.

قاتلوں میں اشوکا ایک بھی نہیں

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دریائے گنگا اور دامودر کا پانی ریاست کالنگا کے کھیتوں کی پیاس بجھاتا تو کھلیان سونا اُگلنے لگتے۔ کھیتوں میںجنم لینے والی گندم کی سنہری بالیاں مندروں میں رقص کناں داسیوں کی طرح جھول جھول اور جھوم جھوم جاتیں تو کاشتکاروں کے کانوں میں محنت کا پورا معاوضہ وصول ہونے کے ناقوس بجنے لگتے۔ یوں ایک جمہور پسند حکومت، کم لگان، زمین کی زرخیزی اور کسانوں کے پسینے نے آندھرا پردیش کی اِس ریاست کالنگا کو ہندوستان میں سونے کی چڑیا بنادیا تھا۔کالنگا کی خوشحالی دیکھ کر اردگرد کے جنگجوﺅں کی رالیں اُس پر ٹپکتی رہتی تھیں۔ریاست کالنگا کے خزانے لوٹنے کیلئے اُس پر کئی حملے بھی ہوئے لیکن اس کے عوام کو کوئی جنگجو اپنا غلام نہ بناسکا،اس ریاست پر آخری حملہ (262-261) قبل مسیح میں موریا خاندان کے سب سے عظیم حکمران نے کیا، جس کا مقابلہ کرنے کیلئے کالنگا کے عوام گھروں سے نکل آئے۔یہ ہندوستانی تاریخ کی بڑی لڑائیوں میں سے ایک تھی۔ لڑائی ختم ہوئی تو کالنگا کے میدان جنگ، گلیوں ، بازاروں، عبادتگاہوں اور گھروں میں انسانی لاشوں کے ڈھیر پڑے تھے۔اس جنگ میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد تیر و تلوارکا رزق بنے۔ ندی نالے، اور نہریں خون سے اَٹ چکی تھیں۔ فصلیں جل کر راکھ ہوچکی تھیںاور ہر طرف وحشت کا عالم تھا۔کالنگا کی جلی ہوئی اور لاشوں کی بساند سے بھری گلیوں سے گزرتے ہوئے اس جنگ کا فاتح روئے چلا جاتا تھا اور چلائے جاتا تھا ” یہ میں نے کیا کیا؟اگر یہ فتح ہے تو پھر شکست کیا ہوتی ہے؟یہ فتح ہے یا شکست ہے؟یہ انصاف ہے یا ظلم ہے؟یہ بہادری ہے یا بزدلانہ پسپائی ہے؟کیا معصوم بچوں اور خواتین کو ہلاک کرنا بہادری ہے؟ کیا میں نے یہ اپنی سلطنت کو وسعت دینے اور عوام کو خوشحالی دینے کیلئے ایسا کیا یا دوسری سلطنت کو تباہ کرنے اور اُجاڑنے کیلئے ایسا کیا؟یہ میں نے کیا کیا؟ اس جنگ میں کسی نے اپنے شوہر کو کھودیا ، کسی نے اپنے باپ کو، کسی نے اپنے بیٹے کو اور کسی ماں نے اپنے بچے کو جننے سے پہلے ہی ہمیشہ کیلئے کھودیا۔میں لاشوں کے ان ڈھیروں کو کیا کہوں؟ کیا یہ فتح کی علامت ہیں یا شکست کی نشانی؟ کہیں لاشوں پر منڈلاتے یہ گدھ، کوے اور چیلیںفاتح کی موت کی پیامبر تو نہیں ہیں؟“ جنگ جیتنے کے بعد کٹی پھٹی لاشوں کو دیکھ کر خودکلامی میں ماتم و گریہ زاری کرنے والا یہ فاتح موریا خاندان اور ہندوستانی تاریخ کا عظیم حکمران سمرات چکراورتی اشوکا اعظم موریا تھا۔

