.

یوحنا آباد کے ہمسایوں کا نوحہ

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہ میرے نیکسٹ ڈور ہمسائے ہیں جنہیں راکھ میں تبدیل کر دیا گیا، میں درجنوں بار ان کی بستی میں گیا ہوں، وہاں میٹرو بس اسٹیشن بھی ہے اور لیسکو کا دفتر بھی۔ وہیں سے میں نے بجلی کا کنکشن لیا، جب کبھی بتی چلی جاتی ہے اور اکثر چلی جاتی ہے تو میں وہاں دن ہو یا رات، فوری طور پر شکائت درج کرانے کے لئے پہنچ جاتا ہوں، مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہو اکہ میں کسی اجنبی جگہ پر ہوں ، یا اجنبیوں کے محلے میں ہوں،جیسا میرے چہرے کا رنگ ہے، جیسا میرے بچوں کا رنگ ہے، میرے ہی چہرے مہرے والے انسان آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ساٹھ کے عشرے سے قصور سے لاہور آنا جانا شروع ہوا تو بس کنڈکٹر نے سینکڑوں مرتبہ یوحنا آباد سٹاپ کا اعلان کیا، کوئی سواری اتری تو کوئی چڑھ گئی۔

کبھی کسی تبدیلی کااحساس ہوا تو صرف ایسٹر اور کرسمس کے موقع پر جب یوحنا آباد کی گلیوں میں رنگ برنگے کپڑوںمیں ملبوس بچے چہکتے دکھائی دیئے۔میںنے نیویارک میں کرسمس دیکھا ہے، کیا خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ ایک بار اعجاز الحق وزیر مذہبی امور تھے اور وہ لاہور میں کرسمس کی ایک تقریب میں مدعو تھے، مجھے بھی ساتھ لے گئے۔بچوں نے ٹیبلو پیش کیا۔ انتہائی مقدس اور خوشبودار محفل تھی، میں بطور صحافی یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ کر سمس کے موقع پر میں نے پہلی مرتبہ خصوصی رنگین ایڈیشن شائع کیا تھا اور اس میں لاہور کے ہر مکتبہ فکر کے مسیحی قائدین کے انٹرویوز شامل تھے۔ بشپ جان الیگزنڈر ملک سے تو برسوں دوستی رہی۔

ایک طرف یہ سارا پس منظر اور دوسری طرف میں نے آج صبح یوحنا آباد سے مسیحی بھائیوں کی جلتی، کوئلہ بنی چیخیں سنیں تو میر ا دل دہل کر رہ گیا۔ یہ ناقابل برداشت منظر تھا ور اور ہم مسلم اکثریت والے ملک کے لئے باعث شرم بھی ،مگر ہمارے مسیحی بھائی جانتے ہیں کہ دہشت گرد کسی کو معاف نہیں کرتے۔ چرچوں میں دھماکے ہوتے ہیں تو مسجدوں، امام بارگاہوں، عید میلاد اور محرم کے جلوسوںمیں بھی دھماکے ہوتے ہیںا ور لاشیں گرتی ہیں۔ مگر ابھی پشاور کے چرچ میں قتل و غارت کو دنیا نہیں بھولی تھی کہ اب یو حنا آباد میں قیامت برپا ہو گئی۔ہمارے دشمن یہ پراپیگنڈہ کر سکتے ہیںا ور کرتے ہیں کہ پاکستان اقلیتوں کے لئے محفوظ ملک نہیں، کئی خاندان اس آڑ میں دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔لاہور میں ایک پوری بستی جوزف کالونی کو جلاد یا گیا، کوٹ رادھا کشن میں بھی مسیحی بھائیوں پر قیامت ٹوٹی۔

میں ٹیکسلا کے مسیحی ہسپتال کا نوحہ لکھوں یا سانگلہ ہل اور گوجرہ کا ماتم کروں۔ ظلم وستم کی ایک طویل تاریخ ہے جو ہمارے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے مگر میں پھر کہوں گا کہ مسیحی بھائی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی مسلم اکثریت ان جرائم میں شریک نہیں بلکہ خود اس بھیانک کھیل کا ٹارگٹ ہے۔ صرف پچھلے بارہ برس میں ساٹھ ہزار پاکستانی ،دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ان میں چھ ہزار کے قریب پاک فوج کے افسرا ور جوان بھی شامل ہیںجو شہادت کے مرتبے پر سرفراز ہوئے، پاک فوج نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہے اور ہر روز آرمی چیف اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ضرب عضب جاری رہے گی۔

