.

مس گائیڈڈ جذبے

حسن نثار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہماری اجتماعی زندگی میں تین چیزوں کی فراوانی ہے اور جتنی بے نیازی اور بے رحمی کے ساتھ یہ تین بیش قیمت اثاثے لٹائے جاتے ہیں، اس کی مثال بھی شاید کوئی اور معاشرہ پیش نہ کر سکے۔ بچپن سے ہی یہ تینوں میرے دل و دماغ پر نقش ہیں۔

اول:’’جوش و خروش‘‘
دوم:’’عقیدت و احترام‘‘
سوم:’’غم و غصہ‘‘

ہم ان تین کا ہی صحیح استعمال سیکھ لیتے تو اس حال کو نہ پہنچتے کہ نہ باگ ہاتھ میں نہ پائوں رکاب میں اور گھوڑا ایسا بگڑا اور اتھرایا ہوا کہ ٹانگوں میں سے نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پہاڑوں سے ساحلوں تک سب کچھ رکا ہوا۔۔۔ صرف سنسنی سفر میں ہے لیکن ہم ’’شرلی‘‘ کی طرح ’’بی ہیو‘‘ کرنے سے باز نہیں آتے۔ شوں شوں کرتے اوپر جیسے آسمان میں سوراخ کئے بغیر واپس نہ آئیں گے اور پھر ٹھس کر کے نیچے جیسے درمیان میں کہیں پڑائو حرام ہو۔ ایک انتہاء یا دوسری، اعتدال سے اس طرح بچتے ہیں جیسے اک زمانے میں لوگ کوڑھیوں سے بچتے تھے۔

کرکٹ ہی دیکھ لیں۔ ’’جوش میں ہے جہاں‘‘ نے کان کھا رکھے تھے۔ ابتداء میں ٹیم کی کارکردگی ڈھیلی دکھائی دی تو صف ماتم اور چشم زدن میں شاہین۔۔۔ کوے قرار دے دیئے گئے اور پھر جونہی ذرا سنبھلے تو پھر رزمیہ شاعری شروع اور اب آسٹریلیا سے شکست کھا کر ٹیم ورلڈ کپ سے باہر ہوئی تو ایک بار پھر ہر تمتماتا ہوا چہرہ لمحہ بھر میں لٹک کر ناف تک۔۔۔ ذرا مختلف اخباروں کی سرخیاں ملاحظہ فرمائیں۔

’’آسٹریلیا سے شکست۔ پاکستان ورلڈ کپ سے باہر۔ شائقین برہم ٹی وی توڑ ڈالے، علامتی جنازے، خواتین نے کھلاڑیوں کو چوڑیاں پیش کر دیں۔‘‘

’’بلے بازوں کی غلطیاں، فیلڈروں کی نادانی، پاکستان ٹیم کی ختم ہوئی کوارٹر فائنل میں کہانی‘‘
’’گرین شرٹس کی شرمناک شکست پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ‘‘
’’آسٹریلیا سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔ شائقین مایوس۔ ٹی وی توڑ دیئے، علامتی جنازے‘‘
’’کرکٹ ورلڈ کپ، پاکستان کا سفر ختم شاہین لمبی اڑان نہ بھر سکے۔‘‘

ایک اخبار میں ایڈیلیڈ کی تصویر ہے جس میں ایک خاتون ’’پھوڑی‘‘ پر بیٹھی محسوس ہوتی ہے اور نیچے کیپشن ہے ’’پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر ایک خاتون پریشان بیٹھی ہے۔''

سابق آقائوں کا یہ چند ملکوں تک محدود کھیل ہمارے لئے زندگی موت کا مسئلہ کیوں بن جاتا ہے؟ کھیل کے موجد برطانوی کب کے فارغ لیکن مجھے یقین ہے کہ انگلینڈ میں بھی اس طرح سوگ نہیں منایا گیا جبکہ یہاں سیاپے کی نائینوںکے نوحے نجانے کب تک جاری رہیں گے حالانکہ اس معاشرہ میں تو ’’مقامات آہ و فغاں‘‘ بالکل ہی مختلف ہیں۔ آج کا ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش انگریز کی کالونی اور اس کا محکوم نہ رہا ہوتا تو جہاں اور بہت کچھ نہ ہوتا، یہ کم بخت کرکٹ بھی نہ ہوتی تو بھلا کون سی قیامت آ جاتی؟ پلیز! ٹیک اٹ ایزی اور کبھی نہ بھولنے والی بات یہ ہے کہ ’’جوش و خروش‘‘ اور ’’غم و غصہ‘‘ بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت کرنی چاہئے، انہیں سنبھال کر رکھنا چاہئے اور انہیں تعمیری اور تخلیقی سرگرمیوں کے لئے وقف کرنا چاہئے کہ یہ سب ’’انرجی‘‘ کی ہی مختلف شکلیں اور قسمیں ہیں۔ انہیں اس طرح ضائع کرنا تقریباً ایسا ہی ہے جیسے سنٹرلی ایئر کنڈیشنڈ عمارت کا مالک پلانٹ چلا کر خالی عمارت کو تالے لگا دے یا کوئی گیرج میں کھڑی گاڑی سٹارٹ کر کے خود سائیکل پر سوار ہو کر آفس روانہ ہو جائے۔

یہی حال ’’عقیدت و احترام‘‘ کا بھی ہے مثلاً ہم بہت سے ایام دھوم دھام سے مناتے ہیں لیکن سب بے روح بے نتیجہ اور بے مغز مثلاً بابائے قوم کا یوم پیدائش یا یوم وفات ’’عقیدت و احترام‘‘ سے منایا جاتا ہے لیکن ان کے صرف دو اقوال پر تو 67سال سے عمل نہیں ہوا حالانکہ وہ سو فیصد غیر متنازعہ ہیں۔

’’یونٹی۔۔۔ فیتھ۔۔۔ ڈسپلن‘‘
’’کام۔۔۔ کام اور صرف کام‘‘
نہ اتحاد نہ ایمان نہ تنظیم

رہ گیا کام تو اس کا فیصلہ آپ خود کر لیں اور پھر دیانتداری سے سوچیں کہ خالی خولی عقیدت و احترام کس کام کا؟

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.