.

میں آزاد ہوں لیکن

عبدالررؤف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج عورتوں کا عالمی دن ہے۔ اس حوالے سے میں آج یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ منو بھائی نے ایک مرتبہ بی بی سی سے اپنے انٹرویو میں کہاکہ میرے ملک میں آزادی صرف وڈیروں، نوابوں، سرمایہ داروں وغیرہ کو ملی ہے۔ مجھ ایسے لوگ تو اب تک آزاد نہیں ہوئے۔ یہ اس سوال کے جواب میں کہ آپ کی آزادی کو کئی برس ہوگئے لیکن..... یہی سوال اگر میرے ملک کی خواتین سے پوچھا جائے تو شاید اکثریت کا جواب یہ ہو کہ میرے ملک میں آزادی چند لاکھ مردوں کو ملی ہے۔ عورت تو اب تک غلام ہے۔ اس کا کہنا بالکل صحیح ہوگا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سکول کالج جانے والی خواتین کی تعداد انتہائی کم ہو، جہاں ملازمتوں میں ان کو اکثر صنفی بنیادپر ریجیکٹ کردیاجائےیا اگر رکھا بھی جائے تو ان سے ایسا سلوک کیاجائے کہ جو صرف انہیں اسی آنکھ سے دیکھے کہ گویا وہ بازار میں پڑی ہوئی کوئی شے ہے جس کا مصرف صرف اورصرف اپنے نفسانی جذبات کی Satisfaction ہے۔ گھروں میں ان پر ظلم ہو، شادی کے نام پران سے دھوکہ ہو، انہیں شریعت کے نام پر 32روپے 8آنے ہی میں ایسے گھرانوں میں بھیج دیا جائے جہاں ان کا مصرف سارے خاندان کی خدمت ہو۔ جائیداد میں انہیں حصہ نہ ملے اور اگر وہ مانگیں تو ان سے شرمناک سلو ک ہو۔ وہ اپنی پسند سے شادی نہ کرسکیں۔ انہیں خاندان کی عزت بچانے کے نام پر کبھی بھائی، کبھی باپ اور کبھی چچا قتل کردیں۔ ایسے میں لوگ کس آزادی کی بات کریں گے اور تو اور ہم اپنی اسمبلیوں اور سینٹ میں ہی خواتین کی تعداد سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عورت کو کتنی آزادی اور وقار حاصل ہے۔ ایک طرح سے دیکھیں تو پورا ملک ہی سوائے چند علاقوں کے عورتوں کے لئے جبری قبائلی نظام سے مختلف نہیں ہے۔ ملک میں زیادہ تر خواتین کس حال میں جی رہی ہیں اس سے مجھے صدیق برمک کی فلم ’’اُسامہ‘‘ یاد آتی ہے۔ اگرچہ ہمارے حالات اتنے بھی برے نہیں لیکن ہمارے بہت سے علاقوں میں اب بھی صورتحال ایسی ہی ہے۔ یہ فلم ایک چھوٹی سی بچی جس کا نام اس کی والدہ اورنانی اُسامہ رکھ دیتے ہیں، کے بارے میں ہے۔

