.

پارلیمنٹ میں حوثی باغیوں کی دھلائی

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیر کے روز مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا تھا کہ حوثیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ پارلیمنٹ کو اس وقت آسانی پیدا ہو گئی جب حوثی باغی خود چل کر ایوان میں آ گئے۔

جنگل میں شیر سامنے آ جائے تو پھر جو کرنا ہے شیر نے کرنا ہے اور حوثی باغیوں کے ساتھ بھی شیر نے وہی کیا جو اسے کرنا ہوتا ہے۔
یوں لگتا تھا کہ وزیر اعظم ایوان میں نہیں، کسی ایواکس میں تشریف فرما ہیں، ایواکس کی اسکرین پر چاروں طرف کا منظر تھری ڈی کی صورت میں سامنے آتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف جے ایف تھنڈر کے کاک پٹ میں تھے اور دیگر حکومتی ارکان درجہ بدرجہ ایف سولہ اور میراج وغیرہ کی کمان کر رہے تھے۔ سعودی عرب نے یہ اسلحہ اپنے لئے مانگا تھا مگر یہ سارا اسلحہ تحریک انصاف کے خلاف جھونک دیا گیا۔ لندن میں الطاف حسین پیچھے کیوں رہتے، انہوں نے پاکستان کا جدید ترین میزائل داغا، یہ میزائل آہستہ آہستہ پارلیمنٹ تک پہنچ پائے گا۔ لندن اور اسلام آباد کا فاصلہ بہرحال ہمارا میزائل ایک جست میں تو طے نہیں کر سکتا۔ اس پھلجھڑی سے مجھے یہ لگتا ہے کہ حکومت فوج بھیجنے کے بارے میں جو فیصلہ کر چکی تھی، اس کی قوم نے بھر پور مخالفت کی، حکومت نے اس بے بسی میں اپنا غصہ کسی پر تو نکالنا تھا، تحریک انصاف بے چاری ناحق قابو آ گئی اور ساری صلواتیں اسے سننا پڑیں۔

تحریک انصاف والے انگریزی کتاب چھپنے سے پہلے پڑھ ڈالتے ہیں مگر اردو کی کتابیں صدیوں پرانی ہو جائیں تو انہیں چھوتے تک نہیں۔ خدا انہیں توفیق دے اور وہ کہیں سے سیالکوٹ کے ایک پرانے ڈیوٹی مجسٹریٹ کی لکھی ہوئی کتاب کہیں سے ڈھونڈھ سکیں تو پھر انہیں ایوان میں یہ نہیں سننا پڑے گا کہ منہ کالا کرانے آئے ہو کیونکہ اس کتاب میں بڑی تفصیل سے ایک واقعہ لکھا ہوا ہے کہ سیالکوٹ کے کس لیڈر کا منہ کالا کرکے اسے گدھے پر بٹھا کر پورے شہر میں گھما یا گیا، عوام کا دماغ بھی کبھی کبھی گھوم جاتا ہے۔ اس نیک دل ڈیوٹی مجسٹریٹ نے دلیری کا مظاہرہ کیا اور اس لیڈر کو عوام کے شکنجے سے چھڑوایا اور نہلا دھلوا کر گھر جانے کو کہا مگر لیڈر نے گھر جانے کے بجائے رات تھانے میں بسر کرنے میں عافیت جانی۔ یہ واقعہ ہے تو افسوسناک مگر تحریک انصاف والے اس کا ذکر کر کے مخالفوں کا منہ بند کر سکتے ہیں۔

اس کتاب کا دیباچہ میرے مرشد مجید نظامی نے تحریر کیا ہے۔ اس لئے کتاب کو سند مانا جا سکتا ہے۔ گالی گلوچ کیوں ہوئی، اس کی اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ایک وجہ یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت چاہتی تھی کہ قومی اتفاق رائے نہ ہو پائے تاکہ سعودی عرب سے کہا جا سکے کہ قوم متفق نہیں، اس لئے ہماری طرف سے معذرت۔ تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کے بعد اس کے ارکان پارلیمنٹ حکومت کی کسی خواہش کا احترام کیونکر کریں گے بلکہ یقینی بات ہے کہ نہیں کریں گے۔

یہ بات اب ثابت ہو گئی ہے کہ سعودی عرب کی سیکورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، فی الحال نہیں۔ اس وقت تک ساری جنگ یمن کے اندر لڑی جا رہی ہے بلکہ یمن کے بعض مقامات کو عرب اتحاد کے بمبار نشانہ بنا رہے ہیں، صرف اس لئے کہ وہ اپنی مرضی کے ایک معزول یمنی حکمران کو صنعا کے تخت پر واپس بٹھا سکیں۔

سعودی عرب کو جس لمحے خطرہ ہوا، دنیا دیکھے گی کہ ہم حرمین شریفین پر قربان ہو جائیں گے۔ ہم یہ بھی پروا نہیں کریں گے کہ بھارتی افواج پاکستان کو کس طرح چیر پھاڑ کر رکھ دیں گی۔ سعودی عرب خاطر جمع رکھے، اسے کسی خواجہ آصف سے کوئی درخواست نہیں کرنا پڑے گی اٹھارہ کروڑ پاکستانی عوام، ابابیلوں کی طرح حرمین شریفین پر جارحیت کرنے والوں پر ٹوٹ پڑیں گے۔

