.

جذباتی یکجہتی کی جانب

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شراکت اقتدار میں بڑی عجیب و غریب قربتیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ مفتی سعید نے، جو اب جموں وکشمیر کے سربراہ ہیں، بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے حالانکہ ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں ان کی جیت بنیادی طور پر اس وعدے کی وجہ سے ہوئی کہ وہ بی جے پی کو ریاست میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اور یہ کہ انھوں نے اپنے انتخابی وعدے کی خلاف ورزی کی ہے کوئی نئی بات نہیں ہے‘ دوسری سیاسی پارٹیوں کے لیڈر بھی یہی کچھ کرتے ہیں۔

جموں وکشمیر کے سبکدوش ہونے والے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ جب یہ کہتے ہیں کہ دونوں میں پہلے سے ہی مک مکا ہو چکا تھا تو یہ قدرے تلخ بیانی لگتی ہے۔ تاہمبی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان حیرت کا اظہار وہی کم شعور شخص کر سکتا ہے جس کو اتنا بھی علم نہیں کہ سیاسی سودے بازیاں کس طرح جنم لیتی ہیں۔ بہر حال یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی حکمران کی حیثیت سے وادی میں داخل ہو رہی ہے اس کے باوجود کہ اس کے پاس اسمبلی کی ایک نشست کی جیت بھی نہیں۔

ریاست میں حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت سے بی جے پی کی اس بے پناہ مسرت کا اظہار ہوتا ہے کہ اسے مفت کا موقع مل گیا ہے۔ ممکن ہے یہ بعد میں محض خوش خیالی ہی ثابت ہو۔ ہندوتوا کا پرچار کرنے والی ایک پارٹی کے لیے اس ریاست میں، جس کی 95 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے، کوئی خاص بریک تھرو نہیں مل سکتا۔ مفتی سعید یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان کے بی جے پی مخالف انتخابی موقف کے باوجود انھوں نے بی جے پی کی حمایت جیت لی ہے۔

لیکن اس عمل کے دوران انھوں نے وادی کے اختلافات کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے جہاں پر کہ مسلمان آبادی کی اکثریت ہے جب کہ جموں میں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے وہ چونکہ حکومت کی تشکیل کے لیے عجلت میں ہیں جس سے تقسیم اور زیادہ نمایاں ہو گئی ہے تاہم اس بات کی سمجھ نہیں آئی جب انھوں نے کہا کہ علیحدگی پسندوں‘ عسکریت پسندوں اور پاکستان نے انھیں ریاستی انتخابات جیتنے میں مدد دی ہے جو اگر شامل حال نہ ہوتی تو جیتنا مشکل ہوتا۔ علیحدگی پسندوں نے پولنگ کا بائیکاٹ کیا جس کا مطلب مفتی کی مدد کرنا نہیں بلکہ یہ ظاہر کرنا تھا کہ انھیں انڈین الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی کرائے جانے والے یہ انتخابات قبول نہیں۔

نئی دہلی حکومت نے اتنی بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز تعینات کر دیں کہ اگر کچھ عناصر انتخابات کو خراب کرنے کی کوشش کریں تو انھیں سختی سے کچل ڈالا جائے۔ شاید عسکریت پسند جن کی قوت میں کمی واقع ہو رہی ہے وہ چونکہ کچلے نہیں جانا چاہتے تھے اس لیے وہ الگ تھلگ رہے۔پاکستان ایک طویل المدتی کھیل کھیل رہا ہے۔

اس کو احساس ہے کہ وہ بھارت سے بزور طاقت کشمیر نہیں لے سکتا۔ دو جنگوں نے یہ دکھا دیا۔ 1965ء میں شکست کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایک انٹرویو میں مجھے بتایا تھا کہ انھوں نے ’’تاریخ سے سبق سیکھ لیا ہے‘‘۔ لہٰذا اب وہ میدان جنگ میں کشمیر پر بھارت کو چیلنج نہیں کریں گے۔ 1971ء کی جنگ بنگلہ دیش تک محدود رہی۔ اسلام آباد حکومت نے بھارت کی توجہ مبذول کروانے کے لیے کشمیر پر کوئی مداخلت نہیں کی کیونکہ اس کا مطلب ایک دوسرا محاذ کھولنے کے مترادف ہوتا۔ بہر حال اب ان دونوں ملکوں میں جنگ خارج از امکان ہو چکی ہے کیونکہ دونوں ایٹمی قوتیں ہیں۔ تاہم مفتی نے علیحدگی پسندوں اور سرحد پار کے عناصر کا ذکر کر کے مصالحتی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وادی میں پاکستان نواز عناصر کا بہت زور ہے۔

