.

زرداری کی کرامات

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صد افسوس کہ سیاسی گھوڑوں اور مویشیوں کا شو منسوخ ہو گیا ورنہ پروگرام یہ تھا کہ سیاسی ہارس شو کے بعد جب فورٹریس اسٹیڈیم میں اصلی ہارس اور مویشی شو ختم ہو گا تو اس کے ساتھ ہی سینیٹ کے چیئرمین کے لیے سیاسی ہارس اینڈ کیٹل شو شروع ہو گا۔ کروڑوں ادھر ادھر ہوں گے۔ بڑی ہی رونق رہے گی۔

ہمارے کئی سینیٹر جو ووٹر ہوں گے مزید رئیس ہو جائیں گے ان کے لیے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹے گا اور جو پہلے سے زیادہ رئیس نہیں ہیں وہ بھی رئیسوں میں شامل ہو جائیں گے اور ان کی سیاست چمک اٹھے گی غرض بہت کچھ ہو گا اور خلق خدا ایک نیا تماشا دیکھے گی کہ ان کی پارلیمنٹ کے اعلیٰ ترین ایوان میں کون لوگ بیٹھے ہیں ان کے اخلاق اور دیانت کا کیا حال ہے اور وہ کس قماش کے ہیں لیکن خدا کو ان کا پردہ شاید منظور تھا کہ سینیٹ کے چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہو گئے یعنی رضا ربانی صاحب جو بلاشبہ ایک نیک نام قومی نمایندے ہیں ان پر انگلی کبھی نہیں اٹھی اور وہ اپنی کوئی چالیس سالہ سیاسی زندگی میں بدنام نہیں ہوئے۔

قائداعظم کی حکمرانی کے دور میں جب وہ گورنر جنرل تھے تو ایک نوجوان عطا ربانی جو ائر فورس سے تعلق رکھتے تھے ان کے اے ڈی سی مقرر ہوئے اور انھوں نے اپنی اس دور کی یادوں پر مشتمل ایک کتاب بھی لکھی۔ قائد جیسا سخت گیر اور بے پناہ دیانت و امانت کا نمونہ جس ماتحت سے خوش رہا ہو اس کو نہ صرف خوش نصیب بلکہ مستند اعلیٰ انسان بھی سمجھنا چاہیے، یہ عطا ربانی ہمارے نئے چیئرمین سینیٹ کے والد ماجد تھے۔ ایسے رشتے قدرت بناتی ہے لیکن ان کے جن کی بھلائی قدرت کو منظور ہو۔

ہمارے رضا ربانی پاکستان کے اس تاریک سیاسی دور میں روشنی کا ایک مرکز ہیں اور پارلیمنٹ کے اعلیٰ ترین منصب پر متمکن ہیں۔ یہ بنیادی طور پر جناب زرداری کی سیاسی ضرورت تھے اور یہ ضرورت پوری کرنے کے لیے ان کے پاس ووٹ بھی موجود اور میسر تھے اس لیے رضا ربانی کی غیر متنازعہ شخصیت پر محترم میاں صاحب کو بھی راضی ہونا پڑا اور اگر انھوں نے ایک اچھے امیدوار کی کامیابی کا کریڈٹ بھی لیا تو درست لیا۔

پاکستان کے تماش بینوں اور ہمارے جیسے صحافیوں کے لیے نیا متوقع تماشا نہ لگا لیکن ہم بھی میاں صاحب کی طرح اس فیصلے پر چاروناچار خوش ہیں۔ اگر رضا ربانی محض دیانت دار ہی ثابت نہ ہوئے اور انھوں نے جرات مندی اور احساس ذمے داری کے ساتھ اپنا عہدہ استعمال کیا اور ڈٹ کر رہے تو قوم پر ان کا ایک احسان ہو گا۔

انصاف اور عدل کے لیے یہ بھوکی قوم ان کی شکر گزار ہو گی۔ سپریم کورٹ کے بعد اگر ایوان بالا یعنی سینیٹ سے بھی عوام کے حقوق کی آواز بلند ہونے لگی تو تھانیدار اور پٹواری کی بدعملی سے کچلی ہوئی یہ قوم اپنی قومی زندگی کے چند دن شاید سکھ کے ساتھ بھی گزار لے جس کا عام حالات میں ویسے کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

