.

ایران کا جوہری معاہدہ خطے میں تبدیلی لائے گا مگر۔۔۔۔

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں طے پانے والا فریم ورک معاہدہ ایک حقیقت ہے۔ اب اسے اس کی پابندی کے حوالے سے دیکھا جانا چاہیے۔ حتی کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تفصیلات میں جانے سے پہلے ہمیں اس کی وجہ سے افق پر ابھرنے والی نمایاں تبدیلی سے آگاہ ہونا چاہیے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اب ایران اور عرب دنیا کو کس سمت میں آگے بڑھنا ہوگا۔ اس معاہدے کو سمجھنے کے لیے اور اس کا تجزیہ کرنے کے لیے مجھے ایک سے زیادہ مضامین کا سہارا لینا پڑے گا۔ کیونکہ یہ معاہدہ کئی پہلووں پر محیط ہے اور ان کا خلاصہ پیش کرنا ایک دقت طلب کام ہے۔ اس کا ایک پہلو ان مضمرات کا ہے جو براہ راست ایران اور خطے کے ملکوں پر ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ بحرین، عراق، لبنان ، شام اور یمن اور ان کے استحکام پراثرات مرتب ہوں گے۔

نیزعلاقے کی بڑی طاقتوں سعودی عرب اور مصر پر بھی اس کے اثرات ہوں گے۔ ممکن ہے اس کی وجہ سے اسلحے کی ایک بڑی دوڑ کا آغاز ہو جائے۔ زیادہ امکان جوہری اسلحے کی دوڑ کا ہے۔ ہم اس معاہدے کو عرب دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان آئندہ کے تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ نیز اس حوالے سے بھی دیکھا جائے گا کہ آیا یہ معاہدہ خطے میں فرقہ وارانہ تصادم میں اضافے کا سبب تو نہیں بنے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں ایک ڈرامائی تبدیلی آئی ہے ، جس دروازے کے پیچھے ایران کو دنیا نے قید کر رکھا تھا اب کھلنے کے قریب ہے۔

دو نتائج

بلا شبہ مفروضوں کی بنیاد پرپالیسی سازی کرنا اور انہیں ثابت شدہ حقائق کے طور تجزیے کا موضوع بنانا غلط ہے۔ اس ناطے ممکن ہے جوہری معاہدہ ایرانی رجیم کے اندرونی اور بیرونی مخالفین کی فتح ہو۔ لیکن اگر یہ معاہدہ ایران کے جوہری اہداف کو روکنے کا ذریعہ بن گیا تو یہ ایران کی طرف سے ایک عاجزانہ سمجھوتے میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ لمحے بھر کے لیے یہ تصور کیا جائے کہ ایران پر عاید کردہ پابندیاں ختم کر کے اور ایران کو علاقے کی ایک طاقت بننے کے لیے'' فری ہینڈ'' دے دیا گیا تو ہم ایک زیادہ سنگین بحران سے دوچار ہونے کے لیے مجبور ہوں گے ، اس بحران کے نتیجے میں ایک نئے خونی دور کی شروعات ہو جائیں گی۔

اگر ایران کو جوہری منصوبے سے نہ روکا گیا اور ایرانی کی جنگی جوہر سرگرمیوں کو منجمد نہ کیا گیا یا ایران کو مغربی اقتصادی پابندیوں سے قابو نہ کیا گیا تو ہم مثبت پیش رفت نہیں دیکھ سکیں گے۔ صرف ایسا کرنے کی صورت میں ہی ایران اس معاملے میں ہتھیار پھینکنے اور مصر یا سعودی عرب کی طرح رہنے پر آمادہ ہو گا۔ ایک ایسے ملک کے طور پر جوخطے کے دوسرے ملکوں کی طرح ایک پرامن ملک کے طور پر جو اپنی سرحدوں کی حفاظت سے زیادہ کچھ نہ چاہتا ہو۔

