.

یوم پاکستان پر ایک گستاخانہ سوال

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قائد اعظم ؒ یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک استاد مجھے یونیورسٹی کی حدود کے اندر قائم ہونے والی ناجائز تجاوزات دکھا رہے تھے۔ ناجائز قابضین نے بانی پاکستان کے نام پر قائم ہونے والی اس درسگاہ کے اندر ناصرف پکے مکانات بنا لئے ہیں بلکہ یونیورسٹی کو فراہم کی جانے والی بجلی کے کھمبوں پر کنڈے ڈال کر ناجائز کنکشن بھی حاصل کر لئے ہیں۔ میں نے اس کھلم کھلا لا قانونیت کو دیکھ کر استاد سے پوچھا کہ پرائم منسٹر ہائوس اور پریذیڈنٹ ہائوس کے پچھواڑے میں واقع اس یونیورسٹی کی زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف پولیس حرکت میں کیوں نہیں آتی؟ استاد نے مایوسی بھرے لہجے میں کہا کہ پولیس کو کئی مرتبہ شکایت کی لیکن علاقے کے سیاستدان ووٹوں کے چکر میں ناجائز قابضین کے خلاف کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ایک مقامی سیاستدان نے قائد اعظمؒ یونیورسٹی کی اڑھائی سو ایکڑ زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس سیاستدان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے لیکن پولیس ان صاحب کے خلاف کارروائی سے بھی کتراتی ہے۔ ایک اور استاد فرمانے لگے کہ آج کل وزیر اعظم نواز شریف کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن میں کامیابیوں کا ذکر بڑے فخر سے کر رہے ہیں ان سے کہیے کہ اپنے دفتر سے صرف چند کلو میٹر دور ایک علمی درسگاہ کو لینڈ مافیا آہستہ آہستہ نگل رہی ہے ذرا اس مافیا کی طرف بھی توجہ کریں۔ اساتذہ کی جلی کٹی باتیں سنتے سنتے مجھے کچھ بلوچ طلبہ نے گھیر لیا۔ ایک طالب علم نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے سمارٹ فون پر مجھے ایک ٹویٹ دکھائی اور پوچھا کہ سوشل میڈیا پر بلوچ علیحدگی پسند آپ کو پاکستان کا حامی قرار دیتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ محبت کا دم بھرنے والے کچھ لوگ آپ کو پاکستان کا غدار کہتے ہیں آپ کے بارے میں اتنی متضاد آراء کیوں پائی جاتی ہیں؟ میرے پاس اس سوال کا تفصیلی جواب دینے کے لئے وقت نہیں تھا۔ میں نے ان طالب علموں سے کہا کہ جنرل ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناحؒ پر غداری کا الزام لگا دیا تھا میں تو بہت چھوٹا آدمی ہوں اگر مجھے کوئی غدار قرار دیتا ہے تو اس کی مرضی لیکن پاکستانیوں کی اکثریت مجھ سے محبت کرتی ہے جس نے مجھے غدار ثابت کرنا ہے ثبوت لے کر عدالت جائے آپ لوگ ان باتوں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ یہ کہہ کر میں آگے بڑھ گیا لیکن بلوچ نوجوان اصرار سے پوچھنے لگے کہ فاطمہ جناحؒ کو کب غدار قرار دیا گیا؟ میں نے بتایا کہ جنوری 1964ء میں ایوب خان نے قائد اعظمؒ کی بہن کو ایک انٹرویو میں بھارتی اور امریکی ایجنٹ قرار دیا تھا اور ایک امریکی جریدے میں شائع ہونے والا یہ انٹرویو میرے پاس محفوظ ہے۔ اب طلبہ و طالبات کا ایک ہجوم میرے اردگرد اکٹھا ہو چکا تھا۔ ایک نوجوان نے اپنےا سمارٹ فون کی اسکرین اوپن کی اور کہا کہ اس ٹویٹ کو ضرور پڑھ لیں۔ یہ نائلہ قادری بلوچ کی ٹویٹ تھی انہوں نے لکھا تھا کہ حامد میر بلوچوں کے ساتھ ناانصافی کی مذمت کر کے دراصل پاکستان بچانا چاہتا ہے۔ حامد میر کے باپ نے بنگالیوں کے ساتھ ناانصافیوں کی مذمت کر کے پاکستان بچانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا حامد میر بھی اپنے باپ کی طرح ناکام رہے گا۔ یہ ٹویٹ دکھانے والے نوجوان نے کہا کہ نائلہ قادری بلوچ ہمارے صوبے کے قوم پرست حلقوں کا ایک محترم نام ہے اور ہم آپ کا بھی احترام کرتے ہیں تو نائلہ بی بی آپ پر تنقید کیوں کر رہی ہیں؟ میں نے اس نوجوان کو بتایا کہ نائلہ قادری بلوچ مجھے اور میرے خاندان کو بہت اچھی طرح جانتی ہیں شاید اسی لئے اُنہیں یہ یقین ہے کہ میں پاکستان بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہ کہہ کر میں اپنی گاڑی میں سوار ہو گیا۔ قائد اعظم یونیورسٹی سے نکل کر ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف آیا تو سڑکوں پر فوجی جوان نظر آ رہے تھے۔ یوم پاکستان کی پریڈ کیلئے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ میں شاہراہِ جمہوریت سے گزر کر فضل الحق روڈ پر آیا تو میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا پاکستان کی نئی نسل جانتی ہے کہ فضل الحق کون تھے؟ یہ وہی فضل الحق تھے جنہوں نے 1937ء کے انتخابات میں متحدہ بنگال میں کانگریس کی اکثریت کے باوجود مسلم لیگ کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنا لی تھی۔

