.

پاؤ بھر خالص گوشت

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند دن ہوئے کہ ان کالموں میں لاہوریوں کی دستیاب خوراک کا تعارف کرایا گیا تھا، گدھے کا گوشت، چند خبروں کے مطابق کتے کا گوشت بھی، مردار گوشت، شہر کے گندے اور غلیظ ترین پانی پر پلنے والی سبزی اور اس طرح کی دوسری اشیائے خوردنی لاہوریوں کی روزمرہ کی خوراک رہیں۔

صرف دال بچتی ہے اگر اس میں ریت کی ملاوٹ نہ ہو جو کچھ محنت کے بعد صاف بھی ہو سکتی ہے یعنی دال روٹی ہی بطور خالص غذا اس شہر کے نصیب میں ہے، توفیق خواہ کچھ بھی کھانے کی ہو لیکن قابل استعمال اشیاء بہت ہی محدود ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر اس کا ایک حل نکالا ہے جو میں بعد میں افشا کروں گا۔ فی الحال میں اس خوف وہراس اور کسی غیبی غضب کی دہشت میں مبتلا ہوں کہ قدرت نے ہماری بداعمالیوں سے ناراض ہو کر حلال اشیائے خورد ونوش سے بھی ان کو مشکوک بنا کر ہمیں محروم کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں روزمرہ کی معاشرتی بداعمالیوں کی کوئی کمی نہیں۔ناپ تول میں ہم بے ایمانی کرتے ہیں۔

بازار میں شاید ہی کوئی ترازو درست وزن بتاتا ہو۔ کوئی گز پورا کپڑا ناپتا ہو اور کوئی پٹرول پمپ پورا پٹرول دیتا ہو۔ گزشتہ زمانوں کی باتوں اور واقعات میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ بعض قوموں پر ایسی ہی خرابیوں کی وجہ سے عذاب نازل ہوا اور وہ تباہ وبرباد ہو گئیں۔ ان کی نشانیاں بطور عبرت اب تک ہمارے سامنے موجود ہیں اور موجود نہ بھی ہوں تو اللہ کی کتاب میں ان کا ذکر موجود ہے اور ان حالات کا بھی جن کی وجہ سے ان پر یہ تباہ کن اور عبرت انگیز عذاب نازل ہوئے اور وہ کسی آسمانی عذاب کا نشانہ بن گئے۔

جب اللہ کے پیغمبروں نے ان کو خبردار کیا تو وہ الٹے ان کے دشمن بن گئے اور ان کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں اور آروں سے چیر دیا گیا۔ اب ہمارے لیے کوئی پیغمبر نہیں آئے گا جو ہمیں ہماری بری عادتوں اور اعمال سے خبردار کر سکے لیکن ہمارے پیغمبر اور اللہ کی کتاب ہمارے لیے ایک زندہ پیغمبر کی صورت میں موجود ہے جو ہمیں خبردار کرتی رہتی ہے۔ میرا یہ منصب اور یہ حیثیت ہرگز نہیں کہ میں ایسی باتیں اپنی طرف سے آپ سے کہہ سکوں۔

یہ تو بس پرانے سنے ہوئے اور پڑھے ہوئے واقعات یاد آ گئے اس لیے نقل کر دیے گئے کہ شاید آپ کو یاد نہ ہوں۔ اس کے باوجود میرا یہ ذاتی ڈر اپنی جگہ ہے کہ ہمیں قدرت اپنی نعمتوں سے محروم کر رہی ہے۔ ایک طرف اگر اس نے کچھ لوگوں کو خوشحالی عطا کی ہے تو دوسری طرف ان کا کھانا پینا ان پر گویا حرام کر دیا ہے اور ان کی بعض پسندیدہ اشیائے خورد ونوش کو مشکوک بنا دیا ہے۔ اب جب آپ کسی قصاب کی دکان پر گوشت لینے جاتے ہیں تو اس اندیشے کے ساتھ کہ پتہ نہیں یہ گوشت واقعی کسی گائے یا بکری کا ہے یا نہ جانے کسی دوسرے جانور کا۔ گدھے کا یا کسی مردار کا۔ ایسی خبریں مسلسل چھپ رہی ہیں جو غلط نہیں ہو سکتیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ شدید تشویش کی حالت میں مجبوراً چار وناچار کچھ خرید لیتے ہیں۔ ہماری حکومت نے ایک اشتہار میں ٹیلی فون نمبر دیا ہے کہ گوشت کی تسلی کرنے کے لیے اس نمبر کی مدد حاصل کریں اور فلاں ادارے سے رجوع کریں یعنی کچھ خریدنے سے پہلے ایک مقدمہ لڑیں اور دفتر یا کاروبار سے چھٹی کر کے گوشت کے چند ٹکڑے گھر لے جائیں۔ حکومت کا ایک محکمہ گوشت کے معیار کے لیے موجود ہے جس کا فرض ہے کہ بازار میں غلط گوشت نہ آنے دے لیکن اب اس محکمے کا کام بھی خریداروں کو کرنا ہو گا۔ سبحان تیری قدرت۔

