.

یمن کی بھڑکتی آگ بجھانے میں پاکستان کا کردار

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حسین ! ’’تم پاکستانی خانہ کعبہ کے باب ملتزم پر اتنا روتے کیوں ہو؟‘‘ میں نے اپنے مصری دوست کو جواب دیا اس لئے کہ ہم آہ وزاری کے ساتھ ربِ کعبہ سے بخشش کی دعا مانگتے ہیں ۔ تم لوگوں کی رگ اشکبار پتھر کی ہو چکی ہے اس لئے تمہاری آنکھ نمناک ہی نہیں ہوتی۔ اسی طرح پاکستانی مسلمان مدینہ منورہ پر فدا ہوتے ہیں اور روضہ رسول ﷺ کے سامنے آبدیدہ ہو کر سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے عوام وخواص بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستانی حرمین شریفین سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں اور مشکل کی کسی بھی گھڑی میں پاکستانی عوام ،پاکستانی حکومت اور پاکستانی افواج ارض حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔

ایٹمی دھماکوں کے بعد اس وقت کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز پاکستان کے دورے پر آئے تو اُن کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب بعض عالمی طاقتوں نے ہمارا حقہ پانی بند کر رکھا تھا اس موقع پر ایک صحافی نے شہزادہ عبداللہ سے سوال کیا کہ آپ نے پاکستان کی کیسے مدد کی۔ تو سعودی ولی عہد نے بغیرکسی توقف کے جواب دیا کہ ہم نے پاکستان کی ایسے مدد کی جیسے ایک بھائی دوسرے بھائی کی مدد کرتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان نے بھی مشکل کی ہر ساعت میںسعودی عرب کا ساتھ دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ حرم کی حفاظت کا مرحلہ ہو یا سعودی عرب کی سرحدوں کی نگرانی کا معاملہ ہو یا بیرونی حملوں کا کوئی خدشہ ہو پاکستان سعودی عرب کے حفاظتی حصار میں ہمیشہ پیش پیش دکھائی دیتا ہے ۔ اس لئے ہمارے دینی جذبات اور دوطرفہ تعلقات کا تقاضا یہی تھا کہ ہم سعودی عرب کی ایک پکار پر لبیک کہتے ۔ تاہم تاثر ہے کہ وزیراعظم نے اس معاملے پر پہلے ہی اجلاس میںسعودی عرب کے یمن میں آپریشن کی حمایت کی اور اپنی فوج بھجوانے پر آمادگی کا اظہار کیا حالا نکہ جمہوریت میں مطلق العنانیت نہیں ہوتی۔اس لئے پارلیمنٹ کے اجلاس کے بغیر کیسے اتنا بڑا فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔

مجھے نہایت افسوس سے یہ لکھنا پڑرہا ہے کہ یمن کی حقیقی صورتِ حال کے بارے میں یہاں عوام ہی نہیں صحافتی اورحکومتی حلقوں کو بھی کماحقہ آگاہی نہیں گزشتہ دس گیارہ برس سے یمن میں حوثی قبائل اور حکومت کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ حوثی قبائل کے معاملات کسی حد تک طے پا گئے تھے مگر پھر چند نکات پر اختلاف ہو گیا جو بڑھتے بڑھتے جنگ کی صورت اختیار کر گیا۔ شمالی یمن میں 1962ء کے انقلاب سے پہلے ایک ہزار سال تک یہاں زیدی اماموں کی حکومت رہی۔ زیدی ،شیعہ مسلک کی ایک شاخ ہے ۔اُن کا کہنا یہ ہے کہ جب سے اقتدار ہمارے ہاتھ سے نکلا تب سے یہاں کی حکومت نے شمال میں سعادہ کے علاقے کوبہت زیادہ نظر انداز کیا۔حوثی قبائل زیدی فرقے کے ترجمان کے طور پر ابھرکر سامنے آئے ہیں ۔

بعض کلیدی اہمیت کے علاقوں اور ہوائی اڈوں پر حوثی قبائل کے قبضے کے بعد صدر ہادی جان بچا کر پہلے عدن پہنچے اور پھر وہاں سے کسی نہ کسی طرح ریاض چلے گئے اور اب وہیں پناہ گزین ہیں۔ اگرچہ دستوری طور پر یمن میں کثیر الجماعتی نظام قائم ہے مگر عملی طور پر وہاں عوامی کانگریس نامی ایک ہی پارٹی کئی دہائیوں سے اقتدار پر قابض ہے ۔ امریکہ میں ایک عرب ملک کے سفیر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک یمن کے لوگوں کی حفاظت اور صدر ہادی کی قانونی حکومت بچانے کے لئے یمن پر بمباری کر رہے ہیں۔ اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ بعض عرب ملک ہر قانونی حکومت بچانے کے لئےعملی قدم اٹھانے کو جائز سمجھتے ہیں تو پھر انہوں نے مصری صدر محمد مرسی کی منتخب حکومت بچانے کے لئے مصر پر کوئی فضائی حملہ کیا اور نہ ہی کوئی اور زبانی یا عملی کوشش کی۔ اس کے برعکس بعض خلیج کے ممالک نے منتخب حکومت کو ظلم وجبراورٹینکوں اور توپوں سے ختم کرنے والے جنرل السیسی کی غیر قانونی حکومت کی بھرپور مدد کی اور اسے 12 بلین ڈالر کی مالی امداد دی۔رپورٹ کے مطابق یہ کوئی مذہبی یا فرقہ وارانہ آویزش نہیں بلکہ حوثی قبائل کے بنیادی مطالبات میں حکومت کی ناقص کارکردگی ،کرپشن کا خاتمہ ،بجلی وگیس کی بلارکاوٹ دستیابی ،پٹرول کی مناسب قیمتیں اور نوجوانوں کو روزگاری کی فراہمی شامل ہیں۔