مگر اس وقت کچھ لوگ سعودی عرب سے ڈالر بٹورنے کے چکر میں ہیں۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفا دار، صرف ڈالروں کی حرص میں مبتلا۔ ڈیڑھ ارب ڈالر ہضم کھا چکے، مزید اربوں ڈالروں کے لئے کشکول ہاتھ میں، نہیں جناب ،پاکستان کو ڈالر نہیں چاہئیں، یہ سعودی عرب کی مدد کرے گا اور بے لوث ہو کر کرے گا، شریف خاندان ضرور سعودی عرب کا احسان مند ہے، سینیٹر ساجد میر اپنی فرقہ وارانہ وابستگی کا لحاظ رکھنا چاہتے ہوں گے۔ مگر پاکستانی قوم بھکاری نہیں، یہ صرف مسلمان ہے اور مسلمان بن کر ہی وہ حرمین شریفین کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ وہاں وہ نہ تو بریلوی ہوتے ہیں، نہ دیو بندی، نہ شیعہ، نہ سنی، صرف مسلمان۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے، نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر، اسے تو یہ سبق سکھایا گیا تھا اور وہ اسی پر عمل پیرا ہو گی، سعودی عرب خاطر جمع رکھے۔

پاکستان میں کوئی نمبر ٹانکنے کی کوشش نہ کرے۔ جب تک مسئلہ یمن کی خانہ جنگی کا ہے، پاکستان کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے، اگر کوئی سروکار ہے تو یہ کہ سعودی عرب کی سلامتی کو اس خانہ جنگی سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ پاکستان نے ہمسایہ ممالک میں مداخلت سے جو سبق حاصل کئے ہیں، سعودی عرب سے ہمیں یہ سبق شیئر کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنا تجربہ کرنے سے بچ جائے، ہم نے افغانستان میں بار بار مداخلت کی، ہم نے سمجھا کہ افغانستان ہمارا باجگزار ملک ہے، ہم نے ا سے اپنی دفاعی گہرائی قرار دیا اور نتیجہ کیا نکلا کہ ہمارا ملک اسلحے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا، منشیات کے کاروبار میں دھنس گیا اور گروہ بندی کا شکار ہو گیا۔

مجھ سے فیس بک اور راوین دوست خواجہ عرفان انور نے سوال کیا ہے کہ کل کو اگر افغانستان نے اپنی سیکورٹی کے لئے بھارتی فوج سے مدد مانگ لی تو کیا ہم اسے ایسا کرنے سے روک پائیں گے۔ میں تو کہتا ہوں کہ اگر یمنی عوام نے باقاعدہ طور ایران سے فوجی مدد مانگ لی تو کیا ہو گا۔ وہی ہو گا جو شام میں ہو رہا ہے، بشار الاسد کی مدد ایران کر رہا ہے اور شامی باغیوں کی مدد ترکی کر رہا ہے، کیا ملا اس سے ترکی کو ، کیا وہ تین سال کی طویل مداخلت کے بعد ایک انچ بھی شام کی سرزمین کو فتح کر سکا۔ بس اپنے ایف سولہ گروائے اور ٹینکوں کو بھسم کروایا۔

بھلا ایک ملک کو دوسرے ملک کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت کیا ہے، جواز کیا ہے۔ ہمیں کبھی نہ کبھی ایک اصول طے کرنا ہوگا کہ ہم بیرونی مداخلت کے اصول کے حامی نہیں۔ ورنہ افغانستان کیا، کل کو بلوچستان کھلم کھلا بھارتی فوج کی مدد طلب کر سکتا ہے، آج یہ مدد چوری چھپے مل رہی ہے۔ مشرقی پاکستان میں ہم نے دیکھ لیا کہ وہاں بھارتی فوج کی مدد مانگی گئی ، تب کسی ملک نے ہمارا ساتھ نہ دیا۔ قائد اعظم کا پاکستان دو لخت ہو گیا۔

ہوش کے ناخن لیں۔ سعودی عرب اور یمن کے قضیئے کو یہیں ختم ہو جانا چاہئے۔ یہ پھیلتا چلا گیا تو عالم اسلام قیامت سے پہلے قیامت کا سامنا کرنے پر مجبور ہو گا، جہنم بن جائے گا۔ مگر خاطر جمع رکھئے، پارلیمنٹ میں وزیر دفاع کی بدحواسی یہ چغلی کھا رہی ہے کہ حکومت اپنی من مرضی کا فیصلہ نہیں کر سکے گی۔

یہ بھی دیکھئے کہ حکومت کا کروڑ یافتہ کالم اور اینکر بریگیڈ بھی بھیگی بلی بنا ہوا ہے۔ اسے عوام کے موڈ کا اندازہ ہے، پاکستان کا آئین عوام کو ہمہ مقتدر سمجھتا ہے، اور عوام کے فیصلے سے ہر کوئی آگاہ ہے۔ اس لئے میں آپ کو یہ خبر بھی دیتا جائوں، صرف تبصروں کے جنجال میں مبتلا نہیں رکھنا چاہتا ، اور خبر یہ ہے کہ پاک فوج یمن میں مداخلت کے لئے نہیں بھیجی جائے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.