.

بچائو کا واحد راستہ

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم اپنی سیاسی جماعتوں کو تین کیٹگریز میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ (1)مذہبی (2)لسانی یا علاقائی اور(3) قومی ۔ اول الذکر دو کیٹگریز بحیثیت مجموعی تقسیم کا موجب بنی ہیں جبکہ ملکی وحدت اور جمہوریت کی ضامن آخری الذکر یعنی قومی جماعتیں ہی ہیں۔ قومی مذہبی جماعتیں بھی کسی حد تک ملکی وحدت میں کردار ادا کررہی ہیں لیکن کئی دیگر حوالوں سے وہ قوم کو تقسیم اور جمہوریت کوکمزور کرنے کا موجب بنی ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قومی سیاسی جماعتوں کی خراب کارکردگی ہی مذہبی اور علاقائی جماعتوں کے ابھرنے یا پھر فوجی حکومتوں کی راہ ہموار کرتی ہے اور اگر وہ صراط مستقیم پر چلتیں تو نہ قوم مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم ہوتی اور نہ فوجی آمروں کو جمہوریت پر وار کرنے کا جواز ہاتھ آتا۔ یوں سب سے زیادہ ذمہ دار قومی سیاسی جماعتیں ہی قرار پاتی ہیں ۔ دو بڑی قومی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہیں لیکن بدقسمتی سے خود ان جماعتوں کے اندر جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ ایک میں بھٹو خاندان (اب زرداری خاندان) کی آمریت جبکہ دوسرے میں شریف خاندان کی آمریت قائم ہے ۔ کچھ عرصہ سے تحریک انصاف تیسری قومی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ اپنے آپ کو دوسری قومی جماعتوں میں موجود خامیوں سے پاک رکھے گی لیکن بدقسمتی سے وہاں پر عمران خان صاحب کی آمریت قائم ہوگئی ۔ ان تینوں جماعتوں کے اندر ادارے برائے نام ہیں ۔ اپنے وابستگان کے ہر جرم اور قانون شکنی کو گوارا اور اس کا دفاع بھی کیا جاتا ہے لیکن پارٹی لیڈر کی پالیسی یا شخصیت سے اختلاف کو گوارا نہیں کیا جاتا۔ یہ تینوں اپنے محاسن کے ذریعے نہیں بلکہ دوسری پارٹی کی خرابیوں کے تذکرے سے ہی زندہ ہیں۔ کوئی ایک جماعت یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ جمہوری یا خامیوں سے پاک ہے بلکہ دلیل یہ دیتی ہے کہ مخالف جماعت اس سے زیادہ بری ہے ۔سینیٹ کے گزشتہ انتخابات نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ جمہوریت کے اس حمام میں یہ تینوں جماعتیں ایک جیسی ہیں۔

جمہوریت تقاضا کرتی ہے کہ ملک کے سب علاقے فیصلہ سازی میں یکساں شریک اور اس سے وفاق کی تمام اکائیاں یکساں مستفید ہوں لیکن موجودہ جمہوریت میں پسماندہ علاقوں اور چھوٹی قومیتوں کی محرومیاں روز بروز مزید بڑھ رہی ہیں۔ نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اب طالبان کو بھی پنجابی اور غیر پنجابی کی بنیادوں پر ڈیل کیا جارہا ہے ۔ حکمرانوں نے پنجابی طالبان کے ساتھ صلح جبکہ پختون طالبان یا پھر بلوچ عسکریت پسندوں سے جنگ گرم کردی ۔ پھر صوبوں کے اندر بھی علاقائی بنیادوں پر تفریق کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ پنجاب کے اندر سرائیکی عوام تو کیا خود مسلم لیگ(ن) کے اندر سرائیکی مسلم لیگیوں کے ساتھ بھی سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔ سردار ذوالفقار کھوسہ اور تہمینہ دولتانہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبے بنانے کی قرارداد منظور کی ہے لیکن شریف برادران اس سلسلے میں ایک بھی قدم آگے نہیں بڑھارہے ہیں ۔ سینیٹ انتخابات کے موقع پر سندھ سے تو امیدوار درآمد کئے گئے لیکن سرائیکی پٹی کو نمائندگی دینا حرام سمجھا گیا۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں بھی سرائیکستان اور بہاولپور کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ خیبرپختونخوا میں پختون مسلم لیگیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھاگیا ہے اس کے بعد مجھے یقین ہے کہ اگر بوجوہ دوسری جماعتوں میں نہ گئے تو امیر مقام‘ پیر صابر شاہ اور شہاب الدین پشت جیسے مسلم لیگی جلد بلوچستان کی طرز پر اپنے لئے پختونخوا مسلم لیگ بنانے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ اسی طرح قبائلی علاقوں نے مسلم لیگ (ن) کو دو نشستیں دلوادیں لیکن وزارت ایک بھی نہیں ملی ۔

