.

علی عبداللہ صالح نے اپنے بیٹے کو کیسے جلا دیا

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کا بیٹا حالیہ دنوں میں غیر معمولی طور پر زخمی ہوا تو اس کے جسم کا نصف سے زائد حصہ جل گیا۔ اس کے باوجود علی عبداللہ صالح ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے اتحادی ہیں اور یمن میں کئی ماہ پہلے شروع ہونے والی بدامنی کے ماسٹر مائنڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ صالح جس کی حالت ایک زخمی لومڑی کی سی ہے اسے سب سے پہلے اس کی اپنی انٹیلی جنس نے ہی دھوکہ دیا تھا۔ جس کے بعد ہزاروں شہری ملک کی گلیوں میں صالح کی حکومت سے برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ چالیس سال تک قائم رہنے والی حکومت ہر طرح سے اپنی ساکھ کھو بیٹھی تھی۔ جس طرح کے انقلاب کی آگ نے خود صالح کو جلا کے رکھ دیا تھا۔ اب وہ اپنے بڑے بیٹے احمد کے سیاسی مستقبل کو بھی جلتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ جس کے حق میں صالح نے صنعاء میں ایک ہفتہ قبل مظاہرے کا منصوبہ بنایا تھا کہ اہل یمن اسے صدر مقرر کریں۔

صالح کے اس سازشی منصوبے کو کس چیز نے ناکام بنایا ہے کہ اس نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کو کیا خفیہ پیغام بھیجا ہے۔ یہ خفیہ خط یمن پر سعودی فضائی کارروائی شروع ہونے کے بعد ایک یمنی ٹی وی پر سابق صدر صالح کا انٹرویو آن ائیر ہونے پر سامنے آیا۔ صالح نے دعوی کیا تھا کہ وہ غیر جانبداری اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرے گا، جیسا کہ وہ ہمیشہ ہی ایک سیاسی حل کی بات کرتا رہا ہے۔ نیز وہ اور ان کا خاندان اقتدار کی ہوس نہیں رکھتا ہے۔ وہ یمنی عوام کے سامنے معصوم بن کر آیا اور باغیانہ جنگ میں اپنی عدم شمولیت کا دعوی کرتے ہوئے خود کو معصوم کے طور پیش کیا۔ جس کا حقیقتا وہ ذمہ دار ہے۔ اس کے جھوٹوں نے ریاض کو اس خط کو افشاء کرنے پر مجبور کر دیا جو اس نے اپنے بیٹے احمد کے ذریعے شہزادہ محمد بن سلمان کو بھجوایا تھا۔ العربیہ نیوز چینل نے اپنی خبر میں تفصیل دی ہے کہ کس طرح سعودی فضائی کارروائی شروع ہونے سے پہلے سابق صدر صالح نے اپنے بیٹے کو سعودی عرب بھیجا کہ وہ ایک معاہدے کی کوشش کرے۔ ایک ایسے معاہدے کی کوشش کرے جو مسلمہ طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کے حوالے سے ہو اور اپنے کئی مطالبات کی منظوری کی صورت میں وہ حوثیوں کے ساتھ قربت کو ختم کر دے گا۔

اس کے پیش کردہ مطالبات میں یہ بھی شامل تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سابق صدر پر عاید کردہ پابندیاں ختم کرے۔ ان پابندیوں میں سابق صدر کے سفر پر لگائی گئی پابندیوں کے علاوہ اس کے یمن میں اثاثے اور غیر ملکی بنکوں میں منجمد کیے گئے اکاونٹس بھی شامل ہیں۔ یہ بھی مطالبہ شامل تھا کہ اس کے بیٹے کو حکومت کا حق دیا جائے۔ ان رازوں سے پردہ اٹھانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ اہل یمن کو یہ بتا دیا جائے کہ سابق صدر کا اصلی چہرہ کیا اور وہ کن چیزوں کے لیے سودے بازی کرنا چاہتا ہے۔ نیز یمنی عوام کو یہ باور کرانا مقصود تھا کہ سعودی عرب نے اس کی کوئی بات مانی نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا اصل مقصد اپنے حوثی اتحادیوں کو دباو میں رکھنا تھا۔ تاکہ یمن پر مکمل کنٹرول پانے سے پہلے وہ خلیجی ممالک اور اقوام متحدہ کی طرف سے شروع کرائے گئے عبوری سیاسی عمل میں رخنہ ڈال سکے۔ لیکن سعودی عرب نے اسے انکار کرتے ہوئے فضائی کارروائیاں شروع کر دیں۔

