.

حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کا ناگزیر اقدام

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی سے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے اور موجودہ صورت حال کے متناقض جائزے پیش کیے ہیں۔تاہم سعودی عرب اپنے موقف میں بالکل واضح ہے۔اس نے حوثی ملیشیا کی جانب سے حالات کو معمول پر لانے کی درخواستوں کو درخوراعتناء نہ سمجھنے اور سفارت کاری کو نظر انداز کیے جانے کے بعد فیصلہ کن اقدام کیا ہے۔

بدقسمتی سے حوثی ایرانی حمایت سے حوصلہ پاکر ٹس سے مس نہیں ہوئے۔انھوں نے نہ صرف جمہور؛ی طور پر منتخب صدر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا بلکہ انھیں اور کابینہ کے متعدد وزراء کو ان کے گھروں میں نظربند کردیا تھا اور ملک کو فتح کرنے کی راہ پر چل نکلے تھے۔

یمن ایک غربت زدہ ملک ہے۔اس کی باون فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کررہی ہے۔یہ کسی ہائی وے کے ناخواندہ ڈاکوؤں کی احمقانہ چیرہ دستیوں کا بوجھ سہارنے کی سکت نہیں رکھتا ہے جو نہ صرف تنگ نظر ہیں بلکہ انھوں نے اپنے غیرملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے جنگی مہم جوئی کی ہے۔

سعودی عرب نے صورت حال کو بغور ملاحظہ کیا اور انتظار کیا۔وہ اپنے ہمسائے میں ایک ایسے غیر مستحکم اور غیرمحفوظ ملک کا وجود برداشت نہیں کرسکتا جہاں ایک غیر ذمے دار اور حریص اقلیت لاکھوں یمنیوں کی قسمت سے کھیلے۔چنانچہ خطرناک حوثیوں کے مضبوط مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے(فیصلہ کن طوفان کے نام سے)آپریشن کیا جارہا ہے۔

سعودی عرب نے یہ اقدام متعدد ممالک کے ساتھ مذاکرات اور ایک مربوط لائحہ عمل ترتیب دینے کے بعد کیا ہے۔یہ یمنی عوام کے خلاف حملہ نہیں ہے۔سعودی عرب کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ تمام عرب ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کیے جائیں اور اس کے ہمسائے معاشی طور پر مستحکم اور محفوظ ہوں لیکن یمن میں رونما ہونے والے تمام واقعات اس موقف کے بالکل منافی تھے۔

سعودی حکومت اپنے موقف میں بہت واضح ہے۔تمام لوگوں پر بھی یہ بات بالکل عیاں ہونی چاہیے کہ یہ کوئی فرقہ وارانہ جنگ نہیں ہے۔شاہ سلمان یہ واضح کرچکے ہیں کہ سعودی مملکت کی نظر میں تمام مسلم برابر ہیں۔ میڈیا کے جو لوگ فیصلہ کن اقدام کے مقاصد کو مسخ کرنے کی کوشش کررہے ہیں،انھیں باور کرایا جاتا ہے کہ یہ ایک سیاسی اقدام ہے اور یمنی حکام کی درخواست پر کیا جارہا ہے۔

سعودی مملکت کا مقصد یمن کو تباہ کرنا نہیں بلکہ وہاں حالات کو معمول پر لانا ہے۔اب یہ یمنیوں پر منحصر ہے کہ وہ اس بات کا ادراک کریں کہ معزول صدر علی عبداللہ صالح جیسے لوگ ،حوثی اور غریب یمنیوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے والے دوسرے لوگ ہی دراصل یمن کے حقیقی دشمن ہیں۔یہ ملک مزید طوائف الملوکی ،خانہ جنگی اور سیاسی افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔یمنی عوام کی اکثریت معمول کی زندگی بسر کرنا چاہتی ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں فیصلہ کن اقدام سے انھیں ایسا کرنے میں مدد ملے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہنہ مشق صحافی ،دانشور اور تجزیہ کار خالد المعینا اخبار ''سعودی گزٹ'' کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ان سے اس ای میل اور ٹویٹر پتے پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:
kalmaeena@saudigazette.com.saاور
Twitter: @KhaledAlmaeena

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.