.

مسئلہ یمن: ترکی اور پاکستان ایک ہی پیج پر

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ جمعے کو پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ایک روزہ دورہ ترکی پر تشر یف لائے ۔ ان کا یہ طوفانی دورہ مسئلہ یمن کے بارے میں ترکی کا موقف جاننے اور ترکی کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کرنے سے متعلق تھا ۔ ترکی اور پاکستان سعودی عرب کے بہت ہی قریبی دوست اور برادر ممالک ہیں۔ ترکی کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں شاہ سیلمان کے تخت نشین ہونے سے قبل مصر کے حالات کی وجہ سے سرد مہری چلی آرہی تھی۔ترکی مصر کے منتخب صدر اور اخوان المسلمین کے محمد مرسی کی مکمل حمایت کرتا چلا آرہا تھا کیونکہ اخوان المسلمین اور ترکی کی موجود حکومت نظریاتی لحاظ سے ایک ہی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ترکی اور مصر کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی جو ترکی اور سعودی عرب کے درمیان سرد مہری کی وجہ بنی اور یہ دونوں ممالک مصر کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے۔

ان دونوں ممالک کی دوری نے اُس وقت قربت میں ڈھلنا شروع کردیا جب صدر ایردوان سعودی عرب شاہ عبداللہ کی وفات پر تعزیت کے غرض سے سعودی عرب تشریف لے گئے ۔ یہاں پر صدر ایردوان کی ملاقات ولی عہد سے ملک کے حکمران بننے والے شاہ سیلمان سے ہوئی۔ مبصرین کے مطابق اسی موقع پر صدر ایردوان نے دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری کی وجہ بننے والے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے بارے میں اپنے خیالات سے آگاہ کیا ۔ سعودی عرب کے نئے فرمانروا شاہ سیلمان نے ترکی کے صدر ایردوان کو سعودی عرب کے سرکاری دورے کی دعوت دینے کے ساتھ ہی ایک روز قبل مصر کے فوجی حکمران عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی۔ مصر کے صدر السیسی کا دورہ صرف چند گھنٹوں پر محیط تھا اور اسی شام صدر السیسی واپس مصر روانہ ہوگئے۔ یہ کسی بھی مصر کے صدر کا مختصر ترین دورہ تھا اور اس دورے میں صدر السیسی کی وہ آؤ بھگت نہ ہو سکی جو کہ اس سے قبل مصر کے صدور کی ہوا کرتی تھی۔ اُس وقت ترکی کے صدر کو خوش کرنا تھا ۔ صدر السیسی کے دورے کے اگلے ہی روز ترکی کےصدر ایردوان سعودی عرب کے تین روزہ دورے پر تشریف لائے اور ائیر پورٹ پر شاہ سیلمان نے خود استقبال کرتے ہوئے اپنی گرمجوشی اور قربت کا احساس دلوادیا اور یوں دونوں ممالک ایک بار پھر شیرو شکر ہوگئے۔

اب آتے ہیں ترکی اور ایران کے تعلقات کی جانب۔ ترکی اور ایران ایک دوسرے کے ہمسایہ ممالک ہیں لیکن تعلقات کے لحاظ سے ہمیشہ ہی اونچ نیچ کا شکار رہے ہیں ۔ ترکی نے اس وقت ایران کا کھل کر ساتھ دیا جب ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہو چکی تھیں اور مغربی ممالک ایران سے اپنے تعلقات منقطع کر چکے تھے لیکن ترکی نے اس موقع پر ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقا ت کو فروغ دیا اور لین دین کو دونوں ممالک نے اپنی کرنسی میں جاری رکھا ۔ اس دوران ترکی نے ایران کے فائیو پلس ون ممالک کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی بھی راہ ہموار کی لیکن ایران اور ترکی کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہونا شروع ہوگئے جب ترکی نے بشار الاسد حکومت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے آمنے سامنے آن کھڑے ہوئے اور سفارتی تعلقات تک منقطع ہوگئے ۔

