.

ایک معافی

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پہلے میرے ساتھ اس دعا میں شریک ہوجائیے کہ اللہ رب العزت غرور اور تکبر کی بیماری سے ہمیں بچائے رکھے۔ غرور طاقت کا ہو‘ دولت کا ہو‘ حسن کا ہو‘ شہرت کا ہو ‘ حتیٰ کہ نیکی اور تقویٰ کا ہو‘ رسوائی ہی کا سبب بنتا ہے۔ ذرا یاد کیجئے مقبولیت کے گھوڑے پر سوار اور عوامی طاقت کے غرور میں مبتلا تحریک انصاف کی قیادت کے خدائی لہجے کو اور ذرا اس منظر کو ملاحظہ کیجئے کہ ان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی گردنیں جھکائے (بعض تو شیخ رشید کے رنگ میں اس قدر رنگ چکے ہیں کہ اب بھی سینہ تھان کر اسمبلی میں آئے )اس ایوان میں جارہے ہیں جس کو بوگس‘ چوروں کی اسمبلی اور نہ جانیں کس کس نام سے یاد کیا گیا اور جن کے اراکین کی شلواروں تک کا کنٹینر پر کھڑے ہوکر تذکرہ کیا جاتا رہا۔

چہرے کو چادر سے چھپانے کا طریقہ خان صاحب نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر محمود خان اچکزئی صاحب کی چادر کے مزاق اڑاتے ہوئے خوب سکھایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ حیاء کے تقاضے کے طور پر پی ٹی آئی کے مرد اراکین کچھ عرصہ تک اسی طرح چہروں کو چادروں سے چھپا کر آیا کریں گے ۔ ظاہر ہے انہیں اب اس اسپیکر کے سامنے آکر جھکنا پڑے گا جس کو وہ جعلی اسمبلی کا جعل ساز اسپیکر کہہ کر پکارتے رہے۔ تکرار کے ساتھ بار بار یہ اعلان کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن بن بھی جائے تو اسمبلی میں واپس نہیں جائیں گے ۔ درجنوں بار کہا گیا کہ میاں نوازشریف یا اسپیکر کون ہوتے ہیں ہمارے استعفے منظور نہ کرنے والے ۔ سینکڑوں مرتبہ سے زیادہ اعلان کیا گیا کہ کچھ بھی ہوجائے استعفے واپس نہیں لیں گے ۔ دو سو بارسے زائد بار کہا گیا ہے کہ جعلی پارلیمنٹ ہے اور اس میں واپس جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔

ہزار سے زائد مرتبہ اس اسمبلی کو بوگس کہا گیا اور لاکھ سے زائد مرتبہ اس کو جعلی کے نام سے یاد کیا گیا۔ دھرنے کے آغاز سے ایک روز قبل وزیراعظم نوازشریف قوم سے خطاب کے دوران دھاندلی کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن کے قیام کا اعلان کرچکے لیکن تب اسکرپٹ میں اقتدار پر قبضہ دکھایا گیا تھا‘ اس لئے دھرنے پر اصرار کیا گیا۔ تب اپوزیشن کے تمام رہنمائوں نے ضامن بننے کی بھی پیشکش کی اور ایک موقع پر آرمی چیف کو بھی درمیان میں لایا گیالیکن اب جس کمیشن کا ڈرامہ رچایا گیا ‘ اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا ضامن کوئی نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ کمیشن بنے گا بھی یا نہیں کیونکہ کچھ آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے کمیشن کا قیام خلاف آئین ہے ۔

ایک بارپھر میرے ساتھ اس دعا کے لئے ہاتھ بلند کیجئے کہ اللہ ہمیںغرور اور تکبر سے بچائے رکھے ۔ یہی ہوتا ہے تکبر کا انجام ۔ کہا گیا تھا کہ کون ہوتا ہے نوازشریف اور اسپیکر ہمارے استعفے منظور نہ کرنے والے اور آج بڑی ’’معصومیت‘‘ سے کہا جارہا ہے کہ ہم نے تو استعفے دئیے تھے لیکن جب اسپیکر نے منظور نہ کئے تو ہماری ممبرشپ کیسے ختم ہوگئی۔ کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف کا جو ممبر اسمبلی میں گیا ‘ اس کو پارٹی میں نہیں چھوڑا جائے گا لیکن آج خود قیادت کرتے ہوئے ممبران اسمبلی کو ایوان میں لے جایا گیا ۔

