.

گدھا کتا کچھوا اور اب ریت ملی دال

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج جو کچھ بھی لکھنا تھا وہ سرکاری بجلی نے ذہن سے محو کر دیا ہے۔ صبح سے اندھیرا ہے اور یہ پرانی حیرت اب تو ذہن میں گویا جم سی گئی ہے کہ اگر اس جدید کہلانے والے زمانے میں بھی ہم بجلی تک سے محروم رہے تو پھر ہمارا بنے گا کیا۔

ہماری اس نام نہاد نئی حکومت کو دو برس ہونے کو آئے ہیں مسئلے حل کیا ہونے تھے ہمارے نئے حکمرانوں نے نئے مسئلے پیدا کر دیے ہیں اور ان میں اضافہ جاری ہے۔ ہماری عام زندگی میں ایسے ایسے حیرت انگیز واقعات رونما ہو رہے ہیں جن کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔

مثلاً گدھے کا گوشت برائے انسانی خوراک کس کے تصور میں تھا لیکن ایسی خبریں متواتر چھپتی رہی ہیں اور یہ مختلف علاقوں سے آتی رہی ہیں ایک علاقے سے جب خبر چھپی تو دوسرے علاقوں میں بھی اس مفت کی آمدنی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ ہوا یہ کہ آوارہ گدھا پکڑا یا چوری کرلیا اس بے گناہ کو زہر کھلا دیا گیا جس سے وہ مر گیا اور پھر اس کی کھال اتار کر اس کا گوشت ’مٹن‘ بنا کر قصابوں کی دکانوں پر رکھ دیا گیا جہاں سے ہم بے خبر لوگوں نے اسے خریدا پکایا اور کھا لیا۔

یہ ہماری اخلاقیات کی انتہائی گراوٹ تھی۔ پھر اسی دوران ایک دو دن کے اخباروں میں یہ خبر بھی چھپی کہ گدھوں کی طرح کتوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے اوران کا گوشت بنا لیا گیا ہے۔ گدھے تو اتنے عام دستیاب نہیں ہیں مگر کتے تو گلی گلی آوارہ پھر رہے ہیں۔ ایک دو دن کے بعد یہ خبریں بند ہو گئیں غالباً ایڈیٹروں کی برداشت جواب دے گئی اور شکرہے کہ کتوں کا مٹن اگر پھر بھی بنتا ہے تو اس کی اطلاع نہیں دی جاتی۔

گدھوں اور کتوں کے بعد خبر آئی کہ کراچی میں کچھوؤں کی بھاری تعداد ہلاک کر دی گئی اور اس کے جسم کے مختلف حصے بھی فروخت کیے جانے لگے، کوئی چار ہزار کچھوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ گدھوں کتوں اورکچھوؤں کے بعد کھانے کو اگر کوئی چیز بچ گئی تھی تو وہ سبزی تھی لیکن یہ بھی شہروں کے گندے نالوں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے اور صاف ستھری دھو دھا کر بازار میں فروخت کر دی جاتی ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اگر اس سبزی کو ایک دن بھی رکھ دیں تو دوسرے دن یہ مرجھا جاتی ہے اور پکانے کے قابل نہیں رہتی۔

کھانے کے سلسلے میں طویل غوروفکر کے بعد طے ہوا کہ اب صرف دال بچ جاتی ہے جسے پکایا اور کھایا جا سکتا ہے اور جو غریبوں کا سالن سمجھا جاتا رہا ہے اور اب صاحب حیثیت لوگوں کے دستر خوان پر بھی سج رہا ہے اگرچہ خواتین نے بتایا کہ دال میں ریت کی ملاوٹ کی جاتی ہے جو باریک ہوتی ہے لیکن دال کو اچھی چھان پھٹک کر اسے کھانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

شہنشاہ بابر نے ہندوستان میں جب لوگوں کو آٹے کی روٹی کے ساتھ دال کھاتے دیکھا تو تعجب کیا کہ یہاں لوگ اناج کو اناج کے ساتھ کھاتے ہیں لیکن بابر کے زمانے میں شکار عام ہوا کرتا تھا اب تو یہ تمام جانور گھروں یا چڑیا گھروں میں ہی دیکھے جاتے ہیں جنگلوں میں نہیں کہ شکار کیے جائیں۔

