.

پاک افغان تعلقات

اکرام سہگل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسٹ ویسٹ انسٹیٹیوٹ (ای ڈبلیو آئی) 1980ء میں امریکا میں قائم کیا گیا جس کے چیئرمین روز پیروٹ جونیئر تھے یہ غیر جانبدارانہ تنظیم ہے جس کے دفاتر نیویارک‘ برسلز‘ ماسکو اور واشنگٹن میں ہیں۔

اس کی ماضی کی کارکردگی نے اس کو ایک معتبر عالمی تنظیم کی حیثیت دے دی ہے جو امن و امان کے قیام اور اعتماد اور بھروسہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ ایک بہت باعث احترام تھنک ٹینک ہے جو کہ دنیا کو زیادہ پرامن جگہ بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور یہ ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے جن سے امن عالم اور استحکام کو خطرہ لاحق ہو۔

اسلام آباد میں بزنس لیڈرز کا ایک وفد پاتھ فائنڈر گروپ آف پاکستان کے تعاون سے ای ڈبلیو آئی کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے جس میں نجی شعبے کے نمایندوں کے علاوہ اراکین پارلیمنٹ اور متعلقہ علاقائی سرکاری اداروں کے افسران شرکت کر رہے ہیں اور افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کی مزید بہتری پر غورکر رہے ہیں۔ قبل ازیں اس عمل کو ابوظہبی پروسیس کا نام دیا گیا تھا جس کے فنڈ ایک وقت میں ابوظہبی نے دیے تاہم اب اسے حکومت جرمن کا اضافی تعاون بھی حاصل ہے۔

جس کا مقصد افغانستان میں اقتصادی ترقی کی کوششیں کرنا ہے تا کہ اس علاقے کے دیگر ملحقہ ممالک جن میں بھارت‘ پاکستان‘ ایران‘ ازبکستان‘ تاجکستان‘ کرغزستان‘ ترکمانستان اور چین شامل ہیں ان سب کی اقتصادیات کو بھی مدنظر رکھا جائے‘ متحدہ عرب امارات، امریکا اور یورپ اس عمل کے حامی ہیں جب کہ دیگر علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی اس حوالے سے تائید و حمایت کر رہی ہیں۔
ای ڈبلیو آئی کے علاقائی سیکیورٹی انیشی ایٹیو کے ڈائریکٹر اور نائب صدر سفیر مارٹن فلیسچر (Martin Fleischer) کا کہنا ہے کہ ’’افغانستان ری کانیکٹڈ پروسیس‘‘ کا انحصار اس اعتماد کی بنیاد پر ہے کہ افغانستان کی سلامتی اور اقتصادی ترقی ہر قسم کے دباؤ سے آزادانہ رہے۔ افغانستان کے مستقبل کا تعلق نہ صرف اس کی داخلی تبدیلی سے ہے بلکہ اس کے پڑوسی ملکوں میں ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا بھی اس پر گہرا اثر ہوتا ہے۔

اس بات کے لیے ضروری ہے کہ خطے کی اقتصادی ترقی کو ہر قسم کی رکاوٹوں سے پاک کر دیا جائے تا کہ افغانستان کے فائدے کے ساتھ ساتھ اس کے تمام پڑوسیوں کو بھی اس عمل سے استفادے کا موقع مل سکے۔ ای ڈبلیو آئی کا موجودہ اجلاس دراصل 2013,14ء میں ہونے والے بین الاقوامی مشاورتی اجلاسوں کا تسلسل ہے جس کا مقصد توانائی، تجارت، انفرااسٹرکچر وغیرہ کو بہتر بنانے پر توجہ دینا ہے۔

اس مقصد کی خاطر پورے خطے میں سڑکوں کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز بھی موجود ہے علاوہ ازیں فضا اور ریلوے کے ذریعے بھی خطے کے ممالک کو آپس میں منسلک کیا جائے گا تا کہ تجارت، توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں زیادہ ترقی کی جا سکے۔ ’’افغانستان ری کانیکٹڈ پروگرام‘‘ کا مقصد افغانستان کو پورے ایشیا کے لیے زمینی پل بنانے کی کوشش ہے۔

اس کا پہلا اجلاس 9-11 اپریل 2013ء میں استنبول میں ہوا جب کہ اس کے بعد دوسرا اجلاس 2 سے 4 ستمبر 2013ء تک اسلام آباد میں ہوا۔ جس میں خطے کی توانائی کی ضروریات کی کفالت کے ذرایع کا جائزہ لیا گیا تاہم مرکزی توجہ افغانستان پر مرکوز رہی تا کہ افغانستان محض ایک راہ داری کا ہی کام نہ دے بلکہ اپنے طور پر بھی توانائی پیدا کر سکے۔

19,20 نومبر 2013ء کو نئی دہلی میں تیسرا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں افغانستان کی سرمایہ کاری اور تزویراتی کراس روڈ لوکیشن پر غور کے علاوہ وہاں ایک قابل اعتماد مارکیٹ اکانومی کے قیام پر غور و خوض کیا گیا۔ اسی فورم کا چوتھا مشاورتی اجلاس 8,10 اپریل 2013ء میں جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہوا جس میں گزشتہ اجلاسوں کے نتیجے میں ہونے والی پیشرفت اور ترقی کا جائزہ لیا گیا جن کے اہداف 2014ء اور 2015ء تک حاصل کیے جانے تھے۔

