.

ایک تھی سیاسی جماعت

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ مارچ کا مہینہ تھا‘ سات برس پہلے کا مارچ! اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں سے لے کر کراچی کے قدموں کو چومتے بحیرہ عرب کے گہرے پانیوں تک پاکستان میں ہر طرف پرویز مشرف کا طوطی بولتا تھا، جنرل مشرف کے رعب و دبدبے کا یہ عالم تھا کہ کسی کو فوجی حکمران کے سامنے پر تک مارنے کی جرات نہ تھی، پرویز مشرف نے سفید کو سیاہ کہا تو سب نے اسی پر سر تسلیم خم کردیا، نو سال کے اقتدارکے دوران مشرف کے کانوں نے صرف ’’یس سر!‘‘ ہی سنا تھا، لیکن اب یہ نو مارچ کا دن تھا جب جنرل کو پہلی مرتبہ حرفِ انکار سننا پڑا‘ پرویز مشرف کے کانوں کو ’’نہ‘‘ سے آشنا کرانے والا یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ عدالت عظمیٰ کا منصف ِ اعظم افتخار محمد چودھری تھا، اس ناں کے عتاب میں افتخار چودھری کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدہ سے معزول کردیا گیا۔ جب معزول چیف جسٹس کی حیثیت سے افتخار محمد چوہدری میدان عمل میں اترے تو خلق خدا اُن کے ہمراہ تھی ،وکلاء افتخار چوہدری کے دست و بازو بنے اور سیاسی جماعتیں بھی پیچھے نہ رہیں، وکلاء کا احتجاج عدلیہ بحالی تحریک میں تبدیل ہوا اور بالآخر یہ تحریک مشرف سرکار کے خلاف عوامی نفرت کا لاوا ثابت ہوئی۔

افتخار چوہدری نے اس تحریک کے دوران شہر شہر اور قریہ قریہ جانے کا فیصلہ کیا تو اُنہیں ہر جگہ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ افتخار چوہدری کا والہانہ استقبال دیکھ کر مشرف سرکار ہی نہیں بوکھلائی بلکہ پرویز مشرف کے حمایتی بھی سٹپٹاکر رہ گئے۔ کراچی کے وکلاء نے 12 مئی کو افتخار محمد چوہدری کو بار سے خطاب کی دعوت دی۔کراچی ایک بڑا شہر تھا اور مشرف کا اپنا شہر بھی تھا، ایسے میں اگر کراچی بھی مشرف کے خلاف فیصلہ دے دیتا تو جنرل کی حکومت کی بچی کھچی ساکھ اور رہا سہا جواز بھی ختم ہوجاتا۔ان حالات میں اپنے خلاف ابلتے عوامی نفرت کے لاوے کو دیکھ کر پرویز مشرف کے پاس دو ہی راستے بچے تھے، اول، ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کرکے عوامی مظاہروں پر پابندی لگادیتے یا پھر اپنی حلیف سیاسی جماعتوں کو جوابی مظاہرے کرنے کی ترغیب دیتے تاکہ افتخار چودھری اور ان کی پشت پر کھڑی ہونے والی حزب اختلاف کو ’’سبق‘‘ سکھا یا جاتا۔پنجاب میں چودھری برادران تو عوامی نفرت کا لاوا بہنے سے نہ روک سکے،البتہ سندھ حکومت میں شامل متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں عوامی نفرت کے دریا کے سامنے بند باندھنے کا بیڑا اُٹھالیا، یوں بارہ مئی کا دن کراچی کی تاریخ کا ایک تلخ ترین دن بن کر رہ گیا، اس سے قبل کراچی کے حالات گیارہ مئی کی رات سے اُسی وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب مسلم لیگ نواز کا ایک کارکن قتل کر دیا گیا‘ جس کے بعد انتظامیہ نے راتوں رات شہر کی تمام بڑی شاہراہوں پر ٹرک اور کنٹینر کھڑے کر کے اُنہیں بند کر دیا اور صبح تک سارا شہر مفلوج ہو چکا تھا۔ اس موقع پر پولیس کو اسلحہ نہیں دیا گیا اور اُنہیں شرپسندوں کو روکنے سے منع کر دیا گیا، دوسری جانب اسلحہ سے لیس غنڈے دیگر سیاسی جماعتوں کے اُن جلوسوں اور قافلوں پر حملہ آور ہوتے رہے جوافتخار محمد چوہدری کے استقبال کے لیے نکالے جا رہے تھے۔

چالیس کے قریب سیاسی کارکنان کراچی کی سڑکوں پر گھولیوں سے بھون دیے گئے، کراچی میں سارا دن خون بہتا رہا، لیکن ایم کیو ایم نے افتخار چودھری اور ان کے ساتھیوں کو کراچی ایئرپورٹ سے باہر نہ نکلنے دیا، آخر کار شام کو اُنہیں خطاب کا ارادہ ترک کر کے واپس اسلام آباد لوٹنا پڑا۔اُسی شام کو اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کراچی میں ’’عوامی طاقت‘‘ کے مظاہرے پر خوشی کا اظہار کیا اورسرکاری خرچ پر رچائے جانے والے اس جلسے میں ڈھول کی تھاپ پر حکومتی زعماء نے رقص ِ فتح بھی کیا۔