غرض اب یہ وقت آ گیا ہے کہ کتوں گدھوں اور کچھوؤں کے بعد اگر بطور سالن کچھ میسر ہے تو وہ دال ہے۔ چنے کی ہو یا مسور کی مونگ کی ہو یا کسی اور جنس کی اب ہم اپنے پرانے قدرتی زندگی والے دور کی طرف رجعت کررہے ہیں جب زندگی مشینوں کی نہیں انسانوں کی تھی اب تو بجلی بند ہو تو باورچی خانہ بھی نہیں چل سکتا اور گیس نہ ہو تو کھانا نہیں پک سکتا۔ کارخانے ہی نہیں انسان بھی قدرتی ایندھن کے محتاج ہو گئے ہیں۔

میں یہ سطریں مصنوعی روشنی میں لکھ رہا ہوں جو ایک مشین اور بیٹریوں کی مدد سے بنتی ہے اسے یو پی ایس کہا جاتا ہے اور میں بار بار کسی سے کہتا ہوں کہ دیکھو یو پی ایس میں کتنی طاقت باقی ہے ورنہ موم بتی ہے جس کی روشنی بہت کم ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی جانتی ہے کہ ہم کن لوگوں میں پھنس گئے ہیں اور کب تک پھنسے رہیں گے۔

نہ جانے ہمارے اجتماعی گناہوں کا کفارہ کب ختم ہو گا اور ہم نارمل زندگی کی طرف لوٹ سکیں گے لیکن ہمارے گناہوں کا سلسلہ جاری ہے اس لیے اب آج کے عام انسانوں کی زندگی کے لوٹ آنے کے امکانات کم ہی ہیں بہتر یہی ہے کہ اس ادھوری زندگی کو اپنی عادت بنا لیں کہ دن رات کے نصف حصے میں وہ بھی اگر قسمت ساتھ دے تو بجلی ملے گی ورنہ شاعر کے ایک مصرعے میں ذرا سی ترمیم کے ساتھ عرض ہے کہ ع میری ’آدھی‘ زندگی کو بے ثمر اس نے کیا۔

اگر قسمت ناراض رہے جیسے اب ہے تو پھر اندھیرے ہیں اور ہم ہیں۔ بجلی کے ساتھ ہم آغوشی اور ہجر و وصال کا سلسلہ ختم۔ بات ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی اپنی زندگی میں ماشاء اللہ کسی چیز کی کمی نہیں۔ سب کچھ ان کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ انھیں یہ احساس ہی نہیں کہ بجلی نہ ہو تو کیا ہوتا ہے اور اندھیرا کس بلا کا نام ہے۔

وہ عام آدمی نہیں ہیں خاص بلکہ خواص ہیں۔ وہ کوئی عمر بن خطابؓ نہیں کہ قحط میں اپنے لخت جگر کے منہ میں خربوزے کی پھانک دیکھ کر اس سے چھین لیں کہ کیا دوسرے بچے بھی خربوزہ کھا رہے ہیں جو تم عمر کے بیٹے کھا رہے ہو۔ ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جب ہر کوئی حکومت کا محتاج ہے اگر حکمرانوں کے سینوں میں فرض شناس دل ہے تو ہم بھی خوش ہیں اور اگر وہ آج کی طرز کے حکمران ہیں تو پھر ہمارے لیے محرومیوں کے سوا اور کچھ نہیں۔

دنیا کے کچھ ملکوں میں عوام نے حکمرانوں کو مجبور کر رکھا ہے کہ وہ پہلے ان کی سنیں بعد میں اپنی لیکن افریقہ اور ایشیا میں صورت حال مختلف ہے سوائے دو چار ملکوں کے اس لیے اگر ہم نے ان نام نہاد انتخابات کے ذریعے اپنے حکمران بنانے ہیں تو پھر ہمیں اپنی تربیت کے لیے اک عمر چاہیے کیونکہ ہمارا اشرافیہ جو حکمران ہے ہمیں اتنا باشعور نہیں ہونے دے گا اور ہم دال بھی کھا لیں گے تو اس میں ریت کی ملاوٹ ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.