.

سیاست نہیں تو یہ سیاسی ملک بھی نہیں

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مال و دولت کے بے پناہ لالچ اور طرح طرح کی کرپشن میں سرتاپا ڈوبی ہوئی ہماری سیاست نے گزشتہ دنوں سینیٹ کے الیکشن میں کروٹ بدلی اور اپنا جدید سیاسی کردار شروع کر دیا یعنی مال بنانے کا ایک اور موقع مل گیا اور اس میں اپنی ہنرمندی کا کردار شروع کر دیا۔ جس کے جو نصیب میں تھا وہ اسے مل گیا لیکن صوبہ خیبر پختونخوا والے بے نیل و مرام رہے۔

ان کے لیڈر ایسے ضدی کوڑھ مغز اور برخود غلط تھے کہ انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھی اپنی پسند کو پسند کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ ایک حیرت انگیز سیاسی کارنامہ تھا اسے آپ اگر سیاسی انقلاب کہیں تو بالکل بجا ہو گا۔ ہماری غلط بنا دینے والی سیاست کے میدان میں صاف ستھرے پانی والی نہر چلا دینے کو انقلاب نہ کہیں تو کیا کہیں اور اس صوبے کے حکمرانوں کی داد نہ دیں تو کیا کریں۔

اس صوبے کو انتخابی کرپشن سے محفوظ رکھنے کا کارنامہ ایک عجوبہ ہے جو ہماری جدید پاکستانی سیاست کی تاریخ میں کسی بھی بڑے محترم نام سے یاد رکھا جائے گا۔ اس عجیب اور غیر یقینی کارنامے کا ذکر بڑی حد تک اسی صوبے میں محدود رہا جس میں یہ معجزہ ظاہر ہوا تھا۔

دوسرے صوبوں والے یا تو شرمندہ رہے یا وہ اپنے ہاں یہ رسم ڈالنا نہیں چاہتے تھے جو بھی‘ یہ صوبہ بازی لے گیا اور بازی کیا لے گیا اپنی نئی تاریخ بنا گیا اور اپنی ہی نہیں ملک بھر کی سیاسی انتخابی تاریخ کا ایک روشن اور قابل رشک باب لکھ گیا۔ عمران خان جس کی جماعت کی اس صوبے میں حکومت ہے اور وہ سیاست دان جو اس صوبے کی حکومت بطور وزیراعلیٰ عملاً چلا رہا ہے اور جس نے اپنے ساتھیوں میں بے لوثی کی قلندرانہ روایت قائم کر دی ہے قوم کے دیانت دار طبقے کی طرف سے داد و تحسین کے مستحق ہیں اور پوری قوم اپنی عزت بچانے اور بنانے پر ان کا شکر ادا کرتی ہے۔

ہماری ماضی کی سیاست اگر بالکل پاک و صاف نہیں تھی تو ایسی گندی بھی ہر گز نہیں تھی جس کے نمونے ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ہوا کرتی تھیں ان کے لیڈر اور کارکن ہوتے تھے اور وہ اپنی حلال کی کمائی پر گزر بسر کرتے تھے اور سیاست کرتے تھے۔ سیاسی کارکن بالعموم معاشرے کے متوسط اور نچلے درجے میں سے ہوا کرتے تھے اور لیڈر اگر خاندانی طور پر خوشحال بھی ہوتے تھے تو ان کی خوشحالی ان کی جماعت اور سیاست کی نذر ہو جاتی تھی۔

لیڈروں کے گھروں پر جماعت کے اجتماع ہوتے اور لیڈر کسی نہ کسی بہانے کسی نادار قسم کے کارکن کی مالی مدد کر دیتے۔ سیاست میں مال بنانے کا کوئی تصور نہیں تھا اور اگر کوئی بدنام ہو جاتا تو اس کی سیاست کو قبول نہیں کیا جاتا۔ خود اس کی جماعت اس کی پذیرائی نہیں کرتی تھی اور دیکھا گیا کہ ایسا سیاسی کارکن یا لیڈر رفتہ رفتہ سیاست سے باہر ہو گیا اور وہ جب تک کسی جماعت میں رہا بھی تو اجنبی بن کر ہی رہا۔ بڑے بڑے نامور لیڈر اپنی زمینیں بیچ کر سیاست کرتے رہے۔

نوابزادہ نصراللہ خان کے پاس تو صرف آموں کا ایک باغ بچ گیا تھا جس کے آم بھی زیادہ تر ہم لاہوری نواب صاحب کی دعوتوں میں کھا جاتے تھے اور نواب صاحب کا ذکر آ گیا تو ان کے لاہور کے دفتر کا وہ کمرہ بھی آپ کو دکھا دوں جس میں یہ قومی لیڈر رہا کرتا تھا۔ ایک صوفہ چند کرسیاں اور ایک پلنگ جس پر نواب صاحب سویا کرتے تھے۔ اسی کمرے میں قومی سطح کے سیاسی اجلاس بھی ہوا کرتے ملک بھر کے سیاستدان جمع ہو کر کسی حکومت کے خلاف کوئی متحدہ محاذ قسم کی قومی سیاسی تنظیم بنا لیتے جو حکومت کی ناک میں دم کر دیتی۔ اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے اور ع:

بارے آرام سے ہیں ارباب جفا میرے بعد

حکمران عیش کرتے ہیں جو جی چاہا کرتے ہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ سیاسی کارکن تو اب نیست و نابود ہی ہو گئے ہیں بلکہ وہ سیاست ہی ختم ہو گئی ہے اگر سرمائے کے زور پر کسی الیکشن میں سیاست دکھائی دے جائے تو اسے سیاست کا نام نہ دیں کاروبار کی کوئی قسم قرار دے دیں تو زیادہ مناسب ہو گا لاہور شہر جو پورے پاکستان میں سیاست کا مرکز تھا اور جہاں سے سیاست کی کوئی بھی بڑی تحریک شروع ہوتی تھی اب سیاست کی دنیا کا ایک اجاڑ اور برباد شہر ہے جس میں سوائے ایک آدھ کے سیاست کا کوئی ڈیرہ اڈا ہی نہیں ہے ہمارے جیسے سیاسی رپورٹر ہر شام کسی نہ کسی اڈے پر پہنچ کر سیاست کے نظارے کر لیتے تھے۔

اب تو ان عمارتوں کو دیکھ کر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے بلکہ میں تو ماضی کی سیاست کے ان مزاروں کے سامنے سے گزرتا بھی نہیں کنی کترا جاتا ہوں۔ زندگی میں پہلے ہی سیاسی خوشیاں کہاں رہی ہیں کہ سیاسی دکھوں میں اضافہ کیا جائے۔

ہماری یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ ملک سے سیاست ختم ہوتی جا رہی ہے بلکہ ہو گئی ہے صرف حکومت رہ گئی ہے۔ جس کی سیاست ہوتی ہے مگر عوامی نہیں ہوتی سرکاری ہوتی ہے۔ باتیں عوام کی جاتی ہیں مگر کام صرف حکمرانوں کے ہوتے ہیں۔ ہمارا یہ ملک سیاستدانوں نے بنایا تھا جو اپنی ذات کے لیے نہیں قوم کے لیے سیاست کرتے تھے خرچ کرتے تھے جیل جاتے تھے اور سب کچھ کرتے تھے مگر سیاست عوام کے لیے ہی کرتے تھے۔

یہی وہ قومی سیاست دان تھے جنہوں نے ہندوؤں کے منہ سے پاکستان چھین لیا تھا جس کا دکھ ہندو قوم کو چین نہیں لینے دیتا اور اب تو وہ کانگریس والا تکلف بھی نہیں کرتے بلکہ بھارتی حکمران صاف صاف کہتے ہیں کہ پاکستان ہماری سرزمین پر بنا ہے اور یہ زمین کسی پاکستان کی نہیں ہماری ہے ہمارے سیاستدانوں نے ان لوگوں سے پاکستان لیا تھا بلکہ چھینا تھا مگر حیرت ہے کہ آج کے تاریخ سے بے خبر ان پڑھ حکمران اسی بھارت کی دوستی کی تمنا سے مغلوب ہیں اس جسارت اور جرأت کی وجہ صرف یہ ہے کہ ملک میں سیاست نہیں ہے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا اور شرم دلانے والا نہیں ہے۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی زندگی کی افسردگی کیا رنگ لائی ہے اور سیاست کارفرما نہ ہو تو کیا ہوتا ہے۔ ہمارا تو وجود ہی موروثی نہیں سیاسی ہے کیونکہ ہم تو چند برس پہلے سرے سے تھے ہی نہیں۔ دنیا کا واحد ملک جو عزم سے وجود میں آیا۔ بہر کیف سیاست کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے اور ملک کے بقاء کے لیے دعا۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.