.

پاکستان اور ایران و حجاز

طارق چودھری، سابق سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے زمانہ طالب علمی میں گورنمنٹ کالج سرگودھا سے ایک محترم استاد پنجاب یونیورسٹی تشریف لائے۔ بڑے صاحب علم تھے‘ شاعری کا ذوق اور شعر شناس بھی۔ بات سے بات چلی تو انہوں نے غالب کا مصرعہ پڑھا جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے اور فرمایاکہ حضرت غالب کہنا کیا چاہتے ہیں؟ طالب علم نے عرض کیا؟ استاد محترم منصور سے عاشق صادق کیلئے موت کیا معنی؟ پھانسی سے ہو‘ سولی یا پھر ا س کی کھال کھینچ لی جائے وہ تو خود جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں۔ کوئی طلب کرے تو نقد جان حاضر‘ یہ تو پھانسی اور سولی کیلئے آزمائش شروع ہو گئی۔

پھانسیاں‘ سولیاں فکر میں ہیں کہ اس آزمائش سے کیونکر سرخرو نکلیں؟ ایران اور حجاز (سعودی عرب) ‘ ایک ہمارا دوست اور ہمسایہ اور دوسرے بھائی اور محسن۔ دونوں نے ہماری ہر مصیبت اور مشکل میں اس طرح ساتھ دیا کہ گویا ایک ہی جسم اور سانجھی جان ہو۔ ہمارے ساتھ خود کو ”جوکھم“ میں ڈالا اور سروخر نکلے۔ آج ہم اپنی اولین محبت کے سامنے فکر مند کھڑے ہیں‘ اپنے ہی انصاف اور فیصلے کے منتظر۔ ایک صحرائی عرب(بدو) حضور نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ کلمہ شہادت پڑھا‘ مسلمان ہو کر صحابی کے رتبے پر سرفراز ہوتے ہی عرض کیا۔ یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ بہت دور سے آیا ہوں‘ زیادہ آپ کے پا س قیام کر سکتا ہوں نہ ہی روز رو زحاضر ہونا ممکن ہے۔ لہٰذا کچھ تعلیم ارشاد فرمائیے اور احکامات صادر کیجئے‘ جنہیں بجا لا کر اپنے ایمان سلامت لئے دنیا سے گزر جاؤں۔

آپ نے نماز‘ روزہ‘ زکٰوۃ‘ حج اور جہاد کے فرائض کی ادائیگی کا حکم دیا اور ساتھ ہی فرمایا کہ ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتے ہو۔۔ نو مسلم صحابی نے عرض کیا حضور میری پانچ بیویاں مسلمان ہونے سے پہلے کی ہیں اور میں ان سے بہت محبت رکھتا ہوں۔ مجھے اجازت ہو کہ میں ان سب کو اپنے پاس رکھ سکوں۔ آپ قرآنی احکامات میں ترمیم تو کر نہیں سکتے تھے‘ لہٰذا فیصلہ کن انداز میں فرمایا نہیں! تمہیں کسی ایک کو طلاق دینا ہوگی۔ اب مذکورہ صحابی بہت اداس‘ پریشان‘ فکرمندی سے بھاری قدموں واپس لوٹے تو ان کی پریشان صورت دیکھ کر حضور نے انہیں واپس بلایا اور پوچھا کہ تم اس قدر پریشان اور فکرمند کیوں ہو؟ صحابی نے عرض کیا حضور میں اس لئے اداس نہیں ہوں کہ میری ایک بیوی کم ہو جائے گی بلکہ شرمندگی یہ ہے کہ وہ سب جان لیں گی کہ وہ کون ہے جس سے باقی کے مقابلے میں کم محبت رکھتا تھا۔ آج تک ان میں سے ہر ایک یہی خیال کرتی ہے کہ میں اسی سے زیادہ محبت کرتا ہوں!

