.

دہشت گردوں کے سرغنہ کی ہتھیار ڈالنے کی اپیل

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا دہشت گردی سے گیارہ ستمبر کے متحدہ امریکہ پر حملوں کے بعد آگاہ ہوئی تھی لیکن ترکی میں ستر کی دہائی ہی سے دہشت گردوں نے اپنے قدم جمانا شروع کردیئے تھے اور اس دہشت گردی نے جنرل کنعان ایورن کی جانب سے ملک میں لگائے جانے والے مارشل لا کے بعد زور پکڑنا شروع کردیا تھا جس کے بعد دہشت گردی نے ترکی میں ایسے پنجے گاڑے کہ اس سے آج تک چھٹکارہ حاصل نہ کیا جا سکا۔ ترکی کے سابق وزیراعظم اور صدر مرحوم ترگت اوزال نے اور ان کے بعد وزیراعظم تانسو چیلّر نے اس مسئلے کو حل کرنے کی بڑی سنجیدہ کوششیں کی تھیں لیکن ان کو بھی ترک قومیت پسندوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی ان کوششوں کو ادھورا چھوڑنا پڑا ۔ بعد کی حکومتوں نے دہشت گردی پر طاقت کے بل بوتے پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن تمام ہی حکومتیں اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہیں۔ ترکی کی دہشت گرد تنظیم PKK ( پارٹی کارکرئین کردستان یا پھر کردستان لیبر پارٹی) کو طاقت کے ذریعے جتنا دبایا جاتا رہا یہ تنظیم اتنی ہی زیادہ ابھر کر سامنے آتی رہی۔ ستر، اسی اور نوے کی دہائی میں یورپی ممالک نے بھی اس دہشت گر د تنظیم کی مکمل طور پر پشت پناہی کی بلکہ اس وقت کے فرانسیسی صدر متراں کی اہلیہ دنیالہ متراں نے کھلے عام دہشت گرد تنظیم PKK کی نہ صرف پشت پناہی کی بلکہ ان پر اس دہشت گرد تنظیم کو مالی وسائل فراہم کرنے کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے۔ اسی طرح جرمنی اور یورپ کے کئی ایک ممالک نے ترکی میں انتشار کو ہوا دینے کے لئے ترکی کے نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود نیٹو کے اسلحے کو دہشت گردوں کے خلاف استعمال کرنے پر پابندی عائد بھی کئے رکھی ۔ ترکی کے اس مشکل وقت میں اس کے قریبی اور با اعتماد دوست ملک پاکستان نے اسلحہ فراہم کیا تھا۔

( اس دور کے ترکی اور پاکستانی اخبارات اور دستاویزات میں پاکستان کی ترکی کو اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق تفصیلی معلومات درج ہیں ) نوے کی دہائی کے آخر میں متحدہ امریکہ نے ترکی کی قربت حاصل کرنے کے لئے دہشت گرد تنظیم PKK کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس وقت کے ترکی کے وزیراعظم مرحوم بلنت ایجویت نے متحدہ امریکہ کے اس یک طرفہ اور اچانک فیصلے پر اپنے شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ میں متحدہ امریکہ کے کیونکر دہشت گردوں کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کو گرفتار کرکے حکومت ترکی کے حوالے کرنے کے فیصلے کو سمجھنے سے قاصر ہوں‘‘۔ عبداللہ اوجالان کو 15فروری 1999ء کو کینیا سے گرفتار کرتے ہوئے ترکی لایا گیا تھا۔ عبداللہ اوجالان کی گرفتاری نے ملک میں وزیراعظم بلنت ایجویت کی مقبولیت میں بے حد اضافہ کردیا اور 18 اپریل 1999ء کو ہونے والے عام انتخابات میں ان کی جماعت ڈیمو کریٹک لیفٹ پارٹی کو پہلی پوزیشن حاصل ہوگئی۔ یہ جماعت ترکی کی قوم پرست پارٹی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی ۔ اسی دوران یورپی یونین کے شدید دباؤ کی وجہ سے نئی مخلوط حکومت عبداللہ اوجالان کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی اور پھر یورپی یونین کے شدید دباؤ کی وجہ سےآئین میں ترمیم کرتے ہوئے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا ۔