دعویٰ کیا گیا تھا کہ عدالتی کمیشن بن جائے تو بھی ہم اسمبلی میں واپس نہیں جائیں گے لیکن اب کمیشن کے قیام کا انتظار کئے بغیر اسمبلی میں چلے گئے ۔ جب صحافی گیلری میں پہنچے تو دیکھا کہ پی ٹی آئی کے ممبران پہلے ایوان میں گھوم رہے ہیں اور یوں لگ رہا تھا کہ جیسے خان صاحب کی اقتداء میں شاہ محمود قریشی اور مراد سعید نے فجر کی نماز بھی اسمبلی ہال میں پڑھی ہو ۔ اسمبلی پہلے بوگس تھی یا نہیں لیکن اب بوگس ہوگئی ہے ۔ کیونکہ اس میں تین درجن سے زائد ایسے لوگ بھی بیٹھ گئے جو قانونی طور پر اب اسمبلی کے ممبر نہیں رہے ۔ اسمبلی رولز اور قانون کی رو سے سات ماہ تک اسمبلی اجلاس سے غیرحاضر رہنے والے کسی صورت ممبر نہیں رہ سکتے۔ یہ لوگ اگر آج اسمبلی کے اندر جانے دئیے جارہے ہیں تو اس اسپیکر کے غیرقانونی رویے کی وجہ سے جن پر دھاندلی کا الزام لگا کر پوری پارلیمنٹ کو گالیوں سے نوازا گیا اور جو اپنی سیٹ کے مزید متنازعہ بن جانے کے خوف سے قانون اور اسمبلی رولز کی دھجیاں اڑا کر پی ٹی آئی کے ممبران کے استعفوں کو منظور کرنے سے گریز کررہے تھے‘ ان کی حیثیت مزید متنازعہ ہوگئی ہے۔

انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ آج خان صاحب پارلیمنٹ میں جانے کی بجائے ایوان سے باہر اسپیکر آیاز صادق سے سوال کرتے کہ اسپیکر صاحب ! یہ پارلیمنٹ کیا آپ کی ذاتی جاگیر ہے کہ جو رولز کو پامال کرتے ہوئے آپ سات ماہ غیرحاضری کے باوجود ہمارے ممبران کی رکنیت ختم نہیں کررہے ہیں ۔گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران جتنی گالیاں پارلیمنٹ کو دی گئیں ‘ اتنی گالیوں سے ہم جیسوں کو بھی نوازا گیا۔ مجھے تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ورکروں کے ساتھ ساتھ قیادت نے بھی گالیوں سے نوازا ۔ ہم تو خیر عادی مجرم ہیں لیکن خواتین صحافیوں پر بھی ہاتھ اٹھایا گیا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کو رواج دیا گیا۔ جیو اور جنگ کے کارکنوں کے خلاف ایسی فضا بنائی گئی کہ ان کی زندگیاں اور عزتیں خطرات سے دوچار ہوئیں ۔

ہمارا قصور فقط یہ تھا کہ ہم جیسوں نے دھرنوں کی بجائے جوڈیشل کمیشن پر اکتفا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ہم نے ڈی چوک کی بجائے اسمبلی میں سیاسی جنگ لڑنے کا مشورہ دیا تھا اور اس پارلیمنٹ کی بے توقیری سے منع کرنے کی کوشش کی تھی جس کے خود عمران خا ن صاحب بھی ممبر تھے۔ لیکن ہمیں کوئی دکھ نہیں ۔ گالی اور دھمکی کا سننا اور سہنا اب ہماری زندگیوں کا حصہ ہے ۔ اب بھی پی ٹی آئی کی گالیوں اور دھمکیوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا کہ نون لیگ کی طرف سے دھمکیوں اور سازشوں کا آغاز ہوگیا ہے ۔ہم نہ معافی طلب کرتے ہیں اور کوئی اور مطالبہ کرتے ہیں لیکن کیا اخلاقیات کا تقاضا نہیں کہ اسمبلی میں جانے سے قبل پی ٹی آئی کی کور کمیٹی پوری قومی اسمبلی اور سینیٹ سے معافی مانگ لے۔ پھر یہی کورکمیٹی پی ٹی آئی کے ان پانچ ممبران قومی اسمبلی کی قدم بوسی کرلے جنہیں اسمبلی نہ چھوڑنے پرپارٹی غدار قرار دیا گیا۔

