.

ان کو غصہ کیوں آتا ہے؟

عبدالررؤف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ ٹائٹل میں نےسعید مرزا کی فلم ’’البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے‘‘ سے چوری کیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ جس بنیاد پر البرٹ پنٹو کو غصہ آتا تھا ’’ان‘‘ کو غصہ آنے کی وجوہات وہ نہیں ہیں۔ البرٹ پنٹو کو غصہ معاشرے میں ہونے والی زیادتیوں، ناہمواریوں اور نامساعد حالات کی وجہ سے آتا تھا۔ جناب الطاف حسین کے بقول ان کو غصہ اس لئے آتا ہے کہ وہ ہائی بلڈپریشر کے مریض ہیں۔ یہ اعتراف انہوں نے شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں ان کے ایک سوال کے جواب میں کیا، جب شاہزیب نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات صحیح نہیں کہ اس وقت ایم کیو ایم کی بہت سی مشکلات کی وجہ وہ خود ہیں؟ اس لئے کہ گزشتہ کچھ ماہ میں وہ کبھی تحریک انصاف کی خواتین کے خلاف بیان دے دیتے ہیں ،کبھی بعض دوسری پارٹیوں کے بارے میں۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے پاس ان بیانات کے بعد سوائے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے کوئی جواب نہیںہوتا تو الطاف حسین صاحب نے فرمایا کہ کیا کروں میں ہائپرٹینشن یعنی ہائی بلڈپریشر کا مریض ہوں۔ لیکن میں بعد میں معافی بھی تو مانگ لیتا ہوں۔اب یہ تو عوام پر ہے کہ وہ ’’ان‘‘ کی اس دلیل کو مان لیتے ہیں یا نہیں لیکن اس وقت جو حالات ملک میں اور خاص طور پر ایم کیو ایم کے بارے میں چل رہے ہیں ان کے حوالے سے تو ’’ان‘‘ کو غصہ آنے کی وجوہات کچھ اور ہیں۔

میرے خیال میں ان کے غصہ میں آنے کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہونی چاہئے کہ جس اسٹیبلشمنٹ کے بھروسے انہوں نے پرویز مشرف کے آنے کے بعد اپنی پارٹی میں عروج دیکھا وہ اب جنرل کیانی کے جانے کے بعد تبدیل ہوگئی ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں ’’ان‘‘ کو غصہ اور وجوہات کی بنیاد پر آتا تھا۔ اس غصے کا اظہار وہ کرتے بھی رہتے تھے جس کی بنیاد پرایم کیو ایم کا رویہ کافی جارحانہ ہوتا تھا۔ اسی جارحانہ رویئے کی بدولت لوگ ان پر 12مئی کے ہونے والے واقعات کے حوالے سے انگلی اٹھاتے تھے لیکن ان دنوں ایم کیوایم بہت مضبوط تھی۔ پرویز مشرف صاحب نے اتنے لوگوں کی ہلاکت کے باوجود جب دونوں مٹھیاں بند کرکے اور ہوا میں بازو لہرا کے کہا تھا کہ یہ عوام کی طاقت تھی تو سمجھدارلوگوں کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ کس کی طاقت کو عوام کی طاقت کہہ رہے ہیں۔

زرداری صاحب کے پورے پانچ سال کے دوران الطاف حسین نے کئی بار پیپلزپارٹی کو طلاق دینے کی دھمکی دی اور پھر واپس لی لیکن زرداری صاحب نے الطاف حسین کے غصے کو ہمیشہ رحمٰن ملک کے ذریعے پانی بھجوا کر ٹھنڈا کیا۔ اگر ذوالفقار مرزا نے قسمیں کھا کھا کر اپنی پریس کانفرنسوں میں ایم کیو ایم کے خلاف اپنا غبار نکالا توپیپلزپارٹی کے پاس الطاف حسین کی ناراضی کے ڈر سے سوائے اس کے اور کوئی حل نہ تھا کہ ذوالفقار مرزا کو کھڈے لائن کردے۔ اس تمام عرصے میںالطاف حسین صاحب کے غصے اور ناراضی کے ڈر سے پیپلزپارٹی کی حکومت نے ایم کیو ایم کی خوب سرپرستی کی اور انہیں اقتدار کے مزے لوٹنے دیئے۔

یہ صورتحال گزشتہ کچھ عرصے یعنی سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان قسمیں وعدے نبھانے کی رسموں سے لے کر علیحدگی کی دھمکیوں کے درمیان چلتی رہی۔ پیپلزپارٹی کے بعض لیڈران کے ایم کیو ایم کے خلاف بیانات کے باوجود رحمٰن ملک فیکٹر اور زرداری فارمولا کامیاب ہوتا رہا ہے اور ’’ان‘‘ کا غصہ ٹھنڈا ہوتارہا ہے۔ وہ اسی بنیاد پر کبھی اقتدار سے باہر اور کبھی اندر ہوتے رہے ہیں۔ یہ اوربات کہ کراچی کی بگڑتی صورتحال کے باعث وہ اکثر اوقات مارشل لا لانے کی باتیں کرتے رہے ہیں اورایک لحاظ سے شایدان ہی کی فرمائش پر اب رینجرز کی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ لیکن جس خبر کو الطاف حسین اپنے لئے خوشی کا باعث سمجھ رہے ہوں گے وہ ان کی ناراضی کا باعث بن رہی ہے۔ اس وقت ان کے غصے کا تدارک کرنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ نہیں کھڑی۔ جنرل کیانی کی رخصتی کے ساتھ ہی وہ کہانی ختم ہوگئی ۔ یہ بات شاید ایم کیو ایم کی سمجھ میں مشکل سے آئے گی کہ اب کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے رویئے اور اسٹریٹجی بدل چکے ہیں۔ اس وقت ان کے مطابق فرقہ وارانہ اور گروہ بندیوں کی بنیاد پرتشدد پر آمادہ تنظیموں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ان کے نزدیک تشدد پسند تشدد پسند ہیں اور ان کے خلاف کارروائی لازم ہے۔نائن زیرو پر چھاپہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ لازم ہے کہ رینجرز کے اس آپریشن میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی باخبر تھے اور رینجرز کو ان کی سرپرستی حاصل ہے۔

’’وہ‘‘ اس وقت غصے میں ہونے کے باوجود بھی اس کا اظہار نہیں کرسکتے۔ ’’وہ‘‘ اس بات کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اتنے مطلوبہ شرپسند اورسزایافتہ نائن زیرو یا اس کے اطراف میں کیا کر رہے تھے؟ شاید زچ ہو کر ’’وہ‘‘ کہتے ہیں کہ ’’ان لوگوںکو اِدھر اُدھر ہو جانا چاہئے تھا۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ’’ان‘‘ کے خلاف بہت سے ثبوت ہیں۔ لندن میں عمران فاروق کا قتل کیس بھی کھلا ہوا ہے اور منی لانڈرنگ کا بھی۔ ایسے میں ’’وہ‘‘ غصہ کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.