.

وماعلینا الاالبلاغ

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ اس دور کی بات ہے کہ جب میاں نوازشریف صاحب کے بارے میں ابھی بادشاہ کا تصور پیدا نہیں ہوا تھا۔ ان کے رائے ونڈ کے محل میں پنجاب کی بادشاہت کو پورے ملک تک وسیع کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی تھی۔ ایک صحافی بھی شریک محفل تھے۔ وہ ماضی میں پرویز مشرف کے ساتھ رہنے والے ایک سیاستدان کو مسلم لیگ (ن) میں شامل کرنے کا پروجیکٹ لے کر آئے تھے۔ مشیر صاحب ان کے دسترخوان سے استفادہ کرچکے تھے‘ اس لئے وہ ان کو پارٹی میں شامل کرنے کی وکالت کررہے تھے لیکن میاں صاحب اس سیاستدان کی شرائط کو ماننے کے زیادہ قائل نہیں تھے۔ میاں صاحب نے مشیر صاحب سے کہا کہ ان کو شامل کر کے مذکورہ عہدہ اس لئے نہیں دے سکتے کیونکہ وہ پرویز مشرف کے ساتھ بہت آگے جا چکے تھے اور لوگ طعنہ دیں گے کہ پرویز مشرف کے ساتھی کو ہم نے پارٹی میں اتنا بڑا عہدہ دے دیا۔ مشیر صاحب جو قادرالکلام ہونے میں ثانی نہیں رکھتے‘ نے بصدادب و احترام میاں صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ عالی جاہ! ماروی میمن‘ زاہد حامد اور قادربلوچ وغیرہ کو شامل کرنے کے بعد آپ ان تکلفات (سیاسی اخلاقیات) سے مبرا ہوچکے ہیں۔ اصول‘ قاعدے اورضابطے وغیرہ اس طرح کے تکلفات میں اب پڑنے کی ضرورت نہیں۔ اب جو ہاتھ آئے‘ اسے ساتھ ملالیں اور وزارت عظمیٰ حاصل کرلیں۔ مشیر صاحب نے بالکل درست فرمایا تھا کہ میاں صاحب بہت پہلے ان تکلفات (اصول‘قانون اور سیاسی اخلاقیات )سے مبرا ہوچکے تھے اور وزیراعظم بننے کے بعد تو وہ کسی بھی چیز کو خاطر میں نہیں لاتے۔ رہے زرداری صاحب تو ماشاء اللہ وہ پہلے کبھی ان تکلفات میں پڑے تھے اور نہ اب پڑتے ہیں۔ جے یو آئی (ف)‘ اے این پی اور ایم کیوایم بھی بڑی حد تک اب ان تکلفات میں نہیں پڑتیں لیکن اس دور نے مزید تین اصول پسند جماعتوں پختونخوا ملی عوامی پارٹی‘ بلوچستان نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کو بھی اس راستے پر گامزن کردیا ہے۔ اولذکر دو جماعتیں مسلم لیگ(ن) کی ہر بے اصولی پر اتحادی ہونے کے ناطے خاموش رہتی یا پھر ساتھ دیتی ہیں جبکہ آخر الذکر نے تحریک انصاف سے متعلق یہی پالیسی اختیار کررکھی ہے۔ دھرنوں کے دوران جماعت اسلامی کی قیادت کو یقین تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت سکرپٹ کے مطابق چل رہی ہے اور اس کے اقدامات غیرآئینی اور غیرجمہوری ہیں لیکن راستہ روکنے کی بجائے وہ ثالث بن گئی اور عملاً اس کے انصاف کے ترازو کا تحریک انصاف کی طرف جھکائو رہا۔ گزشتہ تین سالوں میں سب سے افسوسناک پہلو یہ سامنے آیا کہ وہ تحریک انصاف جو اسٹیٹس کو توڑنے کے لئے بنائی گئی تھی‘ خودا سٹیٹس کو کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت بن گئی۔ جو سیاست میں پیسے کا اثر ورسوخ ختم کرنے کے لئے میدان میں اتری تھی‘ خود پیسے والوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئی۔ جو جھوٹ کی سیاست کا خاتمہ کرنے کا دعویٰ کررہی تھی‘ خود جھوٹ بولنے والی جماعت بن گئی ۔ جس کی قیادت نوازشریف اور آصف علی زرداری کے غیرجمہوری اور آمرانہ رویے کی ناقد تھی‘ خود بدترین آمریت کے راستے پر گامزن ہوئی۔ جو میچ فکسنگ کے خاتمے کی بات کررہی تھی‘ خود ہر مرحلے پر میچ فکسنگ کرنے لگی۔ یقین نہ آئے تو حالیہ سینیٹ انتخابات کے سلسلے میں خیبرپختونخوا کے اندر تحریک انصاف کے کردار کو ملاحظہ کیجئے۔ یہ بات ذہن میں رکھ لیجئے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پہلے سے ایک درجن سے زائد ارکان کا فارورڈ بلاک اپنی قیادت کے رویے کے خلاف بن چکا تھا۔ جاوید نسیم پہلے ہی علانیہ بغاوت کر چکے تھے۔ اب سینیٹ کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو ٹکٹ الاٹ کرنے کے سلسلے میں ایم پی ایز سے پوچھا گیا اور نہ صوبائی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ۔ صرف شبلی فراز کو ٹکٹ ایم پی ایز کے مطالبے پر دیا گیا اور باقی سب صاحب ثروت اور صاحب دولت ہونے کی بنیاد پر امیدوار بنے۔ محسن عزیز‘ نعمان وزیر اور ثمینہ عابد شریف خاندانوں سے تعلق ضرور رکھتے ہیں لیکن پارٹی کے لئے ان کی کوئی خدمات ہیں اور نہ وہ منتخب عہدیدار۔ محترم پرویز خٹک صاحب جو اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور اے این پی کی حکومتوں کا حصہ اور اسی یا پھر نوے کی دہائی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ہارس ٹریڈنگ کےمیچوں کے اہم ترین کھلاڑی رہے تھے‘ نے خان صاحب سے یہ کہہ کر ان امیدواروں کو ٹکٹ دلوا دئیے کہ پیسے کا مقابلہ کرنے کے لئے‘ پارٹی کو بھی پیسے والے امیدواروں ہی کی ضرورت ہوگی۔ وہ سینیٹر وقار کے گروپ کے ساتھ بھی ڈیل کی کوشش کررہے تھے لیکن بات نہ بنی۔ پھر ترکئی گروپ کے ارب پتی لیاقت ترکئی کو پی ٹی آئی کا امیدوار بنایا گیا حالانکہ ان کے بیٹے شہرام ترکئی نے پرویز خٹک کابینہ کا وزیر ہو کر بھی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ چنانچہ نہ صرف پی ٹی آئی کے تیس کے قریب پھسل جانے والے ایم پی ایز کو پیسے کے ذریعے واپس لانے کی کوششیں شروع ہوئیں بلکہ مسلم لیگ(ن) کے ساتھ بھی خفیہ اتحاد کرلیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے مابین انتخابات سے ایک روز قبل یہ معاہدہ ہوگیا کہ دونوں جماعتیں دوسری ترجیح کا ووٹ ایک دوسرے کو دیں گی تاکہ دونوں کا پردہ رہ جائے اور ان کے ارکان کے پھسل جانے سے جو کمی رہ گئی ہو وہ دوسری جماعت پوری کرے۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان کو مرکز کی طرف سے جبکہ پی ٹی آئی کے ارکان کو صوبے کی طرف سے فنڈز بھی آفر کئے گئے۔ نون لیگ نے اپنے ممبران اسمبلی کو گورنر ہائوس میں جبکہ پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ ہائوس‘ اسپیکر ہائوس اورمحسن عزیز کے گھر ٹھہرایا۔ چونکہ یہ ثابت کرنا تھا کہ ان کے ارکان نہیں بکے‘ اس لئے اپنے بعض ممبران کو بھی اپنے ہی امیدواروں نے خوش کیا۔ اب یہ بات یقینی بنانی تھی کہ حلف کے مطابق وہ ووٹ ڈالیں چنانچہ اس کے لئے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ن) نے مل کر الیکشن کمیشن کے عملے کے بعض لوگوں کے ساتھ میچ فکسنگ کا اہتمام کیا اور بدقسمتی سے جماعت اسلامی بھی اس معاملے میں آن بورڈ تھی۔ پہلا اہتمام یہ کیا گیا کہ میڈیا کو اسمبلی کے احاطے کے اندر نہیں آنے دیا گیا۔ سیکورٹی کے انتظامات باہر سے لائے گئے سیکورٹی اہلکاروں کے ذریعے کرنے کی بجائے اسپیکر اسد قیصر کے عملے نے سنبھال رکھے تھے۔ پولنگ کے وقت چار بکسوں کی بجائے صرف ایک بکس رکھا گیا۔ پہلا ممبر جب ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے گیا تو خالی کاغذ ڈال کروہ اپنا بیلٹ پیپر اپنے ساتھ باہر لے آیا۔ متعلقہ افراد کو ووٹ دکھانے کے بعد ان کا ووٹ دوسرے نمبر پر جانے والا ایم پی اے اپنے ساتھ لے جا کر کاسٹ کرلیتا اور وہ اپنا ووٹ باہر لے آتا۔ درمیان میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے پی ٹی آئی کے ممبران کو یہ کام کرتے دیکھا تو شور مچادیا۔ اے این پی کے حاجی عدیل نے نکتہ اٹھایا کہ چار کی بجائے ایک بکس غیرقانونی طور پر رکھا گیا ہے۔ اس احتجاج کی وجہ سے پولنگ روکنا پڑی اور کئی گھنٹے بعد الیکشن کمیشن نے ان اعتراضات کو درست تسلیم کرلیا۔ اسی طرح اسمبلی ہال میں صوبائی حکومت نے خفیہ کیمرے بھی نصب کررکھے تھے اور اپنے ممبران کی اس کے ذریعے بھی نگرانی کی جارہی تھی۔ اب اگرچہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) نے اپنے اپنے امیدوار کامیاب کرلئے ہیں لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ پیسہ نہیں چلا‘ ارکان ادھر ادھر نہیں ہوئے یا پھر سب کچھ قواعد کے مطابق ہوا۔ سینیٹ انتخابات کا فائدہ کس کو ہوتا ہے اور کس کو نقصان‘ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن ایک بات طے ہے کہ سیاست اور جمہوریت کی بے وقعتی کا جو عمل کچھ عرصہ سے جاری ہے، اس کو ان انتخابات نے تیز تر کردیا۔ عوام کو یقین ہوچلا ہے کہ کوئی کم اور کوئی زیادہ لیکن بہرحال اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔ یوں بھی ملک میں عملاً مارشل لا نافذ ہے اور صرف باقاعدہ اعلان باقی ہے۔

اس اعلان سے بچنے کا واحد راستہ اب ہمہ جہت آئینی اور انتظامی اصلاحات کے سوا کچھ نہیں۔ اقتدار کے غرور اور مقبولیت کے تکبر میں مبتلارہنمائوں یا پھر ان کے کارندوں کو یہ تنبیہ مشکل سے ہضم ہوگی اور جواب میں گالم گلوچ‘ الزامات اور اپنے کارندوں سے جوابی کالموں کا آنا بھی یقینی ہے لیکن میں جوکچھ محسوس کررہا ہوں‘ اس کو سپرد قلم کرنے پر مجبور ہوں اور بدقسمتی سے میں یہی محسوس کررہا ہوں کہ اس بے شرمی اور بے حسی کی شاہکار یہ جمہوریت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ سدھرنا ہوگا اور نظام کو تبدیل کرنا ہوگا‘ ورنہ جانا ہوگا۔ ایک دو کو نہیں بلکہ سب کو۔ ان کو بھی کہ جو وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھ دیکھ کر آپے سے باہر ہورہے ہیں۔ وماعلینا الاالبلاغ

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.