''فیصلہ کن طوفان'' سے پہلے خاموشی

فیصل جے عباس
فیصل جے عباس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

یمن میں حوثی ملیشیا کی فوجی صلاحیتوں پر کاری ضرب اور ان کی جانب سے غیر قانونی طور پر اقتدار پر قبضے کی کوششوں کو روک لگانے کے لیے ''آپریشن فیصلہ کن طوفان'' کامیابی سے جاری ہے۔ایسے میں اس سے سعودی عرب کی فوری اور اچانک مداخلت سے قبل خاموشی کے مختصرعرصے میں کی جانے والی تیاریوں کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

حقیقت یہ ہے اور یہ کہنا درست بھی ہوگا کہ آپریشن فیصلہ کن طوفان کا آغاز بہت سے مبصرین کے لیے بالکل حیران کن تھا کیونکہ اس سے سعودی عرب کی وقتِ ضرورت حیران کن اور دلیرانہ فوجی حکمت عملی کے نفاذ کی بھی عکاسی ہوئی ہے۔

کالم نگار نواف عبید نے ''واشنگٹن پوسٹ'' میں اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ ''یمن میں اچانک فوجی کارروائی کے آغاز سے دنیا کو یہ پتا چل جانا چاہیے کہ سعودی عرب میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہورہی ہے اور اس کے یقیناً بہت دور رس جغرافیائی،سیاسی مضمرات ہوں گے۔

عبید ہارورڈ یونیورسٹی کے بیلفر مرکز برائے سائںس اور بین الاقوامی امور میں وزٹنگ فیلو اور ایسوسی ایٹ انسٹرکٹر ہیں۔ان کے بہ قول سعودی عرب کی نئی قیادت شاہی خاندان کے فعال اور متحرک نوجوانوں اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہے اور وہ خارجہ پالیسی کا ایسا نظریہ (ڈاکٹرائن) وضع کرنے کی کوشش کررہی ہے جس سے خطے میں طویل عرصے سے جاری کشیدگیوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔یہ ڈاکٹرائن سعودی بادشاہت کی مجاز اتھارٹی اور مسلم دنیا میں سعودی مملکت کی مرکزیت پر مبنی ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں حوثی شیعہ گروپ اور یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کے خلاف مہم کی ایران کے سوا عرب اور مسلم ممالک نے کھل کرحمایت کی ہے۔ان کے علاوہ اس کو بین الاقومی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے جبکہ ایران نے اس کے باوجود حوثی گروپ کی پشتی بانی جاری رکھی ہوئی ہے۔یہ دنیا کے ان امور میں سے ایک ہے جس کی امریکی کانگریس میں دونوں جماعتوں اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی حمایت کی گئی ہے۔

تاہم سعودی عرب کی تزویراتی پوزیشن اور اس کی مذہبی ،سیاسی اور اقتصادی اہمیت کے باوصف اس طرح حمایت حاصل ہوجانا اور ایک ٹھوس اتحاد کا معرض وجود میں آجانا کوئی ایسا اچانک رونما ہونے والا وقوعہ نہیں ہے کہ جو اس طرح راتوں رات ہی وقوع پذیر ہوجاتا۔

اس سب کے باوجود ایک ریکارڈ وقت میں اتحاد معرض وجود میں آگیا اور شاہ سلمان کے تخت نشین ہونے کے چند ہفتے کے بعد 25 مارچ کو یمن میں حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن طوفان کے نام سے آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔( یہ ایک ریکارڈ وقت ہے کیونکہ سعودی عرب جلدبازی میں فیصلوں یا فوری اقدامات کی تاریخ نہیں رکھتا ہے)۔

شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کم وبیش روزانہ کی بنیاد پر الریاض میں آنے والے دسیوں عالمی لیڈروں اور وفود سے ملاقاتیں کیں۔خاص طور پر ان کی مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی ،ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور سوڈانی صدر عمر حسن البشیر سے ملاقاتوں کی تفصیل اس سے کہیں بڑھ کر تھی جس کا سرکارکی جانب سے جاری کردہ بیانات میں اظہار کیا گیا ہے۔

ان یکے بعد دیگرے ملاقاتوں میں سعودی قیادت ترکی اور مصر جیسے روایتی حریفوں کو یہ بات باور کرانے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیں اور اب ایک مشترکہ نصب العین (کاز) کے لیے اکٹھے ہوجائیں۔ان ملاقاتوں میں سوڈان کو تہران کے ساتھ کئی سال کی گرم جوشی کے بعد دوبار عرب منظر نامے میں واپس لے آیا گیا ہے (سوڈان سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثیوں کے خلاف اتحاد میں شامل ہے اور اس نے فضائی مہم کے لیے اپنے تین لڑاکا طیارے مہیا کیے ہیں)۔

مزید برآں عوجہ محل میں شاہ سلمان کے ساتھ خلیج تعاون کونسل کے لیڈروں کی غیر رسمی ملاقات کے بعد یہ بھی نظر آتا ہے کہ قطر اور دوسرے خلیجی ممالک کے درمیان غیر مقبول محاذ آرائی بھی اب کم وبیش ختم سمجھیں۔قطر نے آپریشن فیصلہ کن طوفان کے لیے دس لڑاکا طیارے مہیا کیے ہیں اور وہ اس کی مکمل حمایت کررہا ہے۔(اومان نے اس مہم کے لیے کوئی فوجی مدد مہیا نہیں کی ہے لیکن وہ اس کی مخالفت بھی نہیں کررہا ہے۔اس نے دوسرے خلیجی ممالک کے ساتھ مبینہ طور پرعدم مداخلت سے اتفاق کیا ہے)۔

شرم الشیخ میں عرب لیگ کے حالیہ سربراہ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں مشترکہ عرب فوج کے قیام پر زوردیا گیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ حوثیوں کے خلاف مہم کے آغاز کے چند گھنٹے کے بعد ہی سعودی عرب کی شاہی فضائیہ کے ہوابازوں نے یمن کی فضائی حدود کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور حوثیوں کے متعدد سینیر لیڈروں کو بھی موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔(یہ سب کچھ ایک جانب تو شاہی فضائیہ کے پائلٹوں کی شاندار پیشہ ورانہ تربیت کا ثمرہ تھا اور دوسری جانب یہ سب کچھ حملوں سے قبل سراغرسانی کے کامیاب اور مربوط تبادلے کی وجہ سے بھی ہوا تھا)۔

یمن میں صورت حال اگر اسی طرح جاری رہتی ہے تو حوثی ملیشیا کے لیے بہترین مشورہ یہی ہوگا کہ وہ شاہ سلمان کی مذاکرات کی دعوت کو قبول کر لیں اور مزاکرات کی میز پر لوٹ آئیں اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر یمن کی تعمیر نو کا آغاز کریں۔درحقیقت عبدالملک الحوثی ،تہران میں ان کے پشتی بان اور ان کے ''لومڑ''اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک ایسی جنگ چھیڑ چکے ہیں جو وہ جیت نہیں سکتے ہیں اور وہ اس قسم کے اتحاد کے ساتھ ایک فعال اور پُرعزم سعودی عرب کے مقابلے میں اب گھر چکے ہیں۔

....................
فیصل جے عباس العربیہ انگریزی کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔ان سے ٹویٹر پر اس پتے پربرقی مراسلت کی جاسکتی ہے: @FaisalJAbbas

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں