.

پراسرار طرزِ حکومت

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شکر ہے اس معاملے میں کبھی میاں نوازشریف صاحب کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں رہا۔ کبھی ان کو سادہ یا کم فہم نہیں سمجھا۔ اپنے آپ کو کم فہم اور سادہ پیش کرنا ‘ ان کا طریقہ واردات ہے۔ اس طرح وہ ہمدردی سمیٹتے اور دوسروں کو اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار بناتے ہیں۔ وہ بظاہر نرم دکھائی دیتے ہیں لیکن اندر سے دل میں رکھنے والے انسان ہیں۔ سیاست اور حکومت میں جتنا تجربہ ان کو ہوا‘ موجودہ سیاسی لاٹ میں بہت کم لوگوں کو ہوا ہوگا۔ انہوں نے بڑی ذہانت کے ساتھ پچھلے پانچ سال کے دوران لوگوں کو اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار بنایا۔ وہ یہ تاثر دیتے رہے کہ اب کے بار اقتدار میں آنے کے بعد وہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے لیکن افسوس کہ ان غلطیوں اور عادتوں کو انہوں نے پورے اہتمام کے ساتھ تھیلے میں سنبھال رکھا تھا اور اقتدار میں آتے ہی پورے آب و تاب کے ساتھ نکال لائے۔ مثلاً اپوزیشن کے دور میں انہوں نے یہ تاثر دیا تھا کہ اب کی بار وہ پنجاب کا صوبہ اپنے بھائی کے حوالے کرنے کی بجائے چوہدری نثار علی خان کے حوالے کریں گے لیکن موقع ملتے ہی انہیں دوبارہ حاکم بنا دیا اور ان کے جانشین کے طور پر اب ان کے صاحبزادے کو تیار کیاجارہا ہے ۔ وہ یہ تاثر دے رہے تھے کہ حکومت جمہوری طریقے سے چلائیں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی اور پارلیمنٹ کو یوں صفر میں ضرب دے دیا کہ ان کے اور عرب بادشاہوں کی طرز حکمرانی میں فرق کرنا مشکل ہوگیا۔ پچھلے دور میں انہوں نے یہ تاثر دیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ چھوٹے صوبوں اور چھوٹی قومیتوں کی محرومیوں کا خاتمہ کریں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ اب کی بار عملاً صرف وسطی پنجاب کے وزیراعظم دکھنے لگے ۔تب بھاولپور اور جنوبی پنجاب صوبوں کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور کی تھی لیکن اب ان کا نام سنتے ہی ناراض ہوجاتے ہیں بلکہ سرائیکستان کے مسلم لیگی بھی اب کی بار زیرعتاب ہیں۔

تب انہوں نے یہ تاثر دیا تھا کہ وہ اداروں اور بالخصوص فوج کے ساتھ ورکنگ میں شفافیت کا مظاہرہ کریں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے دیگر اداروں اور بالخصوص فوج کے ساتھ بدترین سیاست اور ڈبل گیم سے کام لیا۔ لیکن کچھ حوالوں سے یہ عادتیں اب کی بار مزید بھیانک شکل میں سامنے آرہی ہیں ۔ مثلاً ماضی میں اقتدار میں آنے کے بعد وہ مشیروں کے مخصوص ٹولے کو اردگرد جمع کرلیتے تھے لیکن پارلیمنٹ اور پارٹی کو بھی کسی حد تک ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتے تھے ۔ اب کی باروہ صرف اس ٹولے کے نرغے میں پھنس گئے ہیں اور انہوں نے پارلیمنٹ‘ پارٹی اور اتحادیوں کو صفر میں ضرب دے دیا ہے ۔اسی طرح پچھلی حکومتوں میں مشیروں کا یہ ٹولہ ان کے سیاسی ساتھیوں پر مشتمل ہوتا تھا اور عموماً اس کی قیادت چوہدری نثار علی خان جیسے زیرک اور فعال سیاستدان کے پاس ہوتی تھی لیکن اب کی بار یہ ٹولہ ایک بیوروکریٹ‘ ایک غیرسیاسی مگر انتہا کی حد تک سازشی مشیر ‘ ایک کاروباری شخصیت اور خاندان کے افراد تک محدود ہوگیا ہے ۔ بیوروکریٹ کی وجہ سے نہ صرف پوری بیوروکریسی اور پولیس میں بے چینی ہے بلکہ اب وہ ٹی وی پروگراموں میں آکر حکمرانوں کے سیاسی اور کاروباری معاملات کا بھی دفاع کرنے لگے ہیں جس کی وجہ سے بیورکریسی بدنام جبکہ میاں صاحب کے سیاسی ساتھی بددل ہونے لگے ہیں۔

دوسری طرف اس ٹولے میں شامل غیرسیاسی مشیر نہایت گندی سیاست کھیل رہے ہیں ۔ ایک طرف میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی کے کان ان کے سیاسی ساتھیوں کے خلاف بھررہے ہیں اور چوہدری نثار علی خان اور وزیراعظم کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سہرا بنیادی طور پر ان کے سر ہےتو دوسری طرف ایجنسیوں کے ذریعے اہل صحافت اور میاں صاحب کے ساتھیوں کے ٹیلی فون ٹیپ کروا کروہ شریف خاندان کو لوگوں سے بددل کررہے ہیں ۔ پرویز مشرف کے دور میں چونکہ انہیں سرکاری گھر اور نوکری سے محروم ہونا پڑا تھا ‘ اس لئے وہ فوج کے بارے میں انتقامی سوچ کے حامل ہیں اور میاں صاحب یا دیگر حکومتی شخصیات کو ورغلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے لیکن دوسری طرف فوجی حلقوں میں بھی اپنے روابط بنانے کے لئے یہاں کی خبریں وہاں بھی پہنچاتے ہیں ۔ اس کی قیمت ملک کو اس صورت میں ادا کرنا پڑرہی ہے کہ قومی ایکشن پلان کے اکثر حصوں پر عمل اس لئے نہیں ہورہا ہے کہ وہ وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور مذکورہ سازشی ٹولہ نہیں چاہتا کہ ان کی وزارت کو فنڈز ملے ۔ قومی داخلی سلامتی پالیسی پر عمل اس لئے نہیں ہوسکا کہ بجٹ میں نیکٹا کو فنڈز نہیں دئیے گئے۔

