.

غصب شدہ عوامی آئینی حق کی بازیابی!

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قارئین کرام! آپ جانتے ہیں کہ ’’آئین نو‘‘ میں تسلسل کے ساتھ عوام کے انتہائی بنیادی اور آئینی مگر برسوں سے غصب شدہ حق، ’’منتخب بلدیاتی اداروں کا قیام‘‘ کی بازیابی کو ممکن بنانے کےلئے ہر ہر پہلو کو تسلسل سے ایڈریس کیا گیا۔ شکرالحمد للہ، آئین گریز ، جامد ذہن حکومتوںسےآئین و قانون کے تقاضے پورے کرانے کی جدوجہد میں، آخرکارحقیقی جمہوری ذہن کے حامل اور آئین و قانون کے نفاذ پر چوکس باشعور شہریوں، آزاد عدلیہ و میڈیا اور رائے سازوں کے مشترکہ قومی کردار کی ادائیگی میں غصب شدہ عوامی حق کی بازیابی ہوگئی۔ سینئر جج جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ نےاپنی کئی ماہ کی پیشہ وارانہ سرگرمی کے بعد بالآخر سٹیٹس کو کی مخصوص حکومتوں کے ہاتھ پائوں باندھ دیئے کہ وہ تکمیل آئین میں مزید مزاحمت نہیں کرسکتیں۔ سپریم کورٹ کے حکومتوں کو مخصوص اوقات میں بلدیاتی انتخاب کے انعقاد کا پابند کرنے کے فیصلے کی خوبصورتی یہ ہے کہ عدالت ِعظمیٰ نے ’’ایک تیر سے دو شکار کئے ہیں‘‘ یوں کہ بلدیاتی اداروں کے انتخاب سے سخت نالاں حکومتوں کو مجبور کردیا کہ وہ اس آئینی تقاضے کو پورا کریں کہ عوام جمہوری اور نچلی سطح پر انتظامی عمل میں عملاً شریک ہوسکیں۔ دوسرے اس تاریخی عدالتی حکم نے پاکستان کے صدا سے لاغر اورانتظامیہ کے تابع الیکشن کمیشن میں بھی کچھ جان پیدا کردی ہے۔ سپریم کورٹ نے عدلیہ پر واضح کردیا ہے کہ وہ مقررہ آئینی مدت کی روشنی میں منتخب اداروں کے شیڈول کا خود اعلان کرسکتی ہے اور اسے اس ضمن میں حکومت سے ہدایت لینے یا اس کے کسی اشارے کی کوئی ضرورت نہیں۔یوں اس فیصلے سے الیکشن کمیشن ایمپاورڈ ہواہے۔ اگر الیکشن کے انعقاد کے لئے حکومتی اداروں کا تعاون ناگزیر ہے تو اب وہ حکومت کے عدم تعاون کی صورت میںعدلیہ سے رجوع کرکے یہ تعاون حاصل کرسکے گا۔

یہ تو اب کوئی سوال رہا ہی نہیں کہ ’’بلدیاتی اداروں کے قیام‘‘ جیسے وسیع تر عوامی مفاد کے آئینی حق کو کس نے غصب کیا ہوا تھا۔ سپریم کورٹ اور صوبائی ہائی کورٹس میں بلدیاتی اداروں کے انتخاب کے انعقاد سے متعلق رٹ پٹیشن کی سماعت اور ان کی میڈیا کوریج اورتجزیوں کے ذریعے مطلوب حد تک عوام پر واضح ہوچکا ہے کہ یہ (نفاذآئین کےسال) 1973 سے لے کر 2013 تک برسراقتدار آنے والی منتخب سول وفاقی اور صوبائی حکومتیں تھیں جو بلدیاتی انتخابات کے انعقادسے اس درجے پر گریزاں رہیں کہ یوں لگتا ہے کہ وہ اسے ’’اپنے ہی اندازِ حکومت‘‘ کی موت سمجھتی تھیں، اور انہیں گوارا نہیں رہا کہ وہ طرز حکومت آئین و قانون کےمطابق تشکیل دیں۔ سٹیٹس کو کی قوت کی شکل میں روایتی سیاسی قیادتوں کی یہ ذہنیت اب مکمل ثابت شدہ کیس ہے۔