یوحنا آباد کے سانحے کی مذمت ہر کسی نے کی ہے، میرے پاس بھی الفاظ نہیں کہ میں اس اندوہناک واردات کی مذمت کر سکوں۔ یہ انسانیت پر حملہ ہے۔ یہ ریاست پاکستان پر حملہ ہے ۔میرے نبی ﷺ نے غیر مسلموں سے حسن سلوک اور روادری کانہ صرف درس دیا بلکہ اس کا عملی نمونہ اس طرح پیش کیا کہ مدینہ کی مسجد میں ایک مسیحی وفد کو ٹھہرایا،اور ان کی ہر طرح کی خدمت کی حتی کہ غلاظت تک اپنے ہاتھوں سے صاف کی۔

دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان خالی کرنے کے بعد سے اپنے ہتھکنڈے بدل لئے ہیں، وہ کبھی شیعہ آبادی کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی مسیحی آبادی کو اور کبھی پشاور کے ایک اسکول کے پھولوں جیسے بچوں کو۔ان کی سازش یہ ہے کہ وہ پاکستان کوایک خطرناک اور متعصب ملک قرار دلوا دیں۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اتحاد کا مظاہرہ کرے اور حکومت کی کاوشوں کا ساتھ دے۔قومی قیادت نے مثالی یگانگت کا مظاہرہ کیا ہے اورقوم کا بھی فرض ہے کہ کہ وہ دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ نہ رکھے۔ یوحنا آباد سانحے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے طالبان نے اعلان کیا ے کہ ملک میں مذہب کے عملی نفاذ تک وہ ایسی قتل وغارت جاری رکھیں گے، کوئی ان سے پوچھنے والا ہو کہ کونسا مذہب ہے جس کے نفاذ کے لئے قتل وغارت کی گئی ہو یا جس کے نفاذ کے بعد قتل و غارت جاری رکھی گئی ہو۔ اسلام ا ور مسیحیت میں تو ایسی کوئی اجازت اور گنجائش نہیں۔ قیام پاکستان کے بعدبابائے قوم نے بھی اعلان کیا تھا کہ اب یہاں مسلمان، ہندو، مسیحی، سکھ کی کوئی تمیز نہیں، سب کے سب پاکستانی ہیں اور سب کے حقوق مساوی ہیں۔ ملکی آئین ہر شہری کی جان اور مال کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور افواج پاکستان یا دوسری سیکورٹی فورسز بلا تمیز رنگ ونسل، مذہب ، فرقہ،صوبہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔

یوحنا آباد کے سانحے کو کسی نے مقامی سانحہ نہیں سمجھا، اس پر پوری قوم سوگوار ہے، پر نم ہے، یہ ایک اجتماعی دکھ ہے، یہ پاکستان کا سانحہ ہے اور ہماری تاریخ کا ایک المناک باب۔ ہماری اقلیتوں کو شر انگیزی کا نشانہ بننے سے گریز کرنا چاہئے۔ وہ جان لیں کہ دہشت گرد پاکستان ا ور اس کے عوام کے دشمن ہیں۔ وہ ہمارے اجتماعی دشمن ہیں اور ہمارا قومی اتحاد ہی ان کے مذموم عزئم کو ناکام بنا سکتا ہے۔ آرمی چیف کے الفاظ یاد آتے ہیں کہ پاک فوج اپنے عوام کی حمائت سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔

بیرونی دنیا کو بھی پاکستان پر شک و شبہہ کرنے کی عادت ختم کر دینی چاہئے، ہم نے بہت سن لیا کہ مشرف دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے،کیانی نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی، ہم نے بھی اس شر انگیز پراپیگنڈے پر آنکھیں بند کر کے اپنی افواج کو برا بھلا کہا کہ یہ ڈالر کھا رہی ہیں اور ڈکار رہی ہیں۔ اب تو ہر ایک کو نظر آ گیا ہے کہ ڈبل گیم کون کرتا ہے۔ پشاور کے بچوں کے قاتل افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں، ان کی حوالگی کا مطالبہ خود آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف نے کابل جا کر کیا مگر افغانستان کی حکومت یا اس کی پشت پناہ امریکی اور نیٹو فورسز کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

سمجھوتہ ایکسپریس کے پانچ درجن مسافروں کے قاتل انڈین فوج کے حاضر سروس افسر کرنل شری کانت پروہت کو برسوں گزرنے کے باوجود پاکستان کے حوالے نہیں کیا گیا ،نہ کوئی بھارتی عدالت اسے قرار واقعی سزا دینے کے لئے تیار ہے، بھارت میں دو ہزار مسلمانوں کو زندہ جلانے والا نریندر مودی آج نئی دہلی میںوزرات عظمی کی کرسی پر براجمان ہے۔اور دنیا کا کہنا یہ ہے کہ دہشت گرد پاکستان ہے۔ تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو!!

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.