.

جرات اور خرد ساتھ ساتھ

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’وہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے سیاسی و خفیہ امور کے وزیر سر ولیم کا چچازاد بھائی تھا اصل نام آرتھر کنولی تھا لیکن وسطی ایشیا میں ’’لانچ‘‘ کیے جانے کے بعد خان علی کے نام سے مشہور ہوا۔ وہ بنیادی طور پر ایک چرب زبان مبلغ تھا، لیکن انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں وہ ایسٹ انڈیاکمپنی کے عسکری ونگ میں شامل ہواتو اس کی ’’قابلیت‘‘ کو دیکھتے ہوئے اسے خفیہ مشن پر روس بھجوادیا گیا، جہاں اُسے جنوب مشرق کی جانب روس کا پیش قدمی جائزہ لینا اور اس کا توڑ کرنا تھا۔وہ ماسکو میں روابط قائم کرنے کے بعد وسطی ایشیا پہنچا تو اُس وقت تک سلطنت عثمانیہ اپنا بھرپور عروج دیکھنے کے بعد مائل بہ زوال تھی اور وسطی ایشیائی علاقوں پر عثمانیوں کی گرفت کمزور پڑچکی تھی۔ علاقے کی جیو اسٹریٹیجک اہمیت اور معدنی وسائل کی بہتات کے سبب توسیع پسند عزائم رکھنے والی دونوں بڑی طاقتوں برطانیہ اور روس نے للچائی نظریں وسطی ایشیا کے وسائل پر گاڑ رکھی تھیں۔

اِن حالات میں خان علی نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے شاہی درباروں تک رسائی حاصل کرلی ، جس کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایک جانب وہ محض چھوٹی سے چٹ پر اپنا نام لکھ کر کسی بھی وقت روسی ژارسے مل سکتا تھا تو دوسری جانب کاشغر، ثمرقند، خیوا اور بخارا کے مسلم حکمرانوں سے بھی خصوصی مصاحبت رکھتا تھا۔ خان علی کے پاس پیسوں کی کوئی کمی نہ تھی، اس نے شاہی درباروں میں وزیر اور مشیر خرید نا شروع کردیے اور چند ہی برسوں میں خان علی اتنا بااثر ہوگیا کہ وہ شاہی درباروں کے فیصلوں پر بھی اثرانداز ہونے لگا۔اس کے خریدے ہوئے لوگوں نے لسانیت اور فرقہ واریت کی آگ بڑھکاکر شہروں کا امن غارت کردیا۔ نامی گرامی لوگ ٹارگٹ کلنگ اور زائرین کے قافلے دہشت گردی کا نشانہ بننے لگے، مساجد اور خانقاہوں میں دہشت گردی کے واقعات عام ہوگئے اور یوںایک وقت ایسا آیا کہ کوئی شخص اپنے گھر میں محفوظ رہا نہ گھر سے باہر اس کی زندگی کی ضمانت دی جاسکتی تھی۔

اس ساری تباہ کاری کا الزام توسیع پسند عزائم رکھنے والے روس پر لگ رہا تھا،جس کے بعد علاقے میں روس کے خلاف نفرت کا لاوا ابلنے لگا۔ حالات کو برطانیہ کے حق میں اور روس کے خلاف سازگار پاکر خان علی نے شاہی امراء کے ذریعے کاشغر، خیوا، ثمرقند،بخارا اور دیگر ریاستوں کے حکمرانوں کو روس کیخلاف متحد کرنے کا منصوبہ شروع کیا، اس منصوبے کو خان علی نے اپنے مکتوبات میں ’’گرینڈ گیم یا گریٹ گیم‘‘ کا نام دیا۔ اس منصوبے کی تکمیل کیلئے خان علی نے خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کرا دیا۔ آرتھر کی گریٹ گیم بڑی حد تک کامیاب رہی، اس نے علاقے میں پڑوسیوںکے درمیان نفرت کے جو بیج بوئے، اس کی وجہ سے روس ڈیڑھ سو سال تک اپنے خطے میں ہی الجھا رہا اور وسطی ایشیا پر تسلط جمانے اور آگے بڑھنے کیلئے روس کو ساٹھ سے زیادہ بڑی جنگیں لڑنا پڑیں اور لاکھوں لوگ ان جنگوںمیںلقمہ اجل بن گئے۔ ژار کا روس ،اشتراکی سوویت یونین کے قالب میں ڈھلنے کے بعد بھی یہ گیم جاری رہی ،لیکن حد تو یہ ہے کہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد بھی یہ ’’گرینڈ گیم‘‘ ختم نہ ہوئی۔‘‘

