.

بھارتی سیکرٹری خارجہ کا دورہ اور مسئلہ کشمیر

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شکریہ بھارتی خارجہ سیکرٹری کا کہ ان کے دورہ پاکستان کی وجہ سے میری ناقص معلومات میں اضافہ ہوا۔ میں حتمی طور پر نہیں جانتا تھا کہ ہمارا کوئی سیکرٹری خارجہ بھی ہے،ہم وزیر خارجہ کے بغیر کام چلا سکتے ہیں تو سیکرٹری خارجہ کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔

ابھی بھارتی مہمان نے مختصر سی پریس بریفنگ دی ہے،جس میں انہوںنے سارک کو بڑھاوا دینے کے حوالے سے خوشخبری سنائی ہے کہ آئندہ پاکستان اس کے چیئر مین کے فرائض ادا کرے گا اور بھارت کو اس کے ساتھ کام کرنے پر خوشی ہو گی، انہوںنے یہ بھی کہا کہ ملاقات میں دوطرفہ اختلافی معاملات پر گفتگو ہوئی۔بڑی مہربانی کی ہے بھارتی مہمان نے دوطرفہ تنازعات پر بات چیت کر کے، مگر کشمیر دو طرفہ تنازعہ نہیںہے، سندھ طاس کے معاہدے کی رو سے پاکستان کا پانی بند کرنا بھی دو طرفہ مسئلہ نہیں بنتا۔تو باقی کیا رہ جاتا ہے، شاید واہگہ کی لکیر کو مٹانا اور بارڈر کو چوبیس گھنٹے کھلے رکھنا۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا، شور تو یہ تھا کہ کشمیر پر بات ہو گی مگر بھارتی مہمان کی زبان پر کشمیرکا ذکر نہیں آیا۔اب پاکستان کی طرف سے کوئی بریفنگ دے گا تو وہ تو یہی کہے گا کہ کشمیر پر بات ہوئی ہے اور ہمیں اس پر یقین کئے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہو گا۔ یقینی طور پر ہمارے سیکرٹری خارجہ نے کہا ہو گا کہ اب ایجنڈے کی رو سے کشمیر کی باری ہے اور اس مسئلے کو طے کرنے کی ضرورت ہے، بھارتی مہمان نے جواب میں کہا ہو گا کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے ، اور یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے، اگر کوئی اس پر تنازعہ باقی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ آپ لوگ آزاد کشمیر کے علاقے سے ہاتھ اٹھا لیں اور اسے پورے کشمیر کا حصہ بننے کا موقع بہم پہنچائیں۔ لیجئے، کشمیر پر بات چیت مکمل ہو گئی۔ زیادہ سے زیادہ ہم نے مزید کہا ہو گا کہ مہاراج! یہ جو آپ آئے روز گولہ باری کرتے ہیں ،ا س سے ہمارے شہری زخمی ہو رہے ہیں ، مویشی مر رہے ہیں کھیت اجڑ رہے ہیں۔

بھارت کا جواب یہ ملا ہو گا کہ آپ کے آتک وادھی خون خرابہ کرنے کے لئے کشمیر میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم ان کو ڈرانے کے لئے فائر کرتے ہیں۔ کشمیر پر پاک بھارت بات چیت ایک رسم بن گئی ہے اور بات بھی رسمی ہی کی جاتی ہے۔ پاکستان کشمیر کا نام تو لیتا ہے مگر صد افسوس ، اس کے اندر کشمیر کو واپس لینے کی خواہش مر چکی ہے۔مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ ہم کشمیر پر بھارتی قبضے کو دل و جاں سے قبول کر چکے ہیں، ہم بھارت کی جارحیت پر احتجاج تک نہیںکرتے مبادا اس کا دل دکھی ہو جائے اور ہماری مجرمانہ خاموشی صرف کشمیر کے مسئلے تک محدود نہیں، ہم نے 1947ء سے لے کر آج تک کی ہر بھارتی جارحیت کو بصد شوق قبول کیا ہے ۔ جوناگڑھ پر بھارتی قبضہ ہوا، حیدر آباد پر ہوا، منادر پر ہوا، ہم نے اسے بھارتی حق سمجھ کر خاموشی اختیار کئے رکھی۔بھارت نے 1965ء میں پاکستان کی سرحدوں کو پامال کیا، ہم نے بھارت کی خوشنودی کی خاطر یوم دفاع منانے کی رسم بھی ترک کر دی۔اسی بھارت نے1971ء میں اپنی فوج مشرقی پاکستان پر چڑھا دی اور پاکستان کو دو لخت کر کے رکھ دیا، ہم نے اسلامی کانفرنس کے بھیس میں بنگلہ دیش بھی منظور کیااور بھارتی جارحیت کو بھی ہضم کر لیا۔ 1984ء کے موسم بہار میں بھارت نے ہماری حاکمیت اعلی کو ایک بار پھر روندا اور سیاچین گلیشیئر پر قبضہ جماکر دنیا کا بلند ترین محاذ جنگ کھول دیا۔ ہم بھارت کی کسی جارحیت پر اف تک کرنے کو تیار نہیں ۔

