.

وہی خدا ہے‘ وہی خدا کا گھر

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ا حمدالعسیری نے روزانہ کی بریفنگ میں بتایا ہے کہ پاکستان کی فوج سعودی عرب کی مدد کے لئے آ رہی ہے۔ اس بریفنگ کی خبر الشرق الاوسط نے شائع کی ہے۔

تو کیا وزیر دفاع خواجہ آصف کی کمان میں بھیجا گیا وفد صرف پاکستانی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ریاض پہنچا ہے۔اس وفد سے کہا گیا ہے کہ فوج بھجنے کا انتظام کرے۔

پاکستان میں ایک لابی رائی کا پہاڑ بنا رہی ہے، عالم اسلام کو خوفزدہ کرنے کے لئے حرمین شریفین کی سکیورٹی کا ایشو کھڑا کر رہی ہے۔

صنعا سے مکہ کا فاصلہ آٹھ سو کلو میٹر ہے اور عدن سے گیارہ سو کلو میٹر۔ حوثی قبائل کتنے ہی لڑاکا کیوںنہ ہوں، انہیں یہ فاصلہ طے کرنے کے لئے سات آسمانوں کو عبور کرنا پڑے گا۔

قرآن بتاتا ہے کہ اسی صنعا سے ابرہہ نامی ایک شخص مکہ کے نواح میں خیمہ زن ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار کا لشکر تھا اور اس نے راستے میں ہر سعودی قبیلے کو روند ڈالا تھا، مکہ کے پہاڑوںمیں قریش کے سردار عبدالمطلب کے دو سو اونٹ بھی ا س نے قبضے میں لے لئے اور پھر اہل مکہ کو پیغام بھیجا کہ وہ لڑنے نہیں آیا، صرف کعبے کو ( نعوذ باللہ) مسمار کرنے آیا ہے۔

اصل میں ابرہہ کو کعبے سے پرخاش یہ تھی کہ یہاں ہر سال حج کے موقع پر ایک بڑا اور عالی شان اجتماع کیوں ہوتا ہے۔ اس نے پہلے تو کوشش کی کہ صنعا میں ایک گرجا گھر تعمیر کر کے اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا جائے۔ اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی، اس نے سازش کے تحت گرجا مسمار کر دیا اور اعلان کیا کہ اسے مسلمانوں نے ڈھایا ہے اور وہ اس کے بدلے میں کعبے کو ڈھادے گا۔

یمن ان دنوں حبشہ کے زیر نگیں تھا، ابرہہ شاہ حبشہ کے گورنر کے طور پر صنعا میں سیاہ و سفید کا مالک۔ حج بیت اللہ کا منظر بڑا دلفریب، ایمان افروز اور متاثر کن ہے مگر غیر مسلموں کے لئے حسد کا باعث بنتا رہا۔ آج بھی ہے۔

ابرہہ اسی حسد کی آگ میں جل بھن کر مکہ کے سامنے منی اور مزدلفہ کے درمیان محسر کے مقام پر ہاتھیوں پر سوار ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ خیمہ زن ہوا تھا۔یہ واقعہ حضورﷺ کی بعثت مبارکہ سے صرف پچاس د ن قبل پیش آیا۔سردار عبدالمطلب نے ابرہہ سے مذاکرات کے لئے روانگی سے قبل مکہ کے سرداروں کو اکٹھا کیا اور وارننگ دی کہ اہل مکہ اس جارح لشکر سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے،ا سلئے اپنے سازو سامان ا ور مویشیوں کے ساتھ پہاڑوں کی گھاٹیوںمیں چھپ کر جان بچائیں۔

سردار عبدالمطلب کی وجاہت سے متاثر ہو کر ابرہہ نے خیمے سے باہر نکل کرا س کا استقبال کیا۔اور پوچھا، آپ کیا چاہتے ہیں۔ عبدا لمطلب نے کہا ، میرے دوسو اونٹ واپس دے دیں۔ ابرہہ حیران ہو اکہ کعبہ کے متولی نے اللہ کے گھر کے بارے میںکوئی التجا فریاد نہیں کی۔ اس نے حیرت سے پوچھا کہ آپ نے کعبہ کے بارے میں کوئی بات کیوںنہیں کی۔قریش کے سردار نے کہا کہ میںاونٹوں کا مالک ہوں، میںنے ان کا سوال کیا ہے، جو کعبہ کا مالک ہے وہ جانے ا ور آپ جانیں۔

