.

شہری بابو، دیہاتی چودھری

یاسر پیرزادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس نوجوان سے ملئے ‘ پڑھا لکھا ہے‘ اسمارٹ ہے‘ ایک بنک میں ملازمت کرتا ہے‘ ماہانہ تنخواہ پچاس ہزار روپے ہے یعنی چھ لاکھ سالانہ‘ شادی شدہ ہے ‘ ایک بیوی اور دو بچے ہیں جو مناسب سے انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتے ہیں ‘ دفتر جانے کے لئے اس کے پاس موٹر سائیکل ہے ‘ گاڑی خریدنا چاہتا ہے مگر ابھی سکت نہیں رکھتا ‘ دو سال پہلے ایک سیکنڈ ہینڈ کار خریدی تھی مگر ایک روز اس کی وائرنگ میں شعلہ بھڑک اٹھا‘ قریب تھا کہ آگ کاربوریٹر تک جا پہنچتی اس نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے فوراً اسے بجھا دیا‘ اس دن سے اس نے سوچ لیا کہ گاڑی ہمیشہ نئی لینی چاہئے اب وہ ڈائون پیمنٹ کے لئے پیسے اکٹھے کر رہاہے تاکہ بنک سے قرض لے کر گاڑی خرید سکے ‘ وہ جس فلیٹ میں رہتا ہے اس کا کرایہ ہمیشہ وقت پر ادا کرتا ہے مگر سال میں ایک آدھ بار دیر سویر ہو ہی جاتی ہے ‘ بچوں کی گزشتہ فیس بھی لیٹ نہیں ہوتی البتہ نئے تعلیمی سال کے شروع میں کاپیوں اور کتابوں کا خرچہ اس کا بجٹ خراب کر دیتا ہے ‘ اس کی بیوی ایک سلیقہ شعار خاتون ہے مگر اپنے تمام تر سگھڑاپے کے باوجود وہ سیزن کے شروع میں اپنی پسند کے نئے جوڑے ویسے نہیں بنوا سکتی جیسے اس کی خواہش ہے ‘ بڑی مشکل سے کمیٹی ڈا ل کر اس نے گزشتہ سال اپنے بھائی کی شادی کے موقع پر چار نئے سوٹ سلوائے تھے ‘ آج بھی کسی فنکشن میں جانا ہو تو انہی سے کام چلا لیتی ہے ۔نوجوان کو اس کے اپنے محلے میں کوئی نہیں جانتا ‘ آتے جاتے کبھی کبھار ساتھ والے انکل آنٹی سے السلام علیکم اور وعلیکم السلام ہو جاتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ‘ حتیٰ کہ اس بے چارے سے ووٹ مانگنے بھی کوئی نہیں آتا ‘ یہ شریف آدمی خود ہی اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق ووٹ ڈال آتا ہے اور کبھی یہ تردد بھی نہیں کرتا‘ دفتر میں بھی اس کی اہمیت کچھ خاص نہیں ‘ بیچارہ اپنا کام پورا کرتا ہے ‘ کبھی باس سے شاباش ملتی ہے تو کبھی جھاڑ سننی پڑتی ہے ‘ دفتر میں اس کی ایسی کوئی اہمیت نہیں جو اسے دوسروں سے ممتاز کر سکے۔ یہ ہے ہمارا ایک مخصوص شہری بابو‘ urban service sector employee۔

اب آئیے ان چوہدری صاحب سے ملتے ہیں‘ گائوں میں ان کی کچھ زمین ہے جس سے انہیں تقریباً ڈیڑھ دو لاکھ سال کی آمدن ہو جاتی ہے ‘ چوہدری ان پڑھ ہے مگر اپنی برادری میں ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے ‘ دور پار کے عزیز اپنے بچوں کا رشتہ کرتے وقت چوہدری سے مشورہ لیتے ہیں جسے اہمیت دی جاتی ہے ‘ گزشتہ برس چوہدری کے رشتہ داروں میں ایک میاں بیوی میں طلاق تک نوبت پہنچ گئی مگر چوہدری نے فریقین کو سمجھا بجھا کر معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹا دیا‘ میاں بیوی اب خوش ہیں ‘ گائوںکے فیصلوں میں بھی چوہدری کا کچھ نہ کچھ کردار ہے ‘ پچھلے سال جب گائوں میں سیلاب آیا تو چوہدری نے گائوںکے نوجوانوں کی مدد سے سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کی کافی مدد کی ‘ متعلقہ ڈی سی او نے اس ضمن میں گائوں کے عمائدین کو چوہدری سمیت چائے پر بلاکر اس کا شکریہ بھی ادا کیا ‘ گائوں میں لڑکیوں کا ہائی اسکول بنوانے میں بھی چوہدری نے ایک سرگرم کردار ادا کیا تھا‘ اس حلقے کے امیدوار اپنی انتخابی مہم کو کامیابی سے چلانے کے لئے چوہدری کے علاقے میں اس کی مدد ضرور حاصل کرتے ہیں ‘گویا چوہدری کا گائوں کے معاملات اور فیصلہ سازی میں ایک کردار ہے جس کی اپنی اہمیت ہے ۔یہ ہے ہمارا چوہدری ایک مخصوص دیہاتی کردار کی نمائندگی کرتا ہے۔

ان دونوں کرداروں کو سامنے رکھ کر اگر ہم سے پوچھا جائے کہ شہری بابو جس کی سالانہ آمدن چھ لاکھ ہے او ر دیہاتی چوہدری جس کی سالانہ آمدن دو لاکھ ہے ‘ میں سے کون زیادہ با مقصد اور با معنی زندگی گزار رہا ہے تو یقیناً ہمارا ووٹ چوہدری کے حق میں آئے گا۔وجہ اس کی نہایت سادہ ہے ‘ چوہدری کا زندگی میں ایک سماجی کردار ہے جو شہری بابو کے کیس میں مفقود ہے ‘ چوہدری کسی نہ کسی طور فیصلہ سازی کا حصہ ہے جبکہ شہری بابوایسے کسی عمل کا حصہ نہیں ‘چوہدری کی آمدن چاہے شہری بابو سے تین گنا کم ہی ہے مگر جو طمانیت اسے گائوں کے معاملات میں اپنا رول ادا کر کے ہوتی ہے اس کا ازالہ اضافی آمدن سے نہیں ہو سکتا۔

یہ مثال نوبل انعام یافتہ معیشت دان امریتا سین نے اپنی تحقیق میں بیان کی ہے(میں نے انہیں کچھ فکشنلائز کر دیا ہے )جس میں مسٹر سین ہمیں بتاتے ہیں کہ کوئی بھی نظام حکومت اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ فقط انسان کی معاشی ضرورتیں ہی پوری کرے ‘ انسان کو معاملات میں فیصلے کا اختیار بھی چاہئے ہوتا ہے جو اس کی تسکین کا سبب بنتا ہے۔دنیا میں ترقی کو جانچنے کے چار اشاریے ہیں‘پہلا ‘معاشی ترقی یعنی جی ڈی پی گروتھ‘ خط غربت کی شرح‘ فی کس آمدن‘ زر مبادلہ کے ذخائر‘ سرمایہ کاری اور بچت کی شرح وغیرہ ‘ دوسرا سماجی ترقی جس میں معاشرے میں انسانوں کے لئے برابر کے حقوق‘ان کی عزت اور وقار کا معیار ‘غیر امتیازی سلوک سے بچائو اور اس قسم کے دیگر حقوق کا تحفظ شامل ہے ‘تیسرا‘انتظامی ترقی جس میں ایک انصاف فراہم کرنے والا عدالتی نظام ‘ مستعد پولیس ‘ عوام کی خدمت کے نقطہ نظر سے ترتیب دیا گیا بیوروکریٹک ڈھانچہ وغیرہ آتے ہیں اور چوتھااور سب سے اہم ‘سیاسی ترقی یعنی انسانوں کی مشترکہ ضرورت کے کام کیسے انجام دئیے جائیں ‘ کس کام کی کتنی ضرورت ہے ‘ اسے عملی جامہ کیسے پہنانا ہے اور یہ تمام فیصلے کیسے ہوں گے۔مثلاً اگر حکومت یہ فیصلہ کرے کہ اس نے ایک جگہ ڈیم بنانا ہے تو وہ ان تمام لوگوں کی خواہشات اور مسائل کو مد نظر رکھے گی جو اس فیصلے سے متاثر ہوں گے یا فائدہ اٹھائیں گے ‘یہ فیصلہ اس سیاسی کردار کی بدولت کیا جائے گا جو جمہوریت میں شہریوں کے پاس ہونا چاہئے۔

آ مریت کے متوالوں کی اپنے تئیں سب سے مضبوط دلیل یہ ہوتی ہے کہ ڈکٹیٹر کے پاس قانونی جواز ہو نہ ہو‘وہ اپنی ٹیم کے لئے بہترین دماغوں کا چنائو کرنے میں آزاد ہوتا ہے کیونکہ ایک منتخب وزیر اعظم کے برعکس اس کی ایسی کوئی مجبوری نہیں ہوتی کہ وہ سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو کر کابینہ میں انگوٹھا چھاپ وزیر بھرتی کرے ۔بہت اچھی بات ہے ‘مگر اس میںخرابی یہ ہے کہ جن پڑھے لکھے بہترین دماغوں کو ڈکٹیٹر چنتا ہے اگر بالفرض محال ان کی معاشی پالیسیوں کی بدولت جی ڈی پی کی شرح تین سے پانچ فیصد ہو جائے تو بھی ڈکٹیٹر کے غیر نمائندہ سیاسی فیصلے اس نام نہاد معاشی ترقی کو بے معنی کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں ۔’’مجھے اسلام آباد سے پٹ سن کی بو آتی ہے‘‘۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے اس ایک جملے نے ان تمام خوشنما معاشی رپورٹوں کی دھجیاں اڑا دیں جو اس وقت سے لے کر آج تک بڑے خضوع و خشوع سے بیان کی جاتی ہیں۔ جنرل (ر) مشرف کے دور میںمعاشی ترقی کی دہائی دینے والے بھول جاتے ہیں کہ اس دور میں اکبر بگٹی کے قتل سے وفاق کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اس کا ازالہ دس فیصد جی ڈی پی گروتھ بھی نہیں کر سکتی ۔جو لوگ آمریت کو عوام کی معاشی ضرورتوں کے حل کے طور پر پیش کرتے ہیں ان کی مثال اسی شہری بابوکی ہے جس کی آمدن تو چھ لاکھ ہے مگر اس کی زندگی کم آمدن والے چوہدری کے مقابلے میں بے معنی ہے !

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.