فضل الحق کی کرشک پرجا پارٹی کو 250 کے ایوان میں 40اور مسلم لیگ کو 39 نشستیں ملی تھیں جبکہ کانگریس کی نشستیں 54تھیں لیکن فضل الحق نے نیچی ذات کے ہندوئوں اور کچھ آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت بنا لی جس میں خواجہ ناظم الدین اور حسین شہید سہروردی مسلم لیگ کے نمائندے تھے۔ بعدازاں فضل الحق مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ 23مارچ 1940ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 27ویں سالانہ اجلاس میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کی قرارداد عبدالقاسم فضل الحق نے پیش کی۔ اس قرارداد میں کہیں بھی پاکستان کا لفظ موجود نہ تھا لیکن اس قرارداد کو بیگم محمد علی جوہر نے اپنی تقریر میں قرارداد پاکستان قرار دیا۔ بیگم محمد علی جوہر کا اصل نام امجدی بانو تھا اور انہوں نے اپنی ساس بی اماں کے ساتھ مل کر تحریک آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔ مسلم لیگ نے 1938ء میں پہلی دفعہ شعبہ خواتین بنایا تو امجدی بانو اس کی پہلی صدر تھیں۔ 1946ء کے عام انتخابات میں وہ یوپی کے ایک حلقے سے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر اسمبلی کی رکن بن گئیں لیکن قیام پاکستان سے چند ماہ قبل 28مارچ 1947ء کو انتقال کر گئیں۔ افسوس کہ 23مارچ کے جلسے میں فضل الحق کی پیش کردہ قرارداد کو قرارداد پاکستان کہنے والی امجدی بانو سے پاکستان کی نئی نسل کو کوئی آشنائی نہیں اور جس شخص نے یہ قرارداد پیش کی اسے قیام پاکستان کے چند سال کے بعد 1954ء میں غدار قرار دے دیا گیا۔ غداری کا الزام صرف عبدالقاسم فضل الحق پر نہیں لگا بلکہ 1946ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ دہلی میں بنگال کو پاکستان میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کرنے والے حسین شہید سہروردی کو بھی غدار قرار دیا گیا۔ اسلام آباد میں ایک اور شاہراہ کا نام حسین شہید سہروردی روڈ ہے۔ حسین شہید سہروردی کو جنرل ایوب خان کے حکم پر 1962ء میں گرفتار کر کے کراچی کی سینٹرل جیل میں بند کر دیا گیا۔ حسین شہید سہروردی پر پاکستان مخالف عناصر کے ساتھ روابط کا الزام لگایا گیا اور ایوب خان نے اپنے ایک بیان میں انہیں غدار قرار دیا۔ سہروردی نے کراچی کی سینٹرل جیل سے ایوب خان کو ایک خط لکھا اور کہا کہ میں وہی ہوں جس نے بنگال کو پاکستان میں شامل کرایا اور آپ مجھے غدار قرار دے رہے ہیں۔ بعد ازاں غداروں کی اس فہرست میں محترمہ فاطمہ جناحؒ کو بھی شامل کر لیا گیا اور پھر یہ فہرست لمبی ہوتی گئی۔ 1998ء میں اس فہرست میں پروفیسر نائلہ قادری بلوچ بھی شامل ہو گئیں۔ انہوں نے بلوچستان کی سرزمین پر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر ایٹمی دھماکوں پر تنقید کی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان اختر مینگل کو حکومت سے اور پروفیسر نائلہ قادری بلوچ کو بلوچستان یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ انکے خاوند مصطفیٰ رئیسانی بھی سرکاری ملازمت سے فارغ ہو گئے۔ نائلہ قادری بلوچ نے اپنی تعلیم پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مکمل کی تھی اور 1989ء میں پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے الیکشن میں پی ایس ایف کی طرف سے حصہ بھی لیا۔ ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد وہ سیاست میں آ گئیں۔ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد انہوں نے بی این پی کو چھوڑ کر بلوچ ری پبلکن پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور جب 2009ء میں ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالا گیا تو وہ روپوش ہو گئیں۔ اور اب بیرون ملک میں ورلڈ بلوچ ویمن فورم کے پلیٹ فارم سے سرگرم عمل ہیں۔ 1989ء میں نائلہ قادری بلوچ پنجاب یونیورسٹی میں ’’لٹل بے نظیر‘‘ کہلاتی تھیں آج ریاستی ادارے انہیں غدار اور دہشت گرد کہتے ہیں لیکن نائلہ قادری بلوچ مجھے اپنا ساتھی نہیں سمجھتیں انہیں یقین ہے کہ میں پاکستان بچانا چاہتا ہوں۔ گزارش یہ ہے کہ 23مارچ کو پریڈ ضرور کریں، ملی نغمے بھی گائیں لیکن یہ بھی تو بتائیں کہ فضل الحق سے سہروردی تک اور محترمہ فاطمہ جناحؒ سے نائلہ قادری بلوچ تک سینکڑوں ہزاروں اور لاکھوں غدار کس نے پیدا کئے؟ بلوچستان کے موجودہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی کچھ سال پہلے دہشت گرد اور غدار تھے۔ آج وہ محب وطن ہیں اور نائلہ قادری بلوچ غدار ہے۔ محب وطن گھرانوں میں پیدا ہونے والوں کو غدار اور غداروں کو محب وطن کون بناتا ہے؟ کیا یوم پاکستان پر اس سوال کا جواب تلاش کیا جانا چاہئے یا نہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.