.

دہشت گردوں کا مکمل صفایا

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آرمی چیف جنرل راحیل شریف مکمل فارم میں ہیں۔ کور کمانڈرز کے اجلاس کے بعد وہ پشاور گئے، مقامی فوجی کمان سنٹر میں انہیں ضرب عضب پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر انہوںنے ضرب عضب آپریشن پر مکمل اطمینان کاا ظہار کیا اور اس عزم کو بھی دہرایا کہ دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے تک پاک فوج چین سے نہیں بیٹھے گی ، انہوں نے ہدائت کی وزیری مہاجرین کی واپسی کے شیڈول پر عمل کیا جائے، چند روز قبل فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ بتا چکے تھے کہ اس وقت پاک فوج کے دستے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں پھیل کر بارودی مواد تلف کرنے میں مصروف ہیں تاکہ مہاجرین اپنے گھروں میں واپس آئیں تو انہیں انجانے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

براہ کرم اس سے یہ نتیجہ اخذ نہ فرمائیں کہ جنرل راحیل نے حکومت سنبھال رکھی ہے۔اور وزیر اعظم کو عمرے پر بھجوا دیا ہے۔میرے تجزیئے میں اس وقت نوازشریف پوری طرح بااختیار ہیں، حاکمیت اعلی کے مالک،اس قدر مطمئن کہ سینٹ کے الیکشن کو بھی انہوں نے اپنی پارٹی کے چھوٹے موٹے لیڈروں کے سپرد کر دیا ،سعد رفیق نے بلوچستان کو بھگتایا، کوئی خیبر پی کے میں سر گرم عمل رہا اور سندھ کو زرداری کی سپرداری میں دے دیا گیا۔ وزیر اعظم اپنے ساتھ چھوٹے بھائی شہباز شریف کو بھی عمرے پر لے گئے۔اور سمدھی اسحاق ڈار کو بھی۔ ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ ڈار صاحب کی ملک میں بے حد ضرورت تھی، جب پیسہ چل رہاہو تو جواب میں بھی پیسہ چلے گا، تاش کے پتے نہیں چلیں گے۔

مجھے شہباز شریف کی ملک سے غیرحاضری شاق گزری کہ ان کے پایہ تخت میں کوئی ایک عشرے کے بعد ہارس اینڈ کیٹل شو ہو رہا تھا، اس میں روایت کے مطابق ہر روز کسی مہمان کو مدعو کیا جاتا ہے اور اس کاا ستقبال کرنے کے لئے وزیر اعلی کی موجودگی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ یہ وہ میلہ ہے جس میں شاہ ایران آئے، جنرل ضیاالحق آئے اور کون کون نہیں آیا ۔یہ میلہ کیوں ہوا، میر اخیال ہے کہ فوج کی خواہش پر ہو اکہ ملک میں حالات نارمل نظر آنے چاہیں، صوبائی حکومت نے فوری طور پر ہاں کر دی اور تجویز دی کہ اسے جشن بہاراں کا نام دیا جائے، میرا خیال ہے کہ فوجی قیادت نے کہا ہو گا کہ جشن ضرور منائیں لیکن نام لے کر نہیں کیونکہ شہدا کے اہل و عیال کو اچھا تائثر نہیں ملے گا۔اور پھر اسے ہارس اینڈ کیٹل شو ہی کہا گیا۔شاید یہ جشن بہاراں ہوتا تو وزیر اعلی اس میں روزانہ تشریف لاتے اور ان کے بیٹے حمزہ بھی جو کہ ہر طرح کے جشن منانے کا ہنر جانتے ہیں خاص طور پر پی ٹی آئی کے مقابل یوتھ کنونشن انہوںنے کامیابی سے منعقد کئے۔ مگر ہارس اینڈ کیٹل شو سونا سونا رہا۔ جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو یہ اختتامی دن ہے اور شاید اس میں وزیر اعظم آئے ہوں، مہربانی ہے ان کی اگر انہوںنے اس کے لئے وقت نکا ل لیا ہو۔

قارئین کویاد ہوگا کہ میںنے کئی مواقع پر بالاصرار کہا ہے کہ ہمیں حالت خوف سے نکلنا چاہئے، جس طرح نائن الیون کے بعد صدر بش نے کہا تھا کہ امریکیو! گھروں سے باہر نکلو، پارکوں کا رخ کرو، ساحل سمندر پر تفریح منائو، کلبوں میں جائو، اور دل بہلاوے کا سامان کرو۔ اسی طرح میری بھی خواہش تھی کہ ہم اپنے معمولات میں مصروف نظر آئیں، ہمارے اسکول کھلے رہیں، منڈیوں، بازاروں میں چہل پہل دکھائی دے، ہماری سڑکوں اور دفتروں کے سامنے لوہے کی تاریں اور پتھروں کی رکاوٹوں کوہٹادیا جائے۔ اگر ہم پینسٹھ اور اکہتر میں بھارتی بمباروں سے نہیں ڈرے جو پانچ سو یا ایک ہزار اور دو ہزار پونڈ وزنی بموں سے لیس لاہور کی فضائوں میں گرجتے اور دھاڑتے تھے تودہشت گردوں کے چند کلومواد سے ہم کیوںخوف کھاتے ہیں۔