باقی نہیں تو خاتون ممبر مسرت احمد زیب سے تو معافی مانگ لی جائے جنہیں ان کے بقول پی ٹی آئی کے مستعفی پارلیمانی ممبر تک نے گالیوں سے نوازا۔ اگر دھرنوں کے نتیجے میں سیاست سے اخلاقیات مکمل رخصت نہیں ہوئیں تو کیا یہ لازمی قرار نہیں پاتا کہ خان صاحب ‘ شاہ محمود قریشی کو ساتھ لے کر جہانگیر ترین کے جہاز میں سیدھے ملتان جائیں اور جاوید ہاشمی کے قدموں کو ہاتھ لگا کر ان سے معافی مانگ لیں۔ کیا اخلاقی طور پر یہ ضروری نہیں کہ پی ٹی آئی کے ممبران اپنے اپنے حلقوں کے عوام کے سامنے غلطی کا اعتراف کرکے ان سے معافی مانگ لیں ۔لیکن ایسا شاید کچھ نہ ہو کیونکہ غلطی ماننا اور اس پر معافی مانگنا پی ٹی آئی کی قیادت کی روایت نہیں۔ تبھی تو ’’بوگس‘‘ اسمبلی سے باہر نکل کر بھی خان صاحب نے ’’جیو‘‘ کے اعزاز سید کے سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی۔

پی ٹی آئی کی قیادت معافی مانگتی ہے یا نہیں ‘ لیکن میں تو بہر حال ان سے معافی مانگتا ہوں۔ معافی اس بات کی کہ دھرنوں کے حوالے سے میں غلطی پر تھا۔ میری رائے تھی کہ دھرنے اور ہٹ دھرمی کے نتیجے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی لیکن یہ رائے غلط ثابت ہوئی۔ دھرنا بڑی بڑی تبدیلیوں کا موجب بنا۔ اس مشق کے نتیجے میں اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے والا میاں نوازشریف ‘ اس کے قدموں میں جاکر بیٹھ گئے ۔ دھرنے کے نتیجے میں ملک یوں تبدیل ہوا کہ سماجی اقدار پامال ہوئیں اور حفظ مراتب کا تکلف ختم ہونے لگا۔ خود پی ٹی آئی یوں تبدیل ہوئی کہ اس نے اپنے دامن میں مسلم لیگ(ق)‘ مسلم لیگ(ن) ‘ پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کی تمام صفات سمیٹ لیں۔ اب یہاں آپ کو مسلم لیگ(ق) کی طرح غیرمرئی قوتوں کی غلامی بھی دیکھنے کو ملتی ہے ‘ مسلم لیگ(ن) کی طرح دوغلے پن کی بھی بہتات نظر آتی ہے ‘ پیپلز پارٹی کی طرح سیاسی بے شرمی بھی نظرآتی ہے اور ایم کیوایم کی طرح قیادت کی غلامی بھی ۔ کوئی پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کردار میں فرق دکھادے تو غلطی ماننے میں دیر نہیں لگائوں گا۔

پارٹی فورمز اور اس کے ممبران کو غلام رکھنے کے حوالے سے الطاف حسین صاحب اور عمران خان کے رویے میں کوئی فرق باقی رہ گیا ہو تو بتایا جائے ۔ ہاں دھرنے کا ایک اور فائدہ بھول گیا تھا۔میں غلطی پر تھا۔ میں نے دعویٰ کیا تھا کہ دھرنے کا تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا لیکن اس کے نتیجے میں علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی صورت میں خان صاحب کو سیاسی کزن اور شیخ رشید احمدصاحب کی صورت میں دست راست اور مشیر خاص میسر آگئے۔ میں اندازے اور تجزئیےکی اس غلطی پر معافی مانگتا ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ اینکرز اور تجزیہ نگار بھی اپنے ہیرو خان صاحب کی طرح کبھی معافی نہیں مانگیں گے ۔ وہ اینکرز اور تجزیہ نگار جو آئین شکنی پر اکساتے رہے ‘ جو دعویٰ کرتے تھے کہ خان صاحب مرجائیں گے لیکن دھرنا ختم نہیں کریں گے اور جو دہائی دیتے تھے کہ کچھ بھی ہوجائے خان صاحب اسمبلی میں واپس نہیں جائیں گے ۔ مجھے یقین ہے کہ اپنے ہیرو کی طرح وہ بھی سینہ تان کر ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھے رہیں گے اور شیخ رشید احمد صاحب کی طرح کہتے رہیں گے کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ پی ٹی آئی واپس اسمبلی میں جائے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.