کچھ لوگ حیرت زدہ ہیں کہ سعودی عرب اپنی روایتی ’’خاموش سفارت کاری ‘‘ اوردلداری سے اس بار کام کیوں نہیں لے رہا۔ یمن کے ساتھ سرحدی اختلافات کوئی آج کی بات نہیں ۔ یہ اختلافات اور سرحدی جھڑپیں برسوں سے جاری ہیں مگر سعودی عرب نے ’’تالیفِ قلب‘‘ کے ہنر کو بار بار نہایت کامیابی سے آزمایا اور یمنی حکومت اور عوام کو اپنے حق میں رام کر لیا۔

عالم اسلام اور عالمِ عرب کے قائد ہونے کی حیثیت سے یقینا اسلامی دنیا کی ناگفتہ بہ صورتِ حال سعودی قیادت کی نظر میں ہو گی۔ شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے کر عالمِ اسلام کی تباہی معروف عالمی ایجنڈے کا اہم ترین نکتہ ہے۔ انہی عالمی طاقتوں نے عالمِ اسلام کا شیرازہ منتشر کرنے اور اپنے اسلحے کی فیکٹریوں کو چالو رکھنے اور اپنے ہزاروں لوگوں کو بے روزگاری سے بچانے کے لئے دنیائے اسلام میں شیعہ سنی اختلاف کو ہوا دی ہے ۔ انہی عالمی طاقتوں نے آٹھ برس تک عراق اور ایران کو باہم برسر پیکار رکھا۔

پھر عراق کو رہتی سہتی طاقت کے خاتمے کے لئے اس سے کویت پر حملہ کروادیا۔پھر اس حملے کی آڑ میں امریکہ اپنی فوجوں سمیت خلیج میں آکر براجمان ہو گیا۔ آج پھر عراق میں شیعہ سنی کے نام پر مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ شام بھی کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ شامی عوام کی بہت بڑی تعداد ہجرت پر مجبور ہوئی اورکم وبیش یہی صورتِ حال لیبیا کی ہے پاکستان بھی امن وسلامتی کے لئے کئی محاذوں پر برسرپیکار ہے اس کی فوجوں کا بہت بڑاحصہ مغربی سرحد تک مصروف عمل ہے۔اسلامی دنیا کی یہ حالت زار اس بات کی متقاضی ہے کہ شعلوں کو ہوا دینے کے بجائے باہمی نفرتوں کی آگ کومحبت ویگانگت کے جذبات سے سرد کیا جائے۔سعودی عرب تو پرائی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔

1975ء سے 1990ء تک جاری رہنے والی لبنان کی خانہ جنگی میں ایک لاکھ بیس ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ تقریباََ دس لاکھ لوگ لبنان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ابھی تک لبنان کے اندر 76 ہزار لوگ بے گھر ہیں ۔ اس طویل خانہ جنگی کو ختم کرانے میں سعودی عرب نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کے لئے دس ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہونے والے طائف کے خوبصورت کانفرنس پیلس میں جنوری 1989ء میں لبنان کی متحارب جماعتوں اور گروہوں کے درمیان امن قائم کرنے کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا ۔میں ان دنوں طائف میں ہی مقیم تھا مجھے آج تک یاد ہے کہ ان تاریخی لمحات میں عرب قائدین کتنے خوش تھے۔یمن میں لگی آگ اگر بھڑک اٹھی تو وہ سعودی عرب سمیت بہت سے ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

عالم اسلام کے تین اہم ترین ممالک جن میں سعودی عرب ،پاکستان اور ترکی شامل ہیں وہ بعض طاقتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔ اس لئے ان ملکوں کو بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھانا چاہئے ۔ پاکستان سعودی عرب پر واضح کرے کہ خدانخواستہ حرمین شریفین یا آپ کی سرحدوں کو کوئی خطرہ ہوا تو آپ ہمیں سب سے آگے پائیں گے ۔ تاہم حق دوستی نبھاتے ہوئے ہم یہ عرض کریں گے کہ سعودی عرب مسلم دنیا کے قائد کی حیثیت سے سب کو ساتھ لے کر چلے اور شعلوں سے اپنے دامن اور اپنے علاقے کے دامن کو محفوظ رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے۔پاکستان آگے بڑھ کر ترکی کے تعاون سے فی الفور او آئی سی کا سربراہی اجلاس بلائے اور نہ صرف یمن میں لگی آگ کو افہام وتفہیم سے بجھائے بلکہ عراق ،شام اور لیبیا میں لپکتے شعلوں کو سرد کرنے کا بھی بندوبست کرے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.