.

سیلما، اوباما اور ماما قدیر

حسن مجتبیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب جنوری دو ہزار آٹھ کو امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار افریقی امریکی نژاد صدر باراک اوباما نے امریکہ کے صدر کا حلف اٹھایا تھا تو اس تقریب میں جان لوئیس خوشی میں رو پڑے تھے اور کہا تھا یہی دن تھا جس کے لئے ہماری نسل نے خواب دیکھا تھا۔اب جب امریکہ میں صدر اوباما اپنی دوسری میعاد صدارت بھی ختم کرکے ایک ڈیڑھ سال بعد جانے والے ہیں تو انہوں نے اس پل ایڈمنڈ پیٹس کو بمعہ اپنی فیملی یا امریکہ کے خاندان اول ریاست الاباما میں خونی اتوار بلڈی سنڈے کہلانے والی تاریخ کو پیدل پار کیا تو ایک سو تین سالہ خاتون کے ساتھ کانگریس مین جان لوئیس بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صدر اوباما نے امریکی تاریخ کا ایک اور پنا روشن کیا۔ اس لہو کی یاد سے روشن جو آج سے پچاس برس قبل اس پل سمیت امریکہ سے گزر چکا تھا۔ جب انیس سو پینسٹھ کو الاباما ریاست کے شہر سیلما کی طرف گزر کر جانے والے اس پل پر ووٹ کا حق منوانے کے لئے مارچ کرنے والے چھ سو افراد جن میں کانگریس مین جان لوئیس بھی شامل تھے پولیس نے خردموں اور ڈنڈوں سے حملہ کرکے شدید زخمی کردیا تھا ہر طرف لہو بہہ نکلا تھا اسی لئے اسے بلڈی سنڈے سیلما کہاجاتا ہے۔

پورے پچاس برسوں بعد اسی ایڈمنڈ پیٹس پل پر سے چالیس ہزار لوگوں اور ہر نسل رنگ پارٹی کے لوگ ہاتھ ہاتھ میں دیئے مارٹن لوتھر کنگ کے شہری آزادیوں کے تحریک والے دنوں کے گیت گاتے نعرے لگاتے گزر رہے تھے۔ آج کوئی صدر نہیں تھا۔ سب امریکی شہری تھے۔ یہ جو حقوق ہیں ووٹ کے حقوق سے لے کر خواتین کے حقوق، محروم طبقات کے حقوق، دیگر اقلیتوں کے حقوق یہ سب اچانک نہیں آئے نہ ہی کسی بیک جنبش قلم یا ابرو حاصل ہوئے ہیں۔بالکل ا سی طرح پھر وہی بات کہ پاکستان جیسے ملک میں بھی محض انتخابات کی تاریخ کا اعلان کروانے اور منوانے کیلئے لوگوں نے گولیاں، کوڑے، پھانسیاں کھائی تھیں۔