اور اہل مکہ نے دیکھا، وہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ جیسے ہی ابرہہ نے ہاتھیوںکے ساتھ پیش قدمی شروع کی تو فضا میں غول در غول پرندے نمودار ہوئے، انکے پنجوں میں کنکریاں تھیں اور وہ تاک کر ابرہہ کے لشکر کو نشانہ بنا رہے تھے، قرآن کہتا ہے کہ ابرہہ کا انجام اس چارے سے جیسا ہوا جو جانور کھانے کے بعد چھوڑ دیتے ہیں، اردو محاورے کے مطابق اصحاب فیل کا بھرکس نکل گیا۔

وہی خدا ہے ، وہی خدا کا گھر۔تو ڈراتے کس کو ہو۔ خدا کسی سے نہیں ڈرتا اور وہ اپنے گھر کی حفاظت کے لئے کسی کا محتاج بھی نہیں۔

ہاں ، یمن میں خانہ جنگی کا ساماں ہے، وہاں ایک صاحب مسلسل تیس چالیس برس اقتدار میں رہے، عرب بہار کے جھونکے اسے لے بیٹھے ، ایک حکمران اور آیا اورا سے حوثی قبائل نے صنعا سے نکلنے پر مجبور کر دیا،وہ جان بچا کر عدن چلا گیا، وہاں سے نکل کر سعودیہ۔

یہ اقتدار کی جنگ ہے، صنعا میں کس کی حکمرانی ہو، اس کا فیصلہ کرنے کے لئے عرب اتحاد کی فوجیں حرکت میں آ چکی ہیں۔ حکومت پاکستان بھی صنعا کے معاملے میں دلچسپی رکھتی ہو تو یہ بھی شوق پورا کر لے، عرب فضائیہ کے نشانہ باز وں کی مہارت کا عالم یہ ہے کہ سعودی سرحد کے قریب ایک یمنی مہاجر کیمپ پر بمباری فرما دی۔ یہ لوگ حوثیوں کی قتل و غارت سے جان بچا کر نکلے تھے، اسے کہتے ہیں، آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا۔

مگریہی عرب لیگ کے حکمران صدام حسین کے خلاف تھے، ا ور اب شام کے حکمران کو بھی ہٹانا چاہتے ہیں۔ترکی بھی ان کے ساتھ ہے۔انہی عرب لیگ کے حکمرانوں کی ا ٓنکھوںکے سامنے قبلہ اول اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا۔اور اگر کشمیر کو کوئی مسلمانوںکا خطہ سمجھتا ہے تو یہ بھی بھارتی فوجوں کے بوٹوں تلے کراہ رہا ہے۔اور کوئی ان کی مدد کے لئے آواز تک نہیں اٹھاتا، پاکستان دو لخت ہو گیا، کوئی مسلمان ملک اس مملکت خداداد کی سیکورٹی کے لئے آگے نہ بڑھا۔عرب لیگ کے سامنے لیبیا کے کرنل قذافی کو نیٹو طیاروںنے میزائل کا نشانہ بنایا۔ مصر میں حسنی مبارک کا تختہ الٹا گیا ور پھر ا گلے منتخب مصری صدر مرسی کو حوالہ زنداں کر دیا گیا۔

عرب اتحاد کے بحری جہازوں کی طاقت نے یمن کی بندر گاہوںکو گھیرے میںلے لیا ہے۔ صنعاا ور دوسرے بڑے ہوائی اڈوںکے رن وے بمباری سے بے کار کر دیئے گئے ہیں، اسی لئے اب محصورین کو نکالنے کے لئے پاکستان، بھارت اور چین کو فریگیٹ بھیجنے پڑے ہیں۔ پہلے روز تو ہمارا جمبو بھی وہاں اتر گیا تھا۔اور ہم نے ایک ایئر بس کا عملہ بھی طلب کر لیا تھا۔

یمن کی قانونی اور جائز حکومت کو بحال ہونا چا ہئے ، اگر اس کا واحد راستہ یہی ہے جو عرب اتحاد نے اختیار کیا ہے تو چلئے، اسی طور صنعا میں قانونی اور جائز حکومت کی بحالی عمل میںآجائے اور جھگڑا ختم ہو۔مگر جھگڑا شاید یہ نہیں ہے اور اصل جھگڑا عرب اتحاد کی بمباری کے بعد سے کھڑا ہوا ہے۔ خدا اس جھگڑے سے ہر کسی کو محفوظ رکھے اور خدا اپنے گھر کی بھی حفاظت کرے۔کہ خدا بھی وہی ہے اور خدا کاگھر بھی وہی۔

مگر پاکستانی عوام نے کیا گناہ کیا ہے کہ ڈیڑھ ارب سعودی ڈالر بھی آ گئے، عالمی مارکیٹوںمیں تیل کی قیمتیں بھی نیچے چلی گئیں۔ مگر حکومت نے قیمت بڑھاد ی ہے۔ بھارت نے قیمت گھٹائی ہے۔یہ کیا طرفہ تماشہ ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.