ایران نے اس دوران نہ صرف بشار الاسد حکومت کی مکمل حمایت کی بلکہ علاقے میں ان کے اقتدار کو جاری رکھنے کے لیے اپنے فوجی دستے تک شام بھجوا دیے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرد مہری کی اس فضا ء میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان سات اپریل بروز منگل ایران کے دورے پر روانہ ہوئے ہیں ۔ وہ اپنے اس دورے کے دوران لازمی طور پر شام اور یمن کی صورتِ حال کے بارے میں ایرانی حکام سے بات چیت کریں گے۔ اب مختصر سا جائزہ لیتے ہیں پاکستان کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات کا۔ پاکستان کے ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ بڑے قریبی اور دوستانہ تعلقات قائم رہے ہیں سعودی عرب نے ہمیشہ ہی پاکستان کے آڑے وقت میں پاکستان کا مکمل ساتھ دیا ہے اوراب بھی دیتا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکے کے بعدپاکستان پر لگائی جانے والی پابندیوں کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کی جس طریقے سے مدد کی تھی اور بلا معاوضہ پٹرول فراہم کیا تھا اسے بھلا کون فراموش کرسکتا ہے؟ علاوہ ازیں پاکستان کے عوام کا جوجذباتی رشتہ اور تعلقات سعودی عرب کے ساتھ ہیں شاید ہی کسی اور ملک کے ساتھ ہوں ۔ حکومتی سطح پر ان تعلقات میں کبھی بھی کوئی دراڑ نہیں پڑی ہے بلکہ حکومت کی سطح پر یہ تعلقات بڑے مثالی ہیں جبکہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں کبھی بھی اتنی گرمجوشی نہیں دیکھی گئی ہے ۔

حالانکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اورزمینی لحاظ سے سعودی عرب کے مقابلے میں زیادہ قریب ہے ۔تاثر ہے کہ ایران کی ہمدردیا ں پاکستان سے زیادہ بھارت کے ساتھ رہی ہیں اگرچہ ان تعلقات میں سرد مہری کی وجہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوتاہیاں یا غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں لیکن ایران جو کہ کسی دور میں پاکستان ، ایران اور ترکی پر مشتمل آر سی ڈی کا بھی رکن ملک تھا ، نے ترکی کی طرح جو ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقا ت کو خصوصی اہمیت دیتا چلا آیا ہے کے برعکس رویہ اپناتے ہوئے پاکستان سے کچھ فاصلے پر رہنے ہی میں اپنی عافیت سمجھی ہے۔ اب یمن کی صورت حال پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔ یمن سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے مختلف ملک ہے جہاں پر افغانستان کی طرز پر قبائلی نظام قائم ہے اور ملک غربت کا شکار ہے۔

ملک کو غربت میں دھکیلنے میں سیاسی رہنماوں اور قبائلی عمائدین کا اپنا ہی ہاتھ ہے۔ حوثی قبائل نے جس طریقے سے ایک قانونی حکومت کا تختہ الٹ کر بیرونی ا مداد سے خانہ جنگی کا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے یہ جنگ فرقہ وارانہ جنگ کا روپ اختیار کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے حالانکہ یمن کے حوثی قبائل اگرچہ نام کے شیعہ ہیں لیکن وہ عقیدے کے اعتبار سے سنی فرقے کے زیادہ قریب ہیں ان میں وہ کٹر پن نظر نہیں آتا ہے جو ایران کے شیعہ فرقے کا ایک خاصا ہے۔کچھ طاقتیں ان حوثی قبائل کو ورغلا کر اس جنگ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی خواہاں دکھائی دیتی ہیں تاکہ علاقے میں ایک مخصوص مکتبہ فکر کی قوت میں اضافہ کر کے سعودی عرب پر دبائو رکھا جاسکے۔

اسی صورت حال پر بات چیت کرنے کی غرض سے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے انقرہ میں وزیراعظم احمد داؤد اولو سے ملاقات کی ۔ دونوں ممالک یمن سے متعلق ایک جیسی پالیسی اور نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک مسئلہ یمن کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے بعد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ” ترکی ہمارے لیے الہام کا وسیلہ ہے ۔ ہمیں ترکی کی ترقی پر فخر ہے ۔ ترکی کی قوت ہماری قوت ہے ۔ ہم یمن میں غیر ریاستی عناصر کی جانب سےایک جائز حکومت کو طاقت کے ذریعے ہٹائے جانے پر تحفظات رکھتے ہیں ۔ سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا “۔

ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اولو نے اس موقع پر پاکستانی باشندوں سے ترکوں کی اُنسیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ” اگر کسی پاکستانی کے پاؤں میں کوئی کانٹا چبھ جائے تو اس کا درد تر ک باشندہ اپنے دل پر محسوس کرتا ہے “۔ انہوں نے یمن کے بارے میں کہا کہ ” اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے اور ترکی اور پاکستان اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جار ی رکھیں گے اور جلد ہی ترک وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کریں گے”۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پاکستان اور ترکی دونوں ہی کو متاثر کر رہی ہے۔ ہم یمن کے مسئلے کو پُرامن حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں”۔

بہ شکریہ روزنامہ

"جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.