.

جبر ، جمہوریت اور سنگاپور

غازی صلاح الدین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس ہفتے عالمی میڈیا میں جدید سنگاپور کے بانی لی کوان یو کا کافی ذکر ہوا۔ پیر کی صبح جب 91سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا تو گویا ایشیاء کی تاریخ کا ایک اہم باب تمام ہوا۔ سنگاپور کی حیرت انگیز ترقی نے پوری دنیا کو حیران کردیا۔ اسے آپ قیادت کا ایک معجزہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اور محترم لی نے کمال یہ کیا کہ ایک چھوٹے سے جزیرے کو تیسری دنیا کی دلدل سے نکال کر اسے پہلی دنیا کے آئینہ خانے میں سجادیا۔ اور اس طرح وہ خود بیسویں صدی کے سب سے کامیاب اور مثالی رہنمائوں کی صف میں کھڑے ہوگئے۔ لیکن ان کی شہرت ایک آمر کی رہی اور سنگاپور کی معاشی ترقی اور معاشرتی خوبیوں نے بار بار یہ سوال اٹھایا کہ کم از کم کسی ایشیائی ملک اور ماحول میں کیا جمہوری نظام کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کا خواب پورا ہوسکتا ہے؟ جب ہم ایشیاء میں جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو چین اور انڈیا کا حوالہ ضروری ہوجاتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے چین دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ ایک کمیونسٹ یا اشتراکی ملک ہے اور ایک جماعت کی حکمرانی کو ہم کسی طرح بھی جمہوریت نہیں کہہ سکتے۔ انڈیا کی جمہوریت کا البتہ بہت چرچا ہے۔ یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ انڈیا کی معاشی ترقی کو آج کل کافی سراہا جارہا ہے لیکن چین امریکہ کے بعد دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ آپ کہیں گے کہ بات تو سنگاپور کی ہورہی تھی۔ چین اور انڈیا کا ذکر کہاں سے آگیا۔ ذرا سنگاپور کی حیثیت تو دیکھئے۔ آبادی تقریباً 55لاکھ ہے۔ تین سنگاپور جمع کریں تب بھی ایک کراچی نہ بنے۔ اس کا رقبہ 640 مربع کلومیٹر ہے۔ دنیا کے نقشے پر ایک نقطہ۔ اور اس قدرتی وسائل سے محروم جزیرے نے ایک ایسے رہنما کو جنم دیا جس کی شخصیت ، طرز حکمرانی اور کارناموں پر پوری دنیا میں بحث کی جارہی ہے۔

اس کالم کا ایک جواز تو یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ ہم سنگاپور کے تجربے سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔ ہماری اپنی تاریخ ڈکٹیٹرشپ اور جمہوریت کے درمیان ایک ناقابل فہم رشتے سے عبارت ہے۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ ڈکٹیٹرشپ یعنی آمرانہ طرز حکمرانی نے ہمیں کیادیا اور جو جمہوریت ہمیں ملی ہے وہ کس حد تک ہمارے دکھوں کا مداوا کرسکتی ہے۔ نجی محفلوں میں مسلسل یہ بحث چلتی ہے کہ پاکستان نے فوجی آمروں کے زمانے میں زیادہ ترقی کی یا جمہوری دور میں۔ اس بحث کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ فوج کے کسی سربراہ کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ جب چاہے اقتدار پر قبضہ کرلے۔ مطلب یہ ہے کہ آئینی، قانونی اور اخلاقی اصول اور ضابطے پائوں تلے روند کر اگر کوئی نظام ترتیب دیا جائے تو اس کا احتساب کوئی کیسے کرے گا۔ شاید سنگاپور کے لی کا آمر ہونا اتنی بڑی بات نہیں۔ ہم نے اپنے زمانے میں ایسے ایسے آمر دیکھے ہیں کہ تاریخ کے کوڑے دان میں بھی انہیں مشکل سے ہی جگہ ملے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس کسی بھی بندش کے بغیر حکمرانی کے سارے اختیارات استعمال کرنے کی آزادی ہو تو وہ کیا کرتا ہے۔ (یا کیا کرتی ہے) لی کا اپنا فلسفہ تھا اور ترجیحات تھیں۔ ایک مثال یہ ہے کہ انہوں نے یہ تحریک بھی چلائی کہ شہری ایک دوسرے سے مسکرا کرملیں۔ ٹوائلٹ کو فلش ضرور کریں۔ چیونگ گم نہ کھائیں۔ سڑک پر کوڑا نہ پھینکیں۔ ان احکامات پر اس لئے بھی سختی سے عمل ہوا کہ خوف کی فضا بھی طاری رہی وہی میکیاولی کا آزمودہ نسخہ کہ کسی حکمراں کے لئے یہی بہتر ہے کہ لوگ یا شہری اس سے ڈریں نہ کہ محبت کریں۔