انسانوں کو توفیق کے باوجود ان کی پسندیدہ ضروریات سے محروم کرنا یا ان ضروریات کو مشکوک اور مشتبہ بنا دینا ایک سزا ہے جو قدرت نے ہماری گوناگوں بداعمالیوں کی وجہ سے ہم پر نافذ کر دی ہے۔ اس سزا سے بچنے کے لیے ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور معافی مانگنی چاہیے۔ یہ ہمارے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ کی کرمفرمائی ہے کہ اس نے اللہ کے حضور اپنی امت کے لیے سابقہ قوموں جیسے کسی اجتماعی عذاب سے معافی کی درخواست کی ہے۔ اب ہم پر عاد و ثمود جیسی قوموں کا عذاب تو نازل نہیں ہو گا لیکن یہ بھی نہیں کہ ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا نہ ملے۔ بس اس سزا کی معافی مانگنی ہے۔

میں نے گوشت کی اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے جو حربہ استعمال کیا ہے میں بیان کر رہا ہوں۔ یہ آپ بھی کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے اب میرے گھر میں خالص گوشت آتا ہے اور پکتا ہے۔ جس قصائی سے گوشت خریدا جاتا ہے اس سے بات کی گئی تو اس نے ایک پیش کش کی کہ میں بکرا آپ کے سامنے ذبح کروں گا اور جتنا گوشت آپ لیں گے اور بکرے کے جس حصے کا پسند کریں گے وہ آپ کو مل جائے گا اور اسی نرخ پر جس پر آپ روز خریدتے ہیں چنانچہ محترم قصاب کی یہ پیش کش فوراً قبول کر لی گئی اور اب میرے گھر میں وہی گوشت پکتا ہے جو واقعی حلال گوشت ہے اور کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔

گھر والے کہہ رہے تھے اور خدا کا شکر ادا کر رہے تھے کہ آٹا پہلے ہی ہمارے گاؤں کی گندم کا ہوتا ہے بشرطیکہ اس بارانی علاقے میں بر وقت بارشیں ہو جائیں اور گندم کی فصل تیار ہو جائے اب گوشت بھی گاؤں جیسا ہو گا۔ ہمارے گاؤں میں صبح بعد از نماز قصاب ایک رسی کندھے پر ڈال کر پہاڑوں کو نکل جاتا ہے جہاں چرواہے اپنے ریوڑوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ وہاں وہ کسی ریوڑ سے اپنی پسند کا بکرا پکڑتا ہے کھلی ہوا اور قدرتی سبزے میں پلا ہوا بکرا گاؤں میں لے آتا ہے اور یہاں وہ اسے ذبح کرتا ہے اور اس کا گوشت فروخت کرنا شروع کر دیتا ہے۔

اب لاہور بھی گاؤں بن رہا ہے۔ آٹا گاؤں کا اور گوشت لاہور کے کسی جانور کا اور یہ جانور بھی ظاہر ہے کہ باہر کہیں سے کسی گاؤں سے لاہور لایا جاتا ہے اس طرح میں نے لاہور میں گاؤں بسا لیا ہے اور یہ مسئلہ حل کر لیا ہے لیکن ڈاکٹر حضرات مجھے گوشت خوری سے منع کرتے ہیں۔ صرف مرغ کے گوشت کی اجازت ہے جس کی فارم کی خوراک کے بارے میں بڑی ہی خطرناک خبریں چھپتی ہیں چنانچہ میرے لیے محفوظ اور بے خطر خوراک صرف دال رہ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ دال روٹی دیتا رہے اور اہل خانہ کو تھوڑا بہت حسب توفیق گوشت بھی، اسے گاؤں چھوڑ کر لاہور آنے کی سزا سمجھئے جہاں صرف پاؤ بھر گوشت میسر ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.