.

وہ میلہ ’’باغی‘‘ کا کمبل چرانے کیلئے تھا؟

رؤف طاہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عمران خان (اور تحریک انصاف) کو واپسی کے لئے ایک اور فیس سیونگ مل گئی۔ کہنے والے اِسے ایک اور ’’یوٹرن‘‘ بھی کہتے ہیں۔ برادرم صابر شاہ نے تو ’’یوٹرنز‘‘ کی تفصیل بھی دے دی ہے، کسی ستم ظریف نے لطیفے کے کُوزے میں دریا بند کردیا: سڑک کے کنارے خان صاحب کا قد ِ آدم ہورڈنگ نصب تھا۔ پولیس والے گرانے پہنچے تو کچھ لوگوں نے احتجاج کیا، جس پر پولیس والوں کا مؤقف تھا، مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ ٹریفک کا ہے، لوگ اِسے(غلط طور پر) یوٹرن کا اشارہ سمجھ لیتے ہیں جس سے حادثات کا خطرہ رہتا ہے۔جس وقت یہ سطور لکھی جارہی ہیں، عمران خان اپنے رفقاء کے ساتھ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں موجود ہیں۔ مولانا نے ان کی رکنیت کا سوال اُٹھایا جس پر اسپیکر کا جواب تھا، میں نے استعفے منظور نہیں کئے اور یہ یہاں موجود ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ یہ ایوان کے ممبر ہیں۔ کچھ اور ارکان نے بھی پوائنٹ آف آرڈر پر بولنا چاہا۔ شاید وہ بھی تحریک ِ انصاف کے ارکان کی آئینی و قانونی حیثیت کے حوالے سے استفسار کرنا چاہتے تھے لیکن اسپیکر نے اجازت نہ دی، اس موقع پر شیم شیم کے نعرے بھی بلند ہوئے۔

