.

روایتی سیاسی جماعتوں کو بقاء کا چیلنج

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آئین و قانون اور جمہوری کلچر سے بیزار ہماری قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں کے قائدین جس طرح اپنی اپنی جماعتوں کو چلاتے آرہے ہیں، اس نے نا صرف یہ کہ ملکی جمہوری عمل کے ارتقاء میں بے حد و حساب رکاوٹیں کھڑی کیں، احتساب کے عمل کو قائدین حکمرانوں کے لئے ممنوع بنادیا اور سیاسی جماعتوں میں عوامی و ملکی مفادات کی بجائے اقرباء پروری اور گروہی و جماعتی اغراض کے ناجائز حصول کی سوچ پیدا کی ۔ظالمانہ اور بیمار انتخابی عمل میں پارلیمانی قوت بننے والی ان سیاسی جماعتوں نے مطلوب حکومتی ڈسپلن کو اسی ماحول اور رویئے کے ساتھ برباد کرکے بدترین انداز حکمرانی کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال قائم کی۔ ان کو اس کی زیادہ سے زیادہ سزا یہ ملتی رہی کہ مکمل دیدہ دلیری سے کھل کھیلتے ہوئے جب ان کی حکومت ختم ہوجاتی تو حکومتی جماعتوں کے مالک(قائدین نہیں) احتساب سے بچ رہتے اور انہوں نے جو کچھ (جو بہت کچھ ہوتا) لوٹ کھسوٹ کی ہوتی اس سے حکمرانی کا وقفہ آنے پر یہ پر تعیش مدت کے لئے مختلف حیلے بہانوں سے پاکستان سے باہر جابستے ہیں۔ پیچھے پھر ان کے فقرے کارکن جمہوریت کی دہائی ڈالنے لگتے ہیں اور روشن مستقبل کی آس پر برسوں کے لئے ’’وفا کا پیکر‘‘اور’’حریت پسند‘‘ بن جاتے ہیں کہ برے وقت میں اجڑے بادشاہوں کو مظلوم ثابت کرنے کا کوئی بڑا انعام بحالی "جمہوریت" پر ملے گا لیکن یہ یقینی نہیں ہوتا کہ بڑا انعام ضرور ملے۔ وفا کے ساتھ اگر جمہوریت اور حریت کی ذرا برابر رمق بھی قربانی اور وفاداری ثابت کرنے والے کارکن میں ہو تو "جمہوریت" بحال ہونے پر وہ بڑی خوبصورتی اور طوطا چشمی سے کونے میں لگا دیا جاتا ہے۔ ہماری سیاست کے اسٹیٹس کو میں وفا کے کتنے ہی پیکر جان بھی ہار گئے کبھی دشمنان قائدین کے ہاتھوں اور کبھی قائدین یا بادشاہوں کے "مقدس احکامات" کے نتیجے میں ہماری پاپولر سیاسی جماعتوں کا یہ وہ نقش ہے جو اپنے تمام ترین اور عبرتناک حقائق کے ساتھ اب پارٹی کے ہر طرح کے کارکنوں پر ہی نہیں پوری قوم پر عیاں ہے۔ پاکستانی سیاسی منظر پر یہ سوال تغیر پذیر مطلع میں ہیں کہ کیا روایتی پارلیمانی قوتوں کے آمرانہ رنگ لئے قائدین اور شاہی جمہوریت کے علمبردار خاندانوں کے احتساب کا وقت آگیا ہے کہ وہ پارٹی قائدین سے ’’بادشاہ‘‘ کیسے بنے؟اگر جواب عوامی اور ملکی مفاد سے متصادم ہے تو کوئی سزا ہوگی؟ یا روایتی سیاست کا کارآمد ہتھیار’’مک مکا‘‘ پھر کام دکھا جائے گا؟ تبدیل ہوتے سیاسی منظر کا دلچسپ ترین اور ناقابل یقین پہلو یہ ہے کہ اگر بدترین انداز سیاست و حکومت کی محدود سزا فقط حکومت گنوانے (لیکن احتساب سے بچ رہنے) سے آگے بڑھ کر مطلوب احتساب تک بڑھ جاتی ہے، تو اس انقلاب کی محرک اسٹیٹس کو کی ہی نیک کار قوت اور اسی کی کوکھ سے جنم لینے والی کوئی شریفانہ قوت ہوگی جو بڑے سے بڑے زبان زد عام وائٹ کالر جرائم کی تختی گلے میں لٹکائے دہشت گردی کے قلع قمع کے لئے سرگرم عمل ہے۔’’فوکس ڈیمانڈ سیکری فائز‘‘ ’’انہماک قربانی مانگتا ہے‘‘ اور انہماک دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر ہے(سانحہ ماڈل ٹائون کو وقت میں لپیٹ دیا جائے تو) جس کا کوئی الزام بہرحال ان پر عائد نہیں ہوتا ۔ سردست نیک کاروں سمیت پوری قوم کو حتیٰ کہ اسٹیٹس کو کے بڑے بڑے عاقل اور بالغوں کو بھی ،بدترین گورننس ،آئین و قانون سے بے وفائی اور قومی خزانے کی بدترین لوٹ مار اور اس کے شرمناک ریکارڈ کے ساتھ ہی دہشت گردی کے بیخ کنی پر ہی نظر رکھنی ہے جو اس الزام میں لتھڑا پڑا ہے، وہ بھی جان چھڑانے کی متمنی ہے تو اپنے فوکس کارخ دفاع کی بجائے اعتراف کی طرف موڑ دے تو ملک ،قوم اپنا اور آنے والی نسلوں کا بھلا ہوجائے گا۔