گزشتہ اتوار والے دن صدر اوباما نے یہ تاریخی لیکن دکھی یاد بھرے پل بمعہ اپنے اہل خانہ یا فرسٹ فیملی سمیت ہزاروں افراد نیویارک کے ساتھ بشمول سابق صدر جارج ڈبلیو بش اور دونوں پارٹیوں کے پار کیا۔یہ لوگ اسی پر سے گزرے تھے جہاں خون کامینہ برسا تھا لیکن الاباما ریاست کے لوگوں کے لئے ووٹ کا حق منوایا گیا جو اس سے پہلے کبھی ووٹر کا ووٹ خواندگی کا امتحان پاس کرنے پر تھا تو کبھی ٹیکس پر ہوتا تھا۔ یہا ں تک کہ خواتین کا ووٹ کا حق مانا جاناتواتنی پرانی بات بھی نہیں۔ اس کا مطلب الاباما سمیت کئی ریاستوں میں سیاہ فام اکثریت کا ایک بڑاحصہ ووٹ سے محروم رکھا گیا تھا۔ شہری حقوق یا سول رائٹس کی تحریک میں ووٹ کا حق ایک اہم مانگ تھی جس میں فلاڈیفیا یا میسی سپی ریاست میں اس کے مانگنے کو چل نکلنے والی تحریک کے دو کارکنوں کوکلن کلاکس سفید فام نسل پرست تشدد پرستوں نے قتل بھی کردیا تھا۔ الاباما ریاست میں ووٹ کے حق جس پر صدر جارج ڈبلیو بش نے محض 2006 میں دستخط کئے تھے۔ وہ بھی گزشتہ اتوار والے مارچ میں شامل تھے۔ امریکی سابق صدر شاذ و نادر اور تاریخی مواقعوں پر یا اہم خوشی غمی پر دیکھے جاتے ہیں نہ کہ ہمارے ایک سابق صدر کی طرح ٹیلیوژن پر صبح بناکا شام بناکا کی تصویر بنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ بے چارے پارٹی لوگ بھی ان سے پوچھ کر رفع حاجت کو جاتے ہوں گے۔حقوق اور آزادیاں نہ طشتری پر رکھ کر ملتی ہیں نہ غیر ملکی سازشوں اور مدد سے ملتی ہیں۔ امریکہ اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ جان لوئیس کی اپنی زندگی میں دیکھا جانے والا یہ ایک اور بڑا دن تھا جس کے خواب کی تعبیر اس نے اپنے گرو اور امریکہ میں شہری حقوق کے عظیم رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر سے سیکھی تھی۔ یہ سیاہ فام حقوق اور امریکی شہری آزادیوں کی پر امن جدوجہد تھی نہ کہ کلہاڑی مائنڈ سیٹ۔ کلہاڑی علامت ہوتی تھی سفید فام نسل پرست تشدد پسند گروہ کی نہ کہ سیاہ فام حقوق والوں کی۔ 1965کے ایک اتوار کو الاباما ریاست کے سیلما شہر سے ریاست کے دارالحکومت منٹگمری شہرجانیوالے ایڈمنڈ پیٹس برج پر چھ سو لوگوں کا جلوس جارہا تھا اس پر امن مارچ پر ریاستی فوجی اور پولیس دستوں جوکہ کوئی ڈھائی ہزار تھے کی طرف سے بغیر کسی اشتعال دلائے جانے کے حملہ کرنے کے نتیجے میں کئی لوگ شدید زخمی ہوئے تھے ۔ جس میں خود جان لوئیس کی کھوپڑی ٹوٹ گئی تھی،دنیا کی سب سے پرانی اس جمہوریت جسے امریکہ کہتے ہیں میں تو حقوق اور آزادیوں کی لڑائی مزید پرخطر اور پیچیدہ رہی ہے۔ کئی سالوں صدیوں عشروں پر محیط لیکن بغیر مخالف نظریئے والے کو غدار کہے۔ اسی لئے تو صدر باراک اوباما نے ہزاروں کے مارچ میں اقلیتوں کے حقوق کا علمبردار بنتے ہوئے کہا’’ ہم امریکیوں کا خون سان فرانسسکو اور نیویارک کی سڑکوں پر ایسے بہا جیسے خون اس پل پر سے بہا تھا۔‘‘مطلب یہ تھا کہ سب کو بغیر کسی صنفی ترجیحات، رنگ، نسل ، قومیت زبان، عقیدے کی تفریق کے بر ابر کے حقوق حاصل ہونے چاہئيں۔

یہاں امریکہ نیویارک میں تو مینہٹن کے علاقے میں ہرسال عاشورہ کے موقع پر ذوالجناح کاجلوس برآمد ہوتا ہے کیوں نہیں ہونا چاہئے، جو کہ صدام کے عراق میں پچاس برسوں تک نہیں ہوا۔ امریکہ میں ہوا۔ صدر اوباما جاتے جاتے اپنے کئی تاریخی کام اپنے ترکے میں چھوڑ کر جارہا ہے جس میں تارکین وطن کا بل، یا امیگریشن اصلاحات، کیوبا سے سفارتی تعلقات کی بحالی کی کوششیں (کاش وہ کیوبا لوٹ آئے جو ارنیسٹ ہیمنگوے کی تحریروں میں ہے)، اقلیتوں کےحقوق کے ضمن میں شادی کی مساوات اور صحت کا اوباما کیئر۔ لیکن دوسری طرف اقلیتوں اور پھر نسلی امتیاز کے دو ڈھائی سو برسوں کی تاریخ ہے۔ اسی طرح دائیں بازو کی سیاست صدر اوباما کے دونوں ادوار کی مخالفت ہو کہ نسلی اقلیتوں کے حقوق اس کی طرف ایک رویہ ہے جو بھی صدیوں پر محیط ہے۔ سیلما کے پل پر مارچ کے پچاس سال بعد یہ تاریخی مارچ تب ہوا ہے جب امریکہ کی ریاست میزوری کے فرگوسن شہر میں ایک سیاہ فام نوجوان کی ہلاکت پولیس کےہاتھوں ہونے کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادات کے پس منظر میں تحقیقاتی فرگوسن رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں یہ تسلیم کیا گيا ہے کہ ہر سطح پر فرگوسن شہر ی انتظامیہ کی طرف سے سیاہ فام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گيا ہے۔ یہاں تک کہ ٹریفک کے جرمانے کی ٹکٹیں بھی سیاہ فاموںکو زیادہ دی گئیں ۔