11 مئی 2013 کے عام انتخابات کے بعد سسٹم ہموار طریقے سے آگے بڑھ رہا تھا۔ الیکشن مہم میں کپتان کے لب و لہجے اور’’تبدیلی‘‘ کے خواہش مند نوجوانوں کے معمول سے زیادہ جوش و خروش کے باعث سیاسی فضا کشیدگی کا شکار رہی لیکن میاں صاحب اور ان کی مسلم لیگ نے تحمل و تدبر کا دامن تھامے رکھا۔ الیکشن مہم کے آخری دو روز باقی تھے جب کپتان حادثے کا شکار ہو کر اسپتال جا پہنچا۔ تب نوازشریف لاہور سے باہر ایک انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے اپنے سیاسی حریف کی صحت یابی کی دُعا کے ساتھ ، اگلے روز ملک بھر میں مسلم لیگ(ن) کی انتخابی مہم ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ شہبازصاحب اسی شام کپتان کی مزاج پرسی کے لئے اسپتال پہنچے۔ میاں صاحب الیکشن کے بعد تشریف لے گئے۔ یہ ماحول کو اعتدال پر لانے اور تعلقات کو خوشگوار بنانے کی حکمت ِ عملی تھی۔ نوازشریف کبھی جم خانہ میں عمران کے ساتھ کرکٹ کھیلتے رہے تھے۔ یہ دوستانہ بعد میں بھی قائم رہا۔ اب میاں صاحب کا کہنا تھا، جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ، ہم ایک اور فرینڈلی میچ کھیلیں گے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک ِ انصاف سنگل لارجسٹ پارٹی کی حیثیت سے سامنے آئی تھی لیکن تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ مولانا فضل الرحمان نے حساب کتاب مکمل کر لیا تھا لیکن نوازشریف نے انکار کردیا، ’’سنگل لارجسٹ پارٹی کی حیثیت سے پہلا حق تحریکِ انصاف کا ہے‘‘۔ خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے ساتھ کپتان اور اس کے ساتھی قومی اور پنجاب و سندھ کی اسمبلیوں میں حلف اُٹھا کر سسٹم کا حصہ بن گئے (بلوچستان اسمبلی میں ان کی کوئی سیٹ نہ تھی)۔ تحریک ِ انصاف نے وزیراعظم کے انتخاب میں بھی حصہ لیا۔ الیکشن ٹربیونل قائم ہوئے تو تحریک ِ انصاف نے ملک بھر میں 58انتخابی عذرداریاں دائر کیں(جن میں قومی اسمبلی کی صرف30تھیں) اِن میں وہ چار حلقے بھی تھے، جنہیں کھلوانے کے لئے عمران خان چیف جسٹس افتخار احمد چوہدری کے روبرو پیش ہوئے تھے اور چیف جسٹس نے آئین کے آرٹیکل 225کے تحت انتخابی ٹربیونل کی راہ سلجھائی تھی۔ 12مارچ 2014 کو وزیراعظم خان صاحب کی دعوت پر بنی گالہ گئے۔ بے تکلفانہ اور دوستانہ ملاقات میں ہنسی مذاق بھی ہوتا رہا۔ انتخابی اصلاحات کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر مشتمل 33رکنی خصوصی کمیٹی کے لئے کپتان نے اپنے 3نمائندے بھی دیئے (شفقت محمود، عارف علوی اور شیریں مزاری) قائدحزبِ اختلاف خورشید شاہ کے علاوہ خود حکومت کی طرف سے بھی کپتان کو پیشکش تھی کہ وہ خود کمیٹی میں آئیں اور اس کے چیئرمین بن جائیں۔ کپتان کی معذرت پر اسحاق ڈار اتفاقِ رائے کے ساتھ چیئرمین بن گئے۔ ( اس میں تحریک ِ انصاف کی تائید بھی شامل تھی) کمیٹی کے ابتدائی اجلاسوں میں تحریک ِ انصاف بھی شامل ہوتی رہی۔ پھر اچانک کیا ہوا کہ کپتان دھرنا بغاوت پر تُل گئے۔ یہاں ہم اپنی طرف سے کچھ عرض کرنے کی بجائے، اس تجزیہ کار/کالم نگار کا حوالہ دینا چاہیں گے جسے کپتان سے 25سالہ دوستی کا دعویٰ ہے اور یہ بھی کہ کپتان کے مزاج اور تحریک ِ انصاف کے معاملات اس سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ تازہ تجزیئے میں ارشاد ہوا!’’دھرنا تباہ کن ثابت ہوا، اِن عناصر کی نشاندہی ہوچکی جنہوں نے اُمید دلائی تھی کہ لاکھوں افراد کے ساتھ کپتان اگر دارالحکومت میں داخل ہو تو شریف حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اب وہ اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ طاہر القادری کو بھی انہی لوگوں نے آمادہ کیا تھا جن پر جلد ہی واضح ہوگیا کہ غلط چال چل گئے ہیں۔ واپسی کا راستہ مگر آسان نہ تھا۔ اسلام آباد کے دھرنے میں حاضری بس اتنی تھی کہ حکومت پر ایک حد تک نفسیاتی دباؤ ہی ڈالا جاسکا۔ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے اور سول نافرمانی کے فیصلے اور بھی تباہ کن ثابت ہوئے، معمولی سی پذیرائی بھی جنہیں حاصل نہ ہوسکی‘‘… کپتان کی مزاج شناسی کے دعویدار بزرگ تجزیہ کار کا مزید کہنا ہے، مردم شناسی نام کی کوئی چیزکپتان میں نہیں پائی جاتی۔ خوشامدیوں کا ایک ٹولہ ہمہ وقت انہیں یقین دلاتا رہتا ہے کہ اگر بڑے پیمانے کی دھاندلی نہ ہوتی تو تحریک ِ انصاف کو اکثریت مل گئی ہوتی۔ پاکستانی سیاست پر گہری نظر رکھنے والا کوئی ایک بھی ہوشمند مبصر اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ ایک تہائی نشستوں پر تو پارٹی کے اُمیدوار ہی موجود نہ تھے ، مزید ایک تہائی پر برائے نام… ناکامی کا اصل سبب تو تاخیر سے ٹکٹ جاری کرنے کا عمل تھا اور وہ بھی اکثر نااہل اور غیرمقبول لوگوں کو، جو پولنگ ایجنٹوں تک کا بندوبست نہ کرسکے۔‘‘