ملک میں چار دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے نتیجے میں چالیس سے پینتالیس ہزار باشندے ہلاک ہوچکے تھے اور ملک کامشرقی اور جنوب مشرقی حصہ دیگر حصوں کے مقابلے میں بہت پسماندہ رہ گیاتھا ۔اسی دوران عام انتخابات میں کُل ووٹوں کے دس فیصد کو حاصل کرنے کی پابندی کی وجہ سے کردوں کی کوئی بھی جماعت پارلیمنٹ میں نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی جس کے توڑ کے طور پر کرد باشندوں نےپارلیمنٹ میں اپنی نمائندگی کے لئے آزاد امیدوار وں کے طور پر حصہ لیا اور بیس سے زائد امیدوار آزاد ارکان کے طور پر پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب رہے۔ کرد اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں اپنی سیاسی جماعت تشکیل دینے کے بعد کرد قومیت پسندی کو ہوا دینا اور ان کے ساتھ ناانصافی کئے جانے کا پرچار کرنا شروع کردیا جبکہ اس دوران ترکوں کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے ترک قومیت پسندی کو اپنا اوڑنا بچھونا بنائے رکھا جبکہ برسر اقتدار جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی قومی اسمبلی میں واحد پارٹی ہے جس میں کردوں کی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے بھی زیادہ تعداد میں کرد اراکین پارلیمنٹ موجود ہیں اور جسے جنوب مشرقی اناطولیہ میں بھاری اکثریت حاصل ہے۔

ایردوان حکومت نے ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے سب سے پہلے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کیا کیونکہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ جب تک ملک مضبوط بنیادوں پر اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوجاتا مغربی ممالک اس دہشت گردی کی پشت پناہی کو جاری رکھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گرد تنظیم کے اراکین کے ساتھ درپردہ مذاکرات کو جاری رکھا تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہوجائے۔ جب دہشت گرد تنظیم کے اراکین کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تو حکومت کو نہ صرف سوشل ڈیموکریٹس کی جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی اور قوم پرستوں کی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایردوان اور ان کی پارٹی پر ملک سے غداری کرنے اور شہدا کے خون کا سودا کرنے کےالزامات عائد کئے گئے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ترکی میں دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے کی کوئی سکت اور صلاحیت رکھتا ہے تو وہ بلا شبہ وزیراعظم احمد داؤد اولو اور صدر ایردوان ہی ہیں ۔ ایردوان نے وزارتِ اعظمیٰ کے اختیارات سنبھالنے کے فوراً بعد ہی کرد باشندوں کے دل جیتنے کے لئے کئی اقدامات کئے تھے جن میں سب سے اہم کردی زبان میں نغمے گانے کی اجازت، کردی زبان میں ٹیلیوژن نشریات ، اخبارات اور جرائد شائع کرنے ، یونیورسٹیوں میں کردی زبان کے شعبہ جات کے قیام کی اجازت اور سب سے بڑھ کر جیلوں میں کردقیدیوں کو بغیر ترجمان کے اپنے کرد عزیز و اقارب سے کردی زبان میں بات کرنے کا حق دیا جانا ہے۔

ترکی کی خفیہ سروس MIT اور دہشت گرد تنظیم PKK کے درمیان براہ راست شروع ہونے والے مذاکرات میں بعد میں حکومتی اراکین بھی شامل ہوگئے ۔ آخر کارکرد باشندوں کی جماعت HDP کے وفد کی عبداللہ اوجالان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوئے جس کے بعد HDP کے نمائندوں اور نائب وزیراعظم یالچین آق دوان اور وزیر داخلہ افکان اعلیٰ کے درمیان مذاکرات میں دس شقوں پر مطابقت پائی گئی جس کے نتیجے میں HDP کے رکن پارلیمنٹ سری ثریا اؤندر نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے عبداللہ اوجالان کے موسم بہار میں PKK کے ہنگامی کنونشن منعقد کرتے ہوئے ملک میں ہتھیار ڈالنے کی اپیل کرنے سے آگاہ کیا۔

آق پارٹی نے طویل جدو جہد کے بعد پی کے کے سے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے عبداللہ اوجالان سے ملک میں ماہ جون میں ہونے والے انتخابات سے قبل ہتھیار ڈالنے کی اپیل کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس اپیل سے بلاشبہ سب سے زیادہ فائدہ آق پارٹی ہی کو پہنچے گا اور اس سے کردوں کی جماعت HDP کو بھی کچھ حد تک فائدہ پہنچنے کا امکان ہے تاہم اس سے نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی جس کی سیاست نسل پرستی اور کردوں کی دہشت گرد تنظیم PKK کے خلاف گھومتی رہی ہے کو ماضی کے انتخابات کے برعکس مقبولیت میں کمی آنے کا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے اور اسی طرح ری پبلیکن پیپلز پارٹی بھی موسم بہار عبداللہ اوجالان کی ہتھیار ڈالنے کی اپیل پر عمل درآمد سے بھی لازمی طور پر متاثر ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.