.

یمن سے بارود کی بو کیوں آتی ہے ؟

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہ بِن دیکھے اپنے آقا کی محبت میں کچھ اِس طرح سرشار تھا کہ اُٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے وردِ لب سوائے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ اور تھا ہی نہیں…کبھی کبھی سوچتا تھا کہ جنہیں ٹوٹ کر چاہتا ہوں،جن کے قدموں میں جاں نچھاور کرنے کیلئے بے تاب ہوں،جن کی زیارت کیلئے تَرستا ہوں اور جِن کی اتباع کیلئے تڑپتا ہوںکیا اُنہیں بھی حالِ دل کی خبر ہے ؟اور پھر خود ہی جواب بھی دے دیتا کہ ’’کہاں ہے عرشِ معلی حضور جانتے ہیں…

تمام حال دِلوں کاحضور جانتے ہیں‘‘…اُسے معلوم تھا کہ یہ سب اُن کے رب کی عطا ہے اور وہ جو کچھ بھی جانتے ہیں اپنے خالق کے حکم سے ہی جانتے ہیںمگر اطمینانِ قلب کیلئے بار بار نگاہ مدینے کی طرف اُٹھ جاتی تھی کہ شاید وہاں سے بلاوا آجائے…اور جنہیں بُلانا تھا وہ جانتے ہیں کہ اِس عاشقِ صادق کی ایک ماں بھی ہے جس سے یہ بے انتہا محبت کرتا ہے ،شب و روز بوڑھی اور بیمار والدہ کی خدمت میں حاضر رہتا ہے ، پیکر رحمت کو اپنی بارگاہ میں اُس کی حاضری سے زیادہ ماں کی تیمارداری کیلئے اُس کا حاضر رہنامحبوب تھا …اُس کیلئے تو ایک ایسا ’’اعزاز‘‘ لکھا جاچکا تھا جو اِس روئے زمین پر کسی کو حاصل ہوا ہے اور نہ ہوگا…


سائنس دانوں نے اِس راز سے تو پردہ اُٹھادیا ہے کہ بارش کے بعد زمین سے سوندھی خوشبو کیوں اُٹھتی ہے؟…یہ خوشبو تین مختلف عوامل سے مل کر بنتی ہے …پہلا عنصر ہے اوزون گیس … گو کہ یہ سطح زمین کے قریب نہیں پائی جاتی مگر موسلادھار بارش کے دوران جب بجلی کڑکتی ہے یا الٹراوائلٹ روشنی آکسیجن پر پڑتی ہے تو اِس کے مالیکیول ٹوٹ جاتے ہیں اور آکسیجن کے آزاد جوہر(ایٹم)اِس کے مالیکیولز کے ساتھ مل کر تین ایٹم والا نیا مالیکیول بنادیتے ہیںجو کہ اوزون ہے اور یہ محدود تعداد میں ہمارے ماحول میں شامل ہوجاتی ہے جس کی تیز خوشبو دل و جاں کو معطر کر دیتی ہے …

دوسرا عنصر زمین میں پائے جانیوالے بیکٹیریاز ہیں جو خشک موسم کے دوران ’’جیوسمین ‘‘ نامی کیمیکل پر مشتمل اجزا مٹی میں پیدا کرتے ہیںاور جب بارش ہوتی ہے تو یہ کیمیکل آزادہو کر فضا میں گھل مل جاتے ہیں اور پھر ہم اُن کی خوشبو محسوس کرنے لگتے ہیں…اور تیسراعنصر وہ ’’روعنیات‘‘ہیں جو پودوں سے خارج ہوکر فضا میں شامل ہوجاتے ہیںاور جب اِن کے ساتھ بارش کا پانی ملتا ہے تو اِن سے مخصوص قسم کے کیمیکلزہوا میں خارج ہوتے ہیں …لیکن سوندھی خوشبو تب آتی ہے جب اِن تینوں کا ملاپ زمین پر گر کر ہوتا ہے …اور اِن کی اِسی عاجزی کے سبب مٹی سے وہ فطری خوشبو اُٹھتی ہے جو ہر دل کو ایک ہرے بھرے باغ میں بدل دیتی ہے …اسلام بھی ’’دینِ فطرت ‘‘ ہے …

آمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل دل خشک بھی تھے اور بنجر بھی، ٹوٹے ہوئے بھی تھے اور سخت بھی تھے مگر جب اخلاقِ نبوی کی برکھا اور توحید کی موسلا دھار بارش ہوئی تورب ذوالجلال کی محبت فرطِ مسرت سے یوں کڑکی کہ نورانی ہالوں نے گمراہوں کو رہنما عطا کردیااور خودساختہ معبودیت کے تمام بت ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئے جن سے ایمان کے جوہر نے پہلی خوشبو ’’خود سپردگی‘‘ کی پیدا کی اور ایمان والے ایک معبود کے آگے سرنگوں ہوگئے… دوسری خوشبو تب پیدا ہوئی جب جاں نثاروں نے ماں باپ، اولاد، دھن دولت، تمام انسانوں یہاں تک کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر رسولِ خدا کو اپنا محبوب بنا لیا اور پھر نفس کی قید سے آزاد ہوکر جب بخوشی مصطفی کے غلام ہوئے توبارانِ رحمت نے اِنہیں اِس طرح سے ’’تَر‘‘ کیا کہ دوسری خوشبو ’’اتباع‘‘ نے جنم لے لیا… تیسری خوشبو کی ولادت کچھ اِس طرح سے ہوئی کہ ایمان کے پودے کی شاخوں پر عشق کے پھولوں سے خارج ہونیوالے روعنیات ایمان کی فضا میں شامل ہوکر عطائے ربِ ذوالجلال کا انتظار کرنے لگے اور پھر جیسے ہی توفیق کے بادلوں سے قبولیت کے قطرے برسے تو تیسری خوشبو’’جاں نثاری‘‘ فضا میں سانسیں لینے لگی …بس اِسی کے پیدا ہونے کی دیر تھی کہ خودسپردگی،اتباع اور جاں نثاری نے فضا کو اپنی اپنی خوشبوؤں سے ایسا سجایا کہ وہ خوشبو اُمڈ آئی کہ جس کا ہر عاشق کو انتظار تھا یعنی ’’جنت کی خوشبو‘‘…

شاید اِسی لیے وہ عاشق جہاں رہتا تھا وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’جنت کی خوشبو‘‘ آیا کرتی تھی اور غالباً اِسی بنا پر اللہ کے رسول نے دو جنتیوں کو جنت کی خوشبو کی جانب یہ نصیحت کر کے ایک ساتھ روانہ فرمایا تھا کہ ’’اے میرے عمرؓ اور اے میرے علیؓ! یمن پہنچ کر جب میرے عاشق اویس قرنیؓ سے ملنا تو اُسے میرا سلام پہنچانا اور اپنے حق میں دعا ضرور کرانا ‘‘…واللہ یہی ہے وہ اعزاز، بے شک یہی ہے وہ اعجاز جس نے یمن کے اویس قرنی ؓ کو خواجۂ خواجگان بنا دیا… ہم گناہ گار تو سرکار کو سلام پہنچاتے ہیں اور سرکار اپنے غلام کو کس پیار سے سلام کہلواتے ہیں…نگاہِ ناز سے دیکھیے تو سلام کہلوانے والااللہ کا محبوب، سلام پہنچانے والے محبوب کے محبوب اور جسے پہنچایا جا رہا ہے وہ ہر عاشق کا محبوب…تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ محبوب کا مسکن جَل رہا ہو،اُس کے گھر میں آگ لگی ہو، راہیں نعشوں سے پَٹی پڑی ہو، چیخ و پکار سے دل پھٹے جا رہے ہوں اور ہم بے حِس و حرکت تماشائی بنے صرف اِس وجہ سے خاموش رہیں کہ یہ سعودی عرب اور ایران کا معاملہ ہے !!!

نہیں جناب! یہ عشق کا معاملہ ہے ، یہ عقیدے اور عقیدت کا معاملہ ہے ،یہ خوشبوئے مصطفی کا معاملہ ہے، یہ اُن گلیوں کا معاملہ ہے جہاں میرے مولا علی اور میرے فاروقِ اعظم ایک ساتھ گھومے پھرے تھے… ختمی مرتبت نے 1430ء برس قبل یہ سفر کروا کے ’’دست و گریباں‘‘ ہونے والوں کوبتلادیاتھا کہ عمرؓ اور علیؓ کے نام پر الگ الگ ہوکر اپنے ہی ایمان کو توڑنے والوں ذرا غور سے دیکھو کہ دونوں کس طرح سے جُڑے ہوئے ہیں…طویل سفر ہمیشہ جگری دوستوں کے ساتھ ہی ہوا کرتا ہے، طریقوں اور نظریوں میں اختلاف ’’ساتھی‘‘ہوتا ہے اور نا ہی ’’ساتھ‘‘ دیتا ہے … مگر یہ تو ’’ساتھی‘‘ بھی ہیں اور ایک دوجے کا ’’ساتھ‘‘ بھی دیتے ہیں…عمرؓ کہتے ہیں کہ ’’علی ؓنہ ہوتا تو عمرؓ ہلاک ہو جاتا‘‘…

