.

پرویز مشرف کی معصومیت

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق صدر پرویزمشرف اکھاڑائے سیاست کے روایتی پہلوانوں میں سے کسی سے ڈرتے ورتے ہیں یا نہیں، پاکستانی سیاست کے خارزار سے گزر کر بھی سیاسی بیان بازی میں اپنے حریف روایتی سیاست دانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے جس سادگی اورآسانی سے رسوائے زمانہ ’’این آراو‘‘ کے سیاہ قانون کو اپنے دور کی بڑی غلطی تسلیم، اس سے انہیں صاف گو کے طور پر تسلیم کئے جانے کے فائدہ کے مقابل کہیں بڑا نقصان ہوا۔ یوں کہ آئین سے متصادم ’’این آر او‘‘ کو اختیار کرنے کے بعد بڑے بڑے وائٹ کالر کرائمز کے ہزاروں ملزمان (بشمول چوٹی کے ان روایتی سیاست دانوں کے جن کے دامن برسوں سے کرپشن کے یقین کی حد تک الزامات سے داغدار ہیں) دوبارہ بازار سیاست کی رونق بنے۔ اس بار انہوں نے اقتدار میں آکر جو جو کچھ عوام کے ساتھ کیا، اس پر زیادہ تر رائے عامہ یہ بنی کہ ان کے ساتھ جو بدترین ہورہا ہے، یہ سب اسی کا کیا دھرا ہے کہ قلم کی ایک آمرانہ جنبش سے شدت سے قابل احتساب وائٹ کالر مجرموں کو شفاف بنا دیا گیا۔ پھر یہ کہ شفاف ہو کر انہوں نے جنرل سے صدر بننے والے کو شدت سے قابل احتساب بنا دیا اورڈرائی کلین ہونے والے حکمران سے صدر بننے والے کو شدت سے قابل احتساب بنا دیا اور ڈرائی کلین ہونے والے حکمران پرویز مشرف کے احتساب پر تل گئے، حتیٰ کہ ان خیرخواہوں کے مشورے پر بھی کان نہ دھرا جنہیں اپنے بادشاہوں کے دوبارہ قابل احتساب ہونے کے خدشے ہیں، جنرل (ر) صاحب کے احتساب سے باز رہنے کے مشورے دیتے رہے۔ نتیجتاً سابق جرنیلی صدر تو آہستہ آہستہ احتساب کے دائرے سے نکل رہے ہیں، انہیں یہ بھی یقین ہے کہ آرٹیکل 6 کے جس پھندے سے انہیں ڈرایا گیا، وہ بھی ڈھیلا پڑ کر زمین سے آلگے گا، اور وہ ہر طرح کے مضحکہ خیز احتساب سے بچ نکلیں گے، بقول ان کے کہ 40 سال کی قومی خدمات کے بعد ان پر آرٹیکل 6 لگانا مذاق ہے۔

رہا یہ سوال کہ این آر او کے بینی فشریز کس طرح مشرف صاحب سے زیادہ گھاگ اور اپنے سیاسی ابلاغ میں ان سے زیادہ چالاک ہیں۔ وہ اس طرح کی شائع شدہ ایک خبر کے مطابق جنرل صاحب نے اپنے اعزاز میں مولانا احترام الحق تھانوی کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئین بچانے کے چکر میں ملک تباہ کیا جارہا ہے، جب ملک ہی نہ ہوگا تو آئین کاغذ کا ٹکڑا ہے۔‘‘ اگر ایک قومی اخبار کے صفحہ پر لگی یہ سرخی ان کے بیان کے مطابق اسی طرح ہے تو پھر تو واقعی جنرل (ر) صاحب کی معصومیت کی مزید تصدیق ہوتی ہے۔ یوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمران ان کے خلاف جو کچھ کررہے ہیں، وہ ملک کی تباہی ہے، ساتھ ہی وہ یہ مان رہے ہیں کہ یہ سب کچھ آئین بچانے کے چکر میں کیا جارہا ہے۔ اور دلیل دے رہے ہیں کہ ملک ہی نہ رہے گا تو آئین فقط کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ یہ کتنی معصومیت ہے کہ ان کے خلاف کسی کارروائی سے ملک ہی نہیں رہے گا (خاکم بدہن) حقیقت یہ ہے کہ جن قابل احتساب بڑے بڑے وائٹ کالر ملزمان کو آپ نے ڈرائی کلین، اس سے ملکی خزانے، نظام اور عوام کو شدید جھٹکے لگے اور لگ رہے ہیں اور یہ سارا ڈرامہ آ پ کے ساتھ ان کی مفاہمت کے نام پر ہوا جسے ’’قومی مفاہمت‘‘ کا نام دیا، لیکن آپ کے حریفوں اور آپ کے دور اقتدار میں آپ کے حلیفوں میں مفاہمت مفاہمت کا جو کھیل کھیلا گیا، اس میں آئین کی کتنی ہی آرٹیکلز کو ٹھکانے لگا کر ایسا کیا گیا۔ آئین کی روح ’’احتساب اور اپوزیشن کا جمہوری کردار‘‘ دونوں بیمار پڑے گئے اور آپ مفاہمت کے دائرے سے نکل کر عدالت کے کٹہرے تک پہنچا دیئے گئے۔

جنرل (ر) صاحب! آپ اب بھی اس نکتے کو کیوں نہیں سمجھ نہیں پا رہے کہ آئین سے روگردانی کر کے اور آئین کے تحت اٹھائے جانے والے حلف سے بے وفائی کر کے ملک و قوم کو عدم استحکام میں مبتلا کررہے ہیں نہ کہ وہ آئین کو بچانے کا کوئی چکر چلا رہے ہیں۔ آئین کو بچانا تو چکر ہرگز نہیںتقاضا ہائے آئین و حلف ہے، لیکن کون آئین کو بچانے کے چکر میں ہے؟ آپ آخر کیا کہنا چاہتے ہیں۔ ہمارے روایتی حکمراں، کیا حاکم اورکیا اپوزیشن کے، دونوں کس طرح باہمی مفاہمت سے الیکشن کمیشن کو لاغر رکھےہوئے ہیں اور جس طرح مسلسل بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے انعقاد سے بھاگ رہے ہیں، اس پر یہ کہا جائے گا کہ انہوں نے آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھا ہوا ہے جس کی کتنی ہی آرٹیکلز کو یہ مسلسل منجمد رکھ سکتے ہیں، تو یہ آئین کو بچا رہے ہیں؟ یا اس سے ’’غداری‘‘ کے مرتکب۔ حقیقت یہ نہیں کہ غدار آپ ہیں تو وہ، دونوں قابل احتساب ہیں۔ آپ دونوں ہی خوش قسمت ہیں کہ احتساب کی قوم میں سکت نہیں۔ نظام حکومت و سیاست کبھی انکے ہاتھ آیا کبھی آپ کے ہاتھ لگا، ماری گئی قوم اور ملک۔ ہاں آپ کے این آر او کے بعد واقعی قومی مفاہمت کہیں آئین کی مکمل بحالی اور اطلاق پر ہو جاتی تو پاکستان کو جو یہ پہ درپے اتنے جھٹکے لگے اور لگتے ہیں۔ اگر آپ نے اعتراف حقیقت کرنا ہے تو یہ ہی کیجئے کہ اس حمام میں …… جو ہو گیا کفارہ آپ ادا کرسکتے ہیں نہ وہ۔ البتہ جس طرح آپ نے این آر او کے جھانسے میں آکر دھوکہ کھایا اور کٹہرے تک پہنچ گئے، وہ بھی آپ کے احتساب کی غلط فہمی میں کہ وہ یہ کرسکتے ہیں اب ’’خود پابہ ٔ زنجیر‘‘ ہیں۔ اور بخوشی ہیں۔ کوئی آئین کو بچاتا ہے نہ اس پر چلتا ہے۔ آپ کا احتساب کرتے کرتے، آپ کے محتسب بننے کے شوق میں مبتلا حکمرانوں نے اب آپ کو بازار سیاست کی رونق بنا دیا۔ ماشاء اللہ اب تو آپ کی پارٹی بھی ہے۔ استقبالیے بھی ہیں،انتخابی حلقہ، جہاں سے آپ کی جیت قدموں میں، وہ بھی بآسانی دستیاب ہے۔ جس طرح آپ مفاہمت کا دھوکہ کھا کر کٹہرے میں چلے گئے تھے، آپ کے احتساب کی غلط فہمی میں حکمرانوں کا ایک شوق دفن ہی ہوتا معلوم دیتا ہے۔ آئین پر چلا جائے تو کوئی کسی کو دھوکہ دے سکے گا نہ کوئی حکمراں اپنے رتبے اور منصب کے برعکس معصوم ہوگا۔ اب آپ بازار سیاست میں آہی گئے ہیں، آپ کے حریفوں نے آپ کو چک شہزاد میں آرام نٰہیں کرنے دیا تو ہمیں یہ بتائیں اور بتاتے رہے کہ حکمران کہاں کہاں آئین کی خلاف ورزی کررہے۔ احتساب نہ آپ نے ان کا کیا نہ وہ آپ کا کرسکیں گے، ملک کو بچانا ہے اور خود کو بھی تو فقط ایک ہی راہ ہے۔ آئین پاکستان کا مکمل اور قانون کا یکساں نفاذ۔ وماعلینا الاالبلاغ۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.