.

اقتدار، یلغار اور اہل اقتدار

حسن نثار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں جب کچھ لوگوں کو اپنی سماجی، مشرقی و دیگر اقدار کی ’’پامالی‘‘ پر روتے، کڑہتے، چیختے چلاتے ا ور کرلاتے دیکھتا ہوں تو دکھ بھی ہوتا ہے اور ہنسی روکنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سادہ لوح نہیں جانتے کہ اب ہر قسم کی ’’اقدار‘‘ سائنس، ٹیکنالوجی اور اکانومی ڈکٹیٹ کر رہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ ڈکٹیشن زیادہ واضح، دو ٹوک اور وحشیانہ ہوتی چلی جائے گی۔ تن پر مناسب لباس نہیں، پیٹ میں روٹی نہیں لیکن ہاتھ میں سیل فون ضرور ہوگا تو کیا عقل مندوں کیلئے صرف یہ ایک مثال ہی کافی نہیں جس کی مدد سے وہ مستقبل قریب میں جھانک سکیں؟

خود اپنے آپ سے پوچھیئے ……. کیا پچاس، پچپن سال پہلے والے پاکستانی معاشرہ کا عکس بھی آج کے معاشرہ میں کہیں دکھائی دیتا ہے؟ کیا ہماری آج کی رہتل، بودوباش، لائف سٹائل وغیرہ کا کوئی تعلق 60, 50 سال پہلے والی زندگی سے ہے؟

