.

لالٹین

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بندوق کے زور پر قومیت کے نعرے سے مصنوعی اتحاد تحریک نہیں بنتے۔ سوشلزم کی تحریک کا سرچشمہ سویت یونین ہویا متحدہ قومی موومنٹ جیسی مضبوط جماعت کراچی کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہی سبق دہرایا ہے۔ ایم کیو ایم کے کارکن عمیر صدیقی کے اعتراف جرم نے پارٹی کے اتحاد، قوم پرستی اور موومنٹ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ مگر اس کے باوجود سوال یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف ہر بار اتنے شور شرابے کے بعد موت کی سی خاموشی کیوں ہو جاتی ہے۔ آخر کس طرح لوگ حکومت اور سیکورٹی اداروں پر مکمل یقین کریں کہ جو منکشف واقعات کے دوران بظاہر خاموش تماشاہی بنے رہے، اور اب اچانک ان کو سنگین حالات کا اندازہ ہو گیا ہے۔

اگر عمیر صدیقی کا اعتراف جرم سچ ہے تو ہماری مجرمانہ خاموشی‘ غفلت یا شراکت جرم بھی مکمل طور پر غلط نہیں ہو سکتی۔ ریکارڈ کے مطابق ایم کیو ایم کے مبینہ کارکن رضوان قریشی نے جون 2013 میں مشترکہ طور پر یہ بیان دے دیا تھا کہ بھتہ نہ ملنے پر ایم کیو ایم کی قیادت کے حکم پر بلدیہ ٹاون فیکٹری کو آگ لگا کر اس کے 285 مزدوروں کو زندہ جلا دیا گیا۔آخر یہ بیان 2 سال تک خفیہ کیوں رکھا گیا؟ اور پھر اتنا خوف ناک بیان دینے والا رضوان قریشی کن حالات میں رہائی پا گیا اور آج کل وہ کہاں ہے؟اسی طرح عمیر صدیقی کے بیان کے مطابق اس نے ایم کیو ایم کے لیڈروں کے حکم پر 120 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔

عمیر صدیقی کے بیان کے مطابق 2008 میں نائن زیرو کے ایک اجلاس میں لسانی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ بیان خوفناک سہی مگر کیا یہ حقیقت شرمناک نہیں کہ ہماری سندھ پولیس کا بہ شکریہ زرداری اور اس سے پہلے خفیہ ادارے بہ شکریہ جنرل مشرف اتنے خطرناک معاملات سے بالکل لاعلم رہے؟کیا یہ جواب طلب سوال نہیں کہ نائن زیرو سے مبینہ طور پر برآمد کیا جانے والا اسلحہ مشرف جیسے طاقتور حکمران ،رینجرز،سندھ حکومت ،پولیس،اور خفیہ اداروں کی تمام چابک دستیوں کے باوجود وہاں کیسے پہنچا؟جو کارروائی آج کی جا رہی ہے یا ڈالی جا رہی ہے اگر مشرف دور میں ہی کر دی جاتی تو کیا بہت سی قیمتی جانیں بچائی نہیں جا سکتی تھیں؟ جو کچھ جنرل مشرف کے دور میں 12 مئی 2007 کو ہوا کیا وہ بھی ایسی کارروائی کا متقاضی نہیں تھا؟اس دن جس بے دردی سے کراچی میں 42 افراد کو قتل اور کئی وکلا کو زندہ جلا دیا گیا کیا وہ سندھ حکومت اور ہمارے مستعد سیکورٹی اداروں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ آخر اتنے لوگوں کے مرنے کا انتظار کیوں کیا گیا؟ مشرف کی آمریت ہو یا زرداری کی جموریت جب تک ایم کیو ایم ان دونوں کے اقتدار کو دوام بخشتی رہی اس وقت تک ان کی پولیس اور خفیہ ادارے بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اسلحہ اسمگلنگ جیسے جرائم پر آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے۔

