.

معاشی طاقت کیلئے تھوڑا سا طاقت کا استعمال بھی ضروری

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں کوئی شبہ نہیں ملک معاشی ترقی سے ہی ہر شعبے میں ترقی کرتے ہیں، لیکن معاشی ترقی کی اِس دوڑ میں اپنا راستہ تلاش کرنے اوراپنی معاشی طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے دفاعی قوت کا ہونا بھی ضروری ہے، کیونکہ یہ دنیا کمزور کی نہیں، ہر گز کمزور کی دنیا نہیں، دنیا اُسی کی ہے جسکے پاس طاقت ہے اور بھرپور عسکری طاقت ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ فوج کی اولین ذمہ داری اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا اور اپنے شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہوتی ہے، لیکن حیران کن طور پر جو ممالک معاشی طور پر مضبوط ہیں وہ دفاعی طور پر اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ اس کا اندازہ طاقتور افواج کی درجہ بندی کرنیوالے ایک معتبر عالمی ادارے ”گلوبل فائر پاور“ کی سال 2015 کی درجہ بندی سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ اس ادارے نے دنیا کے اُن تمام ممالک کی درجہ بندی کی ہے، جنہوں نے اپنی افواج قائم کر رکھی ہیں۔ یہ ممالک کئی منفرد صلاحیتوں کے حامل ہونے کے علاوہ جدید جنگی ہتھیاروں سے بھی لیس ہیں اور یہ درجہ بندی اِن ممالک کی افواج کے اہلکاروں کی تعداد، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جنگی ہتھیاروں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

”گلوبل فائر پاور“ کی اِس درجہ بندی کے مطابق دنیا کی سب سے طاقتور افواج کی فہرست میں پہلی پوزیشن دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کو حاصل ہے، امریکی فوج 14 لاکھ 30 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اس فوج کے پاس 8325 ٹینک، 13683 جنگی طیارے، 7506 ایٹمی ہتھیار، 10 جنگی بحری بیڑے جبکہ 72 آبدوزیں موجود ہیں۔دنیا کی دوسری سب سے طاقتور فوج روس کی ہے، روسی فوج 7 لاکھ 66 ہزار فعال اہلکاروں پر مشتمل ہے،یہ فوج 15000 ٹینک، 3082 جنگی طیارے، 8484 ایٹمی ہتھیار، 1 بحری بیڑہ اور 63 آبدوزوں سے لیس ہے۔معاشی میدان کے علاوہ چین دفاع کے شعبے میں بھی بڑی طاقت ہے، دنیا کی تیسری سب سے زیادہ طاقتور فوج والے ملک چین کی فوج میں 22 لاکھ 85 ہزار اہلکار شامل ہیں، چین کے جنگی ساز و سامان کے حوالے سے 9150 ٹینک، 2788 جنگی طیارے، 250 ایٹمی ہتھیار، 1 جنگی بحری بیڑہ اور 69 آبدوزیں شامل ہیں۔ اس فہرست میں بھارت کا چوتھا نمبر ہے، بھارتی فوج 13 لاکھ 25 ہزار فعال اہلکاروں پر مشتمل ہے، بھارت 3569 ٹینک، 1785 جنگی طیارے، 80 سے 100 ایٹمی ہتھیار، 2 جنگی بحری بیڑے اور 17 آبدوزیں رکھتا ہے۔ 2 لاکھ 5 ہزار 330 اہلکار وں، 407 ٹینکوں، 908 جنگی طیاروں، 225 ایٹمی ہتھیاروں، 1 جنگی بحری بیڑے اور 11 آبدوزوں کے ساتھ برطانیہ دنیا کی پانچویں بڑی عسکری طاقت ہے۔ فرانس اس فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے۔ فرینچ فوج 2 لاکھ 28 ہزار 656 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ فرانس کی فوج 423 ٹینکوں، 1203 جنگی طیاروں، 300 ایٹمی ہتھیاروں، 1 جنگی بحری بیڑے اور 10 آبدوزوں سے لیس ہے۔اِس فہرست میں اِ س سال جنوبی کوریا ساتویں پوزیشن پر ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج 6 لاکھ 40 ہزار فعال اہلکاروں پر مشتمل ہے، کورین فوج کے پاس 2381 ٹینک ، 1412 جنگی طیارے اور 13 آبدوزیں موجود ہیں۔