آج ہم بھی دوراہے پر کھڑے ہیں لیکن ابھی طلاق کی شرمندگی اور سولی والی اذیت کی نوبت نہیں آئی۔ دونوں ملک یعنی ایران اور سعودی عرب براہ راست متصادم ہوں تو پھر زیادہ مشکل اور فکرمندی کی بات ہوگی ۔ گزشتہ دہائی کے دوران مسلم دنیا میں سب سے متحرک کردار ادا کرنے والے ملک ترکی نے بھی یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب اور اتحادیوں کے فضائی آپریشن کی مکمل حمایت کر دی۔ ترک صدر طیب اردگان نے خطے میں ایرانی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران خلیجی ریاستوں میں اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ خطے میں ایران کی اجارہ داری کسی صورت قائم نہیں ہونے دی جائے گی۔ ترک صدر نے کہا کہ سعودی سربراہی میں ہونے والے فوجی آپریشن کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فضائی اور سمندری مدد بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران نواز باغی فوری طو رپر یمن پر قبضہ چھوڑ دیں ورنہ انجام کیلئے تیار رہیں۔ دوسری طرف ایران کی حمایت اور تربیت یافتہ لبنانی حزب اللہ کے بانی سیکرٹری جنرل او راہنما نے حزب اللہ کی طرف سے حوثی بغاوت کی حمایت کرنے پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ حزب اللہ شام میں بشار الاسد کے خلاف بغاوت پر شامی صدر کی مدد کر رہی ہے۔

اس لئے کہ وہ شام کے قانونی صدر ہیں تویمن میں قانونی حکومت کے خلاف باغیوں کی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے۔ یہ بڑا واضح اور اصولی موقف ہے جو پاکستان کیلئے ہموار راستہ فراہم کرتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز دو ٹوک کہا کہ ”ایران نے حوثی باغیوں کو اسلحہ سپلائی کیا اور نہ ہی ان کا مددگار ہے۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ تصادم کی بجائے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کر کے یمن میں امن قائم کیا جائے“۔ ایرانی وزیر خارجہ کے واضح اعلان کے بعد پاکستان کی مشکلات کافی حد تک کم ہو جاتی ہیں۔

ہمیں اپنے دوست ترکی کی طرح دو ٹوک ہونے کی ضرورت نہیں‘ آج عرب و ایران کے ساتھ ان کی دوستی ہے تو کل ان دونوں کے ساتھ جنگ و جدل اور دشمنی کا رشتہ بھی ہوا کرتا تھا۔ ان کے تاریخی حوالوں کو اپنے ہاں رواج نہیں دے سکتے۔ اسلامی دنیا میں ہم امیر نہ سہی لیکن واحد جوہری ریاست اور طاقت ور قوم ہیں۔

ہم دشمنوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے اور دوستوں کی مدد کے لائق بھی ہیں۔ ایران نے بھارت کے خلاف ہر دو جنگوں میں کھل کر ہماری مدد کی‘ اپنے ہوائی اڈے فراہم کئے‘ ضروری آلات حرب دے کر ہر طرح کی سفارتی‘ سیاسی مدد دی۔ ضرورت پڑنے پر ہم نے بھی دوستوں کی خواہش اور امریکا جیسی عالمی طاقت کے دباؤ میں آئے بغیر ایران کے مقابلے میں عراق کی حمایت کی‘ نہ مدد۔ ایران پر پابندیوں کے دنوں میں اپنی سرحد اور اپنا دامن کھلا رکھا‘ ایرانی انقلاب کے بعد اسے تنہائی کا شکار ہونے سے بچایا اور گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا۔ تمام خطرات و مشکلات کے باوجود تزویراتی اسلحہ کیلئے ضروری معلومات اور مدد فراہم کی جس کی دھمک سے آج اسرائیل‘ امریکا اور ایران کے دیگر حریف سب پریشان ہیں۔ اس طرح ہم نے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے ان کے احسان کو تسلیم کیا۔ دوسری طرف سعودی عرب نے بھی نہ صرف جنگوں میں ہمارا ساتھ دیا بلکہ اسلحہ اور مالی مدد فراہم کر کے ہمارے ہاتھ مضبوط کئے۔ سفارتی اور سیاسی میدان میں بھی ہمارا ہاتھ تھامے رکھا۔ جب ہر طرف سے پابندیاں عائد ہو گئیں اور دنیا پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے پر سز ادینے کو تل گئی‘ اس وقت بھی سعودی عرب نے دوسروں کے برعکس طرز عمل کا اظہار کیا۔