بعینہ انھوں نے افضل گورو کی باقیات کی واپسی کا مطالبہ کر کے وادی کے مسلمانوں کی ہمدردیاں جیتنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں جو بنیاد پرست عناصر ہیں وہ اسلام آباد حکومت کی پالیسی پر اس وجہ سے عمل پیرا ہیں کیونکہ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے۔ مفتی کی اپنی انتخابی مہم بھی اسلام پسندی کے ذکر سے خالی نہیں تھی۔ گزشتہ کئی سال سے کشمیری بھارت سے بیگانہ ہو رہے ہیں اور دوسری طرف یہاں کی آبادی آزادی کی جدوجہد میں خود کو بے یارو مدد گار محسوس کر رہی ہے جس کی وجہ سے اسلام نوازی کا پراپیگنڈا کرنے والوں کے لیے میدان کھلا ہے۔ آزاد خیال لوگ دن بدن اپنی قوت کھو رہے ہیں۔

بڑی وجہ یہ ہے کہ کشمیریوں کو ابھی تک یہ احساس نہیں ہوا کہ بھارت مذہب کے نام پر کوئی اور تقسیم ہر گز قبول نہیں کرے گا کیونکہ ہندو اکثریت والا جموں یا تو بھارت کے ساتھ الحاق کرے گا یا پھر وفاقی علاقہ بننے کو ترجیح دے گا۔ بہر حال جو بھی ہو نئی دہلی حکومت بھارت کی سرحد پر ایک اور اسلامی ملک بننے کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتی۔ کشمیریوں کا آزادی کے مطالبے کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ ان کا اصل مقصد بالآخر پاکستان کے ساتھ شامل ہونا ہی ہے۔

اسلام آباد کی طرف علیحدگی پسندوں کا جھکاؤ اس شبے کو تقویت دیتا ہے۔ پاکستان کے خارجہ سیکریٹری کے ساتھ طے شدہ مذاکرات بھارت نے اس وجہ سے منسوخ کر دیے تھے کیونکہ پاکستانی ہائی کمشنر نے دہلی میں کشمیری حریت پسندوں سے ملاقات کی تھی لیکن میرے خیال میں بھارت نے اس حوالے سے ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مظاہرہ کیا۔

بہر حال اس سے بھارت کا یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ اسلام آباد علیحدگی پسندوں سے جتنی زیادہ قربت اختیار کرے گا بھارت سے اتنا ہی دور ہوتا چلا جائے گا۔ایک وقت تھا جب یٰسین ملک قابل قبول تھا لیکن انھوں نے حزب اختلاف کا راستہ ترک کر کے دشمنی کا راستہ اختیار کر لیا جس سے بھارت میں ان کی حمایت ختم ہو گئی۔ اس سے نہ صرف یہ کہ اس نے اپنا موقف بہت زیادہ سخت کر لیا ہے بلکہ پاک بھارت دوستی کی امیدوں کو بھی متاثر کیا ہے جس کے لیے کہ وہ خود پیش پیش تھے۔

مفتی نے پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد کو درست طور پر تاریخی قرار دیا ہے لیکن اگر اس اتحاد کا مقصد محض اقتدار میں شرکت ہے تو اس کا طویل مدت میں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ ریاست ایک بار پھر کس طرح سیکولر رنگ اختیار کر سکتی ہے جیسا کہ شیخ عبداللہ کے وقت میں تھا۔ حریت کانفرنس نے ریاست کی جماعت اسلامی کے زیادہ نزدیک جا کر اپنا تاثر بگاڑ لیا ہے۔ بدقسمتی سے حریت کو اپنی غلطیوں کا احساس نہیں ہے اور وہ بدستور مذہب کو سیاست میں شامل کر رہی ہے۔ جب تک یہ اپنی سمت درست نہیں کرتی تو پاکستان اور بھارت کے مفاہمتی عمل میں اس کا زیادہ عمل دخل نہیں رہے گا۔

بھارتی خارجہ سیکریٹری ایس جے شنکر کا دورہ پاکستان اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں خارجہ سیکریٹریوں کی طے شدہ ملاقات کی منسوخی وقتی ردعمل کا نتیجہ تھی‘ یہ بھارت کی طویل المدتی پالیسی نہیں۔ اسلام آباد میں جے شنکر کی اپنے ہم منصب اعزاز احمد چوہدری کے ساتھ بات چیت سے بھی یہ عیاں ہو گیا۔ فریقین کو اپنا غرور اور تعصب ترک کر کے میز پر بیٹھنا چاہیے اور اس ایجنڈے پر بات کرنی چاہیے جس کو طویل عرصے سے نظر انداز کر دیا گیا ہے اور وہ ہے: غربت کے خلاف جہاد۔ دونوں ملکوں کے لیے اس سے زیادہ اہم اور کوئی مسئلہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی زندگی کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ آزادی کے 70 سال گزرنے کے باوجود یہ دونوں ملک اپنے محدود وسائل کو عوامی فلاح کی خاطر استعمال کرنے کے بجائے ہتھیاروں کی خرید پر ضایع کر رہے ہیں۔

مفتی سعید کو اسی حوالے سے نئی دہلی کے ساتھ بات کرنی چاہیے چونکہ وہ اب ایسی پوزیشن میں ہیں کہ مودی ان کی بات کو سنی ان سنی نہیں کر سکتے۔ جموں و کشمیر کے عوام کی جذباتی یک جہتی بے حد ضروری ہے نہ صرف ان کی تعمیر و ترقی کے لیے بلکہ سیکولر نظریے کے لیے بھی۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.