.

کیا یہ فرقہ ورانہ دہشت گردی نہیں؟

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کئی عشروں سے بانی ِ پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناحؒ اپنے مرقد میں بے چینی سے کروٹیں بدل رہے ہوں گے۔ قائد نے عمر بھر انڈیا میں مسلم اقلیت کے حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد کی جو آخر کار مسلمانان ِ بر ِصغیر کے لئے ایک الگ ریاست، پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی۔ نوزائیدہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے غیر مسلم اقلیتوں سے ان کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اب وہ بھی اس ریاست میں مسلمانوں کے مساوی شہری ہوں گے اور ریاست کو ان کے عقائد سے کوئی تغرض نہ ہوگا۔

بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ یہاں اسلام کے سنہری اصولوں ، جو اس نئی ریاست میں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے ضروری تھے،کو مذہب کے نام نہاد ٹھیکے داروں نے مسخ کردیااور ریاست کی عملداری کو کمزور کرتے ہوئے شہریوں، خاص طور پر اقلیتوں ، کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ لاہور میں یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں میں ہونے والے بم دھماکوں میں پندرہ سے زائد افراد کی ہلاکت اُس مہم کا حصہ ہے جس کے تحت مذہبی انتہا پسند اہل ِ تشیع، ہزارہ برادری، احمدیوں، ہندووں اور مسیحی بھائیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ حملے صریحاً فرقہ وارانہ بنیادوں پر کیے جاتے ہیں۔ 2012-14 کے دوران اہل تشیع پر 108 حملے ہوئے۔ ان حملوں میں 736 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ اس دوران ہندوئو ں پر چودہ حملے (دوہلاکتیں)، مسیحی آبادی پر 54 حملے (135ہلاکتیں)، احمدیوں پر پچاس حملے(27 ہلاکتیں) دیکھنے میں آئے۔ 1989 سے لے کر 2015 تک فرقہ واریت کی بنیاد پر 2979 حملے ہوئے۔ ان حملوں میں 5059افراد ہلاک جبکہ 9713 افراد زخمی ہوئے۔ ان حملوں کی ذمہ داری مختلف انتہاپسند گروہوں، جیسا کہ طالبان اور لشکرِ جھنگوی پر عائد ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ اور ریاستی اداروں نے ان حملوں سے اغماض برتتے ہوئے اقلیتوں کو نشانہ بنانے والوں کا ہاتھ نہ روکا۔

آج بھی یہ بات ناممکن دکھائی دیتی ہے کہ حکومت اور ریاست انتہا پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہوئے انسانیت کے خلاف گھنائونے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں اور ان کے سرپرستوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست کے مختلف اداروں، جیسا کہ پولیس، عدلیہ، بیوروکریسی اور سول سوسائٹی کے درمیان ایک طرح کا نادیدہ معاہدہ موجود ہو کہ اس اسلامی جمہوریہ کو تمام’’ناپسندیدہ عناصر ‘‘سے پاک کرنا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ انسداد ِ دہشت گردی ایکٹ ہر اُس مجرم کو دہشت گرد قرار دیتا ہے جو مذہبی بنیادوں پر قتل کرتا ہے۔ اس ایکٹ کے مطابق… ’’ مذہبی، مسلکی اور نسلی بنیادوں پر تشدد کرنا اور خوف پھیلانا دہشت گردی کہلاتا ہے۔‘‘

ریاست کی طرف سے اس اغماض کی پالیسی کی ایک جھلک اسلام آبادہائی کورٹ کے ایک فیصلے میں بھی دکھائی دی جس نے سب کو حیران کردیا۔ عدالت کے مطابق پنجاب کے سابق گورنر کا قاتل، ممتاز قادری دہشت گرد نہیں ۔ یہ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے یقینا انسداد ِ دہشت ِ گردی ایکٹ کے مندرجات کو نظر انداز کیا تھا۔ یہ بات بھی ناقابل ِ فہم ہے کہ فاضل جج صاحبان نے کس طرح نتیجہ نکالا کہ دن دیہاڑے ، ایک عوامی مقام پر ایک گورنر کو گولیوں سے چھلنی کردینے سے عوام میں دہشت نہیں پھیلی حالانکہ قاتل نے برملا کہا تھا کہ سلمان تاثیر کے نظریات سے ہمددری یا وابستگی رکھنے والوں کو بھی اسی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ کیا اسے دہشت زدہ کرنا نہیں کہتے؟ مسٹر تاثیر نے کوئی توہین نہیں کی تھی، لیکن اُنہیں صرف اس لئے گولی مار کر ہلاک کیاگیا تھا کہ اُنھوں نے ایک غریب عیسائی عورت کو توہین کے الزام میں ملنے والی سزا پر تبصرہ کیا۔

اب تک نواز شریف کی حکومت بھی پی پی پی حکومت کی طرح اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہوگئی ہے۔ بے شک ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ پر بھی انتہا پسندوں کی حمایت اور سرپرستی کرنے کا الزام رہا ہے کیونکہ اسے کشمیر اور افغانستان میں جہاد کے لئے ان کی ضرورت تھی۔ تاہم جنرل راحیل شریف صاحب کی قیادت میںفوج اُن انتہا پسندوں سے دودو ہاتھ کررہی ہے جو پر تشدد کارروائیاں کرتے ہوئے ریاست کوشدید نقصان پہنچا رہے تھے۔ آج چاہے دہشت گرد فاٹا کے اسلام پسند ہوں یا کراچی کے سیکولر، ان سب سے آہنی ہاتھوںسے نمٹا جارہا ہے۔ چنانچہ آج جنرل صاحب سے استدعاہے وہ اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے ان انتہا پسندوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کریں جو اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ جب یہ اقلیتیں اس ریاست میں امن سے زندگی گزار سکیں گی اور جب یہاں سے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ ہوجائے گا تو ہی قائد ِ اعظم محمدعلی جناح ؒ کی روح کو سکون ملے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.