.

پاک سعودی دفاعی تعاون،نت نیا استدلال

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے وزیر دفاع نے ایک دن ایک بیان دیا ، دوسرے دن کوئی اور، مسئلہ پیچیدہ ہو تو وزرا کو بحث مباحثے کے بعد کسی رائے کا اظہار کرنا چاہئے۔ڈینگی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے بھی اس حکومت کو سری لنکا کی نرسوں کو بلاکر مشاورت کرناپڑی تھی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ بھی ڈیڑھ سال تک لٹکتا رہا ور اس دوران کئی آل پارٹیز کانفرنسیں بھی منعقد ہوئیں۔ اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں حکمرانوں کے چین اور جرمنی کے پے در پے دورے بھی کسی کام نہیں آ سکے، اس لئے سعودی یمن ایران قضیئے میں ٹانگ اڑانی چاہئے یا اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر جنگ میں کود جانا چاہئے، اس کے فیصلے کے لئے کسی سے تو مشورہ کیا جائے۔

حکمرانوں کے ذاتی تعلقات پر فیصلے ہونے ہیں تو جمہوریت کالفظ آئین سے کھرچنا پڑے گا۔

میری تجویز ہے کہ پارلیمنٹ کے ایک بند کمرے کے اجلاس میں ہماری عسکری قیاد ت قوم کے نمائندوں کو اعتماد میں لے۔ ماضی میں اندرونی اور بیرونی خطرات پر ایسا ہوتا چلاا ٓیا ہے اوراس سے کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے میں مدد ملتی رہی ہے۔ آئی ایس پی ا ٓر کے سربراہ میڈیا کو اعتماد میں لیں۔ ضرب عضب پر وہ پنڈی سے باہر نکلے تھے اور قومی اتفاق رائے پیدا ہونے میں ذرا دیر نہیں لگی تھی۔
ہمیں ایک اور نکتہ بھی زیر غور لانا ہے اور یہ نکتہ میرے ذہن میں میرے مرشد مجید نظامی نے بٹھایا ہے، کسی کو یقین نہ آئے تو نوائے وقت کے پرانے اداریوں پر ایک نظر ڈال لے۔ محترم مجید نظامی نے کئی بار لکھا کہ پاکستان خلیج کے دہانے پر چوکیدار کا فریضہ ادا کرتا ہے۔ اور اس فریضے کی احسن طریقے سے ادئیگی کے لئے خلیجی اور عرب ممالک نے بجا طور پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں دل کھول کر ہاتھ بٹایا ہے۔ آج ہمیں سوچنا ہے کہ خلیج اور عرب دنیا میں کوئی خطرہ سر اٹھائے تو کیا چوکیدار خراٹے بھرتا رہے۔ میں اس پر کوئی فیصلہ نہیں دیتا، صرف بحث کے لئے ایک نقطہ ایجنڈے پر رکھ رہا ہوں۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ سووئت روس کے انہدام کے بعد امریکہ واحد سپر طاقت کے طور پر بپھر اہوا ہے، ٹھیک ہے وہ بڑی عسکری اور معاشی قوت ہے لیکن اسے تسخیر عالم کا حق کس نے دیا، اب اس نے یورپی یونین کو اپنا دم چھلہ بنا لیا ہے اور یہ سب مل کر جس ملک کو چاہے تاراج کر دیتے ہیں، کہنے کو لیبا میں عرب بہار کے جھونکے چلے۔مگر قذافی کو ایک نیٹو طیارے کے میزائل نے مارا۔ کیا نیٹو میزائل سے عرب بہار کی کاشت کی گئی ۔ مصر میں بھی امریکی اور یورپی مداخلت نمایا نظر آتی ہے، جدید دور کی مہذب دنیا جمہوریت کے گن گاتی ہے مگر مصری فوج کے ہاتھوں منتخب صدر مرسی کا تختہ الٹا اور اب وہاں تھوک کے حساب سے جمہوریت پسندوں کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں، یہ عرب بہار کاایک اور رخ ہے۔

شام میں عرب بہار کے پس پردہ جھونکے ننگے ہو کر سامنے آ ٓ گئے ہیں۔باغیوں کو امریکی ا ور یورپی اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ان کے پاس میزائل بھی ہیں، ٹینک بھی ۔

الجزائر، اور شام میں امریکہ اوریورپی یونین نے اسی القاعدہ کو استعمال کیا ہے جس کے خلاف اس نے نائن الیون کے بعد سے اعلان جنگ کر رکھا ہے اور جس کا تعاقب کرتے کرتے پاکستان کا سلالہ اور افغانستان کا تورا بورا بنا دیا گیا۔
عراق کو کس جرم بے گناہی کی سزا ملی،اس پر تو کوئی مﺅرخ ہی فیصلہ دے سکے گا۔
مگر یہ سارا میلہ کسی کی چادرکوچرانے کے لئے رچایا گیا ہے۔

جب سے امریکہ ا ور یورپی یونین اور ان کے اتحادیوں نے نئے استعماری دور کا آ غاز کیا ہے تو ایک ہی سوال ذہنوں کو پریشان کر رہا ہے کہ الجزائر، مصر، شام، عراق، افغانستان میں کوئی تبدیلی لا کر ان استعماری قوتوں کے ہاتھ کیا آئے گا۔آخر ان ملکوں کے پلے ہے کیا۔

