.

مشرف اور بھٹو

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرف ، بھٹو اور ان کے وارثوں کی اقتدار سے علیحدگی بھی الگ الگ تھی۔مشرف کو اقتدار چھوڑنے پر اعزازی گارڈ کی سلامی دی گئی جبکہ بھٹو اور اسکے سیاسی ساتھی نواز شریف کو گرفتار کر کے وزیراعظم ہائوس سے نکالا گیا۔ان سیاست دانوں کو اقتدار سے نکال کر پھانسی دی گئی یا قید کی سزا ۔ اسی طرح مشرف اور ان جیسے فوجی آمرآٹھ سے گیارہ سال تک اقتدار میں رہے جب کہ دوسری طرف بھٹو اور ان جیسے

سیاست دان محض چند سال ہی حکومت چلا سکے۔ مشرف اور ان جیسے فوجی آمروں نے اقتدار میں آکر سیاست دانوں کو عبرت کا نشان بنایا جبکہ سیاسی حکمرانوں کو حساب برابر کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ عجیب اتفاق ہے یا باقاعدہ منصوبہ بندی بھٹو اور اسکے ساتھی سیاستدان وزیر اعظم نواز شریف کو ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے اور پھر ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اقتدار سے محروم کیا گیا اور پھر دو بار فوجی آمر ہی کام آیا ۔ یہ بھی اتفاق کہیں یا منصوبہ بندی کہ مشرف سمیت تین فوجی آمروں کو امریکہ کی بین الاقوامی فوجی مداخلت کے چند سال پہلے ہی اقتدار میں آنا تھا ویت نام ہو یا افغانستان کی پہلی اور دوسری جنگ ایوب خان ، ضیاء الحق اور مشرف نے چند سال پہلے ہی اقتدار پر قبضہ کیا ۔

جتنا جلدی مشرف اور اس جیسے فوجی آمر آئین کیخلاف حرکت میں آتے رہے اتنی جلدی آئین فوجی آمروں کیخلاف حرکت میں نہیں آتا رہا جبکہ یہی آئین اور عدالتیں بھٹو ادوار کے بعد تیزی سے معزول وزرا ء اعظم کی خلاف کارروائی کرتی رہیں۔ جتنی بار مشرف نے عدالتوں میں پیش ہونے سے انکار کیا ہے اور ہماری عدالتوں نے بامر مجبوری اسے غیر حاضری میں حاضری سے استثنیٰ دیا ہے کیا کوئی معزول بھٹو ایسا کر سکتا تھا ؟

کیا کوئی سول ہسپتال بھٹو یا اسکے ساتھی سیاستدان نواز شریف کو معزولی کے بعد مکمل بیڈ ریسٹ کی میڈیکل رپورٹ دے سکتا تھا ؟ کیا آئین سے سنگین غداری کے ملزم کسی وزیر اعظم کیخلاف کارروائی کو فوجی حکومت میں کوئی عدالت روکنے کا حکم جاری کر سکتی تھی ؟ کیا مشرف کو بھٹو کی طرح اڈیالہ جیل یا کال کوٹھری میں رکھا جاسکتا تھا ؟ کیا کسی پولیس والے کی جرأت تھی کہ مشرف کے ساتھ جیل میں وہی سلوک کیا جاتا تو بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ روا رکھا گیا ؟ بہت فرق ہے بھٹو اور مشرف میں ۔ مگر بدقسمتی سے اس سے بھی زیادہ فرق خود بھٹو اور اسکے سیاسی وارثوں کے کردار اور شخصیت میں ہے ۔ لوگ بھٹو اور مشرف کے موازنے پر اعتراض تو ضرور کرینگے مگر شاید اتنا نہیں جتنا بھٹو اور آصف زرداری کے درمیان تقابلی جائزے پر۔آج زرداری کی پیپلز پارٹی عوام کے پیسے سے بھٹو کی برسی مناکر ایک رسم تو پوری کرتی ہے مگر یہ پارٹی آج تک اپنے کئی بھٹوؤں کے قتل کے خون کا حساب نہیں لے سکی جو اسکی بہت بڑی ناکامی ہے ۔

بھٹو اور مشرف کا فرق صرف دو شخصیات کا فرق نہیں بلکہ دو اداروں کی سوچ کا فرق ہے ۔ جو آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ اس ملک کا اصل حاکم کون ہے۔ یہ جھگڑا یقینا دلیل اور غلیل کا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بول کس کا بالا ہو گا ۔ مشرف کی غلیل کا یا بھٹو کی دلیل کا۔ ان دونوں حکمرانوں کے جانے کے بعد بھی یہ فرق موجودرہا اور رہے گا ۔ وہی فرق جو اس وقت اسلام آباد کے فیصل مسجد کے احاطے میں ایک گمنام قبر میں لیٹے فوجی آمر کی آخری آرام گا ہ اور لاڑکانہ گڑھی خدا بخش میں بھٹو خاندان کے مزار میں ہے ۔ فیصل مسجد کی اس قبر پر ایک دن گیا تو کیا دیکھا کہ ایک لوہے کی کرسی لوہے کی زنجیر کے ذریعے قبر کے ساتھ تالے میں بندھی ہے۔

17 اگست 2009ء کو جنرل ضیاء الحق کی برسی کے سلسلے میں ریکارڈنگ کے لیے پوچھنے پر قبر کی صفائی کرنیوالے نے بتایا کہ لوگ چوری کر لیتے ہیں ۔ پہلے بھی ایک کرسی چوری ہو چکی ہے ۔ دل میں سوچاکہ کیا چوری شدہ کرسی کی چوری اتنا بڑا جرم ہو گا ۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ فوجی آمر تو مر گئے مگر اقتدار کی لوہے کی کرسی آج بھی انکے ساتھ بندھی ہے۔شایدوہ کرسی بھی اس بات کی ایک دلیل ہے۔

کبھی کبھی غلیل کو بھی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دلیل کا ہتھیار بہت دور تک مار کرتا ہے جبکہ غلیل کا ہتھیار سامنے کے دشمن کو ہی گرا سکتا ہے ۔ لگتا ہے ہمارے سیاستدانوں نے غلیل کے آگے دلیل کے ہتھیار ڈال دیے ہیں جس کے بعد ججوں اور صحافیوں نے بھی اسے رضا الٰہی سمجھ لیا ہے ۔ اس صورتحال میں ایسی قوموں کو غلیل کا ہتھیار بھی ڈالتے دیر نہیں لگتی جن قوموںکو ذہنی طور پر محکوم بنا دیا جائے، اس قوم کیلئے یہ فرق معنی نہیں رکھتا کہ حاکم دیسی ہے یا ولایتی۔ ایسی قوم کے مشرفوں کے نصیب لمبی عمر اور بھٹو ؤں کے نصیب میں لمبی رسی ہی آتی ہے اور یہ سب سے بڑا فرق ہے ۔ اگر کوئی سمجھے تو۔ باقی سب کاغذی کارروائی ہوتی ہے جس کیلئے ہر شعبے اور ادارے میں دو نمبر لوگ موجود ہوتے ہیں ۔ (ختم شد)

بہ شکریہ روذنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.