تاریخ نے جہاں اپنے سینے میں اور بہت کچھ محفوظ کررکھا ہے، وہیں تاریخ نے کالنگا کے میدان جنگ سے گزرتے ہوئے اشوکا کی یہ خودکلامی بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنے سینے میں محفوظ کرلی۔ جنگ کالنگا نے اشوکاپر گہرا اثر چھوڑااور اشوکا کو سر تاپا یکسر بدل کر رکھ دیا اوروہ ایک جنگجو سے آہنسا کا پجاری بن گیا۔ اشوکا نا صرف بدھا کا پیروکار بنا بلکہ اس نے بدھ مت (عدم تشدد کے عقیدے) کواپنی سلطنت کا سرکاری مذہب بھی قرار دیدیا۔ اشوکا اعظم نے روم سے لے کر مصر تک بدھ مت کو پھیلانے کیلئے اپنی زندگی وقف کردی۔اشوکا نے عدم تشدد کے پرچار کے لئے بدھ مت کی ہزاروں عبادتگاہیں (سٹوپا)بھی تعمیر کرائیں اور اس سلسلے کو بعد میں اشوکا کی اولاد نے بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

یہ تو دو ہزار تین سو سال قبل مسیح کا ایک واقعہ ہے ،لیکن کیا اِس واقعے کے بعد دنیا امن کا گہوارہ بن گئی؟ جی نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہوا، بلکہ آسمان نے اُس سے بھی کہیں بدتر مناظر دیکھے۔کھوپڑیوں کے میناروں سے لے کرلاشوں کے ڈھیربنانے تک اور علاقوں کے علاقے جلاکر راکھ کرنے سے لے کر جوہری بموں سے شہروں کے شہر اجاڑنے تک آسمانی آنکھ نے ہر دور میں ظلم اور جبر کی ایک نئی تاریخ رقم ہوتے دیکھی۔یہ آسمان گزشتہ صدی میں دو عظیم اور عالمی جنگیں بھی دیکھ چکا جو کروڑوں انسانی جانوں کی بھینٹ لے کر ختم ہوئیں، لیکن پراکسی میں لڑی جانے والی تیسری عالمی جنگ ابھی تک ختم نہیں ہوئی اور مسلسل انسانی خون پیے چلی جارہی ہے۔یہ آج کل ہمارے شہروں میں ہونے والے بم دھماکے، خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ (ہدف کشی)کے اور دنگا فساد کے واقعات بھی پراکسی میں لڑی جانے والی اِسی عالمی جنگ کا نتیجہ اور حصہ ہیں۔

انسان کی سب سے بڑی بدقسمی تو یہ ہے کہ وہ ابھی تک پوری طرح انسانی جان کی قیمت نہیں سمجھ سکا، بلکہ انسان کے ہاتھوں بہائے جانے والے انسانی لہو اور اُڑائی جانے والی گردنوں کے اعدادوشمار دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان نے کبھی انسانی جان کی قدرو قیمت اور اہمیت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ انسان نے آج تک نہیں سمجھا کہ ایک کمرے میں توتکار ہورہی ہو یا ایک گھر میں برتن بج رہے ہوں، ایک گلی میں اینٹ کھڑکا ہو رہا ہو یاایک محلے میں کوئی چپقلش چل رہی ہو، ایک شہر میں دنگا فساد چل رہا ہو یا ایک ملک میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا ہوچکا ہو، دو ممالک میں جنگ چھڑ چکی ہویا کوئی عالمی طاقت جبراً کمزورملک کوروند کرکسی قوم کوغلام بنانے کی روش پر گامزن ہویہ لڑائیاں کبھی خیر کا باعث نہیں ہوتیں، اِن جنگوں سے کھلیان ہی نہیں گھر بھی اجڑتے ہیں ، بندوق چلتی ہے تو خون سے گلیاں گیلی تو ہوتیں ہیں، توپ داغی جاتی ہے تواس کے دھانے سے پھولوں کے ہار نہیںنکلا کرتے۔ٹینک صرف آگ ہی اگلتے ہیں اور ایٹم بم امن کا پیامبر نہیں ہوسکتا۔تنی ہوئی کلاشنکوف کے سامنے کسی کی ہنسی نہیں نکلتی اور ہاتھ میں گرنیڈ پکڑ کر دوستی نہیں کی جاسکتی۔ بارودی سرنگ پر پاو¿ں رکھنے والا زندہ بچ بھی جائے توعمر بھر بیساکھی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ہم ابھی تک نہیں سمجھ پائے کہ ایک کمرے سے شروع ہونے والی توتو میں میں سے لے کر دو ممالک کے درمیان گرم محاذ پر گولہ و بارود کی گھن گرج ہمیشہ تباہی اور بربادی ہی لاتی ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ انسانی تاریخ ایسے ہی کروڑوں واقعات سے بھری ہوئی ہے، لیکن ان سے سبق سیکھنے کے واقعات کم کم ہی ملتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی بھی شخص سے پوچھا جائے کہ اس کا سب سے بڑا خواب کیا ہے؟