استنبول کے اجلاس میں جو سفارشات پیش کی گئی تھیں (نومبر26 ,27۔2014 کو پانچواں مشاورتی اجلاس ہوا) نجی شعبے نے اس حوالے سے اپنی سفارشات پیش کیں۔ ای ڈبلیو آئی کے ممتاز بزنس لیڈرز، اراکین پارلیمنٹ، خطے کے اعلیٰ سرکاری حکام کے ساتھ تجارت کے فروغ کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔

استنبول میں ہونے والی کانفرنس بے حد اہم تھی جس میں استنبول کی کلیدی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا تھا، کانفرنس میں پیش کی جانے والی مختلف تجاویز میں یہ بات شامل تھی کہ علاقائی ملکوں میں ویزے کی پابندیاں نرم کی جائیں باالخصوص کاروباری افراد کو بآسانی ایک دوسرے کے ملک کا سفر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے نیز سرحد پار کاروباری زون کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا جہاں صارفین کو ایک ہی کھڑکی سے ان کے مطلوبہ سامان مل سکیں اور ان کے کسٹم کے اصول و ضوابط میں بھی باہمی طور پر ہم آہنگی ہو۔

ای ڈبلیو آئی کی تجویز-1 افغانستان میں تعمیر و ترقی اور اس کے پڑوسیوں کے ساتھ اس کے روابط -2 علاقائی اقتصادی سلامتی پر خصوصی توجہ -3 نجی شعبے کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے ٹرانزٹ پالیسی میں اصلاحات پر زور دیا گیا نیز سامان کی نقل و حمل کی سہولتیں بڑھانے کے علاوہ منشیات کی نقل و حرکت روکنے کے سخت انتظامات بھی ضروری قرار دیے گئے‘ توانائی کی تجارت کے لیے پن بجلی پیداواربڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا نیز اعتماد سازی کی خاطر بھی مختلف اقدامات تجویز کیے گئے۔

واضح رہے باہمی تجارت کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں جن میں انفرااسٹرکچر کی بھاری لاگت کے علاوہ مناسب قانونی اور ریگولیٹری نظام بھی موجود نہیں تجارتی پالیسیوں پر بعض خوا مخواہ کی پابندیاں بھی عائد ہیں نیز سرحدوں کا نظام بھی تسلی بخش نہیں ہے اس نظام کی شفافیت انتہائی مقدم ہے کیونکہ اوپر والی سطح پر کرپشن سے بہت نقصان ہو جاتا ہے اس کے لیے لازمی ہے کہ ٹریڈ فنانس بینکنگ اور انشورنس کا نظام شفاف اور آسان ہو۔ اگر ان رکاوٹوں اور چیلنجز پر قابو پا لیا جائے تو خطے کے لیے خوشحالی اور استحکام کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

اگر علاقائی اور ٹرانزٹ تجارت میں اضافہ کیا جائے تو اس سے نجی شعبے کی شمولیت میں بھی خود بخود اضافہ ہو گا جس سے آیندہ کچھ عرصے میں افغانستان مستحکم امن و امان کے ساتھ تجارت کا اہم مرکز بن جائے گا اور اس علاقے میں اقتصادی عدم استحکام کا خدشہ بھی ختم ہو جائے گا۔ طویل فاصلوں تک رسائی اور بین البراعظمی تجارت وسطی ایشیا کی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے کیونکہ یہ سارا علاقہ چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ہے۔

جن بندر گاہوں سے بھارت کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے ان بندر گاہوں کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرنا بہت ضروری ہے فی الوقت افغانستان کی تجارت صرف پاکستان کے راستے سے ہی ہوتی ہے جس کے لیے کراچی یا اس کے قریبی بندر گاہ پورٹ قاسم کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ان دونوں بندر گاہوں پر مجموعی طور پر صرف 40 برتھیں ہیں اور ان کو بھی پوری استعداد کے مطابق تجارت کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا۔ گوادر میں جو گہرے پانی کی نئی بندر گاہ بن رہی ہے اس سے وسطیٰ ایشیا کے لیے ٹرانزٹ کو ایک دم بہت فائدہ ملے گا۔ اس سے تو خطے کی پوری صورت حال ہی تبدیل ہو سکتی ہے لیکن اس کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولتیں رکھی جانی چاہئیں نیز ان بندر گاہوں کی گنجائش میں اور زیادہ اضافہ ناگزیر ہے۔

خطے کے امن و امان اور تعمیر و ترقی کے لیے لینڈ لاکڈ (خشکی سے گھرے) افغانستان کے لیے پاکستان کا تعاون بے حد ضروری ہے کیونکہ افغانستان کو پاکستان کے راستے ہی بحرہند کے گیٹ وے تک رسائی مل سکتی ہے جس کے بعد وہ دنیا میں دیگر ممالک سے رابطہ قائم کر سکتا ہے۔

اشرف غنی کا افغانستان کے صدر کی حیثیت سے انتخاب ایک بہت غیر معمولی کامیابی ہے۔ جس سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مستقبل کے بارے میں پرامید رہیں اور ماضی کی مشکلات کو دفن کر دیا جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.