طالبان افغانستان میں اپنی حکومت قائم کرچکے ہوتے ہیں اور ان کی حکومت خواتین کے لئے بہت ظالمانہ اطوار اپنائے ہوئے ہے۔ انہیں بہت سی اور پابندیوں کی طرح گھر سے نکلنے اور کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ صورتحال اس خاندان کے لئے مزید مشکل ہو جاتی ہے جو صرف تین خواتین یعنی لڑکی، ماں اور نانی پر مشتمل ہے۔ لڑکی کی ماں کا خاوند اور چچا سوویت یونین کے خلاف جنگ میں اپنی جان گنوا چکے ہیں لہٰذا گھر میں کوئی کمانے والا باقی نہیںگو کہ ماں ایک ہسپتال میں نرس کے فرائض انجام دے رہی تھی لیکن طالبان نے اس ہسپتال کی تمام فنڈنگ روک کر اسے عملاً بے عمل کردیا تھا۔ ایک غیرملکی خاتون جو کہ نرس کے طور پر وہاں تعینات تھی گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ ماں ہسپتال سےباہر نرس کے طور پر خدمت کرتی ہے لیکن مریض کی وفات کے بعدظاہر ہے اس طرف سے پیسے آنا بھی بند ہو جاتے ہیں۔زندہ رہنے کے لئے بہرحال کچھ تو کرنا تھا۔ بوڑھی نانی اورلڑکی کی ماں پھرایک ایسا فیصلہ کرتی ہیں جس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ نوعمر لڑکی کو لڑکے کےروپ میں باہر جا کر کمانے کے لئے تیارکرتی ہیں۔ لڑکی کو منانے کے لئے ایک ایسے لڑکے کی کہانی سنائی جاتی ہے جو کہ قوس قزح کے نیچے سےگزرتا ہے تو لڑکی بن جاتا ہے۔ بیچاری لڑکی طالبان کے خوف کو جھٹک دیتی ہے حالانکہ اسے دل کے نہاں خانوں میں یہ یقین ہوتا ہے کہ بالآخر ایک دن وہ پکڑی جائےگی۔ کہانی میں کیا اچھی علامت استعمال ہوئی جب وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر پھولوں کے گلدان میں لگا دیتی ہے۔ گھر سے باہر صرف دوایسے لوگ ہیں جواس نوعمر لڑکی کی حقیقت کو جانتے ہیں ایک تو گوالا جو لڑکی کو ملازمت دیتا ہے اور دوسرا اسفندی جو اس لڑکی کوبھیس بدلنے کے بعد نام دیتاہے ’’اُسامہ‘‘ بھیس کا یہ بدلنا اس وقت ایک سخت مشکل کا شکار ہو جاتا ہے جب طالبان سب نوعمر لڑکوں کےلئے فوجی ٹریننگ لازمی قرار دے دیتے ہیں۔ ٹریننگ سکول میں انہیں وضو کے طریقے، بیویوں سے مراجعت کے بعد نہانے کے طریقے وغیرہ سکھائے جاتے ہیں۔ اُسامہ نہانے دھونے کی اجتماعی سرگرمیوں سے کنارہ کرنے کی کوشش ’’کرتا ہے‘‘ اور یہی چیز اس کی صنف کا ادراک کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ مولوی صاحب کوشک ہوجاتا ہے۔ لڑکے اسے تنگ کرنے لگتے ہیں اور اسفندی اسے بچانے کی ناکام کوشش کرتا ہے لیکن کسی وجہ سے اس کی حقیقت کھل جاتی ہے۔ اُسامہ گرفتار ہوجاتا ہے اور مغربی صحافی اورغیرملکی نرس کے ساتھ اس کا بھی ٹرائل شروع ہوجاتا ہے۔ دونوں یعنی غیرملکی نرس اور مغربی صحافی کو سزائے موت ہو جاتی ہے اور اُسامہ کو کمزور و بے یارو مددگار ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ چھوڑا بھی ایسے جاتا ہے کہ اس کی شادی ایک بوڑھے شخص سے کردی جاتی ہے جس کی پہلے سے ہی تین بیویاں موجود ہیں۔ وہ اُسامہ پر ترس کھاتی ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتیں۔ اس کا بوڑھاشوہر اسے وہ تالے دکھاتا ہے جو اس نے اپنی بیویوں کے کمروں پر لگا رکھے ہوتے ہیں۔ اُسامہ کو بھی کچھ تالے پیش کئے جاتے ہیں تاکہ ان میں سے کوئی ایک اپنے لئے چن لے۔ سب سے بڑا کمرہ اُسامہ کےلئے مختص کردیا جاتا ہے۔ فلم کے آخری سین میں بوڑھا شوہر اسی طریقے سے نہارہا ہوتا ہے جیسا اس نے لڑکوں کو سکھایا ہوتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.