہی صورت برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ہماری ضرورت بھی یہی ہے کہ ڈائیلاگ میں دوسروں کو مصروف رکھیں۔ دہشت گردی کے اژدھے سے نمٹ لیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھ کر خود کو بہتر بنائیں۔

قوموں کی سفارت کاری میں جذبات کی بجائے ڈائیلاگ اور ٹھنڈا مزاج ہم جیسی اقوام کیلئے ضروری ہے جس کا مظاہرہ ہماری ملکی سیاست میں آج کل سابق صدر آصف زرداری کر رہے ہیں کہ سب کو ڈائیلاگ میں مصروف رکھ کر پارٹی کو انتخابی ناکامی اور اندرونی انتشار سے نکالنا چاہتے ہیں، پارٹی اور ملکی سیاست پر اپنی ’’گرفت‘‘ یعنی مؤثر حیثیت منوانا چاہتے ہیں، اسی حوالے سے اپنے قارئین کی نذر یہ حقیقت بھی کرتا چلوں کہ آصف زرداری کے بارے میں امریکہ کی خاتون ڈاکٹر تنویر زمانی سے شادی کے جس اسکینڈل کا سوشل میڈیا میں چرچا اور نئے وارث کا شور ہے، میں نہ صرف ذاتی طور پر ڈاکٹر تنویر زمانی سے کئی سال سے بہ خوبی واقف ہوں بلکہ اس بارے میں بھی واقف ہوں کہ ای میلز کا یہ سلسلہ کب سے، کیسے، کیوں اور کون چلا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب حسین حقانی امریکہ میں سفیر تھے ان ہی دنوں تنویر زمانی اور آصف زرداری کی دبئی میں شادی کی افواہوں نے بڑا سر اٹھایا اور ایک سنجیدہ صورتحال پیدا کر دی۔ بہ طور صحافی انویسٹی گیشن اور حقائق تلاش کر کے میرے حوالے سے جنگ؍جیو میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ڈاکٹر تنویر زمانی نے خود اس شادی کی تردید نہ صرف کی ہے بلکہ مجھے تحریری طور پر یہ بات لکھ کر دی ہے۔ اس کے بعد کے حالات و واقعات بھی مجھے یہ بتاتے ہیں کہ سندھ کے نظامانی خاندان سے تعلق رکھنے والی تنویر زمانی سے آصف زرداری کی شادی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔ اس معاملے میں آصف زرداری سوشل میڈیا کے مظلوم نظر آتے ہیں۔ حسین حقانی مزید تفصیلات بتا سکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.