اس دوران ایک تبدیلی اور آئی۔ پاکستان سے فوجی حکومت کی چھٹی کراد ی گئی۔اسے بہت گالیاں پڑیں کہ اس نے پاکستان کو امریکی جنگ میں دھکیل دیا تھا مگر پچھلے سات آٹھ سال کے جمہوری دور میں بھی پاکستان کی یہ پالیسی تبدیل نہیںہوئی، یہ جنگ بھی جاری ہے، ڈرون بھی جاری ہیں۔مگر اب کوئی جمہوری حکومت کواس کے لئے مغلظات نہیں سناتا۔بلکہ اب یہ گردان ہے کہ یہ جنگ ہماری ہے۔
ہمارے ہمسائے میں بھارت ہے، آبادی، وسائل، معیشت اور عسکری قوت کے لحاظ سے یہ ایک علاقائی طاقت ہے اور اس کے عزائم کبھی ڈھکے چھپے نہیں رہے، وہ مہابھارت کا نقشہ پکڑے صدیوں سے اس انتطار میں ہے کہ کب اس کا داﺅ چلے اور وہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے۔

اس نے طاقت کے ذریعے پاکستان کو کٹ ٹو سائز کر کے رکھ دیا مگر یہ ہماری خوش نصیبی تھی کہ ہم ایٹمی قوت بن گئے اور اب بھارت میں یہ چنا چبانے کی ہمت نہیں۔ وہ ہمیں ارد گرد سے گھیر رہا ہے، افغانستا ن میں اثرو نفوذو پھیلارہا ہے، پاکستان کے اند ر انتشار کو ہواد ے رہا ہے۔اس کی خواہش ہے کہ امریکہ کی طرح سرجیکل اسٹرائیک کر کے ہمارا کچومر نکال دے۔

ہمارے سامنے کئی راستے ہیں ، ایک تو یہ کہ اپنے انجام کا آرام سے انتظار کریں۔ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، اپنے ایٹم بم ایک پہاڑ کی سرنگوں سے نکال کر دوسرے پہاڑوں کی سرنگوںمیں چھپاتے پھریں۔ جو اسلحہ ہماری حفاظت کے لے بنا تھا، گھاس کھا کر بنا تھا، اس کی حفاظت کا کٹھن فریضہ انجام دیں۔دنیا کو یقین دلائیں کہ ہمارا ایٹمی ا ور میزائل کمانڈاینڈ کنٹرول سسٹم فول پروف ہے۔اس قدر فول پروف کہ اسے اپنے کام میں بھی نہ لا سکیں۔خدا نخواستہ!!

ایک راستہ یہ ہے کہ مرشد نظامی کے بقول ہم اپنے چوکیدارانہ فرائض ادا کریں، امریکہ اور نیٹو کے درجنوں ممالک کو دوسرے ملکوںمیںمداخلت کا حق حاصل ہے تو ہمیں کم از کم اپنے کسی دوست کے دفاع کاحق تو استعمال کرنا چاہئے۔ہم عالم ا سلام کا قلعہ ہیں ، واحد ایٹمی قوت ہیں، ایران جب بنے گا تو بنے گا ، ابھی نہیں بنا، ا ور کوئی اسلامی ملک اتنے جوگا نہیں، کسی اسلامی ملک کی فوج اس قدر پیشہ ورانہ تربیت کی حامل نہیں، دہشت گردی کی جنگ میں ہماری افواج اپنی صلاحیتوں کالوہا منو اچکی ہیں۔ پاکستان اگر کسی ملک کو فتح نہیں کر سکتا تو اللہ کے فضل سے ا سے بھی فتح نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی عرب کے مسئلے میں اس بات پر تو کوئی دوسری رائے نہیں کہ آج یمن ہے، کل داعش ہے، پرسوں امریکی اور نیٹو ا افواج پیچھے پیچھے چلی آئیں گی تو انہیں حرمین شریفین کی سرزمین پر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے، یہ فریضہ سارے ا سلامی ممالک کا ہے اور اگر سارے اسلامی ممالک خاموش بھی رہیں، دم سادھے بیٹھے رہیں تو بھی پاکستان کو تنہا یہ ذمے داری ادا کرنی چاہئے ، پاک فوج حرمین شریفین کے دفاع کے لئے جانیں لڑا سکتی ہے۔

میں نے مختلف سیناریو زبیان کئے ہیں، ان میں سے میرے نزدیک کوئی حتمی نہیں، حتمی لائحہ عمل طے کرنے کے لئے میں ایک بار پھر قومی مشاورت پر زور دوں گا۔

بڑی معقول دلیل ہے کہ پاکستان کو اس جھگڑے میںکودنے کے بجائے ایران اور سعودی عرب کو سمجھانے کا کردار ادا کرنا چا ہئے۔سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب نے یمن پر بمباری کی ہے یا ایران پر، سوال یہ بھی ہے کہ کیا سعودی عرب شام کے باغیوں کی مدد کررہا ہے یا ایران کے باغیوں کی۔یمن اور شام میں سعودی مداخلت پر ایران کو اعتراض ہے تو پہلے ایران کو ان دونوںملکوں میں مداخلت بند کرنا ہو گی، آیئے پہلے ایران کو سمجھانے چلتے ہیں۔تاکہ یہ تنازعہ مزید نہ پھیل سکے اور گھر پھونک تماشہ دیکھ والی صورت حال پیدا نہ ہو۔

میں ا س موضوع پر کئی پہلووں سے اپنی گفتگو جاری رکھوں گا، شاید یہ گفتگو ہمیں درست فیصلہ کرنے میں مدد دے سکے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.