عمرؓ کہتے ہیں کہ ’’اے علیؓ! میں آپ کے ہاتھ چوم کر آپ کو اپنا مولا تسلیم کرتا ہوں کیونکہ میرے رسول ﷺنے فرمایا ہے کہ ’’جس کا میں مولا اُس کا علیؓ مولا‘‘…عمر ؓکہتے ہیں کہ ’’اللہ مجھے ایسی سرزمین پر زندہ نہ رکھے جہاں علیؓ نہ ہوں‘‘ اور علیؓ کہتے ہیں کہ ’’یا عمرؓ! میں نے آپ سے بڑھ کر کسی کو شریعت کا پابند نہیں پایا‘‘…علیؓ کہتے ہیں کہ ’’عمرؓ کے تمام کام صحیح ہوتے ہیں‘‘…علیؓ کہتے ہیں کہ ’’حق تو عمر ؓ کی زبان پر جاری رہتا ہے‘‘… اورعلیؓ تو عمرؓ کی شہادت پر زاروقطار آنسو بہاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ’’عمر ؓکی شہادت اسلام میں ایک ایسا شگاف ہے جو قیامت تک پُر نہیں کیا جاسکے گا‘‘…یہ ساتھی ساتھ آئے تھے، یہ ساتھی ساتھ اُٹھیں گے…یمن فاروقِ اعظمؓ کا بھی ہے اورحیدرِ کرارؓ کا بھی …

بس تلاش کرو اُن غلیظ اورمکروہ ہاتھوں کو جنہوں نے فرقے کی بنیاد پریمن میںسرکار کے غلاموں کو گتھم گتھا کر کے مدینہ و نجف کے دو ستاروں کو بھی بے آرام کردیا ہے… نبی کی محبت کا دَم بھرنے والو! یمن کے سفر کے راز کو سمجھو! کیا علی ؓ اور عمر ؓ کا ساتھ جانا تمہیں’’ساتھ‘‘ نہیں دِکھتا؟ دونوں نے ایک ساتھ کتنی باتیں کی ہوں گی… اُن کا قیام بھی کیا خوبصورت قیام ہے اوراُن کا سفر بھی کیا حسَین سفر ہے اور اُن کی منزل بھی کیا اعلیٰ منزل ہے کہ صحیح مسلم میں عبداللہ ابن مسعود ؓفرماتے ہیں کہ ’’میرے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی جانب اشارہ کیا او ر پھر فرمایا ’’سنو! ایمان وہاں ہے‘‘ اور حضر ت ابوہریرہؓ اِرشاد فرماتے ہیں کہ ’’اہل یمن آئے ہیں، اِن کی طبع نازک اور یہ دل کے نرم ہیں، ایمان یمنی ہے ،فقہ یمنی ہے ،حکمت یمنی ہے‘‘…پھر ایک اور مقام پر فرمایا کہ ’’ایمان یمنی ہے، کفر مشرق کی جانب ہے، سکینت بکری والوں میں ہے،تکبر اور دکھاوا ہانکا لگانے والے،خیموں میں رہنے والے اونٹوں والوںمیں ہے‘‘ اور ایک اور روایت کے مطابق’’تکبر اور غرور خیموں میں رہنے والوں، اونٹوں کے پیچھے چلّانے والوں میں ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی سمت میں رہتے ہیں‘‘

سعودی عرب اور ایران کے ’’فانی طاقت وروں‘‘ کو حی و قیوم اور غالب و قدیر کی قدرت کا واسطہ!مل بیٹھیے اور کوئی حَل نکال لیجیے کیونکہ ہمارے آقا کو اب یمن سے جنت کی خوشبونہیں بارود کی بو آرہی ہے ‘‘…!!!

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.