مجھے یہ زعم نہیں کہ وزیر اعظم یا آرمی چیف نے میری رائے کو قبول کیا ہو۔مجھ ناچیز کی کیا حیثیت مگر جو ہونا چاہئے وہ ہو رہا ہے اور مجھے اس پر ذہنی خوشی ا ور قلبی اطمینان ہے کہ معاملات راست سمت آگے بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر وزیری مہاجرین کی واپسی کا شیڈول میرے لئے خوش آئند ہے، فوج نے ماضی قریب میں سوات اور مالاکنڈ میں آپریشن کیا تھا اور ریکارڈ مدت میں علاقہ صاف کر کے مہاجرین کو واپس گھروں میں آباد ہونے کا موقع فراہم کیا، اس مرتبہ آپریشن ضرب عضب کے لئے فوج نے پہلے تو بہت کم مدت متعین کی مگر جب میدان میں کودے تو پتہ چلا کہ ا س کی رفتار سست رکھنا پڑے گی تاکہ اپنی افواج کا کم سے کم جانی نقصان ہو، اب وقت کی اہمیت نہیں تھی اور جنرل باجوہ نے صاف کہا کہ ترجیح ہماری افواج کی سیکورٹی ہے کیونکہ پہاڑوں کی غاروں میں دہشت گردوں نے مورچے لگا رکھے ہیںاور ان پر دیوانہ وار حملہ دانش مندی نہیں، اس کے لئے پی اے ایف کی مدد حاصل کی گئی۔ پھر بھی بعض مقامات پر دست بدست مقابلے کی نوبت آئی اور ہمارے افسروں اور جوانوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔

اس جنگ میں دشمن بالکل ننگا ہو گیا، جیسے ہی ضرب عضب کا آغاز ہوا، ساتھ ہی بھارت نے ورکنگ بائونڈری اور کنٹرول لائن پر دبائو بڑھا دیا تاکہ پاک فوج کی توجہ آپریشن سے ہٹ جائے اور دہشت گردوں کو منظم ہونے کا موقع مل جائے۔یہ کوئی الزام نہیں بلکہ ایسی حقیقت ہے جس کا اظہار ہمارے آرمی چیف نے کیا ہے اور ہمارے سیکرٹری خارجہ نے بھارتی سیکرٹری خارجہ سے باقاعدہ اس پر احتجاج کیا ہے، وزیر اعظم بھی بھارتی شیطنت سے کئی بار پردہ ہٹا چکے ہیں۔

دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی جڑیں تک کاٹ دی جائیں۔ مدرسے والے کہتے ہیں کہ صر ف انہیں مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے، چلئے، ان کی بات مان لیں لیکن دہشت گردوں کو جہاں سے بھی حمائت میسر ہے، ان کمیں گاہوں پر ضرب کاری لگانے کی ضرورت ہے۔ میں سچی بات کروں گا کہ فوج اس وقت بپھرئی ہوئی ہے، اس کے ڈیڑھ سو بچے بے رحمی سے شہید کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں دہشت گردوں کے حامیوں کوقدرتی طور پر چپ لگ گئی مگر وہ دہشت گردی کی نہ تومکمل مذمت کرتے ہیں ، نہ پاک فوج کے عزم اور ایکشن کی حمائت کے لئے تیار ہیں، یہ سرے سے منافقت ہے جو آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کی راہ میں حائل ہے ۔بڑے طمطراق سے اعلان ہو ا تھا کہ دہشت گردوں کو پھانسیاں لگیں گی مگر ہمارے ٹیکسٹائل مالکان یورپی یونین کو برا ٓمدات کر کے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں ، انہوں نے یورپی یونین سے دبائو ڈلوایا ہے کہ پھانسیاں روک دی جائیں ، پاکستانی قوم کو دہشت گرد قیمہ بناتے رہیں لیکن ٹیکسٹائل سیکٹر کو اپنی تجوریوں کی فکر ہے۔دوسری طرف فوجی عدالتوں کی مخالفت جاری ہے، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایسے طبقات موجود ہیں جو دہشت گردوں کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں، ماضی کی عدلیہ نے تھوک کے حساب سے دہشت گردوں کو رہا کیا، پھر دہشت گردوں کو کھلی چھٹی مل گئی کہ وہ جیلیں توڑ کر فرار ہو جائیں۔

جنرل راحیل کا عزم تو یہ ہے کہ دہشت گردوں کا مکمل صفایا کریں گے مگر انہیں اس کے لئے چومکھی لڑائی لڑنی ہے اور دہشت گردوں کے کھلے حامیوں سے بھی نبٹنا ہے۔

آج ہمیں یہ یقین کر لینا چاہیئے کہ ہماری فوج وہ آپریشن نہیں کر رہی جو اس نے اکہتر میں مشرقی پاکستان میں کیا، میرے نزدیک تو اس میں بھی کوئی غلطی نہیں تھی، بھٹو نے بھی آپریشن کے آغاز پر کہا تھا کہ پاکستان بچ گیا، جماعت ا سلامی نے تو البدر اور الشمس بنا کر آپریشن کے شانہ بشانہ مکتی باہنی سے لڑائی کی ا ور آج اس کی سزا کے طور پر پھانسیاں بھگت رہی ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت نے فوجی آپریشن کے چند ایک مخالف خورد بین سے ڈھونڈ نکالے ہیں اور انہیں اعلی سرکاری اعزازات سے نوازا گیا ہے مگر آج کے پاکستان میں فی الوقت آپریشن ضرب عضب کی بظاہر کوئی مخالفت نظر نہیں آتی اور جو تھوڑی بہت ہے، اس کے لئے آئین اور عدلیہ کی ا وٹ استعمال کی جا رہی ہے۔کیا ہی بہتر ہو کہ قوم کے دشمن دہشت گردوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت کریں تاکہ فوج کواپنی جنگ ،منطقی نتیجے سے ہمکنار کرنے میں کوئی دقت محسوس نہ ہو۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.