نائن زیرو پر کارروائی لال مسجد آپریشن سے کچھ زیادہ مختلف نہیں لگتی اور اس کے عوامل بھی کچھ زیادہ فرق نہیں۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب تک حکومت یا فوج کی خوشنودی حاصل ہو تو بڑی سے بڑی جرائم پیشہ و سیاسی جماعتیں گھناؤنے سے گھناؤنے جرائم کرنے کے بعد بھی معتبر ٹھہرتی ہیں اور جونہی فوج پر جھوٹی یا سچی تنقید کی جائے تو کفر غداری اور دہشت گردی کے الزمات کے ساتھ ناقدین پر ہلہ بول دیا جاتا ہے۔جس کے لیے حکومتی اجازت کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ بظاہر ہماری سیاسی قیادت ہی اتنی داغدار ہے کہ ان کو سر عام دھوبی پٹرا لگانے کے لئے اجازت نامہ تو کیا قانون سازی بھی کروا لی جاتی ہے۔

بہرحال کمزوری تو ہم عوام کی بھی ہے کہ ہمارے منتخب نمائندے اخلاقی اور سیاسی دیوالیہ پن کا شکار ہیں کہ جن عناصر پر سنگین الزامات ہیں انہی کے ساتھ سندھ حکومت کا بادشاہ اور ہمارے ملک کا وزیر اعظم سینٹ کے ووٹ کے لیے جوڑ توڑ میں مصروف ہوتے ہیں۔کیا جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کا ٹھیکہ رینجرز کو ہی دے دیا گیا ہے۔ آخر سندھ اور وفاق کی حکومتیں رینجرز کی کارروائی کا جرات مندی کے ساتھ کھل کر ساتھ کیوں نہیں دیتیں۔ عدالتوں میں گرفتار شدہ ملزمان کو سزائیں تو سرکاری وکیل استغاثہ ہی دلوائیں گے ہماری سیاسی حکومتوں نے اپنی عمل داری کا جعلی عکس ڈالنے کے لیے فوج کا سہارا لیا ہے وہ ان کے جمہوری دعوئوں کی نفی کرتا ہے۔

حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ جرائم کی بیخ کنی کے لیے پشاور اور کراچی کے کور کمانڈر صاحبان میڈیا کو بیانات جاری کرتے ہیں۔اور ہماری حکومتیں ایپیکس کمیٹیوں کے نام پر عوامی مینڈیٹ کی توہین جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس صورتحال کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ کرپٹ سیاست دان اعداد و شمار کے جمہوری کھیل میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے خلاف ازخود کارروائی نقصان نہیں اٹھانا چاہتی دوسری طرف فوج بھی مکمل طور پر حکومت کی تابع نہیں اور جرائم کے خلاف کارروائیوں کے لیے مکمل اختیار کے نام پر حکومت کی عملی باگ ڈورسنبھال چکی ہے۔حکومت اپوزیشن اور فوج کی ایک ایسی طاقت کی تکون وجود میں آ چکی ہے جسے فوج کے علاوہ کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ خدشہ وہی پرانا ہے کہ اگر اس تکون کے درمیان معاملات طے پا گئے تو بلدیہ ٹاون کے 285 مزدوروں اور 120 سے زائد ٹارگٹ کلنگ کے شہریوں کے کے قاتلوں کو کبھی بھی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکے گا یا صرف گرفتار شدہ ملزمان کو ہی قربانی کا بکرا بنا کراس تکون کو پروان چڑھایا جائے گا۔

ایم کیو ایم کے خلاف الزامات و انکشافات تو پہلے بھی بہت آتے رہے مگر پھر انہیں منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔ جس باعث سیاسی جماعتوں سیاست اور جمہوریت کو ہی بدنام کیا گیا مگر اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں ہر کارروائی کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ لینے کے لئے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں فوج کے کندھے پر نہ ڈالیں۔ موجودہ صورتحال میں حکومت اس اناڑی موٹر مکینک کی سی لگتی ہے جس سے لوڈشیڈنگ کے دوران اپنے شاگرد کو لالٹین پکڑائے گاڑی کا پرزہ تبدیل نہیں ہو پا رہا تھا جس پر ناراض استاد نے شاگرد سے لالٹین چھین کر کہا کہ تجھے لالٹین پکڑنی نہیں آتی۔ جب ہوشیار شاگرد نے استاد کی پکڑی لالٹین کی روشنی میں پرزہ فوری لگا دیا تو استاد نے فخر سے کہا لالٹین ایسے پکڑتے ہیں۔ حکومت سے بھی استدعا ہے کہ لالٹین صحیح پکڑنے کا طریقہ بتانے کی بجائے اپنی پولیس اور وزراء کی کارکردگی بہتر بنائے وگرنہ ہوشیار شاگرد دکان سنبھال لے گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.