تو یقینا ہر شخص یہی کہے گا کہ اگر اس کی زندگی میں دنیا میں امن قائم ہوجائے تو یہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے، لیکن خواب اُس وقت تک ہمیشہ خواب ہی رہے گا، جب تک عالمی طاقتیں ملک گیری کی ہوس ختم کرکے اپنی ”حدود“ میں رہنے کی عادت نہیںاپنائیں گی۔ جب تک عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنی حدود میں رہنے اور انسانی جانوں کی قیمت نہیں سمجھیں گی تو چھوٹے چھوٹے تنازعات بڑی اور عالمی جنگوں کا پیش خیمہ بنتے رہیں گے، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوتے رہیں گے، خودکش حملوں میں انسانی لہو بہتا رہے گا اور بم دھماکے انسان کی تکا بوٹی کرتے اور پرخچے اُڑاتے رہیں گے۔ جب تک ہم انسانی جان کی قدرو قیمت نہیں سمجھیں گے تب تک سانحہ لاہور جیسے واقعات بھی ہوتے رہیں گے اور اس کے جواب میں لوگ اپنی عدالتیں بھی لگاتے رہیں گے۔

قارئین کرام!! اشوکا نے چند روزہ جنگ میں ایک شہر اجاڑ کر جو سبق سیکھ لیاتھا وہ سبق بالخصوص گزشتہ پندرہ برسوں سے ہمارے معاشرے کے انتہاپسند ، عسکریت پسند اور مقتدر طبقے نہیں سمجھ سکے۔ وہ سبق ڈیڑھ دہائی سے پاکستان میں انسانی لہواور انسانیت کے ”گرم تعاقب“ میں سرگرم انتہاپسند طبقات نے ساٹھ ہزار پاکستانیوں کی لاشوں کے پہاڑ پر کھڑے ہوکر بھی نہیں سیکھا۔کیا عسکریت پسندوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ایک لمحے کو رُک کر پیچھے دیکھے اور کہے ” یہ میں نے کیا کیا؟اگر یہ فتح ہے تو پھر شکست کیا ہوتی ہے؟یہ فتح ہے یا شکست ہے؟یہ انصاف ہے یا ظلم ہے؟یہ بہادری ہے یا بزدلانہ پسپائی ہے؟کیا ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں میں معصوم بچوں اور خواتین کو ہلاک کرنا بہادری ہے؟ کیا معصوم اور بے گناہ انسانوں کو زندہ جلانا دلیری ہے؟ ہم ساٹھ ہزار لاشوں کے ڈھیروں کو کیا کہیں؟ یہ فتح کی علامت ہیں یا شکست کی نشانی ہیں؟ کیا لاشوں پر منڈلاتے یہ گدھ، کوے اور چیلیں فاتح کی موت کی پیامبر تو نہیں ہیں“۔ افسوس پاکستان میں انسانیت کے قاتل تو ہزاروں ہیں، لیکن قاتلوں میںاشوکا ایک بھی نہیں ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.