صالح بطور یمنی لومڑی

ماضی میں ہم سابق صدر یمن کو یمن کی لومڑی کا نام دیتے رہے ہیں جبکہ وہ خود کو سانپوں کے سروں پر ناچنے والا بتاتا رہا ہے۔ کیونکہ سالہا سال تک اس کی حکومت مکاری کی وجہ سے چلتی رہی ہے نہ کہ ملکی اداروں کی بدولت۔ اس نے ایسا اس وقت تک کیا جب تک یمنی عوام دوہزار گیارہ میں بغاوت کر کے اس کے سامنے نہ کھڑے ہو گئے۔ اس کے باوجود اس نے اقتدار چھوڑنا تب تک قبول نہ کیا جب تک کہ لوگوں نے سعودی عرب سے واپسی پر اسے زبردستی نہ اتار پھینکا اور اسے ایک مسجد میں بم دھماکے میں سے نشانہ بنایا ۔ جس سے وہ جل بھی گیا۔ اس نے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے ساتھ سازش کر کے ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا۔ وہ یمن کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے اور خلیجی ممالک کو ایران سے ٹکراو کی صورت میں لا کر مشرق وسطی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

لیکن واقعہ یہ ہے کہ یمن کے سابق صدر کی مکاری سعودی عرب میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ کیونکہ سعودی خوب جانتے تھے کہ وہ ایک مکار شخص ہے۔۔ سعودی سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے اور یمن کے لوگوں کے لیے جو بھی بہتر ہے اس پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے جیسا کہ خلیجی ممالک اور اقوام متحدہ پہلے ہی مفاہمت کے لیے کوشاں ہیں، کیونکہ صرف اسی صورت میں وہ یہ ضمانت دے سکتے ہیں کہ یمن صرف عبداللہ صالح اور ان کے بیٹے کے لیے نہیں ہے ۔ یہ آپشن ہی صالح کے لیے بھی بہترین ہو سکتی ہے کہ صمفاہمت یمن کے استحکام کے لیے اختیار کی جائے۔ بجائے اس کے یمنی استحکام کو سبوتاژ کیا جائے۔ اگر وہ ایسا کرے تو اس سے وہ اہل یمن کے لیے ایک بزرگ کی حیثیت اختیار کر جائے گا اور اس کے بیٹے احمد کا مستقبل بھی بہتر ہو جائے گا۔ جو امکانی طور پر مسقبل میں ملک کے قائد کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

لیکن اس تنہائی کا شکار ہوجانے والی لومڑی کی حماقت یہ ہے کہ اس نے اپنے حال کو اور اپنے بیٹے کے مستقبل کو تباہ کر لیا ہے۔ وہ سعودی رد عمل کا اندازہ کرنے میں شروع سے ہی ناکام رہا ہے۔ اس کی شیطانی مکاری نے اسے حوثیوں کو استعمال کرنے کی طرف مائل کر دیا۔ اسے اعتماد تھا کہ اس طرح اس کے اور اس کے بیٹے کے لیے اقتدار کی راہ ہموار ہو جائے گی، لبنان میں حزب اللہ کی طرح کسی سے ڈرائے گئے بغیر قتل کر سکتے ہیں، تباہی مچا سکتا ہے، مداخلت کر سکتا ہے اور جائز حکومت کو منسوخ کر سکتا ہے۔ تاہم وہ سعودی عرب کی فیصلہ کن پالیسی سے حیران ضرور ہوا اور اس امر کو ماننے کو مجبور ہوا کہ سعودی اس کی سوچ سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ صالح کا دعوی تھا کہ کوئی غیرملکی فوجی اقدام اس کے خلاف نہیں ہو سکتا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ خلیجی ممالک میں اختلافات ایسے ہین کہ کسی بھی فوجی اقدام کی راہ میں رکاوٹ رہیں گے اور امریکا بھی سعودی مداخلت کو نہیں مانے گا۔ صاف ظاہر ہے وہ اس وقت ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات مین پھنسا ہوا ہے۔ یہ صالح کے لیے حیران کر دینے والی بات تھی کہ سعودی عرب نے بہترین فوجی، سیاسی اور قانونی اقدامات کا فیصلہ کیا۔ فیصلہ کن طوفان نے قطریوں کو بھی اماراتیوں کے ساتھ کھڑا کر دیا ۔ اور مصریوں اور ترکوں کی بھی حمایت حاصل کر لی۔

صالح نے یہ بھی دیکھا کہ امریکی شاہ سلمان کو عوامی سطح پر حمایت دینے کے لیے کس طرح لپکے۔ امریکیوں نے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کر دی۔ عرب لیگ کی حالیہ سربراہ کانفرنس عملا یمن کے صدر ہادی کی غیر معمولی حمایت کا ذریعہ بن گئی۔ ہادی کا والہا نہ خیر مقدم کیا گیا اور ہادی نے اپنی تقریر یمنی عوام کی نمائدگی کرتے ہوئے کی۔ لیکن اس سارے عمل کے دوران صالح اپنی افواج کے خلاف فوجی آپریشن سے چھپتے پھر رہا ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.