دو سال پہلے اِس گرینڈ گریٹ گیم میں شدت آنے کے حوالے سے جس خدشے کا اظہار کیا تھا، وہ خدشہ اب حقیقت کا روپ دھارکر سامنے آگیا ہے۔ ایشیا میںخان علی کی شروع کردہ گرینڈ گیم ’’نیو گریٹ گیم‘‘ کے نام سے پہلے جنوبی ایشیا میں پہنچی، جہاں گزشتہ چار دہائیوں سے اس گیم کا مرکز کوئی اور نہیںبلکہ اپنا پیاراپاکستان بنا ہوا ہے۔ یہ وہی گریٹ گیم ہے، جو گرم پانیوں کی تلاش میں اودھم مچاتے روس کی جنوب کی جانب مسلسل پیش قدمی سے شروع ہوئی ا ور امریکی سرمائے سے لڑے جانے والے جہاد افغانستان کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچ گئی۔یہ وہی نیو گریٹ گیم ہے جس میں برفانی ریچھ کو زخمی کرکے دریائے آمو کے اُس پار دھکیل دیا گیا، افغانستان میں پہلے وار لارڈز کی من مانیاں شروع ہوئیں اور پھر طالبان کو اُبھرنے کا موقع ملا،یہ وہی نیو گریٹ گیم ہے، جس میں القاعدہ کو چھلاوہ بناکر پیش کیا گیا اور نائن الیون کا ڈرامہ رچایا گیا۔ یہ وہی نیو گریٹ گیم ہے جس میں پرامن پاکستان کا چپہ چپہ ہلاکت خیزی اور پچاس ہزار پاکستانی دہشت گردی کی نذر ہوگئے۔پاکستان کی نئی سول و عسکری قیادت نے پاکستان کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا عزم کیا تو گرینڈ گریٹ گیم کے اصل ’’کھلاڑیوں‘‘ کو پاکستانی قیادت کا یہ عزم ایک آنکھ نہ بھایا۔

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پہلے دھرنوں کے نام پر نان ایشوز کو کھڑا کیا گیا اور اس کے بعد دہشت گردی کی لہر میں اضافہ کردیا گیا۔ اب حکومت بھی دھرنوں کے اثرات سے نکل رہی ہے اور دوسری جانب فوج نے تو پلٹ کر ایسا وار کیا ہے کہ دشمن کو اپنا گیم پلان ساکت کرنا پڑ گیا ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ گریٹ گیم مکمل طور پر رُک گئی ہے کیونکہ جو گریٹ گیم دو سو سال میں ختم نہ ہوئی ،بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ گریٹ گیم اِس ایک ناکامی کے بعد ختم ہوجائے۔قارئین کرام!!خان علی نے وسطی ایشیا میں جو گرینڈ گیم شروع کی تھی، جب امیربخارا نصراللہ بن حیدر طورا کو اُس کی بھنک پڑی تو طورا نے خان علی کو گرفتار کرلیا۔ بعد کی تحقیقات میں ’’گریٹ گیم‘‘ کی تمام دستاویزات بھی پکڑی گئیں اوردوران تفتیش آرتھر کنولی عرف خان علی نے سب کچھ اگل دیا۔ سلطنت برطانیہ کیلئے جاسوسی کرنے کا جرم ثابت ہونے پرخان علی اور اس کے ساتھی چارلس سٹوڈرٹ کے سر قلم کرکے بخارا کے قلعہ آرک کے داخلی دروازے پر لٹکادیے گئے۔

خان علی کے خاتمے پر بھی اگرچہ گریٹ گیم تو ختم نہ ہوئی لیکن اس کی شدت میں کمی ضرور آگئی اور گریٹ گیم کی تاریں ہلانے والوں کو دوسرے محاذوں پر مصروف ہونا پڑا۔ پاکستان میں بھی صورتحال اس وقت ایسی ہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستان میں کھیلی جانے والی یہ گریٹ گیم مکمل طور پر آشکار ہوچکی ہے، لیکن اس گیم میں ’’خان علی‘‘ کا کردار ادا کرنے والے مہروں کو پکڑنا اور پھانسی کے پھندے پر چڑھانا باقی رہ گیا ہے۔ شہدا کے وارث جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج اِس گیم کا پانسہ پلٹنے کیلئے دن رات مصروف عمل دکھائی دیتی ہے۔ اچھی بات تو یہ ہے کہ اِس کوشش میں کسی کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے، اپنے لوگوں میں چھپے آرتھر کنولیوں کو ڈھونڈا جارہا ہے اور خان علی جیسے لوگوں کو تلاش کیا جارہا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ گریٹ گیم جلد ختم ہوجائے گی۔ یہ بجاہے کہ نیوگریٹ گیم کی تاریں ہلانے والے مشرق وسطیٰ میں مصروف ہوگئے ہیں، لیکن وہ پلٹ کر وار ضرور کریں گے اور یہ وار ممکنہ طور پر پہلے سے کہیں زیادہ شدت کا ہوگا، اِس وار سے بچاؤ اور حفاظت کیلئے ابھی سے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ گریٹ گیم کو منطقی انجام تک پہنچانے یا اس گیم کو اپنے حق میں کھیلنے کیلئے جرات و بہادری کے ساتھ ساتھ چابک دستی اور خردمندی سے بھی کام لیا جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.