.

ایران، سعودی سرحدوں پر دستک دے رہا ہے؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خطے میں جارحیت کے حوالے سے ایرانی انگلیوں کے نشان ہر جا نظر آرہے ہیں۔ اس کی سرگرمیاں اب پورے علاقے میں پھیل چکی ہیں۔ ان سرگرمیوں کا دائرہ سعودی عرب، عراق، یمن، خلیج اور لبنان تک وسعت پا چکا ہے۔ اس پورے علاقے میں ایران سیاست میں ملوث ، ابلاغی شعبے میں متحرک ، تیل کے حوالے سے سرگرم اور ہتھیاروں کے علاوہ مذہبی بنیادوں پر بھی کی فعال ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس منظر نامے میں یہ ایک وسعت کا حامل تصادم ہے یا عرب بہاریہ سے خطے میں شروع ہونے والے خلل کے بعد کی ایک شکل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وقوع پذیر ہونے والے ان واقعات کی صرف یہی ایک وجہ ہے؟

ایران کے ساتھ تنازعہ پرانا ہے۔ اس تنازعے کی کچھ وجوہ وراثت کے طور پر ملی ہیں ، جبکہ زیادہ تر وجوہات نے ایرانی قیادت کی اختیار کردہ پالیسیوں کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ ایران کی ان پالیسیوں میں یہ چیز ظاہر وباہر ہے کہ وہ اپنے انقلاب کو علاقے میں برآمد کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پورے جوش و جذبے اور پراپیگنڈا کے باوجود انقلاب برآمدگی نے چونتیس برس لے لیے ہیں۔ اس کے لیے طویل عرصے پر پھیلی کوششوں کے مقابلے کامیابی محدود تر ہے۔

مختصر مدت کی صلح

ریاض اور تہران کے درمیان صدام حسین کی کویت پر چڑھائی کے دنوں میں مصالحت کا عمل سامنے آیا ۔ اسی موقع پر ایرانی صدر رفسنجانی کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا اور اس کے نتیجے میں دو طرفہ کشیدگی ختم ہو گئی۔ لیکن مصالحت پانچ سال سے بھی زیادہ نہ چل سکی۔ اس کے بعد ہی سعودی عرب میں یہ احساس ابھرا کہ ایران نے اپنے توسیعِ انقلاب کے فلسفے سے دستبرداری قبول نہیں کی ہے۔

اس کی تازہ مثال ایران کا آج کل ایک جارح ریاست کے طور پر ہونا ہے۔ اس کی مثالیں ہم جدید تاریخ میں زیادہ نہیں دیکھتے ہیں۔ ایران براہ راست شام کے اندر لڑائی میں مصروف ہے۔ عراق میں اس کے جارحانہ عزائم کی عملی شکل نمایاں ہے۔ اسی طرح لبنان میں اس کی '' پراکسی '' جنگ جاری ہے۔ غزہ ، یمن اور بحرین میں اس کی جارحیت کے مظاہر ہیں۔ مزید یہ کہ سوڈان میں بھی اس کی موجودگی ہے۔ اگرچہ صدر عمر البشیر کا دعوی ہے کہ انہوں نے اپنے ہاں ایران سے متعلق تمام دفاتر کو بند کر دیا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ایران کے واضح جارحانہ اقدامات کا شاخسانہ ہے کہ ہم سعودی عرب کو براہ راست دفاع پر مجبور پاتے ہیں۔ بحرین میں بھی ایسا ہی ہے ، تاہم زیادہ جگہوں پر ایران اپنے اتحادیوں کو مدد دے رہا ہے۔

یمن کی قیمت ایران میں

یمن ایران کی تازہ ترین مہم جوئی کا شاخسانہ ہے۔ لیکن ایران یمن میں کامیاب ہونے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ اس کے باوجود کہ حوثی باغیوں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے توسط سے کتنی ہی کوششیں کر لے۔ یمن سیاسی اور سماجی اعتبار سے سعودی عرب ہی کے قریب رہے گا۔ اس لیے یمن میں ایرانی جارحیت کی قیمت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایران کو اس کی سوچ سے بھی زیادہ چکانا ہو گی۔ بیرونی فریق خصوصا مغربی طاقتوں کو بھی محسوس ہو گا کہ ایران کی جارحانہ توسیع پسندی سے صرف سعودی عرب اور مصر سمیت اس عرب خطے کو خطرات نہیں ہیں بلکہ اس سے پوری دنیا کو خطرات لاحق ہوں گے۔

انیس سو اسی کی دہائی سے ایرانی رجیم کی فطرت میں شامل ہے کہ یہ سابق سوویت یونین کی نقالی میں تیسری دنیا میں آزادی کی تحریکوں کی مدد کے نام پر اپنے عزائم کو پورا کرتی ہے۔ اس بہانے کا مقصد ان رجیمز کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے جو اس کے ایجنڈے سے اتفاق نہیں رکھتی ہیں۔

علاقائی مداخلت

ایران ایسے گروپوں کی مدد پر بھی '' فوکس'' کرتا ہے جو اپنے ملکوں کی حکومتوں کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس بنیاد پر لبنان میں حزب اللہ کی مدد کرتے ہوئے لبنانی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر چہ لبنانی حکومت ایران کی مخالفت نہیں کرتی ہے۔ اسی طرح ایران فلسطینی اتھارٹی کے مقابلے میں حماس کی حمایت کرتا ہے ۔ حالنکہ فلسطینی اتھارٹی نے کبھی بھی ایران کی مخالفت نہیں کی ہے۔ ایران یمن میں حوثیوں کی سالہا سال سے اس کے باوجود مدد کر رہا ہے کہ بطور صدر علی عبداللہ صالح ایران کا مخالف نہیں تھا ، بلکہ اس کے ایرانی رجیم کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔

عراق میں مداخلت کی ایرانی پالیسی برسوں سے بڑی واضح ہے۔ عراق میں بھی ایران حکومت کے مقابلے میں عسکری گروپوں اور تنظیموں کو امداد کرتا ہے۔ ایران ایسے گروپوں کو عوامی مقبولیت کی حامل تحریکوں کا نام دیتا ہے اور اس طرح ایران عراق کی قومی فوج کے متبادل پر توجہ مبذول رکھتا ہے۔ وجہ بعض امور پر ان قومی حکومتی اداروں کا ایران سے اختلاف ہی ہوتا ہے۔

ریاض اور تہران کے درمیان خاموش لڑائیوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو خطے میں مختلف اتحادوں کی تشکیل ہو گئی ہے۔ اس تناظر میں اسلحے کی ایک دوڑ ہے۔ تمام فریق اپنی اپنی فوجی اور اسلحی استعداد کا جائزہ لیتے ہوئے خود کو مضبوط کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں اگر ایران نے خلیج اور اس سے ماورا خطے کے ملکوں میں اپنی مداخلت کاری نہ روکی اور اس نے معاملات کے لیے پیش کردہ حل قبول کرنے سے انکار کیا تو کشیدگی سنگین ہو جائے گی۔

تنازعات کو طے کرنا اور مضمرات کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ سوچا جا سکتا ہے کہ اس حوالے سے ہم ایران سے ہی کیوں کہتے ہیں کہ مداخلت کاری روکو، سعودی عرب سے کیوں نہیں کہتے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران ہمیشہ جارحیت میں ملوث رہا ہے جبکہ سعودی عرب ہمیشہ دفاعی پوزیشن پر رہا ہے۔ جیسا کہ ان دنوں یمن میں کھیلے جانے والے کھیل سے واضح ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.