جنوبی کوریا بھی کوئی ایٹمی ہتھیار یا جنگی بحری بیڑہ نہیں رکھتا۔جرمنی دنیا کی آٹھویں سب سے زیادہ طاقتور فوج والا ملک ہے۔ جرمن فوجیوں کی تعداد 1 لاکھ 83 ہزار ہے جبکہ جرمن فوج کے پاس 408 ٹینک، 710 جنگی طیارے اور 4 آبدوزیں موجود ہیں،جرمنی کے پاس کوئی بحری بیڑہ اور ایٹمی ہتھیار موجود نہیں۔جاپان دنیا کی نویں سب سے زیادہ طاقتور فوج رکھنے کا اعزازرکھتا ہے۔ جاپانی فوج میں 2 لاکھ 47 ہزار 746 فعال اہلکار شامل ہیں۔ جاپانی فوج کے پاس 767 ٹینک، 1595 جنگی طیارے، ایک جنگی بحری بیڑہ اور 16 آبدوزیں شامل ہیں،جاپان کے پاس بھی کوئی ایٹمی ہتھیار موجود نہیں ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور دس سرفہرست افواج میں شامل ترکی واحد مسلم ملک ہے۔ ترکی دنیا کی دسویں سب سے زیادہ طاقتور فوج رکھتا ہے، ترکی کی فوج میں 4 لاکھ 10 ہزار 500 اہلکار شامل ہیں، ترکی جنگی ساز و سامان کے حوالے سے 3657 ٹینکوں، 989 جنگی طیاروں اور 14 آبدوزوں کا مالک ہے، ترکی کے پاس بھی کوئی ایٹمی ہتھیار یا جنگی بحری بیڑہ موجود نہیں۔ گزشتہ برس ترکی اس فہرست میں آٹھویں نمبر پر تھا۔ اس فہرست میں اسرائیل گیارہویں، انڈونیشیا بارہویں، آسٹریلیا تیرہویں، کینیڈا چودہویں، تائیوان پندرہویں جبکہ اٹلی سولہویں نمبر پر ہے۔

قارئین کرام!! امریکہ کے ایک مشاورتی ادارے ”فارن ریلیشنز کمیٹی“ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کے پاس اتنا جوہری مواد موجود ہے کہ وہ 110 اور 120 کے درمیان جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے جبکہ بھارت 90 سے لے کر 110 جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے، جہاں تک دور مار کرنیوالے میزائلوں کا تعلق ہے تو پاکستان کے پاس شاہین-III بھی موجود ہے جس کا تجربہ پاکستان نے اسی ماہ کیا ہے۔ یہ میزائل 1700 میل (2750 کلومیٹر) تک مار کر سکتا ہے جس سے پاکستان نہ صرف بھارت کے ہر مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے بلکہ اس میں مشرق وسطیٰ تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے اور یوں شاہین III سے پاکستان اسرائیل کوبھی نشانہ بنا سکتا ہے۔پاکستان کے پاس 37 میل (60 کلومیٹر) تک مار کرنے والے ٹیکٹیکل میزائل ”نصر“ بھی موجود ہیں اور پاکستانی فوج جدید لڑاکا طیاروں جے ایف تھنڈر اور ایف سولہ کے علاوہ جدید ترین ٹینک الخالد سے بھی لیس ہے۔

اب حال ہی میں پاکستان براق نامی ڈرون اور اِسے فائر کیے جانیوالے میزائل برق کا بھی کامیاب تجربہ کرچکا ہے۔ پاکستان کی فوج میں 6 لاکھ 17 ہزار فعال اہلکار شامل ہیں۔ پاکستان آرمی 3124 ٹینکوں، 847 جنگی طیاروں، 90 سے 110 ایٹمی ہتھیاروں اور 8 آبدوزوں کی مالک ہے۔ پاک فوج کے پاس اگرچہ کوئی بڑا جنگی بحری بیڑہ تو موجود نہیں ہے لیکن اسکے باوجود پاکستان کی بحریہ انتہائی پروفیشنل اور بہادر بحریہ ہے۔یوں پاکستانی فوج کا شمار بھی دنیا کی بہترین پروفیشنل اور بہادر افواج میں کیا جاتا ہے، لیکن گلوبل فائر پاور کی فہرست میں پاکستانی فوج سترہویں نمبر پر ہے۔ جوہری ہتھیار رکھنے کے باوجود گلوبل فائر پاور کی درجہ بندی میں اس قدر نیچے رہنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں عسکری اور معاشی قوت کے چولی دامن کے ساتھ کو سمجھا ہی نہیں گیا۔ گلوبل فائر پاور کی درجہ بندی ثابت کرتی ہے کہ بڑی اور طاقتور فوجیں رکھنے میں کوئی برائی یا خامی نہیں ہے، ورنہ تائیوان، اٹلی، اسرائیل، کینیڈا، جاپان، جنوبی کوریا، ترکی، جرمنی، برطانیہ اور فرانس جیسے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان سے چھوٹے لیکن معاشی طور پر مستحکم اور مضبوط ملک پاکستان سے بڑی فوج کیوں رکھیں؟مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ہم ابھی تک گُر کی یہ بات نہیں سمجھے کہ خطے اور دنیا میں اپنا معاشی حصہ بھکاریوں کی طرح مانگ کر نہیں بلکہ طاقتوروں کی طرح چھین کر لیا جاتا ہے اور معاشی طاقت چھیننے کیلئے تھوڑی سی بدمعاشی بھی ضروری ہوتی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.