22 اگست کو استعفوں کا معاملہ بھی ’’اسکرپٹ‘‘ کے عین مطابق تھا لیکن اس حوالے سے حکومت اور حزبِ اختلاف کی حکمت ِ عملی کامیاب رہی اس میں سراج الحق کے جرگے نے بھی حصہ ڈالا۔ آئینی و قانونی پوزیشن یہ تھی کہ برضا و رغبت دیا جانے والا استعفیٰ واپس لیا جاسکتا ہے ، نہ اِسے مسترد کیا جاسکتا ہے۔ قواعد کے مطابق البتہ اسپیکر ، متعلقہ رکن اسمبلی کو بلا کر یہ تسلی کرسکتا ہے کہ کیا استعفیٰ آزادانہ مرضی سے لکھا گیا ؟ اسی قاعدے کے تحت اسپیکر ، ’’مستعفی ہونے والے‘‘ ارکان سے الگ الگ ملاقات کرنے پر مُصر تھے لیکن تحریک ِ انصاف کی قیادت اس پر آمادہ نہ تھی(کیا اسے اپنے ارکان پر اعتماد نہ تھا) لیکن ایک اور دلچسپ پہلو یہ تھا کہ اسپیکر نے اُن ارکان کے استعفوں کی منظوری بھی التوا میں ڈالے رکھی ، جنہوں نے بنفسِ نفیس اپنے اور اپنے ساتھیوں کے استعفے اسپیکر چیمبر میں پہنچائے تھے اور ٹی وی کیمروں کے سامنے بڑے فخر سے اس کا اعلان کیا تھا۔ مثلاً شاہ محمود قریشی، عارف علوی اور شیریں مزاری۔ کیا جنابِ اسپیکر کو اِن سے بھی تصدیق و توثیق کرانے کی ضرورت تھی؟ پی ٹی آئی کے تین ارکانِ قومی اسمبلی نے (جن کا تعلق کے پی کے سے تھا) بغاوت کر دی تھی۔ کہا جاتا ہے ، باقی ماندہ ارکان میں سے سات نے استعفےا سپیکر کی بجائے اپنے چیئرمین کے نام لکھے تھے۔ یہاں ایک آئینی و قانونی نکتہ یہ بھی کہ کسی جواز کے بغیر اسمبلی کے 40 اجلاسوں میں مسلسل غیر حاضری سے کوئی بھی رکن ِ اسمبلی ،نااہل ہوجاتا ہے۔مولانا فضل الرحمان سمیت کچھ لوگ یہی نکتہ اُٹھاتے ہیں اور دلچسپ بات یہ کہ استعفوں کے اس عرصے میں بھی، ’’مستعفی ہونے والے ارکان‘‘ تنخواہ سمیت جملہ مراعات وصول کرتے رہے۔ اب کپتان اور اس کے ساتھی لوٹ آئے ہیں تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے کہ یہ ’’یوٹرن‘‘ جمہوریت کے استحکام کی منزل کی جانب جاتا ہے… اور ہمارے برادرِ بزرگ جاوید ہاشمی ، کہ جنہوں نے اپنے استعفے کی لاج رکھی۔ انہوں نے جمہوریت کے خلاف سازش کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوڑ دیا۔ پارلیمنٹ میں آئے، اپنا دل کھول کر رکھ دیا لیکن چونکہ استعفیٰ دے چکے تھے ، اس پر قائم رہے۔ 6اپریل کو کپتان اور اس کے ساتھی ایوان میں موجود تھے، ’’باغی‘‘ یہاں نہیں تھا لیکن اس کی للکار، اس کی پکارتاریخ کا حصہ بن چکی۔ پارلیمنٹ کے درودیوار اس کی راہ تکتے رہیں گے۔

آج بھی گم صم کھڑی ہیں شہر میں
جانے دیواروں سے تم کیا کہہ گئے

ایک دوست کا فون آیا، تو کیا وہ میلہ صرف ہاشمی کا کمبل چرانے کے لئے تھا؟ اور یہ بھی کہ جمہوریت کے لئے ہاشمی کی اس عظیم الشان قربانی کے بعد کیا وہ مسلم لیگ کی طرف سے سینیٹ کی ٹکٹ کا بھی مستحق نہیں تھا؟ وہ شاید اسے قبول نہ کرتا لیکن پیشکش تو کی ہوتی۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.