دوسری طرف پاکستانی افواج نے صرف دو بار بھارت کے مقبوضہ کشمیر کی واپسی کے لئے گوریلا آپریشن کیا مگر ہم نے اس پر اپنی فوج کو آج تک معاف نہیںکیا، پینسٹھ میں پاک فوج نے آپریشن جبرالٹر کے نام سے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی، ہم نے آج تک یہی پراپیگنڈہ کیا کہ یہ بھٹو کی سازش تھی کہ پاکستان کوبھارت سے بھڑوا دے، جبکہ ریکارڈ کی بات ہے کہ اس بھٹو نے نعرہ لگایا کہ کشمیر کے لئے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، اور پھر اس نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی او ر یہ نعرہ بھی لگایا کہ گھاس کھائیں گے ، مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ کشمیر پر اس قدر تندو تیز بیانات کی وجہ سے کسی نے بھٹو کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جو ہمارے دانش ور آپریشن جبرالٹر کی وجہ سے پاک فوج کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ ایک ہی رٹ کہ پاک فوج نے ناقص منصوبہ بندی کی، کشمیریوں کو اعتماد میں نہیں لیا، ہمارے مجاہدین گاجر مولی کی طرح کٹ گئے، کشمیری عوام نے انہیں گھروں میں پناہ دینے سے انکار کر دیا، ایسی ایسی غیب کی باتیں۔ پاک فوج نے دوسری کوشش ننانوے میں کی، اسے آپریشن کارگل کا نام دیا گیا مگر وہ دن اور آج کا دن پاک فوج کو اس کے لئے مطعون کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ کارگل میں بھارتی فوج کا اس قدر نقصان ہوا کہ پہلے تو اس کے دو جہاز گرے، ان میں ایک ا سکواڈرن کمانڈر مارا گیا، دوسرا پائلٹ ہم نے قید کر لیا مگرا سے اعزاز کے ساتھ واپس بھجوا دیا گیا۔

کارگل کی چوٹیوں سے مجاہدین کا قبضہ چھڑوانے کے چکر میں بھارتی فوج کا اس قدر جانی نقصان ہوا کہ لاشوں کے لئے تابوت عنقا ہو گئے اور کفن بنانے کے لئے بارود کی پیٹیوں کی لکڑی استعمال کی جانے لگی، بھارتی شہر لیہہ کو تابوتوں کا شہر کا نام دیا گیا۔ یہ تو تھا بھارتی فوج کا حشر مگر ہمارے مﺅرخین نے الٹا یہ قصہ گھڑا کہ بھارتی کارپٹ بمباری کی وجہ سے ہمارے مجاہدین کے کشتوں کے پشتے لگ گئے۔اور باقی ماندہ نفری کو بچانے کے لئے سفارتی کوششیں کی گئیں، سوال یہ ہے کہ مجاہدین اول توموت سے ڈرتے نہیں، وہ تو موت کا تعاقب کرتے ہیں ،خالد بن ولیدؓ بستر مرگ پر کف افسوس مل رہے تھے کہ انہوں نے شہادت کی ا ٓرزو میں بیسیوں غزوات میں حصہ لیا ، ان کے جسم کا کوئی حصہ ایسانہیں تھا جس پر نیزوں اور تلواروں کے زخموں کے نشانات نہ ہوں لیکن انہیں دکھ تھا تو اس بات کا کہ ان کی شہادت کی آرزو پوری نہیں ہو سکی۔کارگل کی جنگ میں کس نے فریاد کی کہ ان مجاہدین کو بچایا جائے، ڈیڑھ عشرہ گزرنے کے باوجود اس کا ریکارڈ کوئی بھی پیش نہیں کر سکا،آج ہماری فوج دہشت گردی کے خلاف بر سر پیکار ہے، اس کی قربانیاں حدو حساب سے با ہر ہیں ، پانچ ہزار سے زائد افسرا ور جوان شہید ہو چکے مگر فوج نے کوئی واویلا نہیں کیا کہ ان کی جان دہشت گردوںسے چھڑوائی جائے۔ اڑتالیس اور پینسٹھ کی جنگوںمیں بھارت نے جنگ بندی کے لئے سلامتی کونسل کا بھاگم بھاگ رخ کیا تھا، پاکستان نے نہیں تو کارگل کے بارے میں غیب دانوںکے دعووں کو جھوٹ کا پلندہ ہی قراردیا جا سکتا ہے۔

کوئی یہ بتائے کہ بھارت پاکستان کے خلاف جارحیت پہ جارحیت کرتا رہے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض کیوں نہیں ، مگر پاک فوج نے صرف دو بار بھارت کے خلاف چھوٹی سطح کے آپریشن لانچ کئے مگر ہم اس پر سیخ پا ہو رہے ہیں۔

تو کیا یہ یقین نہ کر لیا جائے کہ ہم کشمیر کی واپسی کے بارے میں مخلص نہیں، صرف رسمی طور پر اس کا ذکر کرتے ہیں، کیا آپ نے کبھی کشمیر کمیٹی کے چیئر مین مولانا فضل الرحمن کو کشمیر پر بولتے سنا، جبکہ ان کے بارے میں میڈیا چلا رہا ہے کہ وہ اس وقت کروڑوں کی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہیں، کاش ! اس سے آدھی دوڑ دھوپ وہ کشمیر کے لئے بھی کرتے اور بھارتی سیکرٹری کے نام ایک کھلا خط ہی تحریر کر دیتے کہ بھائی، ہمارا کشمیر ہمیں واپس کر دو۔

بھارتی وزیر اعظم مودی جی کشمیر کے بارے میں اپنے آئین میں ترمیم کرکے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے کے چکر میں ہیں، مگر ہمارے آئین ساز ادارے خواب خرگوش میں مست ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.