.

جھوٹ بولنے والوں کے لئے ایک لاجواب نسخہ!…

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جھوٹ کا بوجھ بہت زیادہ ہوتا ہے، چنانچہ اگر کسی نے بولنا ہی ہو تو اتنا بولے جتنا بوجھ وہ ’’سہار‘‘ سکتا ہو۔ مسلسل جھوٹ بولنے والا اپنے ہی جال میں پھنس کر رہ جاتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب اس نے مختلف افراد کے سامنے ایک ہی معاملے میں مختلف جھوٹ بولا ہو۔’’دروغ گو کا حافظہ نبا شد‘‘ کے مصداق ایسے شخص کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے اور وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے اس معاملے کے حوالے سے پہلے کیا کہا تھا اور اسی حوالے سے وہ اب کیا کہہ رہا ہے، چنانچہ یہ’’صیاد‘‘ اپنے ہی جال میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور یوں متعلقہ شخص کی نظروں میں بے اعتبار ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد صورتحال یہ ہوتی ہے کہ وہ اگر زندگی میں کسی مرحلے پر سچ بھی بول رہا ہو تو اس کی بات کا یقین کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

جھوٹ بولنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو عادتاً بے ضرر سا جھوٹ بولتے ہیں اور دوسرے ضرورتاً۔عادتاً جھوٹ بولنے والوں میں ایک علامہ صاحب اور ایک’’وکیل، سیاستدان‘‘ بہت شہرت رکھتے تھےحتیٰ کہ ان سے اگر پوچھا جاتاکہ آپ کہاں جارہے ہیں تو اگر انہوں نے موچی دروازہ جانا ہوتا تو کہتے نسبت روڈ جارہا ہوں ۔اس بے ضرر سے جھوٹ پر یار لوگ دل ہی میں ہنس کر رہ جاتے تھے۔ میرے ایک رائٹر دوست بھی اس’’فن‘‘ میں ’’یدطولیٰ‘‘ رکھتے تھے۔ اس نوعیت کے جھوٹ بول بول کر ان کی تو کمر دہری ہوگئی تھی۔ وہ مٹھی میں دبائے ہوئے سگریٹ کے کش پر کش اور آنکھیں میچ کر بے تکان جھوٹ بولتے چلے جاتے۔ مجھے یاد آیا جھوٹ بولنےوالوں کی ایک قسم اپنی ناآسودہ خواہشات کو جھوٹ کے ذریعے پورا کرنے والوں کی بھی ہے۔ یہ بے حد معصوم اور قابل محبت لوگ ہیں۔ ایک بہت بڑے غزل گو شاعر، جو میرے محبوب ترین شعراء میں سے ہیں اس معاملے میں کمال دکھاتے تھے۔

ایک دن کہنے لگے ’’میں راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا تھا اور فکرسخن میں مشغول تھا کہ مجھے شک گزار جیسے دروازہ کھلا ہے اور کوئی اندر آیا ہے، مگر میں اپنی سوچ میں اتنا متغرق تھا کہ میں نے دھیان نہیں دیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد میں نے یونہی آنکھ اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ فیلڈ مارشل صدر ایوب خاں میرے سامنے والی کرسی پر تشریف فرماہیں۔ میں نے انہیں مخاطب کیا اور پوچھا کہ صدر عالی مقام آپ کب تشریف لائے؟‘‘ انہوں نے فرمایا’’میں کافی دیر سے آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہوں، آپ فکرسخن میں مشغول تھے۔ اس لئے میں نے آپ کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا اور انتظار کرتا رہا کہ آپ کب توجہ فرماتے ہیں؟‘‘۔ ایک دن میرے یہ محبوب شاعر اپنی جوانی کا ایک قصہ سنا رہے تھے جس کے مطا بق وہ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لئے سفیدگھوڑے پر بیٹھ کر اس کی طرف گئے۔ وہ اپنے گھر کی دوسری منزل پر میرا انتظار کررہی تھی۔ میں نے کمند پھینکی اور جونہی اس کے ذریعے محبوبہ کے کمرے میں داخل ہوا اس کا بھائی آگیا۔ میں نے وہیں کھڑکی سے چھلانگ لگائی اور سیدھا گھوڑے کی پیٹھ پر …… اس طرح ایک دن فرمارہے تھے کہ میرا ایک دوست مجھے اپنی جیپ پر میرے گھر چھوڑنے جارہا تھا جب میرے گھر قریب پہنچا تو ’’گھوڑابدک گیا‘‘ اور یوں انہیں یاد ہی نہ رہا کہ انہوں نے اپنا سفر تانگے سے نہیں ،جیپ سے آغاز کیا تھا۔

اور اب آخر میں ضرورتاً جھوٹ بولنے والوں کا’’ذکر خیر‘‘ …… ایک جھوٹ وہ ہے جس کی اجازت شیخ سعدی نے بھی دی ہے جس کے مطابق فساد پیدا کرنے والے سچ سے امن قائم کرنے والا جھوٹ بہتر ہے، چنانچہ یہ جھوٹ اگر’’حلال‘‘ نہیں، تو’’مباح‘‘ ضرور ہے مگر جس جھوٹ کا ذکر میں کرنے جارہا ہوں وہ کسی دوسرے کے لئے نہیں، خود جھوٹ بولنے والے کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔ یہ جھوٹ اس وقت بولا جاتا ہے جب تعلقات میں خلوص نہ ہو اور دوسرے کو یقین دلانا مقصود ہو، مگر اس میں پرابلم وہی ہےجو میں کام کے آغاز میں بتا چکا ہوں اور وہ یہی کہ ایک آدھ بار تو انسان سمجھتا ہے کہ شاید دوسرا صحیح ہی کہہ رہا ہو مگر تواتر سے بولا جانے والا جھوٹ اپنے منفی اثرات چھوڑنا شروع کردیتا ہے اور پھر دروغ گو کی کسی بھی بات پر یقین کرنا ناممکن ہوجاتا ہے جبکہ وہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اس پر یقین کیا جارہا ہے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب تواتر سے جھوٹ بولنے والا اپنے جھوٹ کو سچ سمجھنے لگتا ہے اور یہ اس کی زندگی کا سب سے خطرناک لمحہ ہوتا ہے۔

ایسے شخص کو یا تو اپنے جھوٹ کا دائرہ زیادہ وسیع کرنا چاہئے اور اگر وہ باز نہیں آسکتا توپھر وہ رات کو پانی میں سات عدد بادام بھگو کر رکھ دے اور صبح نہار منہ ان کے چھلکے اتار کر کھائے۔ اس سے حافظہ بہتر ہونے میں مدد ملے گی اور یوں اسے یاد رہ جائے گا کہ اس نے کس کس سے کس کس معاملے میں پہلے کیا کیا کہہ رکھا ہے؟

میں نے یہ نسخہ افادہ عام کے لئے اپنے کالم میں درج کیا ہے اور اس سے کئی طبقے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ یہ کاروباری حضرات کے لئے بھی فائدہ مند ہے اور کچھ سیاستدان بھی اس کے استعمال سے اپنی کریڈیبلٹی بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بول بچن کرنے والے عشاق کے لئے بھی یہ نسخہ ، نسخہ کیمیا ہے۔ میں ان سب کی طرف سے شکریئے کی چند لائنوں کا منتظر ہوں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.