نہ صرف پابندیوں کو نامنظور کر دیا بلکہ ہمیں مفت تیل فراہم کر کے پابندیوں سے نمٹنے کا حوصلہ بخشا۔ ہم ایران کے احسانات کو کسی حد تک برابر کرتے رہے لیکن سعودی عر ب نے آج تک بدلے میں کچھ نہیں مانگا۔ اس کی حمایت اور احسان اب تک ادھار ہے۔ ایک طرف سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ اردن‘ کویت‘ ترکی ایسے دوست ہیں جن کے ساتھ نہ صرف ماضی کی دوستی ہے بلکہ مستقبل کے سفارتی‘ سیاسی اور دفاعی و معاشی مفادات بھی وابستہ ہیں۔ ہم ان کے ساتھ غیرجانبدار ہو جائیں‘ کس کے مقابلے میں ؟ یمن کے باغیوں‘ شام کے قاتلوں اور عراق کی کٹھ پتلیوں کیلئے اپنے برسوں سے آزمائے دوستوں کا ہاتھ چھوڑ دیں۔ وہ باغی ‘ایران بھی جن کو قبول نہیں کرتا‘ وہ شام و عراق ‘جنہوں نے مسلمان ہوتے پاکستان کے دشمنوں اور باغیوں کی حمایت کی۔ کیا ہمیں گوارا ہے کہ پاک بھارت جنگ ہو یا کوئی اور مشکل تو یہ سب دوست ہمارے مددگار بننے کی بجائے غیرجانبدار ہو جائیں۔ اگر ہمیں یہ اپنے لئے گوارا نہیں تو ان کی آزمائش میں ہم کس طرح غیرجانبدار رہ سکتے ہیں جو ماضی کی آزمائشوں میں پورا اترے اور مستقبل کے ساجھی ہیں۔

کوئی یہ نہیں کہتا کہ ایران کی مخالفت یا یمن پر حملہ کرو۔ یمن میں وہاں کی قانونی حکومت کی اخلاقی مدد کرنا ہے تو سعودی عرب کی سرحدوں کے اندر ان کی سیکورٹی میں مدد دینا ہے۔ اپنے مفادات یا سیکورٹی کو خطرے میں ڈالے بغیر سعودی عرب کی مدد کرنا ممکن ہے۔ پہلے بھی پاکستان کی دو ڈویژن فوج وہاں رہ چکی ہے۔ جس کی تنخواہیں اور اسلحہ بندی سعودی عرب کے ذمے تھی۔ اب بھی یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی باقاعدہ فوج کی بجائے‘ ریزرو اور تازہ ریٹائر جوانوں اور افسروں کی بٹالین کھڑی کریں‘ ان کی رجمنٹیشن کے بعد ایک ایک بریگیڈ تیار کر کے سعودی عرب روانہ کر یں اور ان کے ساتھ یہ واضح معاہدہ ہو کہ ہماری افواج کو سعودی عرب سے باہر تعینات کیا جائے گا‘ نہ حملہ آور ہونے پر مجبور کیا جائے گا۔ یہ سعودی سرحدوں اور ریاست کی حفاظت کیلئے دستیاب رہیں گے۔ اس طرح نہ صرف ہمارے ہزاروں جوانوں کو روزگار مل جائے گا بلکہ سعودی اسلحہ سے مسلح ڈویژن ہنگامی صورت میں ہماری افواج میں قابل قدر اضافہ قرار پائیں گے۔فرمایا! اپنے بھائی کی مدد کرو ‘ چاہئے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ عرض کیا مگر ظالم کی مدد کس طرح؟ فرمایا ظلم سے روک کر ۔ ظلم سے روکنے کیلئے طاقت چاہئے اور اختیار بھی۔ وہ اللہ نے ہمیں کافی حد تک عطا کر رکھا ہے!

(کالم نگار سابق سینیٹر ہیں)

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.