ان دونوں نتائج کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے۔ لیکن مبصرین کی بڑی تعداد جن سے میری بات ہوئی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ پہلی صورت حال کا اندیشہ زیادہ ہے۔ کہ ایران کو خطے میں ایک بڑی طاقت بننے کے لیے'' فری ہینڈ' دے دیا جائے گا ، جس کے نتیجے میں ہم ایک بڑے بحران سے دوچار ہو جائیں گے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ عرب ملکوں کے لیے تشویش کا موقع ہے۔ اسرائیل بھی جوہری حوالے سے خوفزدہ ہے۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ معاہدہ ایران کو جوہری بم بنانے سے تو روک دے گا لیکن ایران کو جوہری بم بنانے کی صلاحیت تک پہنچنے کی موجودہ پوزیشن سے پیچھے نہیں دھکیلے گا۔ یہ معاہدہ ایران کو جوہری حوالے سے لوازمے کی تیاری کی اجازت دیئے رکھنے کے مترادف ہے۔ ایران کے پاس '' نیوکلئیر پروڈکشن چین'' بھی رہے گی، جوہری پروگرام کے لیے ضروری آلات بھی موجود رہیں گے، البتہ اس کی نگرانی کی جائے گی کہ وہ بم نہ بنائے ۔ اسرائیل چاہتا ہے ایران کو مکمل طو پر روکا جائے صرف نگرانی نہ کی جائے۔

ایرانی رجیم کی خواہش

ایران کا مغربی دنیاکے سامنے کہنا یہ ہے کہ اہل مغرب اس کی محدود قسم کی جوہری خواہش پر قدغن نہ لگائیں۔ اس خواہش پر مبنی ایرانی تصور کو سمجھئے کے لیے اوباما انتظامیہ کی پالیسی کا شامی رجیم کے جرائم کے خاتمے کے لیے پالیسی سے تقابل کروں گا۔ شام میں امریکی پالیسی کیمیائی ہتھیاروں اور زہریلی گیسز کے خاتمے کے لیے تھی۔ لیکن اس وقت تک اس جانب توجہ نہ دی گئی جب تک اڑھائی لاکھ افراد بارودی بارش ، ٹینکوں ، توپوں اور بمباری سے ہلاک نہ ہو گئے۔ اب ایران پابندیوں سے آزاد ہوگا اور جدید ترین ہتھیار خریدنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ اپنی تیل کی صلاحیتوں کو جدید بنیادوں پر استوار کر سکتا ہے اور ڈالروں میں تجارت کر سکتا ہے۔ ممکن ہے پہلی سٹیج پر ایسا کرے اور اگلے مرحلے میں مغربی دنیا کا مکمل اتحادی بن جائے۔ جیسا کہ یہ عراق اور افغانستان میں پہلے بھی تعاون دے چکا ہے۔

اس نوعیت کی ڈرامائی تبدیلیاں ایرانی رجیم کی خواہشات کو نیا رخ دے سکتی ہیں۔ جسے خطے کے بڑے حصے کو کنٹرول کرنے کے لیے جوہری طاقت کی ضرورت ہی نہ رہے۔ جیسا کہ ایرانی رجیم خطے کا ایک بڑے ملک ہونے کے خبط میں مبتلا ہے اور اس ناطے مزید مہم جوئی کا ارادہ رکھتی ہے۔

ممکن ہے یہ معاہدہ ایران سے باہر ایران کے اثرات کے بڑھاوے کا سبب بنے لیکن ضروری نہیں کہ ایرانی رجیم ملک کے اندر بھی اسی طرح خدمات دینے کی پوزیشن میں رہے۔ کیونکہ آیت اللہ کی رجیم وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہو گئی ہے۔ جہاں مذہبی آگ کا دل بھر چکا ہے وہیں انقلابی پاسداران کی سکیورٹی کے لیے کوششیں بھی پہلے بہتر ہیں۔ معاہدے میں ایرانی رجیم کو کھلے پن کی طرف لانے کو بھی شامل کیا جا نا چاہیے۔ تاہم ایران اس کے لیے ابھی تک تیار نہیں ہے۔ اسے اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کا سوویت یونین کو اپنے جوہری اسلحے میں کمی کے وقت مغرب کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے کرنا پڑا تھا اور وہ جلدی ڈھے گیا تھا۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ یہ معاہدہ تیس برسوں میں کمزور اور سیاسی اعتبار سے فرسودہ ہو جانے والی ایرانی رجیم کے لیے ایک حیات بخش بوسے کا کام دے۔ لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ معاہدہ وقت کے ساتھ ساتھ ایران کو تبدیل کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ جیسا کہ چین میں ہو چکا ہے کہ وہاں کمیونزم کے بغیر کمیونسٹ حکومتی ڈھانچہ اپنی جگہ موجود ہے اور کام کر رہا ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.