بطور ایک پاکستانی کے میں جناب محترم و مکرم رضا ربانی صاحب کا واقعی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، ان کا استقبال کرتا ہوں اور ان کے ساتھ امیدیں وابستہ کرتا ہوں وہ امیدیں جو معلوم نہیں کہاں سر چھپائے پڑی ہوئی ہیں۔ اگر ذاتی بات کرنے کی اجازت ہو تو میں کچھ عرصہ سے کوئی بھی نقصان برداشت کر لیتا ہوں لیکن کسی سرکاری محکمے سے رابطہ نہیں کرتا۔ مثلاً موبائل فون کی سم کی تصدیق کے لیے میں نے ہمت کر کے متعلقہ سرکاری ادارے کا چکر لگایا لیکن یہاں اس قدر مین میخ نکالی جا رہی تھی جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ یہ سلسلہ صرف خلق خدا کو شوقیہ تنگ کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

ورنہ اس کی ضرورت پوری کرنے کے دوسرے عام فہم اور آسان طریقے بھی موجود تھے چنانچہ میں نے اپنے موبائل فون کی سم کی تصدیق نہیں کرائی اب جب تک چلتی ہے چلے گی ورنہ زندگی میں زیادہ عرصہ سے موبائل فون استعمال نہیں کیا اس کے بغیر ہی زندہ رہے اب بھی جتنی باقی ہے اس کے بغیر ہی گزر جائے گی۔ دوسرا پی ٹی سی ایل کا فون موجود ہے زیادہ سے زیادہ یہ کریں گے کہ اسی کالم میں اس نمبر کا اعلان کر دیں گے کہ کسی کو میرے ساتھ رابطے کی ضرورت ہو تو رابطہ موجود ہے جہانتک میرا تعلق ہے میں نے تو سرکاری دفتروں محکموں سے قطع تعلق کر لیا ہے جس گلی میں اب جانا ہی نہیں اس کا پتہ کیا پوچھنا۔

ذاتی باتیں شروع ہوئی ہیں تو عرض کر دوں کہ ضرورت مند لوگوں کے خطوط موصول ہوتے ہیں۔ ان میں سے جو سرکار دربار سے متعلق ہوتے ہیں وہ میں ان کو بھجوا دیتا ہوں لیکن جو مجھ سے متعلق ہوتے ہیں تو میں عرض کر دوں کہ ایک تنخواہ دار اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی مالی خدمت کر سکے اور میرے ملنے والے جو کاروباری لوگ ہیں وہ کساد بازاری کی وجہ سے ویسے ہی رو رہے ہوتے ہیں ان سے کیا رابطہ کریں اس لیے مہربانی کر کے مجھ سے ایسی کسی اعانت کی توقع نہ رکھی جائے اور مجھے دکھی نہ کیا جائے کیونکہ بعض خطوط بے حد دل شکن ہوتے ہیں ان کا پڑھنا بھی بڑے دل گردے کا کام ہوتا ہے۔

بات سیاست کے متوقع تماشوں سے محرومی کی شروع ہوئی تھی۔ زرداری صاحب نے ایسا سیاسی چکر چلایا کہ پارلیمنٹ کا اعلیٰ ترین عہدہ بھی اپنے امیدوار کو دلانے میں کامیاب ہو گئے اور اس طرح کہ ان کے حریف میاں صاحب بھی علانیہ راضی ہو گئے۔ ایک شعر کا مصرع یاد آتا ہے کہ ع تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔ اس شعر کا پہلا مصرع حالات حاضرہ پر صادق نہیں آتا کہ دامن پہ کوئی داغ نہیں اور خنجر پہ کوئی چھینٹ بھی نہیں۔

یہ تو سب کچھ ہے لیکن اس کے باوجود کرامت کا ظہور بھی ہے۔ محترم زرداری صاحب سے مدت ہوئی ملاقات نہیں ہوئی وہ کراچی چلے گئے ہم لاہور ہی میں پڑے ہیں فاصلہ بہت ہے لیکن زرداری صاحب کی کرامات ہر سمت پہنچتی رہتی ہیں وہ خاموشی کے ساتھ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ سیاست کرتے رہتے ہیں۔ صبر اور تحمل کی دولت بھی میسر ہے اور دراز دستی کی بھی۔ مناسب وقت پر وہ سب کچھ کرتے ہیں اور بوقت ضرورت اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرتے ہیں ورنہ منقار زیر پر ہیں۔

ان کے حریف اس دوران لیٹے لیٹے بھی پانسے بدلتے رہتے ہیں اور حساب کتاب لگاتے رہتے ہیں مگر یوں لگتا ہے کہ زرداری بغیر حساب کتاب کے سیاست کرتے ہیں اور کرامات دکھاتے رہتے ہیں کہ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔ یہ تازہ معرکہ سر کرنے کے بعد صاحب کرامت زرداری صاحب سے ملنا ضروری ہو گیا ہے کہ ان کا پیر کون ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.