بعد میں تحقیقات میں ایجنسیوں کے ہاتھ شواہد لگ گئے کہ کراچی میں بارہ مئی کے واقعات میں متحدہ ملوث تھی لیکن خوف اور دہشت کا یہ عالم تھا کہ میڈیا کے کسی بڑے گروپ یا خود کو دلیر ، نڈر اور بے باک کہلوانے والے صحافی نے بھی جرات رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے متحدہ کا نام نہ لیا، بلکہ اُنہی دنوںاخبارات اور نجی ٹی وی چینلز پر ’’ایک سیاسی جماعت‘‘ کی اصطلاح استعمال ہونا شروع ہوئی۔ کراچی میں ایم کیو ایم کی دہشت کا یہ عالم تھا کہ اپنے کارکنوں کے قتل پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی چند روز تو بہت سیخ پا ہوئے اور لندن میں الطاف حسین کیخلاف مقدمے کا اعلان بھی کیا، لیکن کراچی میں گواہوں کی زبانیں گنگ دیکھ کر عمران خان بھی چپ ہوکر بیٹھ گئے۔

اُدھر متحدہ کا عسکری ونگ جو بوری بند لاشوں کے حوالے سے پہلے ہی بدنام تھا، جب بارہ مئی کے واقعات میں ملوث مجرموں کو سزا نہ ملی تووہ عسکری ونگ اور بھی شیرہوگیا۔ اس پر بھی مستزاد یہ کہ بارہ مئی کے اُن واقعات کے بعد جو سات سال گزرے وہ کراچی کی تاریخ کے سب سے افسوسناک اور المناک سال ثابت ہوئے۔ ان سات برسوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہزاروں افراد موت کی نیند سلادیے گئے ، لیکن فیکٹریوں کو آگ لگا کر سینکڑوں مزدوروں کو زندہ جلانے جیسے واقعات نے سوئے ہوئے ’’اداروں‘‘ کو بھی بیدار ہونے پر مجبور کردیا۔ اس واقعے کے بعد کراچی کو دہشت گردوں سے مکمل پاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے مکمل کوائف اور شواہد اکٹھا کرنا شروع کردیے۔

سات سال بعد پھر یہ مارچ کا مہینہ تھا‘ کراچی میں رینجرز نے گزشتہ کئی ہفتوں سے دہشت گردوں کے خلاف کھلا آپریشن شروع کررکھا تھا‘ اس آپریشن کے ابتدائی دنوں میں ہی ہر اُس جماعت نے شور مچانا شروع کر دیا‘ جس کا کوئی چھوٹا موٹا بھی عسکری ونگ موجود تھا لیکن ہمیشہ کی طرح اِس آپریشن کے خلاف بھی چور کی داڑھی میں تنکا کے مصداق سب سے بلند آہنگ آواز ایم کیو ایم کی تھی، اس کے باوجود دیدہ دلیری ملاحظہ کیجئے کہ دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث اور سزا یافتہ انتہائی مطلوب مجرم اتنے پراعتماد تھے کہ انہوں نے پناہ لینے کیلئے کسی دوسری جگہ کی بجائے اپنی جماعت کے ہیڈ کوارٹر ’’نائن زیرو‘‘ کو ہی محفوظ ترین جگہ سمجھا۔ جس کی وجہ اِس کے علاوہ دوسری کوئی نہ تھی کہ گزشتہ چار دہائیوں میں پولیس یا قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے کو بھی نائن زیرو کا رخ کرنے کی جرات ہوئی نہ ہی ’’اوپر‘‘ سے اجازت ملی۔ متحدہ کے کارکنوں کے ذہنوں میں راسخ ہوچکا تھا کہ ’’نائن زیرو‘‘ پر آنے کی جرات فوج کا کورکمانڈر بھی نہیں کر سکتا اور یہی ایم کیو ایم اور اس کا عسکری ونگ چلانے والوں کی سب سے بڑی غلطی تھی کہ ملک میں عسکری ونگ چلانے والی جماعتیں نئی فوجی قیادت اور دہشت گردی کیخلاف اس کے عزم کو سمجھ نہ سکیں اور اپنی ڈگر پر چلتی رہیں۔

قارئین محترم!! چار دہائیوں میں بہت کچھ بدل جاتا ہے، ایم کیو ایم کے قیام کے بعد سے لے کر اب تک بہت کچھ بدل چکا ہے، یہ بجا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اگر عسکری ونگ نہ چلائے تو پھر بھی وہ کراچی کی ایک مقبول سیاسی جماعت ہے اور اگر ایم کیو ایم ٹھپہ ووٹوں سے دست کش ہوجائے تو بھی کراچی میں ایم کیو ایم ہی الیکشن جیتے، لیکن مکمل اجارہ داری کے زعم اور عدم برداشت کے رویے کے باعث ایم کیو ایم نوے ڈگری کی تنزلی کی راہ پر چل نکلی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مقتدرقوتوں کے عزم کو دیکھ کر لگتا تو یہی ہے کہ اگر اب بھی متحدہ او دیگر سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران نے بدلتے ہوئے حالات کا ادراک نہ کیا اوراپنے عسکری ونگ ختم نہ کیے تو اخبارات میں ’’ایک سیاسی جماعت‘‘ کی جگہ یہی لکھا جائے گا کہ ’’ایک تھی سیاسی جماعت‘‘۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.