اسی سیلما پل پر مارچ کے دوران کسی نے کہا :سیاہ فام نوجوان تو سڑک پار کرنے پر بھی قتل کیا جاتا ہے۔‘‘کیاسیاہ فام شخص کے ساتھ ماضی قریب تک وہی نہیں ہوا جو پاکستان میں غریب بلوچ، سندھی ،پنجابی ، سرائیکی، پختون سے کیا جاتاہے؟ جو عورت اور مذہبی اقلیت سے کیا جاتا ہے؟

جو سلوک پچھلے دنوں معزز ترین انسانی حقوق کے پر امن عدم تشدد پرانتہائی یقین رکھنے والے بلوچ کارکن ماما قدیر اور اس کی خواتین ساتھی ہمسفران فرزانہ مجید اور فائقہ بلوچ کے ساتھ ہوا۔ ماما ایک گمشدہ چھلنی لاش کی صورت واپس آنے والے بیٹے کا باپ تھا، فرزانہ مجید ایک کئی برسوں سے گمشدہ بھائی کی بہن ہے اور بس۔ یہ وہ لوگ ہیں جو متشدد علیحدگی پسند بھی نہیں ، نہ ہی غیر متشدد علیحدگی پسند ہیں۔ پھر بھی کراچی پریس کلب سے کراچی ایئرپورٹ تک ان کےاٹھنے والے قدموں تک پر قدغن لگائی گئی۔ اپنے پیاروں کو گھر واپس لانے کے لئے پیدل چلنا کیسی ریاست مخالف سرگرمیوں میں شمار ہوتاہے؟ انہیں امریکہ سفر سے روک دیا گيا۔ماما قدیر کو کونسا امریکہ میں جاکر بلوچوں کی آزادی اقوام متحدہ سے طلب کرنے کا شوق تھا۔ نہ ہی ماما کھپے نہ کھپے یا کھپے والا جیالا ہے۔ ماما نے تو کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک پرامن مارچ کیا تھا جس میں ان کے استقبال کو ہر نسل اور سوچ کے لوگ تھے۔ ان کے ساتھ قدم ملاکر چلنے والے بھی بہت سےتھے۔آج نہیں،کل بھی نہیں، پرسوں تو ماما اور فرزانہ مجید جیسے لوگوں کا ہے،وہ دن دور نہیں جب ماما یا اس کا پوتا علی حیدر اور فرزانہ مجید لمبا مارچ کر رہے ہوں گے لیکن اس دفعہ گمشدہ بلوچوں اور اپنے پیاروں کی تلاش میں نہیں اس جدوجہد کی یاد میں جس کے نتیجے میں پھر کوئی نوجوان گھر سے غائب نہیں ہوگا ۔ بالکل ایک ایسا مارچ جیسا ہزاروں لوگ صدر اوباما کے ساتھ ۔ سیلما کے پل سے گزرتے کررہے تھے۔جب پھول کھلیں گے۔ سرخ خون بہنا بند ہوجائے گا، جب مائیں اپنے بیٹوں سے ملیں گی، جب بقول سندھی عوامی شاعر ابراہیم منشی آزادگیاں اور امن سب کے صحنوں میں ناچ کر رہے ہوں گے۔ لیکن لوگو!

تجھے تو اپنے پروں پر ہی اعتبار نہیں
تو کیسے آئے گا اڑ کر میرے زمانوں تک

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.