جمہوریت کا تصور بلدیاتی نظام کے بغیر ایساہی ہے کہ جیسے روح کے بغیر جسم لیکن ہماری سیاسی جماعتیں اس کی دشمن واقع ہوئی ہیں ۔ اس وقت سندھ میں پیپلز پارٹی کی‘ پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی اور خیرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن کوئی ایک بھی حکومت اپنے صوبے میں بلدیاتی انتخابات نہ کرواسکی۔ اب جب عدالت کے دبائو سے کرائیں گی بھی تو اس کی روح سلب کرکے ہی برائے نام بلدیاتی اداروں کا قیام عمل میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔ حالانکہ اصل ضرورت بلدیاتی اداروں کی نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کی ہے ۔ بلوچستان میں انتخابات تو منعقد ہوچکے لیکن وہاں جس صوبے میں صوبائی حکومت نظر نہیں آتی، وہاں مقامی حکومتیں کیا نظرآجائیں گی۔

انسان کی اولین ضرورت جان ‘ مال اور عزت کی سلامتی ہے لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومتیں اسے فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں ۔ سندھ کے حالات پنجاب سے ‘ بلوچستان کے سندھ سے ‘ کے پی کے کے بلوچستان سے اور فاٹا کے کے پی کے سے بدترہیں ۔ گلگت تاگوادر اور خیبر تا کراچی کہیں بھی شہری ‘ جان ‘ مال اور عزت کے تحفظ کے لئے ریاست پر اعتماد نہیں کرسکتے ۔ اسلام آباد جیسے شہر کے باسی اللہ کے آسرے پر یا پھر اپنے انتظام کے ساتھ عدم تحفظ کے شدید احساس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔ عدالتی نظام داخلی خرابیوں یا پھر خوف کا شکار ہے اور وہاں سے بھی انصاف کی توقع نہیں۔ میڈیا برائے نام آزاد لیکن حقیقتاً بدترین غلامی کا شکار ہے ۔ شریف لوگ اس کے شر سے ڈرتے ضرور ہیں لیکن کسی بھی فرد یا گروہ کو تحفظ یوں فراہم نہیں کرسکتا کہ اب وہ خود عدم تحفظ کا شکار ہے۔

ان حالات میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ جمہوری نظام کوزیادہ دیر تک برداشت کیا جائے گاتو وہ احمقوںکی جنت میں رہتا ہے ۔ اگر تو حالات جوں کے توں رہتے ہیں تو بھی انارکی کی طرف بات بڑھتی ہے اور اگر علاج ایک اور مارشل لا کی صورت میں تلاش کیا جاتا ہے تو بھی تباہی ہے ۔ بچائو کا واحد راستہ یہ ہے کہ فوری طور پر ایسی آئینی‘ سیاسی ‘ انتظامی اور عدالتی اصلاحات عمل میں لائی جائیں کہ جن کے نتیجے میں مذکورہ بالا مسائل اور چیلنجز پر قابو پایا جاسکے ۔ ان اقدامات اور اصلاحات کے لئے حقیقی معنوں میں تمام طبقوں کا نمائندہ ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے ۔ اس میں سیاسی، علاقائی، لسانی، ادارہ جاتی اور مذہبی بنیادوںپر سب کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے ۔ یہ کمیشن بغیر کسی وقفے کے دن رات کام کرے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم تیار کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے طرز پر یہ اپنی سفارشات کو اس وقت تک خفیہ رکھے جب تک وہ حتمی طور پر تیار نہ ہوں اور جب سفارشات پر دستخط ہوجائیں تو پھر انہیں پارلیمنٹ کے سامنے منظور ی کے لئے پیش کیا جائے۔ یہ کمیشن جن ایشوز پر سفارشات مرتب کرے ‘ ان میں چند ایک نمونے درج ذیل ہوسکتے ہیں:


(1) ریاست اور مذہب کا تعلق (2) سول ملٹری تعلقات اور فوج کا آئینی کردار (3) انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل (4) احتساب کاشفاف نظام (5)آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن جو شفاف انتخابات کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوریت کو یقینی بناسکے (6) بلدیاتی نظام (7)نیا عدالتی نظام (8) سرکاری افسران کی تقرریوں اور تبادلوں کا ایسا نظام جو میرٹ پر مبنی ہو ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

یہ صرف چند نمونے کے موضوعات ہیں جو اس وقت میرے ذہن میں آئے ۔ مجوزہ کمیشن کے سامنے اسی طرح کے کئی دیگر بنیادی موضوعات رکھے جاسکتے ہیں لیکن اب کچھ کئے بغیر چارہ نہیں۔ اب صرف نمائشی اقدامات اور دعوئوں اور وعدوں سے کام نہیں چلے گا۔ مذکورہ بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں اور عوام کو نظام سے جوڑا نہ گیا تو چند افراد اور خاندانوں کا یہ جمہوری تماشہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ منطقی نتیجہ مارشل لاء کی صورت میں نکلے گا جو بڑی حد تک نافذ ہوگیا ہے اور صرف باقاعدہ اعلان ہی باقی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ بدقسمت ملک کسی اور مارشل لاء کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یوں اب صرف جمہوری نظام کا ہی نہیں بلکہ ملکی بقا کا بھی تقاضا ہے کہ بنیادی آئینی، سیاسی، عدالتی اور انتظامی اصلاحات سامنے لائی جائیں۔ گویا ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کے بغیر جمہوریت برقرار رہ سکتی ہے اور نہ مکمل انارکی سے بچا جاسکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.