مدارس میں اصلاحات کے عمل کا آغاز اس لئے نہ ہوسکا کہ وزارت داخلہ کی بجائے یہ سازشی ٹولہ وہ کام وزارت مذہبی امور اور وزارت تعلیم کے سپرد کرنا چاہتا ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ کراچی سے متعلق اجلاسوں سے بھی وزیر داخلہ کو خارج کردیا گیا ہے ۔ اب ہر کوئی جانتا ہے کہ چوہدری نثار تادم تحریر یک طرفہ وفاداری نبھارہے ہیں لیکن اگر وہ جواب دینے پر آگئے تو شاید ہی وزیراعظم صاحب اور ان کے سازشی مشیر ان کا جوابی حملہ برداشت کرسکیں ۔ یہ سب چیزیں اپنی جگہ لیکن اس مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم صاحب کے رویے میں ایک نئی چیز سامنے آگئی ہے اور وہ ہے پراسراریت ۔ چین کے ساتھ معاملات میں پراسراریت ۔ سعودی عرب کے ساتھ ڈیلنگ میں پراسراریت ۔ ہندوستان کے معاملے میں پراسراریت ۔ ایم کیوایم سے متعلق پراسراریت ۔ پرویز مشرف سے متعلق پراسراریت ۔ علیٰ ہذہ القیاس۔ چین کے ساتھ معاملات میں دفتر خارجہ نظر نہیں آتی لیکن ان کے بھائی اور مذکورہ مخصوص بیورکریٹ درجنوں دورے کر چکے ۔ کسی بھی حساس معاملے کا فیصلہ پارلیمنٹ یا متعلقہ آئینی اور قانونی فورمز پر نہیں ہورہا لیکن خصوصی افراد کے ساتھ خفیہ رابطوں یا خصوصی اور غیررسمی اجلاسوں میں فیصلے ہورہے ہیں ۔ ہندوستان کے ساتھ پہلے شیروشکر تھے ۔ پھر تلخی پیدا ہوئی اور اب دوبارہ بات چیت کا آغاز ہورہا ہے لیکن ایک مرتبہ بھی اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع و قومی سلامتی میں زیر بحث نہیں لایا گیا۔ یمن اور سعودی عرب سے متعلق فیصلہ میرے نزدیک نائن الیون میں امریکہ کے ساتھ اتحاد میں شامل ہونے کے بعد دوسرا اہم اور جوہری فیصلہ ہے لیکن اس معاملے کو بھی نہ مذکورہ کمیٹی میں زیربحث لایا گیا اور نہ پارلیمنٹ میں ۔ بلکہ اس پر تو کابینہ میں بھی مشاورت نہیں کی گئی ۔موجودہ حکومتی رویے کی یہ پراسراریت ہر جگہ نظر آتی ہے ۔ ایک طرف ایم کیوایم کو شدید ناراض کردیا گیا ہے اور اس کے رہنمائوں سے ملاقات بھی نہیں کی جارہی لیکن دوسری طرف ان کے گورنر کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ اب اس گورنر کو اجلاسوں میں نہیں بلایا جارہا ہے لیکن ان کو ہٹایا بھی نہیں جارہا ۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید صاحب ہیں لیکن میڈیا ڈیلنگ دختر نیک اختر کے سپرد ہے ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وزیردفاع کو دفاعی ادارے سپاہی جتنی اہمیت بھی دینے کو تیار نہیں لیکن ان کو تبدیل نہیں کیاجارہا ۔ دوسری طرف ان پر چیک کی خاطر ان کی وزارت پانی و بجلی میں زیادہ تر اختیار عابد شیرعلی کو دئیے گئے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے ساتھ مخاصمت بھی ہے لیکن ان کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفے قانون کی دھجیاں اڑا کر منظور نہیں کئے جارہے ہیں ۔ اب اس کے ساتھ جوڈیشل کمیشن پر ایک طرف اتفاق کیا گیا اور دوسری طرف خان صاحب اور عارف علوی کی آڈیو ٹیپ منظر عام پر لائی گئی ۔ اس پراسراریت سے شاید وزیراعظم صاحب اور ان کے مشیروں کا ٹولہ محظوظ ہورہا ہو لیکن دوسروں کے لئے یہ اس قدر تکلیف دہ ہے ۔ اس کے نتیجے میں دوسرے اداروں‘ بیوروکریسی اور خود مسلم لیگ (ن) کے اندر جو گھٹن جنم لے رہی ہے ‘ وہ کسی بھی دھماکے یا دھماکوں کا موجب بن سکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو چاپلوسوں اور مشیروں کا یہ ٹولہ ان کے کسی کام نہیں آسکے گا۔ بہتر ہوگا کہ حکومت پراسراریت کی بجائے شفافیت کی طرف لوٹ آئے ‘ ورنہ پراسرار حادثات کا انتظار کرے ۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.