اب جبکہ پنجاب و سندھ کی اور وفاقی حکومتیں ، دونوں صوبوں، اسلام آباد اور کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی اداروں کے انتخاب کا شیڈول بوساطت الیکشن کمیشن جمع کراچکی ہیں، جو عدالتی حکم کا عکاس ہے، تو گلی، محلے اور شہروں،قصبوں اور دیہات کے باشعور شہریوں خصوصاً عوام کی حالت بہتر بنانےوالی سماجی تنظیموں پربڑی اہم ذمہ داری عائد ہوگئی ہے کہ وہ اسی سال بلدیاتی انتخابی عمل اور اس کی پراڈکٹ ’’منتخب بلدیاتی اداروں‘‘ کے معیار، مطلوبہ کردارا ور زیادہ سے زیادہ کیپسٹی کو یقینی بنانے کے لئے سرگرم ہوجائیں۔ پہلا چیلنج یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات چونکہ پارٹی بنیاد پر ہونے ہیں، اس لئے انتخابی میدان میں امیدوار اتارنے کا عمل پارٹیوں کے قائدین اور ایم این ایز یا ایم پی ایز کی بجائے عام شہریوں اور زیادہ سے زیادہ مقامی سیاسی کارکنوں کی اجتماعی فیصلہ سازی سے ہونا چاہئے۔ سب سے بڑی ذمہ داری حلقہ ہائے انتخاب کے ووٹرز پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ممکنہ حد تک اجتماعی دبائو سےباصلاحیت بلند شہری شعور کے حامل اور صاحبان کردارامیدوار میدان میںلانے کے لئے اپنا اجتماعی کردار اداکریں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کےعلاقے میں کون کیاہے؟ اوروہ کتنے اور کیسے کردارکامالک/مالکہ ہے۔ضرورت اس امرکی ہےکہ گلی محلے اورشہرو قصبے کی سطح کے بلدیاتی اداروں کے بہتر سے بہتر امیدواروں پر باہمی غور و خوض شروع کردیں۔ خدارا وہ ان انتخابات میں سیاسی اور جماعتی وابستگی سے کہیں زیادہ اہمیت، اہلیت، صلاحیت اور کردار کو دیں۔اولین ترجیح کے طور پر اپنی ہی جماعت سے بہترین امیدوار کے لئے باہمی مشاورت کریں لیکن علاقے (حلقہ انتخاب) کے شہری مفادات کو اولین اہمیت دیں۔ اگر اوپر سےایم این ایز، ایم پی ایز اور حلقہ کے ووٹرز پر اثرانداز ہو کر اپنی ہی پارٹی کے کسی ایسے شخص کو امیدوار بنایا جارہا ہے جو علاقے کی نمائندگی کا اہل اور عوام دوست نہیں،فقط پارٹی قیادت کی خوشامد یاجائز و ناجائز دولت اور پارٹی کو بھاری بھرکم چندے کی پیشکش کی سکت کا ہی حامل ہے تو یہ علاقے کے ووٹرز کا خود کو خود غرض سیاستدانوں کی عوام دشمن سیاست میں جکڑنے کے مترادف ہوگا۔ بہت ہوگئی۔ اگر ملک میں بلدیاتی انتخابات تواتر سے آئینی تقاضے کے مطابق ہوتے رہتے تو سیاسی جماعتوں کی تباہ کن آمریت قائم ہو ہی نہ سکتی بلکہ انہیں گلی، محلے اور گائوں شہر کے ووٹرز کے تیور اور ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا۔ اب عوام کو یہ بڑا موقع مل رہا ہے۔

اپنے روزمرہ کے مفادات کے تحفظ اورمقامی حالات کو وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے اور اپنے بچوں کے لئے بہتر سے بہتر بنانے کا تقاضا ہے کہ پارٹی اورقیادت کی روایتی اندھی تقلید پر علاقے کے مشترکہ مفادات کو ترجیح دیں۔ اگر پارٹی یا قیادت اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ میں نااہل، لالچی اور بری شہرت کے حامل کارکنوں کو بلدیاتی اداروں کاانتخابی امیدوار بناتی ہے تو ایسے میں دوسری جماعت کے دیانتدار اورصاحب ِ صلاحیت و کردار امیدوار کی حمایت کریں اور دوسروں سے بھی اپنی طرح کی معاونت فراہم کرانے میںاجتماعی کردار ادا کریں۔ سول سوسائٹی کے حلقے اورتنظیمیں اور موضوع کو بخوبی سمجھنے والے تجزیہ نگار اور مختلف النوع رائے ساز اس مرحلے پر عام ووٹرز کی صحیح ووٹ دینے کے اجتماعی رویئے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وہ اس ضمن میں ووٹرز کی رہنمائی اور بلدیاتی انتخابی عمل کو اسٹیٹس کو کے عوام دشمن روایتی سیاسی اثرات سے بچانے کے لئے خود کو منظم کرنا شروع کردیں۔ وقت بہت کم اورروایتی سیاسی قوتوں کی اپنی طاقت ہے اور ان کے منفی ارادوں کا اندازہ اس منفی رویئے سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ سرگرم عدالتی سماعت کے دوران حتیٰ کہ ابتدائی عدالتی احکامات آنے پر بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو ٹالنے کی اپنی سی آخری کوشش کرتی رہیں۔ بلدیاتی اداروں کے عوام کے لئے روزمرہ کی زندگی میں عملی فوائد کی آگاہی اوراس سے ان کے جمہوری عمل میں شریک ہونے کے لئے مطلوب ایمپاورمنٹ قائم ہونےسے متعلق بہت سلیس زبان میں لٹریچر تیار کرنا اور اس کی وسیع پیمانے پر تقسیم فوری اوراشد ضروری ہے۔ تحفظ جمہوریت ، بنیادی انسانی حقوق اور حقیقی جمہوری نظام کے لئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیمیں اور وکلا کی انجمنیں بھی بلدیاتی انتخابی عمل کو روایتی سیاسی سائے سے بچانے اور یہ آئینی حق اپنی روح کے مطابق عوام کو دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ وما علینا الاالبلاغ

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.