ابھی کل کی بات ہے، گھر مرلوں میں لیکن دل کنالوں اور ایکڑوں میں ہوتے تھے اور آج گھر کنالوں اور ایکڑوں میں ہیں جبکہ دلوں میں گنجائش مرلوں جتنی بھی نہیں، کبھی فلم بینی تماش بینی کے زمرے میں آتی تھی اور آج ہر بیڈروم میں سینما ہائوس کھلا ہے، مجھے چھٹی جماعت میں پہلی کلائی گھڑی ملی تو رات بھر خوشی سے نیند نہیں آئی اور صبح سارے سکول میں دھوم مچ گئی جبکہ آج گھڑی جیسا ’’سٹیٹس سمبل‘‘ سیل فون کے ساتھ مفت ملتا ہے۔ کھل جا سم سم جیسی کہانیوں سے ’’سم‘‘ تک کا یہ طلسمی سفر سمجھ میں آجائے تو یہ سمجھنا بہت آسان ہو جائے گا کہ آنے والے 50, 40 سالو ںمیں ہماری ’’بیچاری‘‘ سماجی، مشرقی اور ثقافتی اقدار کے ساتھ کیا کچھ ہو چکا ہوگا۔ چند عشروں قبل تک عموماً جو جہاں جنم لیتا وہیں پروان چڑھتا، وہیں لڑکپن، جوانی، بڑھاپے کے بعد وہیں کے کسی قبرستان میں سپرد خاک ہوتا جبکہ آج کی نسلیں اپنی دھرتی سے دور ملکوں ملکوں خاک چھانتے ہوئے خوش ہی نہیں بہت خوش بھی ہیں اور خود کو کامیاب بھی سمجھتی ہیں۔ ماضی میں بھی ’’سفر وسیلہ ظفر‘‘ تھا لیکن بہت ہی کم کم جبکہ آج یہ ’’وے آف لائف‘‘ ہے۔ میرے اپنے خاندان سے لیکر ذاتی حلقہ احباب تک کے 90 فیصد بچے باہر سیٹل ہو چکے یا اس پراسیس میں ہیں۔ میرے اپنے بھانجے، بھتیجے مختلف ملکوں، ملٹائی نیشنلز میں گم، سال میں دو دو چکر بھی لگاتے ہیں لیکن یہ سب تب تک جب تک والدین زندہ ہیں۔ جب یہ باب ختم ہوئے تو کہانی ختم کہ آگے ان کے بچوں کیلئے یہاں قطعاً کوئی کشش نہ ہوگی کہ ان کی پیدائش سے لیکر تعلیم و تربیت باہر ہوئی سو نہ یہاں کوئی دوستیاں نہ یادیں نہ ایسوسی ایشنز۔ رہی دوستوں کی تو وہ بھی سن لیں کہ میرے قارئین میرے دوستوں سے بہت واقف ہیں۔حفیظ خان کے بچے کینیڈا میں پلے بڑھے، ایک بیٹی امریکہ دوسری آسٹریلیا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے، ایک بھائی اور بہن والدین کے پاس کینیڈا میں، دادا دادی فوت ہو چکے، کہانی ختم سمجھو۔ صلو درانی خود ہی نہیں، بچے بھی وینکوور، یوسف ہونڈا کا بیٹا بیٹی باہر، یہی حال صوفی شاہد حسن اور عرفان ملک کا، طارق چڑی کا بھی یہی حال ہے اور جاوید گتے کا ڈاکٹر بیٹا بھی، یونیورسٹی دنوں کا ہمارا پیارا جوڑا شاہدہ رشید اور نعیم بھی اسی کشتی کے سوار، عزیز از جان امیر افضل کے منصور اور خرم بھی باہر، دادا ، دادی سے بچوں کے رشتے بذریعہ ٹیکنالوجی یا سال میں ایک آدھ چکر۔ بہت لمبی لسٹ ہے اور میں سوچتا ہوں کہ میرے اردگرد دور دور تک یہ سب ہو کیا رہا ہے۔ میں نے چند بیحد قابل بچوں کو چھیڑا کہ ’’یار! تم یہاں سیٹل ہونے کا کیوں نہیں سوچتے؟ ‘‘ان کے چہروں پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹتے دکھائی دیئے۔ ایک نے طنزیہ کہا ’’حسن انکل! ہم یہاں کچھ کرنے کے ’’قابل نہیں ہیں‘‘۔ اک اور نوجوان نے سول سروس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’بری طرح Under Paid حرام کھانے پر مجبور کہ تنخواہیں بہت حقیر اور دوسری طرف ٹکے ٹکے کے کرپٹ اور نالائق حکمرانوں کی خوشامد۔ نہ تکریم نہ تحفظ نہ ڈھنگ سے کام کرنے کا کلچر نہ اجر نہ احتساب۔‘‘ میں نے جاوید گتے سے کہا کہ ’’یہاں تو کوئی رکنے کو تیار نہیں، بنے گا کیا؟‘‘ ہنستے ہوئے بولا ’’گھبرانے کی ضرورت نہیں کچرے کیلئے کچرا کافی ہوگا‘‘۔نہ وہ مکان رہے نہ وہ مکین، ضرورتیں اور ترجیحات سو فیصد تبدیل ہو چکیں، بچوں تک کے مزاج مکمل طور پر بدل چکے، بچوں اور والدین کے درمیان تعلقات کی نوعیت بھی بدل چکی۔ کبھی سنے تھے یہ بینکوئیٹ ہالز اور شاپنگ مالز اور ایسی رہائشی آبادیاں ……. آج سے 50 سال پہلے اور آج کے ٹین ایجرز کی ’’اصلاحات‘‘ لغات ہی نہیں ملتیں۔ یہ ’’ہائے اوئی‘‘ کا کلچر کہاں سے آگیا؟ یہ جیٹ، نٹ ڈیجیٹل جنریشن ہے جو ڈلیوری اور ہوم ڈلیوری کے درمیان عید کم اور ویلنٹائینز ڈے زیادہ جوش سے مناتی ہے۔ اب ’’ڈھول‘‘ کو ’’چٹھی‘‘ کوئی کبوتر نہیں پہنچاتا SMS ہی کافی ہے۔کبھی غور فرمایئے، حساب لگایئے کہ آج متمول ترین گھرانے کی عمدہ ترین ماہانہ گروسری سے زیادہ اس کی بجلی کا بل ہوتا ہے، خاص طور پر اگر جنریٹر کے پٹرول یا ڈیزل کا خرچ بھی اس میں شامل کر لیں۔ صرف 45, 40 برس قبل کا قصہ ہے جب حکومت نے رائے ونڈ والوں کو بجلی دینے کی کوشش کی تو بقول برادرم رشید بھٹی ’’بزرگوں نے لاٹھیاں اٹھالیں کہ ہمارے بچے مارنے آگئے ہیں‘‘۔ اب بجلی کی کمی پر ٹائر جلتے اور ماتم ہوتے ہیں۔ یہی دھرتی تھی یہی اس کے باسی تھے لیکن ’’بوتل بند پانی‘‘ تو نہ کسی نے دیکھا نہ سنا تھا۔ تب کوئی کہتا کہ کچھ عرصہ بعد یہاں بوتلوں میں پانی بکے گا تو لوگ اسے زبردستی پاگل خانے چھوڑ آتے۔ کہاں سے آئے ہیں یہ برگر، پیزے، پاسٹے، نوڈلز اور یہ ڈورے مون اور نوویتے؟ کدھر گئے تمہارے شیخ چلی، علی بابے اور سندباد؟موضوع سمندروں اور صحرائوں جیسا ہے اور مسئلہ یہ نہیں کہ سماجی، مشرقی، ثقافتی اقدار کا کیا بنے گا کہ یہ ناگزیر ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے نہ روک سکی نہ روک سکے گی۔ اصل ایشو یہ کہ ’’ٹرانزٹ‘‘ میں موجود یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر معاشرہ اس یلغار کیساتھ ڈیل کیسے کرے؟ اس کو ہینڈل کیسے کیا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور ہماری ’’اقدار‘‘ کی دیمک زدہ لاٹھیاں بھی بچ جائیں لیکن شاید یہ ان للوئوں پنجوئوں کے بس کی بات ہی نہیں ……. یہ ڈنگ ٹپائو لوگوں کا نہیں، ان کا کام ہے جو صدیوں کے پار دیکھ سکتے ہیں۔ یہ بغلول تو اگلے الیکشن سے آگے دیکھنے کے قابل نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.