سوال بہت اہم حساس اور غور طلب ہیں کہ وحشت اور دہشت کا ریکارڈ رکھنے والوں کے بے رحمانہ احتساب کو قومی سیاست کے کل گند کی صفائی کا آغاز بنادیا جائے؟ یا اعتراف اور دستبرداری کی طاقت سے پاکستان کی کل سیاست کو راہ راست پر لایا جائے۔ پاکستان کی سلامتی کی ضروریات تو ناقابل بحث ہیں کہ ہمسایے میں مذہبی بنیاد پرستی کا غلبہ بذریعہ انتخاب ہوا ہے اور بھارت کے چہرے سے نقاب اٹھا کر نہیں، سینہ کھول کر پاکستان کی جانب اپنے دل بڑھانے والوں کے سامنے آنے کے بعد ہم نے اس سوال کا جو اب، بہرحال حاصل کرنا ہے کہ ہمیں اپنی چھائونیوں کو اسلحے سے لیس کرنا ہے؟ یا نہیں اور کیا شہروں کے اسلحے سے لیس ہونا ہمیں ایسا کرنے دے گا۔ کیا ہم نے اپنے شہروں کو سیاسی جماعتوں کی چھائونیاں نہیں بنایا؟ یہ ہوا تو قبائلی علاقے بھڑکے ہوئے فلیش پوائنٹ بن گئے اور پہلی بار ہماری مغربی اور جنوب مغربی سرحدیں بھی منیج کرنے کا سوال پیدا ہوا۔سوال یہ ہے کہ ہمارے شہروں کو سیاسی جماعتوں کی چھائونیاں کس نے یا کس کس نے بنایا؟ جن کا ہدف عوام بنے، قتل و غارت، لوٹ مار، بھتہ و اغوا کی صورت میں۔

نوشتہ دیوار پر جو لکھا ہے، اسے پڑھنے کے لئے خواندگی کی ضرورت بھی نہیں۔ وہ کچھ ہورہا ہے جو کبھی نہیں ہوا۔ اسٹیٹس کو کی قوتیں اصلی جمہوریت نہ سہی، وحشت اور دہشت سے نجات پر تو متفق ہیں۔ کیا نجات کے بعد معاملہ یہیں تک محدود رہے گا۔ سزا یا دست برداری؟ بلا امتیاز تمام ملکی سیاسی جماعتوں کے لئے راستے کے انتخاب کا وقت آگیا۔ دستبرداری کی شکل جنگی بنیاد پر آئین و قانون کی مکمل حکمرانی کی راہ اختیار کرنا ہے اور سزا، پہلی ترجیح بنیاد پر یقیناً سیاسی چھائونی بنائے گئے شہروں کو شہر بنانے سے شروع ہوگی اور جنہوں نے اپنی جماعتوں میں عسکری ونگ بنائے ، اسلحہ جمع کیا ،کارکنوں کو کرایے کا بھی نہیں، بس قاتل بنایا۔ راستہ کوئی بھی اختیار کیا جائے امن اولین شرط ہے، اگر وحشت اور دہشت کو ملک کی ہر سرگرمی پر حاوی کرنے کا محاسبہ ہوسکتا ہے تو دوسرے رائونڈ میں ملک کے وسائل اور خزانے کی لوٹ مار سے جمہوری بادشاہ بننے و الوں کا کیا مشکل۔ میڈیا سے نشر اور شائع ہونے والا’’انتباہ‘‘ کا ایجنڈا انہونیوں کا تیزی سے ہونا، یہ پیغام نہیں دے رہا کہ مسعود محمود، صولت مرزا، بلوچ اور گلو بٹوں والی جماعتیں اپنے موجودہ روایتی رویوں کے ساتھ زندہ نہ رہ سکیں گی۔

قائدین سیاست کے احکامات پر مختلف درجے کے قانون کو ملیا میٹ کردینے والے کارکن ہوش میں نہ آئے، ان کے قائدین میں اعتراف اور دستبرداری کی صلاحیت یکسر ختم ہوگئی، جس کے ہونے کا ثبوت آئینی و قانونی راہ اختیار کرنے سے ہی دیا جائے گا، تو روایتی سیاسی جماعت کسی بھی روپ میں ہے جعلی، جمہوریت جو دہشت اور وحشت ، لوٹ ماراور بدمست حکمرانی کی ڈھال ہے، اب ان کا دفاع کرسکے گی۔ کوئی پولیٹکل پارٹی ایکٹ ان کی اصلاح کے لئے ہے یا نہیں، سیاسی جماعتوں کو راہ راست پر لانے کے لئے قانون سازی ہوتی ہے یا نہیں۔ یہ سیاسی جماعتیں اب اپنے اسلحے، اپنے حربوں، اپنے انتخابی ٹکٹیں خریدنے والے ارب پتی درباریوں، کھوکھلے وکلاء ،پھانسیوں تک پہنچ جانے والے کارکنوں کی وفا کے سہارے زندہ نہ رہ سکیں گی، یہ بھی واضح نہیں کہ دستبرداری اور خود احتسابی اور اصلاح کا موقع اب ہے بھی کہ نہیں؟ ان کی بقاء کا چیلنج البتہ واضح ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.