پھر بھی لی کوان یو کی قیادت کو صرف ان کی آمرانہ روش سےتعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات اپنی جگہ قابل غور ہے کہ ایک شہری ریاست کا قائد ایک مثال کیسے بن گیا۔ معاشی ترقی کے علاوہ لی نے ایک ایسے معاشرے میں قومی وحدت پیدا کی کہ جو نسلی اور مذہبی سطح پر منقسم تھا۔ سنگاپور کے تقریباً 77فی صد شہری چینی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملائی آبادی کا تناسب کوئی 14فی صد ہے اور یہ سب مسلمان ہیں۔ آٹھ فی صد کا تعلق جنوبی انڈیا سے ہے کہ جو بیشتر تامل ہندو ہیں۔ اس پس منظر میں لی نے چینی قوم کی تہذیبی روایات اور ایشیائی قدروں کو جوڑ کر یوں کہئے کہ اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم کا فارمولا بنایا۔ مشرق بعید کے ملکوں کے کلچر پرکنفیوشس کا گہرا اثر ہے۔ اس کا ایک اصول یہ ہے کہ فرد اتنا اہم نہیں جتنا معاشرہ۔ مغربی جمہوریت میں فرد کی آزادی سب سے مقدم سمجھی جاتی ہے۔ جاپان، چین اور کوریا کے معاشروں میں بزرگوں کے احترام اور محنت سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مذہب کا یہاں کوئی رول نہیں ہے۔ لی یہ کہتے تھے کہ ان کی کوئی آئیڈیا لوجی یعنی نظریہ نہیں۔ کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے جو طریقہ بھی قابل عمل اور سودمند ہو وہی بہتر ہے۔ چین کی معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے والے تینگ سیائو پنگ نے بھی اسی قسم کی ایک بات کی تھی جب کسی نے ان سے کہا کہ آپ تو کمیونسٹ ہیں پھر بھی سرمایہ دارانہ نظام کے کئی طریقے اپنارہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر بلی چوہے پکڑنا جانتی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کس رنگ کی ہے۔ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ملک چین میں لی کی بہت عزت کی جاتی تھی اور چینی رہنما مسلسل ان سے رابطے میں رہتے تھے۔ میں نے یہ پڑھا کہ 1976ء کے بعد لی33 دفعہ چین گئے۔ اسی طرح دوسرے ایشیائی ملکوں میں بھی لی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اب یہ یاد کریں کہ 20سال سے زیادہ عرصہ ہوا، نواز شریف نے اپنے پہلے دور میں لی کو مدعو کیا تھا اور کابینہ کے وزراء کی ان سے ملاقات کرائی تھی۔ اب اس بات کے تو کوئی شواہد نہیں ہیں کہ ہم نے لی سے کچھ سیکھا۔ کئی سال گزرے جب لی کا یہ تبصرہ کہیں شائع ہوا کہ میں ان لوگوں کو کیا سمجھائوں جو یہ کہتے ہیں کہ ان کا اصلی احتساب تو ان کے مرنے کے بعد ہوگا۔

میں نے یہ کہا کہ لی کے انتقال کے بعد ان کی وراثت کے بارے میں گفتگوجاری ہے۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ ایشیا میں ترقی اور خوشحالی کے لئے جمہوری نظام بہتر ہے یا کوئی مرد آہن جو ڈنڈے کے زور پر قوم کو متحد کرسکے۔ لی نے جس طرح سنگاپور کو کرپشن سے پاک کیا اس کی بہت تعریف کی جاتی ہے۔ یہ کام مثلاً چین میں نہ ہوسکا۔ سنگاپور میں سرکاری ملازموں کی تنخواہیں بہت زیادہ ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لی کی کامیابی جمہوریت کی نفی کرسکتی ہے۔ سنگاپور میں بھی اب زیادہ تعداد میں شہری جمہوری آزادیوں کی خواہش رکھتے ہیں۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں شاید لی کو بھی اس بات کا اندازہ ہوچلا تھا کہ ایک خوشحال معاشرہ جمہوریت کے حصول کی کوشش کرے گا۔ جنوبی کوریا کی بھی تو یہی کہانی ہے۔ ایک فوجی آمر نے اپنے ملک کو مادی اور انسانی وسائل سے مالا مال کردیا اور اس کے بعد جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ نواز شریف نے موٹر وے کا سبق بھی تو جنوبی کوریا سے سیکھا تھا۔ لیکن ہمارا معاملہ ذرا پیچیدہ ہے۔ فوجی حکومت ہو یا سیاستدانوں کی حکمرانی۔ ہمارے مسائل کا حل بظاہر کسی کے پاس نہیں۔ نظام کوئی بھی ہو، فوج کی برتری ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مشرق بعید کے ملکوں کی ترقی کی بنیاد، میری نظر میں ان کا کلچر ہے جس میں تعلیم کی محنت کی اور اجتماعی مفاد اور اپنے خاندان ، اپنے ادارے سے وفا کرنے کی بہت اہمیت ہے۔ ہم تہذیبی، فکری اور اخلاقی معنوں میں تشویشناک حد تک پسماندہ ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہمیں کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جو ایک لمبے عرصے تک تبدیلی کے عمل کی نگرانی کرسکتا ۔ لی تو 1959ء سے 1990ء تک وزیراعظم رہے اور پھر خود اس عہدے سے مستعفی ہو کر کابینہ کے سینئر وزیر بن گئے تاکہ نئی قیادت آگے آسکے۔ کل یعنی اتوار کے دن لی کی سرکاری تدفین ہوگی اور اب دیکھنا یہ ہے کہ سنگاپور میں آنے والے برسوں میں کیا تبدیلی رونما ہوگی۔ یہ بات طے ہے کہ لی کے زمانے کی آمریت نہ باقی رہے گی اور نہ واپس آئے گی۔ عام انسان ہر جگہ اپنی آزادی اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے سرگرداں رہیں گے۔ وہ معاشی خوشحالی ہی نہیں بلکہ دوسری نعمتوں کا مطالبہ بھی کریں گے۔ امریکہ کے آئین میں تو مسرت کی جستجو کا بھی ذکر ہے۔ آزادی ایک ہمہ گیر تصور ہے۔ اس کا خواب تک موجود حالات میں ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ تو پھر ہم کیا کریں؟ کس ملک اور کس معاشرے کو آپ ایک ’’رول ماڈل‘‘ کا درجہ دے سکتے ہیں؟ یہی سوال اس طرح بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ آپ کسی دوسرے ملک میں رہنا پسند کریں گے، کتنا مشکل اور کتنا آسان سوال ہے۔ اس لئے بھی کہ آپ کو اس کا جواب معلوم ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.